گذشتہ دنوں ایک نہایت ہی دلخراش خبر نے مغموم کردیا ، خبر کچھ یوں تھی کہ کراچی یونیورسٹی کی طالبہ نادیہ اشرف نے اپنے تھیسس سپروائزر کے رویئے سے تنگ آکر خود کشی کرلی۔ ہمارے معاشرے میں یہ کوئی نئی ، انوکھی یا بہت چونکا دینے والی خبر نہ تھی لوگ اب اس طرح کے اقدام کر ہی لیتے ہیں، مگر اس معاشرے میں جہاں عام شہری کی تعلیم کا تناسب انتہائی کم ہو اور بالخصوص خواتین میں خواندگی کی شرح اور بھی کم ہو ایسے میں کسی Phd کی طالب علم کا دردناک انجام معاشرے کے منہ پر ایک زبردست طمانچہ ہے۔ مگر شاید ہم اتنے بے حس ہوچکے ہیں کہ ہمارے احساس کو بڑے سے بڑا سانحہ بھی جگانے میں ناکام رہتا ہے۔ سو اس واقعے کے ساتھ بھی ایسا ہی ہونا ہے، کیونکہ یہ بچی اس معاشرے کا حصہ تھی جہاں پڑوسی کی بیٹی کو اغوا ء کرکے کوٹھے پر بیچا جا سکتا ہے، جہاں اگر لوگوں کو اگر یہ معلوم ہوجائے کہ فلاں نوجوان خاتون بیوہ ، مطلقہ یا بے آسرا ہیں تو مردوں کے لشکر کے لشکر اس کوشش میں لگ جاتے ہیں کہ کس طرح اس عورت کا جنسی استحصال کیا جائے۔ اس مقابلے میں بڑے چھوٹے امیر غریب پڑھے لکھے جاہل سب کی بس ایک ہی خواہش اور ایک ہی کاوش ہوتی ہے کسی بھی طرح ایک مظلوم عورت کو اپنی حوس کا نشانہ بنا سکیں۔ چاہے وہ اس کی بیٹی سے چھوٹی یا ماں کی عمر کی ہو، ہوس کے پجاریوں پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔
دنیا جبکہ کرونا کی وباء کے بدترین دور سے گزر رہی ہے ان حالات میں بھی جس کا جہاں داﺅ چل رہا ہے مصروف کار ہے۔ ایسا ہی ایک المیہ اس وقت ظہور پزیر ہوا جب ایک ادارے کے باس کو معلوم ہوا کہ اس کے اسٹاف میں ایک ایسی خاتون بھی ہے جس کا شوہر ملک سے باہر گیا ہوا، یہ مظلوم خاتون جو دو بچیوں کی ماں اور بوڑھے ماں باپ کی واحد کفیل ہے ایک بہت ہی گھٹیا انسان کے جنسی استحصال سے تو بچ گئی مگر نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ معاملہ کچھ یوں ہوا کہ مذکورہ عورت کا شوہر جو لمبے عرصے سے بے روزگار تھا کسی طرح حصول روزی کیلئے ملک سے باہر جانے میں کامیاب ہو گیا، جونہی آفس کے بگ باس کو علم ہوا وہ اس تگ و دو میں لگ گیا کہ کسی طرح اس عورت کو اپنی ہوس کا نشانہ بنالے، جس کے لئے وہ وقتا فوقتا اس کے ساتھ نازیبا حرکتوں اور فحش جملوں کا استعمال کرنے لگا جب ان حرکتوں سے بات نہ بنی تو اس نے کھلم کھلا اس عورت کو برائی پر آمادہ کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا لہذا زچ ہو کر اس نے کہا کہ اگر وہ اس کی بات نہیں مانے گی تو وہ اسے نوکری سے نکال دیگا، اور آخر کار ہوا بھی ایسا ہی، اپنی ناکامی کی خجالت کو مٹانے اور ناکامی کا انتقام لینے کیلئے اس مظلوم عورت کو نوکری سے نکال کر بے روزگار کردیا۔ معاشرے میں خواتین طلباء اور کام کرنے والی خواتین کے جنسی استحصال کی روش عام ہے انہیں جنسی ہراساں کیا جانا عام ہے مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ قانون کی موجودگی کے باوجود عموما خواتین اس فعل قبیحہ سے بچ نہیں پاتیں اس کا شکار کوئی بھی حوا کی بیٹی ہو سکتی ہے، وہ پرائمری اسکول کی طالبہ سے لیکر کسی ادارے کی اعلی افسر تک ہو سکتی ہے، اگر انصاف مانگنے قانون کے پاس جاتی ہے تو بارہا ایسا بھی ہوا کہ قانون کے رکھوالے ہی لٹیرے بن گئے۔
گوکہ پاکستان میں باقاعدہ جنسی حراساں کئے جانے کے خلاف قانون موجود ہے مگر اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ کوئی بھی انہیں کسی صورت خاطر میں نہیں لاتا اور عمومی طالبات اور ملازم خواتین اس تکلیف دہ حالت کا شکار رہتی ہیں۔ قانون کے مطابق جنسی حراساں کیا جانا ایک قابل سزا جرم ہے جس کے زمرے میں آتا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی خاتون کو جسمانی طور پر چھو کر یا ذہنی طور پر لفظوں کے ذریعے تکلیف پہنچاتا ہے تو وہ جنسی ہراساں کرنے کے جرم کا مرتکب ہوا ہے جو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 1860 کے مطابق تین سال جیل یا بھاری جرمانے یا دونوں سزا دی جا سکتی ہیں ۔ مگر امر حیرت یہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں حراساں کئے جانے کے باجود مجرموں کو یا تو سزا ملتی ہی نہیں یا وہ چائے پانی پر ہی چھوٹ جاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ معاشرہ ایک بہت ہی بڑی اخلاقی گراوٹ کا شکار ہو چکا ہے۔
اور یہ اخلاقی تنزلی بلا تفریق ہر جگہ خوب پھل پھول رہی ہے۔ جو بذات خود ایک المیہ کے سوا کچھ بھی نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ لوگوں کی اخلاقی تربیت کی جائے، دوسروں کی ماں بہن کی عزت کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے، معاشرے میں عورت کی عزت و وقار اور قدر و منزلت کو ہر حال میں مقدم رکھا جانا چاہئے۔ ورنہ یہ سانحات بار بار جنم لیتے رہیں گے اور کبھی کوئی باعصمت زلیل ہو رہی ہوگی تو کوئی نہایت تعلیم یافتہ اور محنت و قربانی سے پالی پوسی بیٹی خودکشی کر تی نظر آئے گی اور معاشرہ ایک مقتل ایک ہیرا منڈی کے سوا کچھ نہیں رہ جائے گا۔ ابھی کچھ وقت ہے کچھ ایسا کام کر جائیں، کہ اپنی ماں کو اپنی بہن کو اس کا صحیح مقام دے جائیں۔
فیس بک کمینٹ

