Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
اتوار, جنوری 25, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • متنازع ٹویٹس کیس : ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو 17 برس قید کی سزا
  • نئے صوبے : بوتل سے جن باہر آنے ہی والا ہے : سہیل وڑائچ کا کالم
  • ڈیرہ اسماعیل خان : شادی کی تقریب میں خود کش دھماکہ حکیم اللہ محسود کا قریبی ساتھی مارا گیا
  • چترال: گھر پر برفانی تودہ گرنے سے 9 افراد جاں بحق
  • ملتان کا پانچواں تحفہ عتیق فکری : کوچہ و بازار سے / ڈاکٹر انوار احمد کا کالم
  • خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے گرم علاقوں میں برسوں بعد ’غیرمتوقع‘ برفباری: بعض مقامات پر 50 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا
  • ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ گرفتار
  • ہائبرڈ نظام کی نوآبادیاتی جڑیں : اوسلو سے ارشد بٹ کا تجزیہ
  • ای میل کی منتظر برق رفتار : زندگی ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
  • عالمی جنگ کی طرف بڑھتے ٹرمپ کا مسخرہ پن : نصرت جاوید کا کالم
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»کالم»ہمارے خوابوں کی تعبیر کون بتائے گا۔۔ذرا ہٹ کے/یاسر پیرزادہ
کالم

ہمارے خوابوں کی تعبیر کون بتائے گا۔۔ذرا ہٹ کے/یاسر پیرزادہ

ایڈیٹرجون 28, 20200 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
columns of yasir pirzada girdopesh.com
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

سنجیدہ اور خشک مضامین میں اکثر ہمیں اِس قسم کے جملے پڑھنے کو ملتے ہیں کہ بیسویں صدی کا جدید ذہن بے چینی او ر اضطراب کا شکار ہے ،مادیت نے ماڈرن آدمی کی مت ماردی ہے ،انسان کا سکون چھن چکا ہے،راتوں کی نیند حرام ہو چکی ہے اور جدید آدمی اب فقط مصنوعی خوشی کے سہارے جی رہا ہے ۔ ایسے مضامین چونکہ بھاری بھرکم دانشوروں کے قلم سے پھوٹتے ہیں سو خاصے بارعب لگتے ہیں ، بند ہ اِن ثقیل باتوں کے بوجھ تلے ہی دب جاتا ہے ۔اگلے روز ایسے ہی ایک ہمدم دیرینہ سے گفتگو ہو رہی تھی جو جدیدیت کے سخت ناقد ہیں اور نہ جانے کیوں مجھے جدید انسان سمجھتے ہیں ۔ مجھ سے پوچھنے لگے کہ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کیا آپ مضطرب نہیں رہتے ، کیا آپ سچی خوشی کے متلاشی نہیں، کیا آپ کو رات کو سکون کی نیند آتی ہے ؟ میں نے کہا الحمد اللہ ایسی کوئی بات نہیں ، نہ ہی میں مضطرب ہوں اور نہ بے چین ، زندگی سے خاصا مطمئن اور شاد ہوں ، اور رہی بات نیند کی تو ہمیشہ سے ہی مجھے ایسی گہری نیند آتی ہے کہ بیدارہونا عذاب لگتا ہے۔میری بات سُن کر وہ مضطرب ہو گئے ، پھر کہنے لگے اچھا چھوڑیں یہ بتائیں کہ آج کل موبائل فون کون سا اچھا آ رہا ہے ،آپ کوتو پتا ہے میں ہمیشہ جدید ماڈل استعمال کرتا ہوں۔میں نے جواب دیا حضرت آپ اِن ماڈلز کے چکر میں نہ پڑیں ویسے بھی بندہ عشق شدی ترک ’ماڈل‘ کن جامی ۔مصرع کی داد دیئے بغیر انہوں نے فون بند کر دیا۔
سچی بات ہے کہ نیند کبھی بھی میرا مسئلہ نہیں رہا۔اکثر کانفرنسوں اور اہم میٹنگز میں سوجاتا ہوں۔زمانہ جاہلیت میں ایک مرتبہ کسی ٹی وی چینل کے دفتر میںانٹرویو کے لیے گیاتو وہاں آنکھ لگ گئی ۔پہلی مرتبہ نیو یارک گیا تو مجسمہ آزادی دیکھنے کے لیے فیری میں بیٹھا مگر مجسمے کا دیدار کیے بغیر ہی سو گیا۔ یہی حال پیرس میں ہوا، دریائے سین کی سیر کے دوران کشتی میں بیٹھے بیٹھے اونگھنے لگااورپیرس ہاتھ سے نکل گیا۔آج کل تو ویسے ہی نیند زوروں پر ہے ، شہر میں قفل بندی ہے ، گھر میں کام کوئی نہیں ، کوئی ثقیل کتاب پڑھنے کے لیے اٹھاتا ہوں تو ساتھ ہی( نیند کی )دیوی آ جاتی ہے ۔البتہ کچھ عرصے سے میںنے ایک نیا کام شروع کیاہے کہ نیند کے دوران اپنے خوابوں کو یاد کرکے اُن کی تفصیل لکھنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ ایک دو مرتبہ تو جی کڑا کرکے میں نے یہ مشق کر لی مگر اُس کے بعد ہمت نہیں ہوئی ۔واضح رہے کہ یہ خواب ڈراؤنے نہیں ، فقط ناقال اشاعت ہیں ۔ ڈراؤنے خواب تو مجھے بہت پسند ہیں کیونکہ ایسے خواب کے بعد جب بندہ بیدار ہوتا ہے تو شکر کرتا ہے کہ یہ صرف خواب تھا،حقیقت نہیں ۔آنجہانی سگمنڈفرائیڈ کہتے ہیں کہ خواب ہماری ناآسودہ خواہشات کا مظہر ہوتے ہیں ، جن خواہشات کو ہم شعوری طور پر غلط ،غیر اخلاقی یا گناہ سمجھتے ہیں وہ ہمارے لا شعور میں محفوظ رہتی ہیں اور پھر خوابوں کی شکل میں ظاہر ہو تی ہیں ۔”خوابوں کی تعبیر “ میں وہ لکھتا ہے کہ خواب کے دوران ہمارا ذہن بالکل مختلف طریقے سے
کام کرتا ہے ، ایک بیدار ذہن شعوری طور پر عموماً کسی بڑے واقعے کو یاد رکھتا ہے ، جبکہ خواب میں ہمارالا شعور اُس واقعے سے جڑی جزائیات کو سامنے لاتا ہے ۔خواب بظاہر بے جوڑ ، مضحکہ خیز اور بیہودہ لگتے ہیں مگر در حقیقت اُن میں کچھ نہ کچھ ربط ہوتاہے ۔کوئی بھی خواب ایسا نہیں ہوتا جس میں خواب دیکھنے والا خود شامل نہ ہو۔سب سے دلچسپ بات فرائیڈ نے یہ کہی کہ خواب میں دیا گیا پیغام دراصل پوشیدہ ہوتا ہے کیونکہ خواب میں لا شعور اُس خواہش کو پورا کرنے کی کوشش کررہا ہوتا ہے جس کو انسان نے شعوری طور پر دبایا ہوتا ہے۔اپنے پیغام کو مخفی رکھنے کے لیے ہمارا لا شعور خواب میں ہماری دبی ہوئی خواہشات کو بعض اوقات ایک بالکل متضاد انداز میں دکھا کر شعور تک پہنچانے کی کوشش کرتا ہے اور کبھی بالکل تجریدی انداز میں اُس کا اظہار کرتا ہے جس کی وجہ سے ہم اپنے خوابوں کو بے سروپا اور لا یعنی کہہ کر سر سے جھٹک دیتے ہیں ۔فرائیڈ اسے ’تحریف خواب ‘ کا نام دیتے ہوئے کہتا ہے کہ ہمارا دماغ دراصل مخفی انداز میں ہمیں پیغام دینے کی کوشش کرتا ہے اور اِس پیغام کو پہنچانے کی کوشش میں خواب کو تجرید کا جامہ پہنا دیتا ہے ۔ فرائیڈ کہتاہے کہ زیادہ تر خوابوں کی تفصیل ہمیں یاد نہیں رہتی اورہم بیدار ہوتے ہی بھول جاتے ہیں کیونکہ ہمارا شعور بیداری کی حالت میں واپس آتے ہی ذہن کا اختیار سنبھال لیتا ہے اور اپنی سلطنت سے لا شعور کے اثرات کوکم کرنے کی کوشش کرتا ہے اور یوں خوابوں کی تفصیل فراموش کروا دیتا ہے۔ فرائیڈ کی ایڈی پس کمپلکس کی تھیوری سے بھی ہم واقف ہیں، بقول فرائیڈ انسانی نفسیات میں سارا چکر چونکہ جنس کا ہے سو خوابوں کی تعبیر بھی جنسی خواہشات میں مضمر ہے ، اِن سے مفر ممکن نہیں ،حتّیٰ کہ دودھ پیتے بچے میں بھی جنسی رجحانات ہوتے ہیں۔
گو کہ فرائیڈ کی کتاب کو شروع شروع میں زیادہ پذیرائی نہیں ملی تھی مگر بعد ازاں فرائیڈ کے اِن افکار نے تہلکہ مچا دیا تھا ،نیٹ فلکس پر’ جدید دنیا کے تین جینئیس ‘کے نام سے ایک ڈاکیومینٹری موجود ہے جو دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے ، اُن میں کارل مارکس اور نطشے کے علاوہ تیسرا نام فرائیڈ کا ہے۔ تاہم اُس کے وارستہ طبع ہم عصروں میں سے کارل ینگ اور الفریڈ ایڈلر نے فرائیڈ کے اِن نظریات سے اتفاق نہیں کیا کہ تمام نفسیاتی مسائل جنسی خواہشاتی کو دبانے سے پیدا ہوتے ہیں ۔ یہ تینوں نفسیات دان جو ایک زمانے میں ویانا میں اکٹھے تھے اور ویانا کی سائیکو اینالیٹک سوسائٹی کے روح رواں تھے،بعد ازاں اپنے اختلافات کے باعث علیحد ہ ہوگئے ۔فرائیڈ کی خوابوں کی تشریح پر دیگر نفسیات دانوں نے بھی حرف گیری کی ہے ، ایک امریکی ماہر نفسیات جان بی واٹسن نے سینکڑوں دودھ پیتے بچے کا طویل عرصے تک مشاہدہ کیا اور اِس نتیجے پر پہنچا کہ اُن میں کسی بھی قسم کا جنسی رجحان نہیں پایا جاتا۔اسی طرح کچھ اور تحقیقات بھی ہوئیں جن میں اِس بات پر تفصیلاً بحث کی گئی کہ آیا خوابوں کا کوئی مطلب ہوتاہے یا خواب محض نیندکے دوران ذہن کی لا یعنی اچھل کودکا نام ہے، کچھ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ جو کچھ ہم دن بھر میں کرتے ہیں خواب بس اسی کا مظہر ہوتے ہیں جن میں کسی قسم کی تعبیر تلاش کرنا محض وقت کا ضیاع ہے ۔مجھے نفسیات سے کیا علاقہ کہ اِس بارے میں کوئی ٹھوس بات کر سکوں لیکن ہمنوا میں بھی کوئی گُل ہوں کہ خاموش رہوں لہذا فدوی کی رائے میں جدید طبی آلات کی مدد سے یہ خوابوں کامعمہ بھی جلد ہو جائے گا (یا شاید ہو چکا ہو)۔ آج کل انسانی دماغ کوا سکین کرکے اُس کا نہ صرف مشاہدہ کیا جا سکتا ہے بلکہ یہ بھی معلوم کیا جا سکتا ہے کہ ہمارا دماغ مختلف اوقات میں کیسے کام کرتا ہے ، ہمارے فیصلے کرنے کے پیچھے کون سے ذہنی عوامل کار فرما ہوتے ہیں اور کیا اپنے فیصلے کرنے میں ہم واقعی خود مختار ہیں ، اپنی مرضی سے خواب دیکھتے ہیں یا پھر یہ صرف ہمارا واہمہ ہے ۔ جدید سائنس نے مختلف تجربات کرکے اِس بات پر سوالیہ نشان لگادیا ہے کہ انسان کے پاس فیصلے کرنے کا آزادانہ اختیارہے یانہیں ! سائنس کو تو اِس ضمن میں ابھی کچھ شبہ ہے مگر مملکت خدادا پاکستان کے ساکنان کو اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ اُن کا اختیار سلب کر لیا گیا ہے ، ہم تو خواب بھی اپنی مرضی سے نہیں دیکھ سکتے ، تعبیر کیا بتائیں گے!
(گردوپیش کے لیے ارسال کیاگیاکالم)

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleآمنہ مفتی کا کالم: پرچی پڑھ لیں ازطرف سگمنڈ فرائیڈ
Next Article وبائی موسم کے پُرسے۔۔ہے خبر گرم/اظہر سلیم مجوکہ
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

متنازع ٹویٹس کیس : ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو 17 برس قید کی سزا

جنوری 24, 2026

نئے صوبے : بوتل سے جن باہر آنے ہی والا ہے : سہیل وڑائچ کا کالم

جنوری 24, 2026

ڈیرہ اسماعیل خان : شادی کی تقریب میں خود کش دھماکہ حکیم اللہ محسود کا قریبی ساتھی مارا گیا

جنوری 24, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • متنازع ٹویٹس کیس : ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو 17 برس قید کی سزا جنوری 24, 2026
  • نئے صوبے : بوتل سے جن باہر آنے ہی والا ہے : سہیل وڑائچ کا کالم جنوری 24, 2026
  • ڈیرہ اسماعیل خان : شادی کی تقریب میں خود کش دھماکہ حکیم اللہ محسود کا قریبی ساتھی مارا گیا جنوری 24, 2026
  • چترال: گھر پر برفانی تودہ گرنے سے 9 افراد جاں بحق جنوری 23, 2026
  • ملتان کا پانچواں تحفہ عتیق فکری : کوچہ و بازار سے / ڈاکٹر انوار احمد کا کالم جنوری 23, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.