زاہدہ حناکالملکھاری

بابا فرید گنج شکر کی چوکھٹ / زاہدہ حنا

گزشتہ دنوں یروشلم اور مسجد اقصیٰ کا بہت ذکر اذکار رہا۔ اس حوالے سے بابا فرید گنج شکر یاد آئے ۔ وہ جو اب سے 800 برس پہلے صلیبی لشکرکی شکست کے دس برس بعد یروشلم پہنچے ۔ انھوں نے وہاں قیام کیا ، مسجد اقصیٰ میں صبح دم جھاڑو لگاتے اور پھر اپنا دن ایک قریبی حجرے میں بسر کرتے ۔ یہاں وہ روزہ رکھتے اورخاموشی اختیارکرتے ۔ ان کا سارا وقت ذکرو فکر میں گزرتا ۔ اپنی عبادت وریاضت کی وجہ سے وہ بہت جلد مشہور ہوگئے۔
وہ جس حجرے میں رہتے اور عبادت کرتے وہ سرائے الہندی کے نام سے مشہور ہوگئی۔ بابا فرید نے واپسی کا سفر اختیارکیا اور اپنے وطن پنجاب کا رخ کیا لیکن سرائے الہندی کی شہرت میں اضافہ ہوتا رہا۔ ہندوستان سے مکہ مدینہ جانے والے پہلے یروشلم آتے، اس سرائے میں ٹھہرتے اور وہاں عبادت کرنے کو اپنے لیے باعثِ سعادت جانتے۔
بابافرید ہندوستان لوٹے ، پاک پتن میں ان کی درگاہ مرجع خلائق ہوئی اور وہ چشتی سلسلے کے بنیادگذار ہوئے ۔ بابا فرید صرف روحانی اعتبار سے ہی بڑے نہیں، پنجابی زبان کے پہلے بڑے شاعر بھی ہیں ۔ یہ بھی ان کا اختصاص ہے کہ ان کے 123 یا اس سے کچھ زیادہ اشلوک سکھوں کی مقدس کتاب گروگرنتھ صاحب میں شامل ہیں ۔ان کا کلام سکھوں کے پانچویں گروارجن دیوجی نے خود گرنتھ صاحب میں شامل کیا تھا ۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر بابا صاحب کے یہ اشلوک گروگرنتھ صاحب میں شامل نہ ہوتے تو ان کاکلام زمانے کی دست بُرد سے نہ بچتا ۔
بابافرید گنج شکرکی زندگی کے بارے میں قصے بچپن سے سنے ۔ یہ بھی جانا کہ پاک پتن میں ان کے مزار پر بنا ہوا بہشتی دروازہ صرف عرس کے موقعے پرکھلتا ہے۔ یہ دروازہ ٹھوس چاندی کا بنا ہوا ہے جس پر سونے کے پتروں سے پھول بوٹے بنائے گئے ہیں ۔ یہ دروازہ محرم میں عرس کے دنوں میں کھلتا ہے اور اس سے گزرنے والے عقیدت مندوں کا ایسا ہجوم ہوتا ہے کہ ہر سال زائرین کچلے جاتے ہیں ،کچھ زخمی ہوتے ہیں اورکچھ جان سے چلے جاتے ہیں ۔ 2001 میں عرس کے موقعے پر 27عقیدت مند جاں بحق ہوئے اور 100سے زیادہ زخمی ہوئے۔
ہم سب یہ جانتے ہیں کہ برصغیرکے تمام روحانی بزرگوں کا عرس سال میں ایک مرتبہ ہوتا ہے۔ اسی لیے ٹیلی وژن سے جب میں نے نیوز کاسٹر کویہ کہتے سنا کہ پاک پتن میں بابا فریدکی درگاہ کا بہشتی دروازہ کھلا تو یہ سنتے ہی ذہن چکرا گیا، اس لیے کہ بابا فرید کا عرس محرم میں ہوتا ہے اور محرم ابھی بہت دور ہے ۔ لپک کر ٹیلی وژن کی آواز تیزکی اور پھر سب کچھ سمجھ میں آگیا کہ اعلیٰ ترین مرتبے کی خواہش میں سرشارکسی کے لیے یہ بہشتی دروازہ کیوں کھلا، جس سے گزرنے کے لیے بابا کے چاہنے والے دھکم پیل میں جان سے جانے کواپنا شرف، اپنا اعزاز جانتے ہیں۔
بابافرید ایک ایسے صوفی، شاعر اور دانشور تھے جو معاملات کو ایک عام انسان کی نظر سے دیکھتے تھے۔ وہ مسجد اقصیٰ کے جاروب کش اور چلہ کش تھے ۔ انھوں نے شام اور اس کے گرد ونواح میں انسانوں کودیکھا تھا جو صلیبی جنگوں سے شکستہ حال تھے۔ وہ کڑی ریاضتوں سے گزرکراپنے وطن واپس پہنچے تو وہاں بھی جدال وقتال نے انسانوں کوحال سے بے حال کررکھا تھا۔ ایک ایسے زمانے میں بابا فرید الدین گنج شکر نے روٹی کو دین کا چھٹا رکن قراردیا تھا اور لوگوں کے طنز سنے تھے اور فتوؤں کے تیرسے زخمی ہوئے تھے لیکن سچ تویہی ہے کہ ترازوکے ایک پلڑے میں گنج شکرکا یہ جملہ رکھ دیا جائے اوردوسرے میں تمام علما کے طعنے ودشنام تب بھی بابا فرید کے جملے کا پلڑا زمین کو چھوتا رہے گا ۔
کہا جاتا ہے کہ جب بابا فرید نے ایک عالم دین کی محفل میں روٹی کو چھٹا رکن دین کہنے پر اصرارکیا تووہ عالم دین اتنے خفا ہوئے کہ انھیں سخت سست کہا اور یہ کہہ کر محفل سے اٹھ گئے کہ ’’اہل علم کے نزدیک روٹی کی کوئی اہمیت نہیں اور اسے رکن دین یا دین کا ستون کہنا آخری درجے کا جہل ہے‘‘ ثقہ راویوں کا کہنا ہے کہ یہ بحث بہت گرم ہوئی جس میں ایک محترم ومکرم عالم دین نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
کچھ دن گزرے تو بابا فرید کو ’’جاہل‘‘ کہنے والے یہ عالم عازمِ مکہ ومدینہ ہوئے۔ راستے کی صعوبتوں کو سہتے ہوئے مکہ پہنچے اور عمر عزیزکے سات برس ان دو محترم شہروں میں گزارے، سات مرتبہ حج کیا، ہزاروں نمازیں پڑھیں، نوافل ادا کیے، ان گنت عمرے کیے، یوں سمجھیں کہ عبادات میں کوئی کسر نہ چھوڑی ۔ انھیں جب یقین ہوگیاکہ آخرت کے لیے ان کی عبادات کا توشہ اب بھاری بھرکم ہوچکا ہے تو وطن کی راہ لی ۔ بحری جہاز میں نمازیں پڑھتے اور تلاوت کرتے ہوئے آرہے تھے کہ طوفان نے جہازکو اس بری طرح گھیرا کہ ناخدا کی تمام کوششوں، مسافروں کی زاریوں اور ان عالم وفاضل کی نیکیوں اور عبادتوں کے باوجود جہاز ڈوبنے سے بچایا نہ جاسکا۔
سمندرکی پرُشور لہروں نے لکڑی کے تختے سے لپٹے ہوئے ہمارے ممدوح عالم کو ایک ویران ساحل پر لاپھینکا۔ موصوف کو جب ہوش آیا تو آدم نہ آدم زاد ، ایسا صحرا جس میں کوئی پھل دار پیڑ بھی نظر نہیں آتا تھا ۔ گرتے پڑتے ہر قدم پر خدا کو یاد کرتے ہوئے وہ کسی بستی کی تلاش میں چلتے رہے۔
پانچویں دن جب آنکھوں کے سامنے اندھیرا تھا، پیروں میں چلنے کی سکت نہیں رہی تھی اور بھوک کے سبب دم لبوں پر تھا ، ایسے میں ایک شخص سامنے سے آتا دکھائی دیا ، جس کے سر پر ایک خوان تھا اور دور سے ہی تازہ روٹیوں کی سوندھی خوشبو آرہی تھی۔ پہلے تو وہ بھوک کی شدت کے سبب اسے اپنا وہم سمجھے لیکن جب وہ شخص ’’تازہ گرم روٹیاں‘‘کی صدا لگاتا ہوا ان کے قریب آیا تو انھیں یقین نہ آیا۔ لجاجت سے کہنے لگے کہ ’’سات حج کرکے وطن واپس جا رہا تھا کہ جہاز ڈوب گیا ۔
خدا کے کرم سے جان بچ گئی اور اب پانچ دن کے فاقے سے ہوں، ایک روٹی کا سوال ہے ۔ خدا تمہارے اس کرم کا تمہیں ہزارگنا اجر دے گا ‘‘ روٹیاں بیچنے والے نے کہا کہ بھائی تم نے سات حج کیے ہوں یا ستر۔ یہ معاملہ تمہارے اورخدا کے بیچ ہے ۔ میں ایک معمولی نان فروش ہوں، دوسروں کے ہاتھ روٹیاں بیچتا ہوں تو خود روٹی کھاتا ہوں ۔ بغیر درہم ودینارکے میں تمہیں کچھ نہیں د ے سکتا۔‘‘
ان عالم دین نے اس روٹیاں بیچنے والے کے سامنے بہت آہ و زاری کی، اپنی عبادات کے حوالے دیے لیکن اس کا دل نہ پسیجنا تھا‘ نہ پسیجا۔ آخر میں اس نے اپنی جیب سے کاغذ نکالا اورکہا کہ ’’حضورآپ کی عبادات کے سبب صرف یہی رعایت کرسکتا ہوں کہ آپ اپنے تمام حج، نمازیں، نوافل اور نیکیاں میرے نام لکھ دیں، میں اپنے خوان کی تمام روٹیاں آپ کے حوالے کردوں گا۔‘‘
بھوک سے بے حال عالم دین نے اپنی تمام نیکیاں اس نان فروش کے نام لکھ دیں اور اس سے روٹیوں کا خوان لے لیا۔ سیر ہوکر روٹیاں کھائیں۔ خدا کا شکر ادا کیا، بدن میں توانائی آئی تو ساحل کا رخ کیا۔ وہاں سے گزرتے ہوئے ایک جہاز کے لوگوں نے انھیں دیکھ لیا اور انھیں ساتھ لے کر ہندوستان کی طرف روانہ ہوئے۔ کچھ عرصے بعد وہ عالمِ دین شاداں وفرحاں ایک بار پھر اپنے علاقے میں پہنچے۔ بابا فرید سے آمنا سامنا ہوا تو انھوں نے حال احوال پوچھا ، وہ اپنی عبادات کا حال سناتے رہے۔
بابا فرید نے کہا کہ ’’ان عبادات کے سبب ماشاء اللہ آپ پہلے سے کہیں زیادہ بڑے مرتبے پر فائزہوگئے ہیں ۔ مجھے یقین ہے کہ اب آپ مجھ سے ناراض نہ ہوں گے‘‘۔عالم دین کہنے لگے ’’ میری ناراضگی تو آپ کے جہل کے سبب تھی کہ آپ روٹی کو دین کا چھٹا رکن قرار دے رہے تھے۔‘‘ بابافرید نے کہا ’’حضور! میں اب بھی یہی کہتا ہوں اور میرے پاس اس بات کی سند ایک مستند کتاب میں موجودہے۔‘‘ عالم دین نے ناراضگی سے بابا صاحب کو دیکھا پھر رعونت سے کہنے لگے ’’ذرا مجھے بھی تو وہ مستند کتاب دکھائیے۔‘‘
بابا فرید نے ایک کتاب کھولی اور ان کی طرف بڑھا دی اس میں وہ کاغذ رکھا ہوا تھا جس پر ہمارے ممدوح نے چند روٹیوں کے عوض اپنی تمام عبادات فروخت کر دی تھیں ۔ یہ دیکھ کر ان کی نگاہوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا ۔ کہا جاتا ہے کہ وہ پھر بابا صاحب کے حضور سے اٹھ کرکہیں نہیں گئے۔
اپنی خواہش کی تکمیل کے لیے بہشتی دروازے کی چوکھٹ پر سجدہ کرنے اور اسے بوسہ دینے کے ساتھ ہی ہر انسان کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جس کی چوکھٹ پر وہ احتراماً بوسہ دے رہا ہے، اس نے روٹی کو دین کا چھٹا رکن کہا تھا ، اس کی زبان سے کبھی کسی کی دل آزاری نہیں ہوئی تھی ، اس نے کسی پر الزام یا بہتان نہیں لگائے تھے ، اس نے کسی کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کی تھی، اسے کسی سے نفرت نہیں تھی بلکہ وہ اپنے دشمنوں تک سے محبت کرتا تھا ۔ چوکھٹ پر بوسہ اسی وقت شرف قبولیت حاصل کرے گا جب بوسہ کرنے والے کا دل اور زبان ہر میل سے پاک ہو ۔
(بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker