زاہدہ حناکالملکھاری

صدائے انا الحق۔۔زاہدہ حنا

اقتدار کے ایوانوں کی عجب ادا ہے۔ اس کی دہلیز پر قدم رکھنے والوں کے لیے خون کے رشتے، دوستی کے ناتے، پانی کا بلبلہ ہوجاتے ہیں۔ ابھی ابھرے ، ابھی پانی میں مل کے پانی۔ آنکھوں پر طاقت وجبروت کی سیاہ پٹی بندھ جاتی ہے اوردماغ میں نشہ سلطنت کا خمار چھاجاتا ہے۔ یہ منظر ہم صدیوں سے دیکھ رہے ہیں۔ بڑے بڑے شاہزادے اور بادشاہ زادے کبھی آسمان کی بلندیوں پر پہنچے اورکبھی تحت الثریٰ میں اتارے گئے۔
اس وقت سیکڑوں برس پہلے گزر جانے والا ایک واقعہ یاد آرہا ہے۔ وہ درویش تھا ، ایک عام انسان جس کے سر میں خدا ہونے کا سودا سمایا اور اس نے انا الحق کا نعرہ مارا۔ وہ مجذوب تھا ، اس کا یہ دعویٰ جوکفرکی حدوں کو چھوتا تھا ، شاید نظر اندازکردیا جاتا لیکن اپنے وقت کے وزیر اعظم کو اس سے ذاتی دشمنی تھی، حسد اورکینہ تھا۔ وہ اسے کیسے معاف کر دیتا۔ اس نے اس دعوے کو شان ربوبیت میں گستاخی قرار دیا اور قاضی القضا? سے اس کے قتل پر مہر تصدیق ثبت کرائی۔
یوں حسین بن منصور حلاج اقتدار کی محل سرا کی آخری سیڑھی پر ذبح کر دیا گیا۔ لیکن ٹھہریے دار پرکھینچنا تو ایک عام سی سزا تھی۔ اس سے حسد رکھنے اور نفرت کرنے والے وزیر مملکت نے اسے مسلہ کرنے کا حکم دیا۔ وہ چاہتا تھا کہ اس کی ہڈیوں میں اتنے چھید ہوں جیسے بانسری میں ہوتے ہیں۔ جمیلہ ہاشمی نے ایک بد نہاد اور بد طینت صاحب اقتدار کی زبان سے کہلوایا:
”اس کا گوشت ریشہ ریشہ کاٹا جائے اور اس کو اتنی بے پناہ اذیت ہوکہ دشت سماویہ تک اس کی آواز پہنچے۔ قبروں میں سونے والے جاگ اٹھیں اور ماتم کریں اور ان کی سینہ کوبی کی آوازیں مشرق سے مغرب تک ہر جگہ سنائی دیں،کبھی بھلائی نہ جاسکیں۔ دنیا اس کی کرب ناک چیخوں سے گونجتی رہے۔ گونجتی ہی رہے۔کوئی زمانہ ، کوئی وقت کبھی اس اذیت کو بھلا نہ سکے۔ قطرہ قطرہ اس کا خون جس جگہ گرے وہاں ہمیشہ کے لیے ٹھہرا رہے۔ ساعت بہ ساعت اس کا سانس اکھڑے اور ہوائیں اسے اقصائے عالم میں لے جائیں وہ ایک ہمیشگی کی چیخ بن کر زندہ رہے۔
اور پھر بغداد کی خلقت اس شخص کے آخری سفرکو دیکھنے کے لیے امڈ آئی جن میں سے بہت سے اسے کافر و زندیق اور بہت سے اسے ولی مانتے تھے۔ اس کی استخوانی پیٹھ پر حبشی جلاد نے کوڑوں کی بارش کردی لیکن وہ جس کی پیٹھ کی کھال کوڑوں سے ادھیڑی جا رہی تھی اس کے منہ سے آہ نہ نکلی۔ اس کے اہل خانہ بلک بلک کر رو رہے تھے، بیٹیاں غش کھا رہی تھیں ، اس کے چاہنے والے آہ و بکا کرتے تھے لیکن منصورکے چہرے پر مسکراہٹ تھی اور لبوں پر ” انا الحق “ کا ورد۔ اس کے دونوں بازوکاٹے گئے تو اس نے خون کے فواروں سے اپنا چہرہ دھویا۔ یہ عشق کا وضو تھا ، اس کے پیر کاٹے گئے۔ اس کا سر اڑا دیا گیا اور ہر قطرہ خوں سے انا الحق کی صدا بلند ہوتی رہی۔ پھر اس کے پارہ پارہ بدن کو اکٹھا کرکے اسے آگ لگا دی گئی۔ راکھ چکراتی ہوئی اٹھی اور دجلہ کے پانیوں پر بکھرگئی۔
کہنے والے کہتے ہیں کہ راکھ کا ذرہ ذرہ ”اناالحق“ کی صدا دیتا تھا۔ اس سے نفرت کرنے والے اور حسد کرنے والے وزیرکی پیاس تب بھی نہیں بجھی کہ حسین بن منصور حلاج کوکسی وزارت اورکسی امارت کی تمنا نہ تھی۔ وہ عشقِ خدا کا دیوانہ تھا اور دیوانے کوکیا موت میسر ہوئی کہ قاتل کا نام کسی کو یاد نہیں اور حسین بن منصور کی بارگاہ میں آج بھی کج کلاہ سر جھکاتے ہیں۔ حسین ابن علی کا بدن کربلا کے میدان میں گھوڑوں کی سموں سے روندا گیا اور سر نیزے پر بلند کرکے مملکت اسلامیہ کے کوچہ وبازار میں پھرایا گیا لیکن اس کا نام اور اس خاندان کے چہل چراغ کی طرح آج تک روشن ہیں۔
یہ عظیم قربانی اور درویشی کے منظر تھے، اب آئیے ہم مغل خاندان کے بادشاہ زادوں کے درمیان پڑنے والے اس معرکے کو دیکھتے ہیں ، جس میں جیتنے والے کا خیال تھا کہ اس کا نام تا ابد روشن رہے گا اور اس کی اولاد پشت در پشت سریر آرائے سلطنت رہیں گی۔ مغل خاندان کے سب سے ذہین اور عالم بادشاہ زادے داراشکوہ نے ہوسِ اقتدار میں گرفتار اورنگزیب کے ہاتھوں شکست کھائی۔ دارا اپنی رعایا میں محبوب و مقبول تھا۔ اسے کس طور دلی کی گلیوں سے گزارا گیا۔ قاضی عبدالستار نے اس منظرکو یوں قلم بند کیا ہے:
” دارا کے سوتی میلے کپڑے پسینے میں ڈوبے ہوئے تھے۔ چہرہ سیاہ ہوگیا تھا۔ آنکھوں کے گرد حلقے پڑ گئے تھے۔ وہ سر پر سوتی عمامہ باندھے تھا۔ اس میں سر پیچ تھا ، نہ جیفہ نہ کلغی۔ اس کے جسم پر موٹا خاکستری سوتی کرتا تھا اور اس سے گیا گزرا پائجامہ تھا جس کی مہریوں سے بدرنگ چمڑے کی حقیر گرگابیاں جھانک رہی تھیں۔ کاندھے پر ایک بیخنی رنگ کی موٹی چادر پڑی تھی۔ اجاڑ بدہیت داڑھی تقریباً سفید ہوگئی تھی۔ کھچڑی کا کلیں کندھوں پر ڈھیر تھیں۔ پھر ایک میلی کچیلی ہتھنی بٹھا دی گئی اس پر نہ ہودج تھی نہ عماری۔ صرف کھجورکی چھال کے پتلے پتلے گدے بندھے تھے۔
سب سے پہلے دارا کو سوار کرایا گیا۔ اس کے آگے سپہر شکوہ کو بٹھا دیا گیا اور پیچھے ایک بلوچ ننگی تلوار لے کر بیٹھ گیا۔ بہادر خان کے چھ ہزار سوار چمکتے ہوئے چہار آینوں میں بند ننگی تلواریں علم کیے آگے آگے چل رہے تھے۔ اس کے بعد دارا کی پستہ قد ہتھنی تھی۔ اس کے پیچھے چھ ہزار سوار برقتدار تھے جن کی تفنگیں بھری ہوئی تھیں اور اونٹوں پر چڑھی ہوئی زنبوریں تیار تھیں۔
جب شاہجہاں آباد کے گنجان بازاروں میں دارا کی رسوائی کا بدقسمت جلوس گزرا تو سڑکیں اور چھتیں اور چبوترے اور دروازے انسانوں سے بھرگئے۔ عالمگیر نے دارا کوکوچہ و بازار میں اس لیے پھرایا تھا کہ رعایا اس کا انجام دیکھ لے۔ لیکن ہوا یہ کہ ولی عہد سلطنت کی ذلت کا یہ بھیانک منظر دیکھ کر رعایا بے قرار ہوگئی۔ اس قیامت کی آہ و زاری برپا ہوئی کہ تمام شاہجہاں آباد میں کہرام مچ گیا۔ اتنے آنسو بہائے گئے کہ اگر جمع کرلیے جاتے تو دارا اپنے ہاتھی سمیت اس میں ڈوب جاتا۔ اتنے نالے بلند ہوئے کہ اگر ان کی نوائیں سمیٹ لی جاتیں تو شاہجہانی توپوں کی آوازوں پر بھاری ہوتیں۔
ملک جیون پر جو ہزاری امراءکا خلعت پہنے آراستہ عرب گھوڑے پر چل رہا تھا۔ چھتوں سے گالیوں کی اتنی بوچھاڑ ہوئی کہ وہ نہا گیا۔ اتنا کوڑا کرکٹ اس پر پھینکا گیا کہ وہ امیر کے بجائے مسخرا معلوم ہونے لگا۔ تیز دھوپ میں جھلستا ہوا دارا ان بازاروں سے گزر رہا تھا جس میں اپنے عہدِ عروج میں بادشاہوں کی طرح نکلاکرتا تھا۔ غم سے پاگل رعایا نے جگہ جگہ اس کی ہتھنی پر ہجوم کیا۔ اس کے حضورغمگین نعرے پیش کیے اور ا?نسوﺅں کی نذریں گزاریں۔ عالمگیر کی عمر اور حکومت کو بد دعائیں دیں۔ ہبیت نامی عہدی نے یہ روح فرسا منظر دیکھا تو حواس پر قابو نہ رکھ سکا اور تھوڑے ساتھیوں کے ساتھ تلوار کھینچ کر دارا کے محافظوں پر ٹوٹ پڑا۔ لیکن ہزاروں تلواروں کے سامنے اس کے چند دلاوروں کی کیا بساط ہوسکتی تھی۔ تھوڑی دیر میں زخمی ہوکرگرفتار ہوگیا اور دارا دیر تک لال قلعہ کے سامنے کھڑا رکھا گیا۔“
دارا شکوہ کے سیاسی قتل کو مذہبی احکام کی پابندی کے دائرے میں لانا ضروری تھا سو فتویٰ لیا گیا اور پھر داراشکوہ جیسے عالم بے بدل کو فنا کے بحر بیکراں میں ڈبو دیا گیا۔ وہ مغل بادشاہ زادہ جو اگر تختِ طاﺅس پر بیٹھا ہوتا تو ہندوستان کی تاریخ کچھ اور ہوتی لیکن ایک ایسا شخص جوکہتا تھا وہ ٹوپیاں سی کر اور قرآن لکھ کر اپنا خرچ پورا کرتا ہے، وہ اس جھوٹ کے ساتھ تختِ طاﺅس پر بیٹھا اور اس کی اولاد کو رنگون کا قید خانہ میسر آیا اور اس کے شاہزادے ایک فرنگی میجر ہڈسن کے ہاتھوں قتل ہوئے اور ان کے سر خونی دروازے پر داستان عبرت بنے رہے، جیسے دو سو برس پہلے دارا شکوہ کا سر اور اس کا دھڑ دلی کے مردار خور پرندوں کا کھاجا رہا تھا۔ اورنگ زیب کو دارا سے آخری درجہ کی نفرت تھی، شاید اسی لیے یہ روایت بھی سننے میں آتی ہے کہ اس نے اپنی ماں ممتاز محل کا سرد آب کھلوایا اور بڑے بھائی کا سر ماں کے سینے پر رکھ کر بند کروا دیا کہ یہ سر مادر محترم کو بہت عزیر تھا۔ اب تا ابد اسی پر آرام کرے۔
اپنی تاریخ کے یہ ورق نگاہوں کے سامنے اس لیے پھڑ پھڑاتے ہیں کہ ہمارے یہاں نام خواہ جمہوریت کا لیا جائے لیکن آج بھی ان لوگوں کی کمی نہیں جو اپنے کسی حریف کی بیماری کو ”سیاسی چورن“ کہتے ہیں اور کوئی اگر جاں بہ لب ہے تو اس پر ٹھٹھے مارتے ہیں۔
موت کی گہری نیند میں اترتی ہوئی شریک حیات کی ابدی نیندکا تمسخر اڑایا جاتا رہا تھا اور سولی چڑھنے والے باپ کے سینے سے آخری بار لگنے کے لیے تڑپتی ہوئی بیٹی کو یوں کھینچ لیتے ہیں جیسے سپہر شکوہ کو دارا کے پہلوسے نوچ لیا گیا تھا۔
یہ تمام منظر سیکڑوں برس کافصل رکھتے ہیں۔ لیکن وقت کے لیے یہ محض پلک جھپکنے کا عرصہ ہے۔ وقت کی قہاری اور جباری کے سامنے سر جھکائیے کہ ہم سب کو اسی کے دربار میں حاضری دینی ہے۔
(بشکریہ:روزنامہ ایکسپریس)

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker