افسانےزعیم ارشدلکھاری

بند گلی ۔۔ زعیم ارشد

کئی دنوں سے فیکٹری کے بہت سے لوگ اس بات کو محسوس کر رہے تھے کہ آفس بوائے انیس کچھ زیادہ ہی خوش نظر آرہا تھا، سب ہی یہ راز جاننا چاہ رہے تھے مگر وہ پروں پر پانی ہی نہیں پڑنے دے رہا تھا جھٹ سے لہرا کر کسی اور جانب دوڑ جاتا تھا اور پوچھنے والا منہ دیکھتا رہ جاتا تھا، آج پھر جب اس نے تان لگائی کہ موہے پیا ملن کی آس، تو ایڈمن مینیجر میجر آصف سے رہا نہ گیا، اسے آواز دے کر اپنے پاس بلایا ، وہ بھی کئی دنوں سے انیس میں رونما ہونے والی اس عجیب و غریب تبدیلی پر متجسس تھے ، کہ وہ بس ایک عجیب سی سرشاری کی کیفیت میں تھا ، جب یہ کیفیت اپنے عروج پر ہوتی تھی تو وہ بے اختیار گنگنانا شروع کر دیتا تھا۔ آخر کار میجر صاحب بول ہی پڑے، بھائی کیا ماجرا ہے ذرا کچھ ہم کو بھی تو پتہ چلے۔ ایسا کونسا خزانہ مل گیا ہے جو یوں ہواﺅں میں اڑ رہے ہو۔
پہلے تو وہ سٹپٹا سا گیا پھر کسمساتے ہوئے بولا سرجی کچھ بھی نہیں بس یونہی، مگر میجر صاحب بھی آخر ریٹائرڈ فوجی تھے کہاں ہار مانتے، بہت لگاﺅ سے بولے یار ہم تمہیں بہت سالوں سے جانتے ہیں ایسا تو تم کو پہلے کبھی نہیں پایا جیسا اب ہے۔ یہ تمہاری مستی بھری چال، چہرے پر بشاشت اور کھوئی کھوئی آنکھیں تو کچھ اور ہی کہانی سنا رہی ہیں، دیکھو میاں ہم سے نہ چھپاﺅ، ہم اڑتی چڑیا کے پر گن لیتے ہیں تم کس کھیت کی مولی ہو۔ تمہارا بار بار بے اختیاری میں پیا ملن کی آس گانا بتا رہا ہے کہ معاملہ ضرور کسی صنف نازک کا ہے۔ اور بات عشق و محبت تک پہنچ چکی ہے۔ انیس ایک دم ان کے قریب آگیا اور آہستگی سے رازدارانہ انداز میں بولا سر اگر آپ وعدہ کریں کہ بات میرے اور آپ کے درمیان ہی رہے گی تو میں صرف آپ کو بتا دیتا ہوں۔ انیس جس نے آج تک اپنے دل کی بات کسی کو بھی نہیں بتائی تھی ہچکچاتے ہچکچاتے بتانے پر آمادہ تھا۔
وہ کچھ دیر خلاﺅں میں دیکھتا رہا میجر صاحب صاف محسوس کر رہے تھے جیسے اس پر ایک کیفیت آرہی تھی اور ایک جا رہی تھی، پھر وہ جیسے ہمت جمع کرکے بول ہی پڑا ، کہنے لگا کہ سر میں کم عمری میں محلے کی ایک لڑکی سے یکطرفہ محبت کرتا تھا، وہ بڑی حسین، بڑی پیاری تھی، ہر کوئی چاہتا تھا کہ وہ اس کی ہوجائے مگر وہ کسی کو منہ ہی نہیں لگاتی تھی۔ یہ غریب لوگ تھے کہ اچانک ہی ہمیں معلوم ہوا کہ اس کی شادی ہو گئی ہے اور وہ ہماری توقع سے بھی جلدی بیاہ کر ملک سے باہر چلی گئی، ہم سب ہاتھ ملتے رہ گئے۔
ان لوگوں نے محلے میں کسی کو کچھ بھی نہیں بتایا تھا۔ پھر لوگ آہستہ آہستہ اسے بھولتے چلے گئے شادیاں ہو گئیں بچے ہوگئے ، زندگی ایک ڈگر پر آگئی ، کہ بارہ سال بعد ایک دن اچانک محلے میں جیسے بھونچال آگیا، کیا عورت کیا مرد سب ہی بس ایک ہی بات کر رہے تھے ، ارے تم نے سنا ماہ نور واپس آگئی ہے، اس کے پرانے چاہنے والوں کا تو حال ہی کچھ اور تھا، سب بس اس کی ایک جھلک دیکھنے کو بے چین پھر رہے تھے۔ پھر معلوم ہوا کہ وہ تو ہمیشہ کیلئے آگئی ہے، اسے طلاق ہو گئی ہے، نہ جانے کیوں یہ دکھ کی خبر سن کر بھی اس کے چاہنے والوں کو ایسا لگا جیسے بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹ گیا ہو، گو کہ تھوڑی دیر ہوگئی تھی مگر ٹھیک ہے اب بھی بہت دیر نہیں ہوئی تھی۔
کئی لوگوں نے اس کی عدت ختم ہونے کے بعد شادی کا پیغام بھیجا ان میں میں بھی شامل تھا، و ہ تو مجھ سے راضی ہے مگر اس کے گھر والے نہیں مان رہے ہیں مگر میں بھی ہمت ہارنے والا نہیں ہوں۔ میجر صاحب جو اب تک بہت ہی انہماک سے اس کی باتیں سن رہے تھے۔ بول پڑے کہ یار تم ایک چپڑاسی ہو اتنی کم آمدنی میں بھلا دو دو بیویاں کیسے نبھا سکو گے۔ جبکہ تمہاری پہلی بیوی سے تو ایک بیٹی بھی ہے۔ کہنے لگا کہ سر میں نے اپنی بیوی سے بات کی ہے اسے بہت سمجھایا ہے مگر وہ کسی صورت مان ہی نہیں رہی ہے۔ وہ بس یہی کہہ رہی ہے کہ اگر تم نے دوسری شادی کی تو میں تم سے طلاق لے لوں گی۔ اگر وہ نہ مانی تو مجبوراً مجھے اسے طلاق دینا پڑے گی۔ میجر صاحب حیرت سے اس کا منہ دیکھ رہے تھے اور سوچ رہے تھے کہ آخر ایسی کون سی حسینہ ہے کہ یہ اتنا بڑا قدم اٹھانے کو تیار ہے۔
اچانک وہ میجر صاحب کے قدموں کے پاس بیٹھ گیا اور بہت ہی لجاجت سے بولا کہ سر اگر آپ مجھ پر ایک احسان کردیں ، اسے نوکری دلا دیں تو بات آسانی سے بن جائے گی۔ وہ پڑھی لکھی ہے باہر سے آئی ہے ہمارے دفتر کا کام آسانی سے سنبھال لے گی۔ میجر صاحب پہلے تجسس کا شکار تھے ، انہوں نے سوچا کہ چلو اس بہانے دیکھیں تو صحیح کہ آخر ہے کیا شے؟ ذرا توقف کے بعد بولے اچھا ایک دو دن میں بلا لو، کہنا کہ سی وی ساتھ لیتی آئے۔ مل کر دیکھ لیتے ہیں۔ دو دن بعد انیس نے آکر میجر صاحب کو بتایا کہ سر میں اسے ساتھ لے آیا ہوں آپ مل لیجئے، میجر صاحب اٹھ کر میٹنگ روم میں آگئے، جیسے ہی وہ اندر داخل ہوئے تو وہ انہیں دیکھ کر کھڑی ہوگئی نہایت سلیقے سے سلام کیا، میجر صاحب اسے دیکھتے ہی بہت ہی خوشگوار حیرت کا شکار ہو گئے تھے۔ اس نے کریم کلر کے ڈریس پر گہرے نیلے رنگ کا کوٹ پہنا ہوا تھا ، غضب کی حسین تھی، دراز قد، گورا رنگ، بڑی بڑی سیاہ آنکھیں ، متناسب جسامت۔ وہ تو کوئی سیلیبریٹی یا ماڈل نظر آرہی تھی۔
میجر صاحب جب اس کا تفصیلی جائزہ لے چکے تو اس سے مخاطب ہوئے اور کہا کہ اپنے بارے میں کچھ بتائے۔ اس نے جیسے ہی بات کرنے کیلئے منہ کھولا سارا طلسم ٹوٹ گیا اس کا انداز بہت ہی عامیانہ اور کچھ کچھ جاہلانہ سا تھا وہ جیسی نظر آتی تھی شخصی طور پر ویسی نہ تھی، وہ ایک خوبصورت پیکنگ میں کوئی غیر معیاری پروڈکٹ کی طرح تھی۔ میجر صاحب کو ذ را مایوسی ہوئی، پھر بھی انہوں نے کہا کہ تم کچھ اپنے بارے میں بتاﺅ، جیسا کہ ہر انٹرویو کے شروع میں کہا جاتا ہے۔ تو وہ کچھ یوں شروع ہوئی کہ، ہم دس بہن بھائی ہیں تین بھائی اور سات بہنیں، والد اور بھائی کچھ زیادہ کام کرنے کے شوقین نہیں لہذا زندگی غربت و افلاس کا شکار گزر رہی تھی، ابھی میں میٹرک میں ہی تھی کہ ایک رشتہ کرانے والی نے میرے والدین کو سبز باغ دکھا کر ایک عمر رسیدہ شخص سے نکاح کرادیا جو مجھ سے 35 سال بڑا تھا ، اس کی واحد خوبی یہ تھی کہ وہ عرصہ دراز سے بیرون ملک کاروبار کرتا تھا اور وہیں مقیم تھا۔ وہ شادی شدہ بھی تھا اور جوان بچوں کا باپ بھی تھا، مگر میرے والدین نے اس لالچ میں کہ بھائی بھی باہر سیٹ ہو جائیں گے حامی بھر دی اور میری اس شخص سے شادی کردی گئی، اس کا ہم لوگوں نے زیادہ چرچا نہیں کیا۔ اور میں بیاہ کر ایک افریقا ملک سدھار گئی ، وہاں میں اس کے ساتھ بارہ سال رہی اب پاکستان آگئی ہوں، میں نے اس شخص سے طلاق لے لی ہے، میں انٹر پاس ہوں اور کچھ کام کرکے اپنا خرچہ خود اٹھانا چاہتی ہوں، میری قابلیت کو دیکھتے ہوئے آپ مجھے جو بھی کام دیں گے میں پوری کوشش کروں گی کہ بہت عمدگی سے کر سکوں۔ میں آپ کے استقبالیہ پر بھی کام کر سکتی ہوں، اتفاقاً ہمیں استقبالیہ پر ایک مہماندار کی ضرورت بھی تھی سو اس کو دوبارہ انٹرویو کا کہہ دیا گیا، اگلے چند دن خانہ پری میں گزر گئے، اور آخر کار اسے اس امید پر نوکری پر رکھ لیا گیا کہ جو کمی ہے وہ بعد کی تربیت سے پوری کرلی جائے گی۔ جس دن سے اسے فیکٹری میں بھرتی کیا گیا تھا وہ روزانہ انیس کے ساتھ موٹر سائیکل پر دفتر آنے جانے لگی ۔ جس طرح وہ آتے جاتے تھے وہ اس بات کو واضح کرتا تھا کہ ان دونوں درمیان کچھ بہت ہی زبردست چل رہا ہے۔ وہ ایک دراز قد حسین لڑکی تھی جو ہر ایک سے فوراً ہی گھل مل جاتی تھی۔
شروع شروع میں یہ سمجھا گیا کہ شاید اپنی جاب کی وجہ سے اس کا یہ رویہ ہے مگر کچھ دن بعد اندازہ ہوا کہ وہ اس طرح لوگوں سے گھل مل کر اپنے کچھ ذاتی فوائد حاصل کیا کرتی ہے۔ اب تک انیس خدمت خلق کے جذبے کے تحت لانا لیجانا کر رہا تھا مگر جب لوگوں نے چہ میگوئیاں شروع کردیں تو وہ سنبھل گیا اور آخر کار ایک سال بعد ان دونوں نے شادی کر ہی لی، جو سب کچھ جاننے کے باوجود لوگوں کیلئے حیرانی کا سبب بنی، کیوں کہ دونوں میں کسی قسم کا کوئی جوڑ نہ تھا۔ مگر شادی ہوچکی تھی انیس اپنی پہلی بیوی کو طلاق دے چکا تھا اور نئی والی کے ساتھ ہنسی خوشی رہنے لگا۔
ایک دن دفتر میں حاضری کم تھی اور کام بھی کچھ نہ تھا تو میجر صاحب ٹہلتے ٹہلتے استقبالیہ تک چلے گئے، وہ اکیلی بیٹھی اپنے موبائل پر کچھ دیکھ رہی تھی اور حسب معمول بہت حسین لگ رہی تھی۔ میجر صاحب نے علیک سلیک کی حال احوال پوچھا تو وو بولی کہ ویسے سب ٹھیک ہی ہے، مگر ظاہر ہے کہ مہنگائی بہت ہے اور میرے شوہر کی بھی تنخواہ بہت کم ہے جس کی وجہ سے کچھ مالی پریشانیاں رہتی ہی ہیں اگر میری تنخواہ میں کچھ اضافہ ہو جائے تو آسانی ہوجائے گی۔ میجر صاحب نے کہا کہ تم درخواست لکھو ہم دیکھتے ہیں۔
اس پر وہ خاصی خوش ہو گئی، اور لہک لہک کر ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگ گئی۔ میجر صاحب نے کہا کہ آپ مجھے یہ بتائیں کہ آپ اتنے سال باہر رہیں کیا وجہ تھی کہ لوٹ کر واپس آگئیں اور طلاق بھی لے لی؟ کہنے لگی کہ سر جس شخص سے میری شادی ہوئی تھی وہ پہلے ہی سے شادی شدہ اور بال بچوں والا تھا۔ وہ عمر میں مجھ سے 35 سال بڑا تھا۔ وہ شخص عمر رسیدہ ضرور تھا مگر سمجھدار اور نفیس عادات کا مالک تھا۔ اس نے میرے لئے وہاں ایک عمدہ گھر کا بندوبست کر رکھا تھا، جس کی میں اکیلے مالک تھی، بس کہیں آنا جانا نہیں ہوتا تھا، گھر میں ہی رہنا ہوتا تھا، اور میں نے بارہ سال سمجھیں کہ ایک قید میں گزارے تھے، وہ مجھے ہر طرح کی آسائش گھر میں ہی فراہم کر دیتا تھا مگر باہر نکلنے کی اجازت نہ تھی، اور اس دوران ایک بار بھی واپس پاکستان بھی نہیں آئی تھی۔ ہم دونوں کے درمیان بالکل ذہنی ہم آہنگی نہ ہوسکی تھی، اتنے سالوں میں میں نے کبھی باہر کی دنیا نہیں دیکھی تھی، وہ مجھے گھر میں بند کرکے تالا لگا کر جاتا تھا اور واپس آکر تالا کھولتا تھا، اکیلا پن مجھے اندر ہی اندر کھائے جا رہا تھا، زندگی جیل سے بھی بدتر گزر رہی تھی۔
اس طرح سات آٹھ سال گزر گئے تنگ آکر میں نے اس سے پاکستان جانے کا مطالبہ کرنا شروع کردیا پہلے تو اس نے یکسر انکار ہی کردیا مگر میں نے چالاکی سے اسے منانا شروع کیا تو دو تین سال میں اسے یقین ہوگیا کہ میں اگر گئی بھی تو لوٹ کر آجاﺅں گی، سو وہ پاکستان بھیجنے پر راضی ہو گیا، اور میں تو آئی ہی نہ جانے کیلئے تھی، سو اس سے طلاق کا مطالبہ کردیا، پہلے تو وہ نہ مانا مگر جب کورٹ میں کیس کیا تو وہ مان گیا اور مجھے چھٹکارہ مل گیا۔ میجر صاحب کا تجسس اپنے عروج پر پہنچ چکا تھا، کہنے لگے کہ جب تم اتنا مشکل وقت گزار چکیں تو پھر اس چپڑاسی سے ہی کیوں شادی کی جبکہ تمہیں معلوم ہے کہ وہ نہ تو زیادہ تعلیم یافتہ ہے نہ ہنرمند، تو کس طرح تمہاری اور بچوں کی کفالت کرے گا؟ تو اس کا وہ جواب نہ دے سکی، کہنے لگی کہ یہ بہت ہی خیال رکھنے والے اور محبت کرنے والے ہیں، میرا بہت خیال رکھتے ہیں، تو میجر صاحب بول پڑے کہ بھئی تم تو ایسی ہو کہ تمہار ا تو کوئی بھی بہت اچھے سے خیال رکھ سکتا ہے۔ پھر تمہاری مثال تو ایسی ہو گئی کہ آسمان سے گرا اور کھجور میں اٹکا، پہلے بھی زندگی مشکل تھی اور اب بھی آزمائشوں میں ہی ہو گی۔ وہ پھر لاجواب ہو گئی تھی لگ کچھ ایسا رہا تھا جیسے اس بار وہ خود اپنے جلد بازی میں کئے گئے فیصلے کی غلطی کا شکار ہوگئی ہے۔ مایوسی سے میجر صاحب کا منہ دیکھنے لگی، میجر صاحب کو لگا جیسے اس غلطی نے اسے بند گلی میں لاکھڑا کیا ہو۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker