زعیم ارشدکالملکھاری

زعیم ارشدکا کالم:باجے کی آزادی

ایک شخص نے مولوی صاحب کے کان میں کچھ پوچھا جواب میں مولوی صاحب نے اس کے منہ پر ایک زور کا تھپڑ رسید کیا، وہ پلٹ کر جانے لگا تو ایک صاحب نے معلوم کیا کہ بھائی کیا ہوا مولوی صاحب نے آپ کو کس وجہ سے تھپڑ رسید کیا؟ تو وہ بولا کوئی بات نہیں تھی بس یہ معلوم کیا تھا کہ چودہ اگست کی نماز کتنے بجے ہوگی؟
بظاہر تو یہ ایک لطیفہ ہے مگر ہمارے عمومی قومی رویوں کا بہترین عکاس ہے۔ اگست کا مہینہ شروع ہوتے ہی پورا ملک اچانک جذبہ آزادی کے بخار میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ یہ جنونی کیفیت ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جاتی ہے اور ۴۱ اگست آتے آتے اپنے عروج پر پہنچ جاتی ہے۔ تب پوری کی پوری ملت اپنے ہوش و ہواس کھو بیٹھتی ہے، اب یہ اچھائی برائی کی تمیز کھو بیٹھتے ہیں، جشن آزادی منانے کیلئے لوگ کسی کی جان لے سکتے ہیں اور اپنی جان دے بھی سکتے ہیں۔ جشن آزادی منانے والوں کی بڑی تعداد میں لحاظ، مروت، بردباری، احساس تشکر، اور احساس ذمہ داری بالکل بھی نہیں ہوتا۔ بلکہ جنون و سرشاری کی کیفیت میں وہ اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کی زندگی بھی اجیرن کرکے رکھ دیتے ہیں۔
پہلی اگست سے گلی کوچوں میں باجوں، جھنڈیوں اور دوسرے سجاوٹ کے سامان کے چھوٹے چھوٹے اسٹال لگنا شروع ہوجاتے ہیں جو چودہ اگست آتے آتے بڑے بڑے نمائش گھروں میں بدل جاتے ہیں جہاں لاکھوں روپے کا بزنس ہوتا ہے۔ لوگ لاکھوں روپے کے تو صرف باجے خرید لیتے ہیں، کیونکہ یہ سمجھا جانے لگا ہے کہ اگر یوم آزادی پر باجا نہ بجایا تو گویا جشن آزادی منایا ہی نہیں یا کسی بڑے گناہ کے مرتکب ہو گئے ہیں یہ باجا بڑے اور بچے سب مل کر بجاتے ہیں، اور بلا تکان بلا تکلف دن رات بجاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ لوگ اپنی موٹر سائیکلز اور کاروں کے سائیلنسرز یا تو نکلوا دیتے ہیں یا ان میں موڈیفکیشن کرواتے ہیں، اپنے پنے ہتھیاروں کی صفائی کرتے ہیں ، تاکہ تیرہ اگست کی رات بارہ بجے سے ہنگامہ شروع کیا جاسکے۔
اس ضمن میں جتنی بیہودگی جتنی نالائقی کی جاسکتی ہے کی جاتی ہے۔ رات بارہ بجے سے شروع ہونے والی ہلڑ بازی دوسری رات بارہ بجے تک جاری رہتی ہے۔ اس دوران ہونے والے حادثات کی وجہ سے دنیا بھر میں ہمارا نام روشن ہوتا رہتا ہے اور ہمیں خبروں کی زینت بنائے رکھنے کا سبب بھی بنا رہتا ہے۔
بارہ بجے شروع ہونے والی شدید فائرنگ وقفے وقفے سے کئی گھنٹے تک جاری رہتی ہے، جس کا شکار لوگ ہسپتال پہنچتے رہتے ہیں اس بار بھی سولہ لوگ ہوائی فائرنگ سے زخمی اور ایک ہلاک ہوا۔ ہوائی فائرنگ کے بعد باری آتی ہے موٹر سائیکل تیز بھگانے کی ، ون ویلنگ کی، اور خطرناک کرتب دکھانے کی، ہر موٹر سائیکل سوار کی خواہش ہوتی ہے کہ اس موقع پر وہ سب سے نمایاں اور عمدہ کرتب دکھانے والا ہو، چاہے اسے اپنی جان ہی دینی پڑے یا کسی کی جان ہی کیوں نا لینی پڑے۔ موٹر سائیکلز کے سائیلنسر نکالے جاتے ہیں اور خوب شور مچا نے والی بلا تیار کی جاتی ہے، جو ایسا کروا لیتے ہیں وہ ریلی کے درجہ اول کے شرکاء ہوتے ہیں ۔ موٹر سائیکلز کے شور کے ساتھ خاص کرخت آواز والے باجے کا شور بھی زندگی اجیرن کئے دے رہا ہوتا ہے۔ یہ باجے دن رات مسلسل بجتے رہتے ہیں اور اتنا زیادہ بجائے جاتے ہیں کہ لوگ ذہنی مریض ہوکر رہ جاتے ہیں۔ ریلی کے شرکاء میں جو جتنا بڑا تلنگا یا چھچھورا ہوتا ہے وہ اتنا ہی اہم اور ریلی کی شان تصور کیا جاتا ہے۔ رات کے کسی بھی پہر جب آپ گہری نیند سوچکے ہوں اچانک گلی میں زبردست شور شروع ہوجاتا ہے آپ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھتے ہیں اور حواسوں میں واپس آنے پر یہ بات سمجھ پاتے ہیں کہ گلی میں لوگ جشن آزادی منا رہے ہیں اور شور ان کی موڈیفائڈ وہیکلز Modified Vehicles کے سائیلنسرز کی دین ہے، جو شور مچانے کے ساتھ ساتھ وقفے وقفے سے زور دار پٹاخوں کی آواز بھی نکالتے ہیں۔ اس دوران مرنا جینا چلتا رہتا ہے، فائرنگ کے بعد موٹر سائیکلز سے گرکر زخمی ہونے کا سلسلہ چلتا رہتا ہے ، ون ویلنگ والے بھی گر گر کر جان کے نذرانے پیش کرتے رہتے ہیں ، ایسے میں کار سوار کیونکر بھلا پیچھے رہ سکتے ہیں وہ بھی تیز رفتاری کی تمام حدود پار کرلینا چاہتے ہیں ظاہر ہے ایسے میں سب ہی تو Fast & Furious کے ہیرو نہیں ہوتے ، لہذا بہت سے توازن برقرار نہیں رکھ پاتے، وہ بھی جان کا نذرانہ دینے والوں میں شامل ہوتے جاتے ہیں بلکہ یہ تو اپنے اردگر د کے لوگوں پر گاڑی چڑھا چڑھا کر ان کو بھی زبردستی جان کا نذرانہ پیش کرنے پر مجبور کرتے رہتے ہیں۔ غرض یہ کہ جشن آزادی میں جشن کے نام پر ہلڑ بازی اور آزادی کے نام پر اخلاق، تہذیب، تمیز اور بردباری کا تماشہ بنایا جاتا ہے۔ جو دنیا بھر میں ہمارے انوکھے طرز عمل کی وجہ سے تضحیک کا سبب بنتا ہے، مگر کسی کے کان پر جوں نہیں رینگتی۔
اس پورے معاملے میں نوجوانوں اور بچوں کے ساتھ ساتھ ان کے والدین بھی برابر کے قصوروار ہیں، جو اپنے بچوں کو اس دن کی اہمیت کے بارے میں نہیں بتاتے ہیں، اور یہ بھی نہیں بتاتے کہ یہ دن ناچنے گانے اور شور مچانے سے زیادہ شکرگزار ہونے کا ہے۔ یہ دن لوگوں کو تکلیف دینے کی بجائے ان کو راحت دینے کا ہے۔ یہ دن بردباری اور عظمت والا دن ہے، اس دن ہمیں اعلی ترین اخلاقی قدروں کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ انفرادی و اجتماعی دونوں طرح سے، علمی مذاکرے ہونا چاہئیں، ادبی بیٹھک ہونا چاہئیں جن کے ذریعے یوم آزادی کی اصل فکر اور مقصد کو نئی نسل کے دل و دماغ میں راسخ کیا جاسکے، تاکہ وہ جان سکیں کہ پاکستان کا مطلب کیا ہے اور اس دن کی اہمیت کیا ہے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker