کالملکھارییاسر پیرزادہ

’سب رنگ سے آگے جہاں اور بھی ہیں‘۔۔ذرا ہٹ کے/یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم

“Render unto Caesar the things that are Caesar’s, and unto God the things that are God’s.”
’سب رنگ کہانیاں‘ میرے سامنے ہیں۔یہ سمندر پار سے شاہ کار افسانوں کے تراجم ہیں جو سب رنگ میں شائع ہوئے ۔ اِس کتاب میں مختلف ادیبوں نے شکیل عادل زادہ صاحب اور سب رنگ کے بارے میں جوتعریفی و توصیفی کلمات لکھے ہیں ،اُن کے بعد مجھ پر فرض تھا کہ میں یہ کتاب با وضو ہو کر پڑھوںاور ہر کہانی کے بعد کتاب کوچوم کر آنکھوں سے لگاو¿ں۔میری عادت ہے کہ کتاب پڑھتے وقت اپنے پسندیدہ جملوں پر نشان لگا دیتا ہوں ، جہاںپوری عبارت پسند آ جائے وہاں بڑا سا ستارہ بنا دیتا ہوں اورجو حصے پسند نہ آئیں اُن پر حسب توفیق حاشیے میں کوئی جملہ لکھ دیتا ہوں ۔لیکن اِس کتاب کے ساتھ میں ایسی گستاخی کر کے گناہ کا مرتکب نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ کتاب آرٹ پیپر پر چھپی ہے اور اِس قدر مجلا ، مصفا اور دیدہ زیب ہے کہ کہیں کوئی نشان لگانے ، سرورق پر کافی کا مگ رکھنے یاکاغذ کا کان مروڑنے کو دل نہیں کرتا ۔میری اِن باتوں سے خدا نخواستہ آپ یہ نہ سمجھیں کہ میں شکیل عادل زادہ یا سب رنگ کی عظمت کا قائل نہیں ۔ اپنے تمام کالم نگار دوستوں کی طرح میرا لڑکپن بھی سب رنگ اور ہم عصر ڈائجسٹوں کی کہانیاں پڑھتے ہوئے گذرا۔ حکایت، اردو ڈائجسٹ، قومی ڈائجسٹ، سیارہ ڈائجسٹ ،عالمی ڈائجسٹ ،سسپنس، جاسوسی دنیااور اِس نوع کے بے شمار ڈائجسٹوں کا ہم ہر ماہ بے چینی سے انتظار کیا کرتے تھے ۔اِن میں لکھنے والے بھی کمال کے لوگ تھے،عنایت اللہ، ستار طاہر، مقبول جہانگیر، انوار صدیقی، انوار علیگی،محی الدین نواب، ایک سے بڑھ کرایک نگینہ ۔کم و بیش اِن 54رسائل میں سب رنگ بلاشبہ ایک منفرد ڈائجسٹ تھا اور ایک موقع پر اُس کی اشاعت اِن تمام جرائد میں سب سے اوپر تھی ۔ وجہ یہ تھی کہ اِس میں شائع ہونے والی کہانیاں کڑے معیار پر پرکھی جاتی تھیں اور یہ کڑا معیار شکیل عادل زادہ کی مرہون منت تھا ۔ شکیل صاحب ایک ایک کہانی کی چھانٹی کرتے تھے اور بعض اوقات بڑے بڑے جغادری ادیبوں کے افسانوں کو بھی رد کر دیتے تھے۔تاہم یہ کام وہ اپنی ذاتی پسند یا نا پسند کی بنیاد پر نہیں کرتے تھے بلکہ شکیل صاحب کے الفاظ میں ”کسی بھی وسیلے یا ذریعے سے فراہم ہونے والی کہانیاں سب رنگ سے متعلق ہر عمر اور ہر سطح کے کارکنوں اور فکشن کے طلب دار دوستوں کو پڑھوائی جاتی تھیں کہ وہ اپنی رائے سے آگاہ کریں۔۔۔اور خیال رہے ، رائے لفظوں میں نہیں ، اعداد میں دی جائے ۔کہانی کے سو نمبروں میں ان کی پسندیدگی کس درجے پر ہے، ساٹھ ستر، چالیس پچاس یا بیس تیس فیصد یا صفر۔اُن کی آرا پر کسی تنقید و تبصرے کی ممانعت تھی۔بالعموم پچاس فیصد سے اوپر مجموعی پسندیدگی پر کہانی اشاعت کے لیے منتخب کر لی جاتی تھی ۔“
شکیل عادل زادہ صاحب ایک بڑے آدمی ہیں ، گوہر یکدانہ ہیں،زبان و بیان، تلفظ، املااور انشا ءپر اُن کی رائے حرف آخر سمجھی جاتی ہے ،تحریر کے بازی گر ہیں ،الفاظ کے جادو گر ہیں ۔ سب رنگ کی شکل میں انہوں نے اردو زبان کی جو خدمت کی ہے وہ قابل تحسین و ستایش ہے ۔میرے کالم نگار دوستوں نے شکیل صاحب کی اِس خدمت کے اعتراف میں گزشتہ چند برسوں میں جس طرح کالموں کے طومار باندھے ہیں اُن کے بعد البتہ میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ ’سب رنگ سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔‘میں ابن صفی کا عاشق ہوں ، عمران سیریز کی کہانیاں مجھے تقریباً زبانی یاد ہیں ، میری ابن صفی کے بارے میں سوچی سمجھی رائے ہے کہ اُن کا مقام اردو کے کسی بھی بڑ ے ادیب سے کم نہیں۔ لیکن اگر میں اسی کے آلھے گاتا رہوں اور ہر دو چار ہفتے بعد ابن صفی کی کتابوں اور کہانیوں کے حوالے دینا شروع کر دوں تو شاید یہ مناسب نہیں ہوگا۔سب رنگ، عمران سیریز، بازی گر، اِنکا، دیوتا۔۔۔ بہت ہو گیا ،وہ بات رفت گزشت ،اب آگے چلیں، تازہ بات کریں ، منفرد کتابوں کا تعارف کروائیں ، جدید زمانے کے لکھاریوں کا موازنہ کریں، تخلیق کی نئی جہتوں سے روشناس ہوں اور دیکھیں کہ ہر صبح کھلنے والا دروازہ خاور ہمیں کیسے نت نئے اور رنگین مناظر پیش کرتا ہے۔اور اگرپرانی بات ہی کرنی ہے تو پھر اُس میں مبالغہ آرائی سے کام لینے کی بجائے میرٹ سے کام لیں ۔ اردو زبان سب رنگ سے شروع ہو کر سب رنگ پر ہی ختم نہیں ہو گئی ۔ اگر ڈائجسٹوں کا موازنہ ہی کرنا ہے تو پھراردو ڈائجسٹ کا کوئی مقابل نہیں ، ریڈرز ڈائجسٹ جیسے عالمی سطح پرمقبول رسالے کی طرز پراردو ڈائجسٹ نکالنے کا سہرا الطاف حسن قریشی صاحب کے سرہے ۔اِس کا دائرہ کہیں زیادہ وسیع تھا ، ادب سے لے کر سیاست تک ،ہر ذائقہ اِس میں ملتا تھااور بڑے نامور ادیب اِس میں لکھا کرتے تھے۔اس سے پہلے ہمارے ہاں اِس قسم کے ڈائجسٹ کی روایت نہیں تھی،اردو ڈائجسٹ کو آپ اِن معنوں میں رجحان ساز کہہ سکتے ہیں ۔اسی طرح باقی ڈائجسٹ بھی کم نہیں تھے، جاسوسی اور سسپنس میں بھی غیر ملکی کہانیوں کے تراجم کمال کے ہوا کرتے تھے۔حکایت کا مجھے ہمیشہ انتظار ہوتا تھا ، اگر میری یاد داشت دھوکہ نہیں کھا رہی تو حکایت میں ایک سلسلہ انگریز دور میں قتل کے جرائم کی اُن سچی کہانیوں کا تھاجس کی تفتیش بہت سنسنی خیز انداز میں بیان کی جاتی تھی ۔ یہاں کرن اور شعاع جیسے رسالوں کا ذکر نہ کرنا بھی زیادتی ہوگی ،یہ خواتین کے ڈائجسٹ تھے اور اِن جرائد میں لکھنے والی خواتین آگے چل کر ملک کی بہترین ڈرامہ نگاربنیں ، آج ہمارے ڈرامے اِن خواتین لکھاریوں کی وجہ سے ہی مقبول ہیں۔تنقید بھی کی جا سکتی ہے مگربہرحال ان کا یہ کریڈٹ کوئی نہیں چھین سکتا۔
میرے دل میں شکیل عادل زادہ صاحب کا بے حد احترام ہے اور کسی طرح بھی میرا مقصد اُن کے ادبی قد کاٹھ کو کم کرنے کی کوشش نہیں ، سچ تو یہ ہے کہ یہ میرا مقام ہی نہیں ،شکیل صاحب جیسی چند باقیات الصالحات ہی اب ہمارے درمیان رہ گئی ہیں ، اُن کی قدر کی جانی چاہیے ۔سب رنگ میں شائع ہونے والی کہانیوں کا یہ انتخاب لا جواب ہے ، جونہی یہ کتاب شائع ہو کر آئی میںنے فوراً منگوا لی اور آج کل چمچی چمچی کرکے پڑھ رہا ہوں۔ اِس میں ٹالسٹائی ، چیخوف ، موپساں،او ہنری ، سمر سٹ مام جیسے ادیبوں کی کہانیوں کے تراجم ہیں اور ایسی گف نثر میں کہ بندہ خود کو بیگانہ محسوس نہیں کرتا۔مدعا صرف اتناہے کہ تعریف ہو یا تنقید ، غلو سے کام نہیں لینا چاہیے ۔ ہم جس پر عاشق ہوتے ہیں تو یوں ہوتے ہیں کہ اُس کی مدح میں تمام حدود پھلانگ جاتے ہیں اور جس سے نفرت کرتے ہیں تو ایسی کہ اُس کی کوئی اچھی یا مثبت بات ہمیں نظر ہی نہیں آتی ۔ یہ انتہا پسندانہ رویے ہیں ۔ بعض اوقات آ پ ایسے شخص سے بھی کوئی کام کی بات سیکھ سکتے ہیں جسے آپ نا پسند کرتے ہوں مگر یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب آپ اپنی پسند اور نا پسند پر جانبداری کا سایہ نہ پڑنے دیں۔ جو سیزر کا بنتا ہے وہ سیزر کو دیں اور جو خدا کا حق ہے وہ خدا کو دیں۔
(گردوپیش کے لیے ارسال کیاگیاکالم)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker