کالملکھارییاسر پیرزادہ

یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم:زمین تباہ ہو کر رہے گی

اگر کسی دور افتادہ سیارے میں بسنے والی مخلوق ہماری زمین کی فلم بنائے اور دیکھے کہ ہم انسان اکیسویں صدی میں کیسے/کیسی زندگی گذار رہے ہیں تو وہ فلم کس قسم کی ہوگی ؟ اُس فلم کو دیکھ کر وہ مخلوق ہمارے بارے میں کیا اندازہ لگائے گی ؟ کیا وہ مخلوق ہماری ترقی اور ذہانت سے متاثر ہوگی؟ کیا وہ یہ سمجھے گی کہ اخلاقی اعتبار سے ہم انسان اعلیٰ مرتبے پر فائز ہیں ؟یا پھر وہ ہمیں پست درجے کی کوئی مخلوق سمجھے گی جو اپنی بربادی کا سامان پیدا کرتے ہوئے تیزی سے تباہی جانب گامزن ہے ؟اِن سوالات کا جواب دینا مشکل ہے کیونکہ نہ تو میں کسی دور افتادہ سیارے پر رہتا ہوں اور نہ ہی میرے پاس ایسی فلم بنانےکی صلاحیت +ذرائع ہیں ۔ لیکن کچھ چیزیں فرض بھی تو کی جا سکتی ہیں ۔ لہذاہم فرض کرلیتے ہیں کہ کسی دورافتادہ سیارے پر شعیب منصور جیسا کوئی تخلیقی فلمساز بیٹھا ہماری حرکتوں کی عکس بندی کر رہاتھا ، اُس کے ذمے زمین کے باسیوں سے متعلق تین گھنٹے کی ایک دستاویزی فلم بنانے کا کام تھا جو اُس نے بڑی تندہی کے ساتھ مکمل کر لیا ہے اور اب وہ فلم ہم سب دیکھ سکتے ہیں ۔ اس فلم میں دکھایا جائےگا کہ گزشتہ تین چار سو برس میں انسان نے کتنی ترقی کی ، کس قدر محیر العقول کارنامے انجام دیے، انسان چاند پر پہنچ گیا ، مریخ پر اپنا جہاز اتار دیا ، خلا کی وسعتوں میں جیمز ٹیلی سکوپ بھیج دی ، سرن میں کائنات کے آغاز سے متعلق تجربات شروع کر دیے، سماج میں رہنے کے لیے قوانین وضع کر لیے ، اخلاقیا ت کی بحث سمیٹ دی ، قانون کی عملداری کے نظام تشکیل دے دیے ، انسانی حقوق کے منشور بنا دیے، نسلی امتیاز کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات کر دئیے ،بھوک اور قحط کاتقریباً خاتمہ کردیا، جنگ سے امن کا سفر طے کر لیا ،وغیرہ وغیرہ۔۔۔مگرانسان کی یہ تمام کامیابیاں انٹرول تک دکھائی جائیں گی اور انٹرول کے بعد ہدایتکار حالات کا دوسرا رُخ دکھائے گا جو بے حد خوفناک ہوگا ۔اُس میں دکھایا جائے گا کہ انسان اکیسویں صدی میں بھی مہذب نہیں ہو سکا ، وہ اب بھی جانوروں کو بے دردی سے کاٹ کر پھینک دیتاہے ، روزانہ پیدا ہونے والے کروڑوں چوزوں کی گردنوں پر چھری پھیر دیتاہے اور اِس عمل پر اسے ذرا برابر بھی ندامت نہیں ہوتی۔وہ عطر کے چند قطرے کشید کرنے کے لیے جانوروں پر بہیمانہ تشدد کرتا ہے اوربعض اوقات یہ تشدد اُن کی موت کا باعث بھی بن جاتا ہے ۔فلم میں انسان کے اِس دعوے کی بھی جانچ کی جائےگی کہ اُس نے بھوک اور افلاس میں کمی کی ہے یا نہیں اور دکھایا جائے گاکہ آج بھی دنیا میں کروڑوں بچے بھوکے سوتے ہیں اور دوسری طرف کروڑوں ٹن خوراک کوڑے کے ڈبوں میں پھینک دی جاتی ہے ۔یہ فلم ہمیں بتائے گی کہ انسانوں کی زمین میں اخلاقیات ، سچائی اور اقدار کا کوئی مول نہیں جبکہ دوسری طرف دولت کمانے کو کامیابی کی معراج سمجھا جاتا ہے ۔ زمین پر جہالت کی پذیرائی کی جاتی ہے ، کھوکھلی خوبصورتی کی پرستش کی جاتی ہے اور پیسہ کمانے کی دوڑ میں کمزور کو پیروں تلے روند دیا جاتا ہے ۔یہاں خرافات بکنے والے کو لیڈر سمجھا جاتا ہے اور ذہین شخص کوناکامی کے طعنے دیے جاتے ہیں۔یہ فلم انسانوں کی نام نہاد اخلاقی برتری کا پول کھول دے گی اور دکھائے گی کہ اخلاقی اعتبار سے انسان کس قدر پست واقع ہوا ہے ۔انسان کی نظر میں اب راست بازی ، دیانت داری اور وقارکی کوئی اہمیت نہیں ، اہمیت ہے تو صرف دولت کی ، کیونکہ کروڑوں کی تعداد میں فروخت ہونے والی کتابوں میں یہی سکھایا جاتا ہے کہ کامیابی صرف دولت کمانے سے مشروط ہے ۔ اِس فلم میں ہماری زمین کے ماحول کو تباہ کرنے کے مناظر دکھائے جائیں گے اور بتایا جائے گا کہ کیسے انسان نےدرخت کاٹ کر، فضا میں زہریلی گیسوں کا اخراج کرکے اور جانوروں کی نسل کشی سے زمین کاحلیہ بگاڑ دیاہے ۔اِس فلم میں ہمارے اسکولوں اور یونیورسٹیوں کی جھلک بھی دکھائی جائے گی اور وہاں پڑھنے والوں کے کردار پر بھی تبصرہ کیا جائے گا کہ کیا حقیقت میں یہ بڑی بڑی درسگاہیں اعلی ٰ انسان پیدا کر رہی ہیں یا یہاں سے حاصل کی جانے والی ڈگریاں صرف سوشل میڈیا پروفائل یا اپنے تعارفی کارڈ پر لکھنے کے لیےاستعمال ہوتی ہیں تاکہ خود کو ایک برتر اور ممتاز انسان ثابت کیا جا سکے ۔ کیا یہ عمل انسان کے وقار میں اضافے کا باعث بنتا ہے یا اس کےاخلاقی دیوالیہ پن کو آشکار کر تا ہے ؟ اس فلم میں انسانوں کے بنائے ہوئے اس نظام کا پول بھی کھولا جائے گا جو خود غرضی کو جنم دیتا ہے اور جہاں بھوک سے بلکتے ہوئے بچے کو وہ توجہ نہیں ملتی جوایک نا معقول قسم کے گلوکار کو ملتی ہے جس کے پیچھے دیوانوں کا ایک ہجوم تالیاں پیٹ کر سمجھتا ہے کہ وہ اِس نظام سے مسرت کشید کر رہے ہیں ۔
بظاہر اِس قسم کی فلم بنانا مشکل کام ہے کیونکہ یہ سطریں لکھنے تک توکوئی ایسا سیارہ دریافت نہیں ہو سکا جہاں انسانوں سے ملتی جلتی ذہین مخلوق رہتی ہو جو ہم سے چھپ چھپا کر یہ فلم بنا لے ۔تاہم قدرے ملتی جلتی ایک چھوٹی سی پانچ منٹ کی دستاویزی فلم میں نے کہیں دیکھی تھی جس میں اسی قسم کی باتوں پر ماتم کیا گیا تھا کہ انسان کی حرکتیں اِس زمین کو تباہ کردیں گی کیونکہ اِس زمین کے ذرائع محدود ہیں اور یہاں ترقی کے نام پر لا محدوداور نا پائیدار صنعتی پیداوار ممکن نہیں ، یہ طریقہ کار بالآخر ہمیں تباہی کے دہانے تک لے جائے گا۔ویسے عین ممکن ہے کسی سیارے پر ہمارے بارے میں پہلے ہی یہ تحقیق ہو رہی ہو جس کا ہمیں علم نہ ہو۔ وہ لوگ ہمیں دیکھ رہے ہوں اورہماری جنگوں کی وجوہات جان کر ہم پر ہنستے ہوں کہ یہ کیسی مخلوق ہے جو زمین پر چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کی خاطر لاکھوں جانیں ضائع کر دیتی ہے یا اپنے خود ساختہ نظریات کو دوسروں پر تھوپنے کی کوشش میں خون کی ندیاں بہا دیتی ہے ۔دوسرے سیارے والے لوگ مادی ترقی کے پرچے میں تو شایدہم انسانوں کو اضافی نمبر دے کر پاس کردیں مگر اخلاقی پرچے میں یقیناوہ ہمیں فیل ہی کر یں گے ۔اصل میں اِس معاملے میں ہم انسانوں کا اتنا قصور نہیں ، ہم دو تین لاکھ سال کا سفر طے کرکے گزشتہ تیس ہزار برس میں ہی ’انسانیت ‘ کے درجے میں داخل ہوئے ہیں ۔ اس سے پہلے ہمارا رہنا سہنا ، اٹھنا بیٹھنا بالکل جانوروں جیسا ہی تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی اپنے تمام ترمہذب پن کے باوجود جب انسان کو اپنے وجود سے متعلق کوئی خطرہ محسوس ہوتا ہے تو اُس میں وہی حیوانی جبلت بیدار ہو جاتی ہے جوغار میں رہنے والے ’انسان‘ میں اُس وقت پیدا ہوتی تھی جب وہ کسی جانورکے حملے یا بیروبی خطرے کی بو سونگھ کر چوکنا ہو جاتا تھا اور اپنے وجود کی بقا کی خاطر سفاکی کی تمام حدیں پھلانگ کرسب کچھ کر گزرتا تھا۔آج کا انسان بھی مختلف نہیں ۔ کچھ عرصہ پہلے ہارورڈ میں ایک تحقیق کی گئی جس میں دنیا کی بہترین یونیورسٹی میں پڑھنے والے مہذب ترین لوگوں سے یہ سوال پوچھا گیا کہ اگرمستقبل میں کوئی ایسا موقع آئے کہ آپ کو زندگی بچانے کی خاطر یا اپنی بقا کے لیے کسی دوسرے شخص کی جان لینی پڑے ، چاہے وہ ہارورڈ میں آپ کا کوئی دوست ہی کیوں نہ ہو( سوال کا اصل متن مجھے یاد نہیں) ، تو کیا آپ یہ کام کر گذریں گے؟ زیادہ تر لوگوں کا جواب ہاں میں تھا ۔شایدہمیں اِس جواب پر حیرت نہ ہو کیونکہ انسان لا محالہ کسی خطرے میں سب سے پہلے اپنی اور اپنے بچوں کی حفاظت ہی کرتا ہے بالکل اسی طرح جیسے بلی مشٹنڈے کتے پراُس وقت جھپٹ پڑتی ہے جب وہ اُس کے بچوں کی طرف آنکھ اٹھا کردیکھتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ آئندہ دو تین لاکھ سال میں کیا انسان اپنی اِس حیوانی جبلت سے چھٹکارا پانے میں کامیاب ہو جائے گا یا نہیں ؟ اگر اِس کا جواب ناں میں ہے تو پھر خود غرضی پر مبنی ہماری حرکتیں مزید ملفوف تو ہوجائیں گے ، ختم نہیں ہوں گی۔زمین تباہ ہو کر رہے گی۔
(گردوپیش کے لیے ارسال کیا گیا کالم)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker