افسانےزعیم ارشدلکھاری

اعتبار کی موت ۔۔ زعیم ارشد

وہ ہمارے ڈپارٹمنٹ میں نئی نئی وارد ہوئی تھی، مگر لوگوں سے فوراً ہی گھل مل گئی تھی ، میں بھی اس سے بات کرنا چاہتا تھا مگر اس کے رعب حسن کی وجہ سے ہچکچکا رہا تھا۔ کیونکہ وہ بالکل غیر ملکی یورپی حسینہ نظر آتی تھی۔ بالخصوس جب وہ بھرپور قہقہ لگاتی تھی۔ لوگ اسے خاص پاکستانی انداز میں اردو بولتا دیکھ کر حیرت زدہ رہ جاتے تھے۔ اس کے خدوخال خاص برطانوی انداز لئے ہوئے تھے۔ اسکی گلابی رنگت، سبز آنکھیں اور بھورے بال اسے فوراً ہی لوگوں کی توجہ کا مرکز بنادیا کرتے تھے ۔ وہ انگریزی کے علاوہ اردو اور پنچابی بھی بہت ہی روانی سے بولتی تھی۔
وہ اپنی عادات و اطوار میں نہایت ملنسار اور خوش مزاج تھی طبیعت میں شوخی کا عنصر نمایاں تھا تو جہاں جا کھڑی ہوتی ایک چھوٹا سا ہجوم بن جاتا اور لوگ اس کی موجودگی کو انجوائے کرتے تھے۔ اپنے خدوخال کی مناسبت سے لباس بھی ہمیشہ منفرد اور خاص یورپین اندا ز کا ہوتا تھا، جو اس کے خدوخال سے مل کر اس کی شخصیت کو مز ید انوکھا اور جاذب نظر بنا دیتا تھا۔
وہ ہمارے دفتر میں ابھی چند روز پہلے ہی ایک پروجیکٹ پر جز وقتی کنسلٹنٹ بھر تی کی گئی تھی۔ اس کی سافٹ وئر ڈویولپمنٹ میں مہارت اور وجہ منصبی کو مد نظر رکھتے ہوئے دفتر کے زیادہ تر لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ پروجیکٹ کیلئے میم امپورٹ کی گئی ہے جو کام ختم ہونے پر واپس چلی جائے گی۔
ہمارا تعارف بھی حادثاتی تھا، ایک روز صبح صبح جب میں دفتر پہنچا تو ہال میں کوئی نہ تھا میں اپنے لیپ ٹاپ پر کام کرنے کی تیاری کر ہی رہا تھا کہ مجھے نہایت ہی شستہ اردو میں کسی نے سلام کیا، نظر اٹھا کر دیکھا تو سامنے پریٹی وومن کی ہیروئن کھڑی تھی جواب تو میں کیا دیتا جیسے دل اچھل کر حلق میں آگیا، اور اتنی تیز تیز دھڑکنے لگا کہ جیسے پسلیاں توڑ کر باہر نکل آجائے گا۔ میری گھبراہٹ کو بھانپ کر اس نے نہایت متانت سے دوبارہ سلام کیا، مگر اس بار اس کے چہرے پر بڑی شریر سی مسکراہٹ بھی تھی جیسے وہ میری کیفیت کو بھانپ کر مزہ لے رہی ہو۔ میں نے ہکلا ہکلا کر سلام کا جواب دیا تو اس نے جھٹ سے اپنا تعارف کرا دیا کہ وہ انابیہ شاہ ہے۔ اور پروجیکٹ میں بطور جز وقتی ٹیم ممبر کام شروع کیا ہے ۔ میں نے بھی بتایا کہ میں شا ہ میر خان ہوں اور بطور پروجیکٹ انچارج کام کروں گا۔ ذ را دیر میں ہم بے تکلفی سے پروجیکٹ ٹائم لائن اور دوسرے امور پر بات کر رہے تھے۔ وہ ڈویلپمنٹ سائڈ پر تھی اور مجھے پورے پروجیکٹ کو دیکھنا تھا لہذا گفتگو شروع ہو گئی۔
وہ میرے بارے میں جاننا چاہتی تھی جبکہ میر ا تجسس اسکے بارے میں جاننے پر اکسارہا تھا۔ میں نے مختصراً بتا دیا کہ میں یہاں کئی سال سے ہوں۔ تو وہ کہنے لگی کہ وہ اس سے پہلے ایک بڑے سافٹ ویئر ہاﺅس میں کام کرتی رہی ہے، مگر مالی مشکلات کی وجہ سے انہوں نے اسٹاف کو کہا تھا کہ جو بھی رضاکارانہ طور پر چھوڑ کر جانا چاہے جاسکتا ہے۔ مجھے یہاں اچھا موقع ملا تو یہاں آگئی، اس نے ایک معروف یونیورسٹی سے کمپیوٹر کے شعبہ میں ماسٹرز کیا ہوا تھا۔
آہستہ آہستہ ہمارے تبادلہء خیال کا دورانیہ بڑھتا گیا اور ہم عموماً لمبی لمبی بحث میں مشغول رہنے لگے اس کے کونسپٹ اور لوجک بہت مضبوط تھی لہذا کام کرنے میں مزہ آنے لگا، اس کو زیادہ بتانا نہیں پڑتا تھا، ہماری باہمی افہام و تفہیم بہت بڑھ چکی تھی۔ جلد ہی ہم ایک دوسرے کے اچھے دوست بن گئے وہ ایک بردبار، سمجھدار اور معاملہ فہم لڑکی تھی۔ جس دن سے تعارف ہوا تھا تجسس دل میں چٹکیاں لیتا رہتا تھا کہ آخر معمہ کیا ہے کہ یہ پاکستانی سے زیادہ یورپین گوری نظر آتی ہے۔ میں اس کی خوش مزاجی اور زندہ دلی سے کچھ زیادہ ہی متاثر ہوچکا تھا اور آہستہ آہستہ جذباتی انسیت کی جانب مائل ہوچلا تھا۔ جب بھی میں اکیلا ہوتا صرف مس شاہ کے متعلق ہی سوچا کرتا تھا۔ میرے خیالات پہلے رنگین اور اب سنگین ہونے جا رہے تھے کہ اچانک ایک دن جیسے مجھ پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے، ہوا کچھ یوں کہ ہم دفتر میں لنچ کر رہے تھے کہ میں نے اس سے پوچھا کہ اس کا شادی کا کیا ارادہ ہے۔ تو وہ بولی کہ وہ اپنے بجائے اپنی بیٹیوں کی شادی کا سوچتی ہے۔ اور مجھ پر جیسے ہروشیما ناگاساکی والی بمباری ہوگئی۔ وہ میری حیرت کو بھانپ کر بولی کہ سر میری دو بیٹیاں ہیں ایک کالج جاتی ہے اور دوسری اسکول ختم کرنے والی ہے۔ میرے چہرے پر چھائی پریشانی کو بھانپ کر اس نے کہا کہ آپ اتنے پریشان کیوں ہیں، تو میں نے خود کو سنبھالتے ہوئے جواب دیا کہ تم بالکل بھی نہیں لگتیں کہ اتنے بڑے بڑے بچوں کی ماں ہوں گی۔ تو وہ بڑے زور سے قہقہ مار کر ہنس دی۔
ٓآج تو میں مزید کچھ کہنے سننے کے قابل نا رہ گیا تھا سوچا کہ کل معلوم کروں کا کہ وہ اتنی منفرد کیونکر نظر آتی ہے۔ اگلی صبح اس کے لباس نے سوال کرنے جواز پیدا کردیا، اس نے کالی اسکن فٹ جینز پر کالی زمین پر بڑے بڑے سرخ گلابوں والی کالر والی شرٹ پہن رکھی تھی جو ا س پر بہت ہی سج رہی تھی ، میں نے اس سے کہا کہ آج تو آپ بالکل ہی سے یورپین میم لگ رہی ہیں، کہنے لگی شکریہ، یہ میری دادی نے چچا کے ہاتھ برطانیہ سے بھیجا ہے۔ تو میں نے پوچھا کہ کیا آپ کی دادی برطانیہ میں رہتی ہیں، تو وہ ہنس کر بولی کہ وہ تو ہیں بھی برطانوی ، میں مسلسل اسے سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہا تھا ، وہ میری سوالیہ نگاہوں کو جان کر بات آگے بڑھائی۔
کہنے لگی کہ دراصل میرے دادا پاکستانی کرسچین تھے، پاکستان میں ایک غیر ملکی کمپنی میں کام کرتے تھے، کمپنی کی طرف سے برطانیہ تربیت کیلئے گئے تھے۔ وہاں ان کی ملاقات میری دادی سے ہوگئی دونوں کو عشق ہوگیا اور میری گوری دادی ایک سانولے پاکستانی کی بیوی بن کر پاکستان آگئیں۔ جب تک دادا زندہ رہے دادی پاکستان میں ہی رہیں دادا کے انتقال کے بعد بچوں کو لیکر برطانیہ جا بسیں۔ پاکستان میں صرف میرے والدین رہ گئے تھے۔ اور اب تو صرف والدہ ہیں۔ اور میں والدہ کے ساتھ ہی رہتی ہوں۔ لگ کچھ یوں رہا تھا کہ جیسے آج وہ حیرت کی تمام حدیں مجھ پر تمام کردے گی۔ میں نے ذرا دھیمے لہجے میں پوچھا کہ مگر آپ تو شادی شدہ ہیں تو سسرال میں کیوں نہیں رہتیں؟ اور تم نے یہ بھی کہا کہ تمہارے دادا کرسچین تھے؟ مگر تم تو مسلمان ہو۔ وہ میرے پے در پے سوال سن کر کچھ پریشان سی ہوگئی اور پھر کہنے لگی کہ میری تو ساری کی ساری فیملی اب بھی کرسچین ہے، صرف میں اور میری بیٹیاں مسلمان ہیں۔ میرے منہ سے نکلا ارے یہ کیسے ہوا؟ تو بولی کہ مجھے ابتدائی عمر ہی میں ایک مسلمان لڑکے سے محبت ہوگئی تھی، اور وہ اتنی شدید تھی کہ لاکھ پابندیوں اور اس کے اور میرے گھر والوں کی شدید ناپسندیدگی کے باوجود میں نے اٹھارہ سال کی ہوتے ہی اس سے کورٹ میرج کرلی۔ یہ شادی میرے شوہر کے گھر والوں کو ایک آنکھ نہ بھاتی تھی۔ مگر میرا شوہر کیونکہ اپنے والدین کا لاڈلا اور اکلوتا بیٹا تھا لہذا مجبوراً مجھے برداشت کرنے لگے تھے۔ سال گزرا کے میرے ہاں اللہ نے بیٹی عطا کی ، میں نے محسوس کیا کہ میرے سسرالیوں کے ساتھ ساتھ میرے شوہر کو بھی بیٹی کی پیدائش سے خوشی نہیں ہوئی تھی۔ وہ بیٹے کی امید میں تھا۔ بیٹی کی پیدائش نے اسے شدید مایوس کیا تھا۔ وہ جیسے سانس لینے کو یا خیالات کو مجتمع کرنے کے لئے رکی اور پھر یوں گویا ہوئی کہ، حالات نے کروٹ بدلی اور اللہ نے مجھے دوسری بیٹی سے نواز دیا۔ اب تو تمام تکلفات کے پردے اٹھ گئے اور میرے شوہر کے ضبط کے بندھن بھی ٹوٹ گئے وہ بری طرح پھٹ پڑا، وہ غصّے میں مجھے میرے والدین کے گھر چھوڑ کر چلا گیا۔ اور پھر لوٹ کر نہیں آیا۔ میں نے اور میرے گھر والوں ہر جتن کر کے دیکھ لیا نہ وہ ملا نہ رابطہ کیا، سوا مہینے بعد جب میں بچیوں کو لے کر سسرال پہنچی تو ان لوگوں نے مجھے پہچاننے سے ہی انکار کردیا، میرا شوہر موجود نہ تھا، میں نے ان سب کی بہت منتیں کیں مگر ان پر کچھ اثر نہ ہوا۔ یہاں تک کے انہوں نے اپنی پوتیوں کو دیکھنے تک سے انکار کردیا۔ میں مایوس و نامراد والدین کے گھر لوٹ آئی، میں نے ہر کوشش کر دیکھی کہ کسی طرح شوہر سے رابطہ ہو جائے مگر اس کا کچھ پتہ نہین چل رہا تھا، جانے زمین نگل گئی تھی یا آسمان کھا گیا تھا۔
والدین کو میری تباہی کا بڑا قلق تھا والد تو یہ صدمہ نہ سہہ سکے اور سال بھر میں انتقال کر گئے، رہی والدہ تو وہ بھی زندہ درگور ہیں ۔ جانے کیسے ہمت کرکے میں نے تعلیم مکمل کی ، نوکریاں کیں، اب اس کے چہرے پر شدید کرب اور تاسف نظر آرہا تھا۔ کہنے لگی کہ اس دن سے آج تک والدین کے گھر پر ہی ہوں اور اپنی بچیا ں پالنے کی کوشش کر رہی ہوں۔ میں اس کی دکھ بھری داستان سنتے سنتے بالکل ہی گم سم ہوگیا تھا۔ جھٹ سے بول پڑا کہ تم تو حسین ہو پڑھی لکھی ہو دوسری شادی کیوں نہیں کرلی ؟ تو اس نے نہایت ہی دکھی لہجے میں کہا کہ اعتبار بہت ہی بری طرح مجروح ہوگیا ہے، جب سگا باپ اپنی بیٹیوں کا نہ ہوسکا تو کوئی غیر کیا گل کھلائے گا کیا معلوم۔ اس نے مجھے بالکل ہی لاجواب کردیا تھا۔ مجھے لگا کہ جیسے میرے بھی اعتبار کی موت ہوگئی ہو۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker