افسانے

زعیم ارشد کا افسانہ : دیساں دا راجہ میرے بابل دا پیارا

صبیحہ کو دیکھ کر پاگل خانے کا عملہ اور ڈاکٹرز ہمیشہ اس بات پر حیران ہوا کرتے تھے کہ اتنی پرھی لکھی اتنی خوبرو لڑکی پاگل کیسے ہوگئی؟ صبیحہ ایک ایسی مریضہ تھی جس کے ساتھ پورے اسپتال کے عملے کی ہمدردیاں تھیں اور وہ جی جان سے چاہتے تھے کہ صبیحہ ٹھیک ہوکر اپنے گھر چلی جائے مگر جب بھی یہ امید بندھنے لگتی تھی کوئی نہ کوئی حادثہ اس جنم جلی کی راہ میں حائل ہوجاتا تھا۔
صبیحہ ایک متوسط گھرانے کی ہونہار اور قابل بیٹی تھی بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہونے کی وجہ سے بھی گھر میں اس کی خاص اہمیت تھی، اور وہ تھی بھی ذہین و سلیقہ مند۔ لہذا خاندان بھر میں بہت عزت و تکریم کی نگاہ سے دیکھی جاتی تھی۔ ساتھ ساتھ دراز قد اور دلفریب نقوش نے اسے اور منفرد و اہم بنا دیا تھا۔ غرض راوی چین ہی چین لکھتا تھا، اور زندگی کی گاڑی ایک کے بعد ایک اسٹیشن پیچھے چھوڑتی ہوئی تیزی سے اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھی کہ صبیحہ کے ماسٹرز کے نتیجے نے گاڑی کو ایک جنکشن پر روک دیا۔ وہ بہت ہی نمایاں نمبروں سے کامیاب ہوئی تھی اور اب نوکری کرنا چاہتی تھی کہ جو کچھ اس نے اپنی تعلیم کے دوران سیکھا تھا اس کا کچھ عملی مظاہرہ بھی کیا جائے۔ جبکہ والدین چاہتے تھے کہ اس کی شادی کردی جائے بعد میں وہ جو چاہے سو کرے۔ اور قرعہء فال والدین کے نام نکلا، ہوا کچھ یوں کے اس کی یونیورسٹی کی ایک لڑکی نبیلہ کو صبیحہ بہت پسند تھی وہ اپنے اکلوتے بھائی کیلئے اس کو پسند کرتی تھی، لہذا جیسے ہی نتیجہ آیا وہ اپنے والدین اور دوسری بہنوں کے ساتھ آدھمکی، صبیحہ کے گھر والوں کو لوگ پہلی نظر میں ہی اچھے لگے مگر انہوں نے کہا کہ سوچ کر بتاتے ہیں۔ ایک دن صبیحہ کے گھر والے نبیلہ کے گھر چلے گئے، وہ خاصے امیر لوگ تھے ایک عالیشان گھر میں رہتے تھے گھر کی تزئین و آرائش ان کے ذوق اور امارت کو ظاہر کر رہی تھی۔ لڑکا باہر سے قانون پڑھ کر آیا تھا، نہایت ہی حسین اور جاذب نظر تھا طویل قامت، کھلتی ہوئی رنگت، گھنے سیاہ گھنگھریالے بال، جو کندھوں پر جھولتے بہت اچھے لگ رہے تھے، جسم نہایت ہی سیڈول اور کسرتی نظر آرہا تھا، وہ قانون دان سے زیادہ ایتھلیٹ نظر آرہا تھا۔ وہ ایک افسانوی کردار کی طرح خوبرو و جاذب نظر تھا، اوپر سے نہایت قیمتی لباس نے چار چاند لگا دئیے تھے۔ صبیحہ کے والدین اور بہنیں تو دیکھتے ہی مراد پر فریفتہ ہو گئے۔ سب چوری چوری ایک دوسرے کو دیکھ کر آنکھوں ہی آنکھوں میں مسکرا رہے تھے۔ وہ سب دل ہی دل میں اس رشتہ کو قبول کر چکے تھے۔
صبیحہ کے گھر والے بہت خوش تھے، انہیں مراد بہت پسند آیا تھا، وہ نہایت ہی کم گو اور نپے تلے انداز میں بات کرتا تھا مگر جب بھی بولا تو ان لوگوں کو لگا کہ اس کی آواز اس کی شخصیت سے میل نہیں کھاتی۔ منگنی بہت دھوم دھام سے ہوئی لوگوں نے جوڑے کو بہت پسند کیا بلکہ بعض نے تو انہیں ہیرا اور پنّہ کی جوڑی قرار دیا۔ وقت جیسے پر لگا کر اڑ گیا اور ان کی شادی کا دن آگیا۔
صبیحہ بیاہ کر سسرال آئی تو سب نے جیسے اس کو آنکھوں پر بٹھا لیا، نندیں بالکل روائیتی نہ تھیں بہت ملنسار اور خوش مزاج، ساس سسر بہت پیار کرنے والے، مگر مراد کا رویہ کچھ عجیب سا تھا، وہ صبیحہ سے ہمیشہ ایک خاص دوری بنائے رکھتا تھا۔ شب عروسی بھی وہ کمرے میں بہت دیر سے آیا، پھر موڈ بھی کچھ خراب لگ رہا تھا، صبیحہ نے سوچا کہ شاید تھک گیا ہے، اس نے صبیحہ سے کوئی خاص بات نہ کی سرسری طورپر منہ دکھائی کی ایک قیمتی ہیرے کی انگوٹھی منہ دکھائی میں دی اور یہ کہہ کر سو گیا کہ آپ بھی سوجائیں تھکی ہوئی ہوں گی۔ صبیحہ کی تو پوری رات ہی آنکھوں آنکھوں میں کٹ گئی، اس نے تو کیا کیا سوچا تھا اور یہاں تو معاملہ بالکل ہی الٹ نکلا، نہ بات ہوئی نہ تعارف نہ ہنسی نہ مذاق، بس خاموشی، اکتاہٹ اور اداسی، کیا ایسی ہی ہوتی ہے شب عروسی؟ وہ سوچوں میں گم تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی جس نے مراد کی نیند میں خلل ڈال دیا اور وہ بیدار ہوگیا، ناگواری سے اٹھ کر دروازہ کھولا تو سامنے اس کی بہنیں اور کزنز تھیں جو شرارتی نگاہوں سے اس کا جائزہ لے رہی تھیں۔ اس کے بعد وہ سب ہلہ مار کر کمرے میں داخل ہوگئیں اور باجماعت زور دار آواز میں السلام وعلیم بھابھی کا نعرہ لگایا، مگر نعرہ لگاتے لگاتے ہی سب ایک دم حیرت سے صبیحہ کو دیکھنے لگیں، کیوں کہ جیسا اور جس جگہ انہوں نے رات کو صبیحہ کو چھوڑا تھا وہ اسی جگہ اسی حالت میں انہی کپڑوں میں بیٹھی تھی، لڑکیاں سوالیہ انداز سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگیں۔ پھر ذرا سنبھل کر صبیحہ سے ہنسی مذاق کرنے لگیں۔ کچھ ہی دیر میں صبیحہ کے گھر والے بھی ناشتہ لے کر آگئے، وقت آگے بڑھنے لگا مگر ناخوشگواری اور اداسی کے ساتھ، مراد کو صبیحہ سے کچھ شغف نہ تھا، وہ جیسے گھر والوں کی مرضی کو نبھانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا، آہستہ آہستہ دونوں کی زندگی پر جمود طاری ہونے لگا اب وہ ہفتے ہفتے ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے تھے، وہ ایک کمرے میں الگ الگ سوتے تھے۔ آخر ایک دن صبیحہ نے کہا کہ وہ جاب کرنا چاہتی ہے، مراد نے بلا تردد حامی بھر لی یوں اس کی بے رونق زندگی میں کچھ رونق اور کچھ خوشیاں آگئیں۔ مصروفیت نے بڑا کام دکھایا اور جو کمی زندگی میں تھی اس کی تلخی کو کچھ حد تک کم کرنے میں مددگار ثابت ہونے لگی۔ زندگی ایک خاص ڈھب پر چل نکلی تھی اور مراد اور صبیحہ حالات سے سمجھوتہ کر چکے تھے۔
شادی کو چھ مہینے گزر چکے تھے مگر مراد نے کبھی بھی صبیحہ کو انگلی تک نہیں لگائی تھی وہ ہمیشہ اس سے بیزار بیزار سا رہتا تھا، صبیحہ کو یہ شک تھا کہ شاید کوئی بچپن کی محبت ہے جسے یہ بھلا نہیں پا رہا، اس ہی وجہ سے ہمارے درمیان یہ بے تعلقی کی خلیج حائل ہے۔ مراد اکثر راتوں کو غائب رہتا تھا، مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ وہ جس رات بھی باہر رہتا تھا اس کے اگلے دن بہت خوشگوار موڈ میں ہوتا تھا، ہنستا بولتا بلکہ مذاق کرنے بھی کوشش کرتا، صبیحہ کے لئے یہ نہایت حیرت انگیز تبدیلی تھی۔ اور اس کا بچپن کی محبت والا شبہ یقین مین بدلتا جا رہا تھا، کہ یہ جس روز مل کر آتا ہے اس روز سب گلے شکوے بھلا دیتا ہے۔ صبیحہ کی بچپن کی سہیلی پلوشہ کی شادی طے پاگئی تھی، وہ بضد تھی کہ صبیحہ اس کے گھر آکر رکے اور شادی میں شرکت کرے، رکنے سے تو خیر اس نے انکار کردیا مگر شادی کی تمام رسومات میں شرکت کی حامی بھر لی، صبح صبح وہ دفتر پہنچی ہی تھی کہ پلوشہ کی کال آگئی ہاں جی یاد ہے نا؟ آج کیا ہے، وہ سٹپٹا گئی، کیوں آج کیا ہے؟ ارے اس لئے کہہ رہی تھی تم یہاں آکر رہ جاؤ، آج مہندی ہے، اور ملک کے سب سے نامی گرامی گروپ کی پرفارمنس ہے۔ صبیحہ نے ہنستے ہوئے کہا، اوہ اچھا اچھا بھئی میں وقت سے پہلے پہنچ جاؤ ں گی۔ اور ہوا بھی ایسا ہی۔ رسمیں بڑے زور شور سے ہوئیں، کھانا ہوا، لڑکے والوں اور لڑکی والوں کے درمیان مقابلہ ہوا، آخر میں وہ گروپ جس کا سب ہی انتظار کر رہے تھے نے اپنی ڈانس پرفارمنس شروع کی وہ کبھی گروپ اور کبھی اکیلے ناچ رہے تھے، ان کی لیڈ ڈانسر ایک انتہائی دراز قد لڑکی تھی جو جب بھی پرفارم کرنے آتی، محفل میں جیسے آگ لگا کر چلے جاتی، اس نے عربی طرز کا لباس پہن رکھا تھا اور اسی انداز میں چہرے پر نقاب لیا ہوا تھا، کہ دولہا کی بہن نے فرمائش کی کہ دیساں دا راجہ میرے بابل دا پیارا پر پرفارم کیا جائے، گروپ شاید اس کیلئے تیار تھا، فوراً ہی میوزک پلیئر بند کرکے چند لوگ فنکار سامنے آگئے ساتھ ساتھ سازندے اور ڈھولچی بھی آموجود ہوئے۔ پرفارمنس شروع ہوئی تو وہی دراز قد رقاصہ ناچنے لگی وہ ایسے ایسے بھاؤ دے رہی تھی کہ محفل دیوانی ہوئی جارہی تھی، خود صبیحہ بھی بڑھ بڑھ کر داد دے رہی تھی کہ اچانک رقاصہ کا ہاتھ اس کے چہرے کے نقاب میں الجھ گیا اور نقاب چہرے سے ہٹ کر دور جاگرا، لوگوں نے دیکھا کہ وہ ایک خوبرو زنخا ہے عورت نہیں، مگر تیسری قطار میں بیٹھی صبیحہ کی تو جیسے چیخ ہی نکل گئی، اس کی تو جیسے جان ہی نکل گئی۔ دونوں کی نظریں لمحے بھر کو چار ہوئیں اور وہ بیہوش ہوگئی، رقاصہ بھی بھاگ کر کہیں اسٹیج کے پیچھے چلی گئی۔ کچھ دیر کیلئے محفل جیسے منجمد ہوگئی اس کے بعد دوبارہ ہلہ گلہ شروع ہوگیا، مگر صبیحہ کا اب ایک پل بھی بیٹھنا دوبھر ہو رہا تھا۔ وہ سیدھی اپنے والدین کے گھر چلی گئی اور خود کو کمرے میں بند کرلیا،
گھر والوں نے بہت پوچھا مگر اس نے کسی سے کوئی بات نہ کی، بس روتی رہی۔
صبح ہونے تک اس کو بہت تیز بخار ہوگیا تھا اور وہ ہزیان بک رہی تھی، دیساں دا راجہ میرے بابل دا پیارا، والدین اسے اسپتال لے گئے ڈاکٹرز نے کہا کہ ان کے دماغ پر کسی واقعہ کا انتہائی شدید اثر ہوا ہے انہیں داخل کرنا پڑے گا، اسے داخل کرادیا گیا اور اسے سلانے اور سکون میں رکھنے کی کوشش کی جانے لگی۔ والدین نے مراد کو بھی بتا دیا تھا، اگلی صبح مراد اسپتال چلا آیا، وہ بہت گھبرایا ہوا، دکھی اور پریشان لگ رہا تھا، لوگ سمجھ رہے تھے کہ شاید بیوی کی بیماری کی وجہ سے پریشان ہے، مگر وہ جیسے ہی کمرے داخل ہوا، صبیحہ نے زور سے چیخ ماردی دیساں دا راجہ میرے بابل دا پیارا، سارے لوگ حیران تھے کہ یہ کیا ماجرا ہے کہ اس کا جسم اکڑنے لگا تشنج کی کیفیت طاری ہوگئی آنکھیں ابل کر حلقوم سے باہر نکل آئیں اور منہ سے جھاگ بہنے لگا گھر والے دوڑ کر ڈیوٹی ڈاکٹر کو بلا کر لائے اتنی دیر میں صبیحہ کی ناک سے خون کی ایک لکیر نکل کر بہنا شروع ہوگئی اور وہ ڈھیلی پڑ گئی، جیسے جان نکل گئی ہو، ڈاکٹر اسے ایمرجنسی میں لے گئے تو معلوم ہوا کہ اسے برین ہمرج ہوا ہے۔ جس نے دماغ کے کچھ حصوں کو ناکارہ بنا دیا ہے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker