بلوچستانکالملکھاریوسعت اللہ خان

وسعت اللہ خان کا کالم : میر حاصل بزنجو، ’ایک نادر سیاستدان چلا گیا‘

بلوچستان کی نیشنل پارٹی کے سربراہ میر حاصل خان بزنجو کی عمر اگرچہ باسٹھ برس ہی تھی مگر وہ پچھلے تین چار برس سے سرطان سے نبرد آزما تھے۔ آخری وقت تک سیاسی طور پر متحرک رہے لیکن آج بیس اگست کو وہ بیماری سے لڑتے لڑتے تھک کر دنیا سے رخصت ہو گئے۔
سب جانتے ہیں کہ حاصل بزنجو بلوچستان کے معتبر ترین رہنماؤں میں سے ایک یعنی ریاست قلات کے دور سے سیاسی طور پر متحرک بلوچستان کے پہلے سویلین گورنر میر غوث بخش بزنجو کے منجھلے صاحبزادے تھے۔
میر غوٰث بخش کی اگست 1989 میں وفات کے بعد ان کے بڑے بیٹے بزن بزنجو نے سیاسی وراثت سنبھالی اور 1990 میں خضدار کے حلقے این اے 205 اور تربت پنجگور حلقہ این اے 207 سے پاکستان نیشنل پارٹی کے ٹکٹ پر رکنِ قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ مگر قواعد کے اعتبار سے میر بزن کو ایک نشست چھوڑنا پڑی اور پھر این اے 205 کے ضمنی انتخاب میں ان کے چھوٹے بھائی حاصل بزنجو پہلی بار رکنِ قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور پھر اسی نشست سے وہ 1997 میں دوبارہ منتخب ہوئے۔
رفتہ رفتہ میر بزن سیاست سے کنارہ کش ہوتے گئے اور خاندان کی سیاسی وراثت حاصل خان اور ان کے کزن طاہر بزنجو کے سپرد ہوتی چلی گئی۔
سنہ 1998 میں حاصل بزنجو نے بلوچستان نیشنل پارٹی چھوڑ کر بلوچستان نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی (بی این ڈی پی) کی بنیاد رکھی اور دو ہزار تین میں بی این ڈی پی نے ڈاکٹر عبدالمالک کی بی این پی کے ساتھ مل کر نئی جماعت نیشنل پارٹی کی بنیاد رکھی۔
اس نئی جماعت نے بلوچستان سے ہونے والی معاشی و سیاسی زیادتیوں کے خلاف دو ہزار آٹھ کے عام انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔اگرچہ ابتدا میں میاں نواز شریف نے بھی بے نظیر بھٹو کی ہلاکت کے دکھ میں ان انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا اور نیشنل پارٹی ان کی اتحادی تھی۔ مگر آصف زرداری کے سمجھانے بجھانے پر میاں صاحب نے تو بائیکاٹ کا فیصلہ واپس لے لیا البتہ نیشنل پارٹی اپنے فیصلے پر قائم رہی۔
سنہ 2009 میں میر حاصل خان پہلی بار سینیٹر بنے۔ دو ہزار تیرہ کے عام انتخابات کے بعد ان کی جماعت نے مسلم لیگ ن اور دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر بلوچستان میں مخلوط حکومت بنائی۔ طے یہ پایا کہ ڈھائی برس نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر عبدالمالک اور بقیہ ڈھائی برس مسلم لیگ ن کے سردار ثنا اللہ زہری وزیرِ اعلی رہیں گے۔
ڈاکٹر عبدالمالک کے دور میں بیرونِ ملک مقیم ناراض بلوچ قیادت سے بلوچستان کے بحران کے حل کے لیے وفاقی سٹیبلشمنٹ کی حمایت سے صوبائی حکومت نے رابطے کیے مگر پھر وفاقی سٹیبلشمنٹ کی ترجیحات اور ’ڈنڈے اور گاجر‘ کی ملی جلی حکمتِ عملی کے سبب یہ رابطے بار آور نہ ہو سکے۔ جبری گمشدگیوں میں کمی ضرور ہوئی مگر یہ کمی بھی وقتی تھی۔
سنہ 2014 میں میر حاصل بزنجو کو مخصوص مدت کے لیے نیشنل پارٹی کا سربراہ منتخب کر لیا گیا اور انھوں نے میاں نواز شریف اور بعد ازاں شاہد خاقان عباسی کی کابینہ میں بحری امور و جہاز رانی کے وزیر کے طور پر فرائض انجام دیے۔
بلوچستان میں سنہ 2017 کے اواخر میں صوبائی حکومت کے کچھ وزرا اور پھر صوبائی اسمبلی کے ارکان نے ثنا اللہ زہری حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کر کے اس حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ یہ دراصل مرکز میں مسلم لیگ نواز کی حکومت کو چلتا کرنے کے آپریشن کا نقطہِ آغاز تھا جس میں پیپلز پارٹی نے بھی آپریشن کے معماروں اور باغی گروپ کا بھرپور ساتھ دیا۔
میر حاصل بزنجو پر بھی مسلم لیگ ن کا ساتھ چھوڑنے کے لیے خاصا دباؤ پڑا مگر وہ ثابت قدم رہے۔ مارچ 2018 میں ایک تہائی نئے سینیٹرز اور نیا سینیٹ چیئرمین چننے کے لیے ایوانِ بالا کے انتخابات ہوئے۔
میر حاصل بزنجو کے کزن طاہر بزنجو پہلی بار سینیٹر بنے۔ میاں نواز شریف نے اعلان کیا کہ اگر پیپلز پارٹی سینیٹر رضا ربانی کو دوبارہ سینیٹ کی چیئرمین شپ کا امیدوار نامزد کرتی ہے تو مسلم لیگ ن بھی رضا ربانی کی حمایت کرے گی مگر آصف زرداری نے یہ امکان مسترد کر دیا۔ چنانچہ مسلم لیگ ن اور دیگر جماعتوں نے اعلان کیا کہ ان کے مشترکہ امیدوار حاصل بزنجو ہوں گے۔ تاہم حاصل بزنجو نے اپنا نام واپس لے لیا۔ یوں ایک نووارد سینیٹر صادق سنجرانی پیپلز پارٹی کی حمایت سے مسلم لیگ ن کے امیدوار راجہ ظفر الحق کے مقابلے میں سینیٹ کے چیئرمن منتخب ہو گئے۔
جولائی 2019 میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور جے یو آئی سمیت تمام اپوزیشن پارٹیوں نے مل کر چیئرمن صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کیا۔ میر حاصل بزنجو کو متحدہ حزبِ اختلاف نے چیئرمین شپ کے لیے اپنا متفقہ امیدوار بنانے کا اعلان کیا گیا۔
تحریکِ عدم اعتماد سینیٹ کے ایک سو تین میں سے سڑسٹھ ارکان کی جانب سے پیش کی گئی۔ گویا صادق سنجرانی کا جانا ٹھہر گیا۔ لیکن جب یکم اگست دو ہزار انیس کو خفیہ ووٹنگ ہوئی تو سینیٹ میں حزبِ اختلاف کی مجموعی فیصلہ کن اکثریت کے باوجود قرار داد کے حق میں مطلوبہ تریپن ووٹوں سے بھی تین ووٹ کم پڑے اور یوں یہ تحریک بری طرح ناکام ہوگئی۔
اپوزیشن جماعتوں نے اس جگ ہنسائی کی خفت مٹانے کے لیے ایک دوسرے کو اندھیرے میں رکھنے اور پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے الزامات لگائے۔ اس موقع پر ہارنے والے امیدوار حاصل بزنجو نے سینیٹ کے فلور پر نہایت دھواں دھار خطاب کرتے ہوئے ’ارکان کی خرید و فروخت اور ضمیر فروشی‘ کے اعتبار سے اس دن کو پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن بتایا۔ اور بعد ازاں ایوان سے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے ووٹوں کے تہہ و بالا ہونے کے آپریشن کا ذمہ دار آئی ایس ائی کے سربراہ فیض حمید کو قرار دیا۔
اس بیان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے مذمت کی اور گوجرانوالہ کی ایک عدالت نے آئی ایس ائی کی توہین پر سینیٹر حاصل بزنجو کو نوٹس جاری کر دیا۔
حاصل بزنجو اپنے والد کی طرح سیاسی مسائل کا حل سیاسی انداز سے نکالنے کے اصول پر تاحیات قائم رہے۔ ان کا شمار پاکستان کے چند گنے چنے سیاستدانوں میں تھا جنہوں نے زاتی مفادات کے لیے کبھی سیاسی وفاداریوں کا سودا نہیں کیا۔ وہ صوبے میں بلوچ مسئلے کے مسلح حل کے بجائے سیاسی حل کی افادیت کے قائل رہے اور مرکز میں ہمیشہ مسلم لیگ نواز کے شانہ بشانہ کھڑے رہے۔
حاصل بزنجو نے انیس سو اسی کی دہائی میں کراچی یونیورسٹی سے پڑھائی مکمل کی۔ اس زمانے میں وہ بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے پلیٹ فارم سے متحرک تھے اور ضیا الحق کے مارشل لا کے خلاف تشکیل پانے والے بائیں بازو کے طلبا اتحاد یونائیٹڈ سٹوڈنٹس موومنٹ ( یو ایس ایم ) کے چیئرمین بھی رہے۔ اس دوران ان پر قاتلانہ حملہ بھی ہوا مگر گولی پیر میں لگی اور وہ بال بال بچ گئے۔
یونیورسٹی میں انھوں نے کبھی بھی اپنے منہ سے شیخی نہیں بگھاری کہ ان کا تعلق بلوچستان کے کتنے بڑے سیاسی خاندان سے ہے بلکہ وہ اپنے نام کے ساتھ بزنجو کی کنیت لگانے کے بجائے یونیورسٹی میں خود کو صرف حاصل بلوچ کہلانا پسند کرتے تھے۔
طبعاً ملنگ تھے اور فائیو سٹار ہوٹل سے لے کر فٹ پاتھ تک بیٹھنے میں کبھی کوئی عار نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے زندگی بھر صرف ایک اثاثہ بنایا یعنی ان کے دوست نظریاتی حدود سے ماورا ہر طبقے سے تھے۔ حاصل بزنجو کے جانے سے پاکستانی سیاست میں غیر متشدد آئینی سیاست پر یقین رکھنے والوں میں سے ایک مؤثر آواز اور کم ہو گئی۔

( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker