کالملکھاریوسعت اللہ خان

وسعت اللہ خان کا کالم۔۔چین بھارت جھگڑا کیوں جاری رہے گا ( تیسری قسط )

پاکستان چین کااسرائیل ہے۔یہ جملہ پاک چین تعلقات پر سب سے جامع کتاب کے مصنف اینڈریو اسمال نے پیپلز لبریشن آرمی کے سابق سربراہ جنرل ڑیانگ گوانگ کائی سے منسوب کیا ہے۔جب جنرل سے ایک امریکی وفد نے پاک چین تعلقات کی گہرائی اور نوعیت کے بارے میں استفسار کیا۔
ویسے تو یہ فیصلہ باسٹھ کی جنگ تن تنہا لڑنے والے ایک بڑے ملک ( چین ) اور پینسٹھ کی جنگ کے موقع پر اپنے ہی دوستوں کے وعدوں کے مارے چھوٹے ملک ( پاکستان ) کے باہمی حالات نے ہی کر دیا تھا کہ اگلے زمانے میں ’’ جے اور ویرو ‘‘ ایک دوسرے کے لیے کیا کیا کر سکتے ہیں۔
مگر اس دوستی کی بنیاد وزیرِ اعظم محمد علی بوگرہ کی انیس سو پچپن میں بنڈونگ کانفرنس میں چواین لائی سے خوشگوار ملاقات ، حسین شہید سہروردی کے انیس سو چھپن کے دورہِ بیجنگ ، میجر جنرل این ایم رضا کی فعال سفارت کاری اور پھر انیس سو اٹھاون کی پہلی مارشل لا کابینہ میں شامل انتیس سالہ وزیرِ قدرتی وسائل ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے اپنے انداز میں مضبوط کی۔
گزشتہ مضامین میں تذکرہ ہو چکا ہے کہ پچاس کی دہائی میں جب پاکستان سیٹو ، سینٹو ، پشاور کے سی آئی اے جاسوسی اڈے اور انیس سو انسٹھ کے پاک امریکا دفاعی معاہدے کی زنجیروں میں خود کو رضاکارانہ طور پر جکڑ چکا تھا تو چین کے نزدیک تصورِ پاکستان یہ تھا کہ مغربی سامراج کی کٹھ پتلی ریاست جو چین کے گھیراؤ کی زنجیر میں محض ایک کڑی ہے۔
مگر جب سرحدی حد بندی اور دلائی لامہ کے مسئلے کو لے کر چین اور بھارت بالکل ہی ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ گئے تو پاکستان نے شاید پہلی اور اب تک کا آخری موقع استعمال کیا کہ دو بڑے ممالک کی دشمنی کو اپنے اسٹرٹیجک و جغرافیائی مفادات کے لیے چابکدستی سے کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان کی جانب سے اس نوعیت کا پہلا مثبت اشارہ چین کی بدظن قیادت کو انیس سو اکسٹھ میں سلامتی کونسل کے اجلاس میں ملا۔جب پاکستانی مندوب ذوالفقار علی بھٹو نے عوامی جمہوریہ چین کی اقوامِ متحدہ کی رکنیت کے بارے میں پیش ہونے والی قرار داد کی مخالفت کرنے کے بجائے رائے شماری سے غیر حاضر رہنے کا فیصلہ کیا۔اگرچہ یہ قرار داد امریکی ویٹو کے سبب منظور نہ ہو سکی مگر امریکی پاکستان کے اس بدلے ہوئے سفارتی رویے پر خاصے جز بز ہوئے۔مگر پاکستان نے بیجنگ کو اپنی نیت کے بارے میں جو اشارہ دینا تھا وہ کامیابی سے دے دیا۔
اسی دوران میں چین نے پاکستان اور کشمیر سے ملنے والی سرحد کے کچھ مقامی نقشے شائع کیے جن میں کچھ ایسے علاقے بھی دکھائے گئے جن پر پاکستان کا بھی دعویٰ تھا۔ایوب حکومت نے کھلا احتجاج کرنے کے بجائے خاموشی سے چینی قیادت کو اپنی دعویداری سے آگاہ کیا۔چین نے سرحدی حد بندی کے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کر دی۔
بھارت سے چین کی ایک بھرپور جنگ کے بعد پاکستان کے حق میں جو سازگار حالات بن گئے تھے اس فضا میں دو مارچ انیس سو تریسٹھ کو سمجھوتے پر دستخط ہوئے۔ اس کے تحت ساڑھے سات سو مربع میل علاقے کے بیشتر حصے پر چین نے پاکستانی دعویٰ تسلیم کر لیا۔ اس دعویٰ میں ہنزہ کے علاوہ متنازعہ کشمیر کا علاقہ بھی شامل تھا چنانچہ بھارت نے پاک چین سرحدی سمجھوتے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔مگر اس سمجھوتے کا ایک تاریخی فائدہ یہ ہوا کہ اب کشمیر کے تنازعے میں تین کے بجائے چار فریق ہو گئے۔
انیس سو اڑسٹھ میں شاہراہ ِ ریشم کی تعمیر کے منصوبے کے آغاز نے چین کو پکا پکا فریق بنا دیا اور گزشتہ برس پانچ اگست کو بھارت نے کشمیر اور لداخ کی جغرافیائی حیثیت کو جس طرح یکطرفہ طور پر بدلنے کی کوشش کی اور وزیرِ داخلہ امیت شا نے چین کے زیرِ قبضہ کشمیری علاقے آکسائی چن کو آزاد کرانے کا جو کھلا چینلج دیا۔اس کے نتیجے میں آج لداخ میں بھارت کو چین کے بھرپور ردِعمل کا سامناہے اور بھارت کی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ کرے تو کیا کرے۔اس لحاظ سے انیس سو تریسٹھ کا پاک چین سرحدی سمجھوتہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ کشمیر کی سیاسی و جغرافیائی ہیئت کے تعلق سے مسلسل ’’ گیم چینجر ‘‘ ثابت ہو رہا ہے۔
پاکستان اور چین نے تو اپنی حد بندی طے کر لی، مگر بھارت اور چین کے مابین کشمیر ، لداخ ، ہماچل پردیش ، اتراکھنڈ ، سکم ، ارونا چل پردیش سے آسام تک ساڑھے تین ہزار کلو میٹر کی لائن آف ایکچوئل کنٹرول کی کوئی حد بندی نہیں۔چنانچہ جس کا جہاں زور چلتا ہے کچھ عرصے بعد اپنی موجودگی کا احساس دلانے کی کوشش کرتا ہے۔گویا یہ پوری لکیر ایک دکھتا ہوا پھوڑا ہے جو جگہ جگہ سے کسی بھی وقت پھٹ پڑتا ہے۔
جیسے ستمبر اکتوبر انیس سو سڑسٹھ میں ارونا چل کے علاقے میں نتھو لا اور چولا پہاڑی دروں میں بھارت نے باڑھ لگانے کی کوشش کی تو دونوں ممالک کے مابین بھرپور تصادم ہوا۔اس بار انیس سو باسٹھ کی نسبت بھارت کا پلہ بھاری رہا۔چین کے لگ بھگ تین سو چھیالیس اور بھارت کے اٹھاسی فوجی مہینے بھر کی جھڑپوں میں کام آئے۔ آٹھ برس بعد ( انیس سو پچھتر ) اسی علاقے میں چین اور بھارتی آسام رائفلزّ میں جھڑپ کے دوران چار بھارتی فوجی ہلاک ہو گئے۔
انسی سو اٹہتر میں وزیرِ خارجہ اٹل بہاری واجپائی پہلے اعلیٰ ہندوستانی عہدیدار تھے جنہوں نے چین کا انیس سو باسٹھ کی جنگ کے بعد دورہ کیا۔اس کے اگلے برس دونوں ممالک نے ستائیس برس کے وقفے سے سفارتی تعلقات بحال کیے۔
مگر ان ڈھائی دہائیوں میں پل کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا تھا۔ انیس سو اکہتر میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد چین نے پاکستان کی خواہش پر جوہری تعاون بڑھا دیا۔انیس سو چوہتر میں بھارت نے چین کے جوہری طاقت بننے کے دس برس بعد پہلا ایٹمی تجربہ کیا۔چین نے پاکستان کو مشترکہ اسلحہ سازی کے مواقعے اور میزائل ٹیکنالوجی دینے پر آمادگی ظاہر کی۔
اگلے دس برس میں ( انیس سو چوراسی تک ) پاکستان ایک غیر اعلانیہ جوہری طاقت بن چکا تھا۔ امریکا اور بھارت سمیت متعلقہ ممالک کے علم میں بھی یہ بات پوری طرح سے آ چکی تھی۔لہٰذا تب سے آج تک سوائے کارگل کے واقعہ کے بھارت اور پاکستان کے مابین گلابی جھڑپیں تو ہوتی رہیں مگر میرا ذاتی خیال ہے کہ سہ طرفہ علاقائی جوہری توازن اور سپر پاوریت کے راستے پر چین کے تیز رفتار سفر نے کسی بھی بھرپور مقامی جنگ کے امکانات کو پہلے سے کم کر دیا ہے۔کیونکہ اس بار واقعی سب جانتے ہیں کہ آغاز کے بعد خاتمے کا فیصلہ کسی بھی ملک کے بس سے باہر ہو گا۔
شاید اسی لیے جب بھارت نے انیس سو چھیاسی میں ارونا چل پردیش کو باقاعدہ ریاست کا درجہ دینے کا اعلان کیا تو چین نے بھرپور احتجاج ضرور کیا اور پوری ریاست پر اپنا دعویٰ ضرور جتایا البتہ کوئی براہ راست فوجی اقدام کرنے یا شمشیر ہوا میں لہرانے سے گریز کیا۔
بھارت کو اگر سرحدی علاقوں میں چین کے ہم پلہ ہونا ہے تو اسے فوجی نقل و حرکت تیز رفتار بنانے کے وسائل کو مسلسل ترقی دینا ہو گی۔ مودی حکومت کا منصوبہ ہے کہ دو ہزار بائیس تک بھارت چین سرحد پر کم ازکم تین ہزار آٹھ سو بارہ کلو میٹر طویل سڑکیں تعمیر کی جائیں تاکہ ضروت پڑنے پر فوجی نقل و حرکت ہفتوں کے بجائے دنوں اور گھنٹوں میں ہو سکے۔ساتھ ہی ساتھ بھارت لداخ سے ارونا چل تک لگ بھگ بیس فضائی پٹیوں کو بھی ترقی دینا چاہتا ہے تاکہ بھاری مال بردار طیارے اتر سکیں۔
سابق بھارتی سپاہ سالار جنرل بکرم سنگھ کہتے ہیں کہ چین نے پچھلے تیس برس میں سرحد کے دوسری جانب ذرائع نقل و حمل کو اتنی ترقی دے لی ہے کہ اب وہ زمینی و فضائی راستے سے ایک ہفتے کے اندر اندر بتیس ڈویژن تک فوجی قوت ہنگامی طور پر سرحد تک پہنچا سکتا ہے۔جب کہ بھارت کو کم ازکم بائیس ڈویژن فوج کی تیز رفتار نقل و حرکت کی صلاحیت پیدا کرنا ہو گی۔
فی الحال تو بھارت کی صلاحیت کا یہ حال ہے کہ دو ہفتے قبل لداخ کی گلوان ویلی میں جس جھڑپ کے دوران بیس بھارتی فوجی ہلاک اور چھہتر زخمی ہوئے۔ انھیں پیچھے لے جانے میں ہی بھارت کو بارہ گھنٹے لگ گئے۔اگر بھارت کے پاس برق رفتار مواصلاتی صلاحیت ہوتی تو کئی جانیں بچائی جا سکتی تھی۔اس ہاؤ ہو سے فائدہ اٹھا کر چین نے وادی گلوان میں پیچھے ہٹنے کے بجائے بھارت سے پیچھے ہٹنے کا مطالبہ کر دیا ہے اور اس علاقے میں اپنی فوجی موجودگی میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے تاکہ اس علاقے تک سڑک پہنچانے کے منصوبے کو روکا جاسکے اور قریب ہی موجود بھارتی فضائی پٹی بھی نشانے پر رہے۔
تین برس قبل سکم اور تبت کے مابین دوکلام میں بھی سڑک کی تعمیر کے مسئلے پر دونوں ممالک تہتر دن تک ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑے رہے۔یعنی اس وقت دونوں ممالک کی پوری کوشش ہے کہ ایک دوسرے کو سرحدی مواصلاتی رسائی بہتر بنانے سے روکیں۔یہی مواصلاتی رسائی بہتر بنانے کے سبب نیپال اور بھارت کے مابین بھی سرحدی ملکیت کا تنازعہ ابھر آیا ہے۔اور بھارتی فوج کے سربراہ جنرل منوج نروانے نے پہلی بار کھل کے کہا ہے کہ نیپال چین کی شہہ پر بھارت کے لیے مسائل پیدا کر رہا ہے۔یہ بیان دیتے وقت جنرل منوج غالباً بھول گئے کہ آج بھی لگ بھگ بتیس ہزار نیپالی گورکھے بھارتی فوج میں شامل ہیں۔
تو اگر مودی حکومت فی الحال اس قابل نہیں کہ چین کے مقابلے میں وہی مردانگی دکھا سکے جو وہ باقی پڑوسیوں پر بہانے بہانے سے جتاتی رہتی ہے تو پھر کون سا دوسرا راستہ ہے جس پر چل کر چین کو چھٹی کا نہ سہی پانچویں کا دودھ ہی یاد دلایا جا سکے۔بھارت کا خیال ہے کہ چینی سامان کا بائیکاٹ کر کے وہ چین کو راہِ راست پر لا سکتا ہے۔اس بھارتی نظریے میں کتنی جان ہے۔اگلی قسط میں اسے بھی دیکھتے ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker