ظہور احمد دھریجہکالملکھاری

چولستان ڈیزرٹ ریلی۔۔ظہوردھریجہ

چولستان ڈیزرٹ ریلی 2019ء کے شیڈول کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ یہ ریلی 14 سے 17 فروری تک چولستان کے قلعہ ڈیر اور میں ہو گی۔ ریلی کا فاصلہ ساڑھے چار سو کلو میٹر ہو گا اور اس میں سو سے زیادہ ماہر اور تجربہ کار ڈرائیور حصہ لیں گے۔ شیڈول میں بتایا گیا ہے کہ ریلی کی آٹھ کیٹگریوں میں ایک خواتین ڈرائیورز کی بھی کیٹگری ہو گی۔ صوبائی وزیر سیاحت راجہ یاسر ہمایوں نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ ریلی میں پچاس لاکھ کے انعام رکھے گئے ہیں،پہلا انعام پچاس لاکھ کا ہے۔ یہ ریلی 2005ءمیں شروع کی گئی، ریلی کا بنیادی مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ دنیا کے سیاحوں کو چولستان کے بارے میں آگاہ کیا جا سکے، چولستانیوں کے رہن سہن اور ان کی تہذیب و ثقافت سے واقفیت حاصل ہو۔ ریلی شروع کرنے سے پہلے حکومت نے یہ بھی کہا تھا کہ یہ صرف سپورٹس ریلی نہ ہو گی بلکہ چولستان کے مسائل سے آگاہی بھی اس کے مقاصد میں شامل ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ مقاصد پورے ہوئے؟ چولستان کے لوگ آج بھی مسائل کا شکار ہیں۔ چولستان میں آج بھی لوگ پیاس سے مر جاتے ہیں، چولستان میں ناجائز الاٹمنٹوں کے ساتھ ساتھ چولستان کو آج بھی شکاریوں نے پرند اور چرند کیلئے مقتل گاہ میں تبدیل کیا ہوا ہے۔ ان مسائل کی طرف کون توجہ دے گا؟ چولستان کے مسائل پر مسلسل لکھ رہا ہوں مگر کوئی توجہ دینے کو تیار نہیں، 66 لاکھ ایکڑ رقبہ پر مشتمل پیاس اور افلاس کا صحرا بنا ہوا ہے، ایک سابقہ واقعہ کا ذکر کروں گا اس پر میں نے کالم بھی لکھا تھا کہ عید سے قبل پیاسے چولستان نے تین معصوم بچیوں کا خون پی لیا۔ المناک واقعہ کی تفصیل اس طرح ہے کہ 12 جون 2018ءکو چولستان کے گاﺅں 466ایچ آر ٹوبہ شہر والا کی دو سگی بہنیں اور ایک رشتہ دار بچی دو کلو میٹر دور اپنے خالو نصیر احمد کے گھر جا رہی تھیں کہ راستہ بھٹک گئیں، یہ بچیاں دن رات سفر کرتی رہیں، کہیں سے نہ پانی ملا نہ مدد ، آخر پیاس سے بلک بلک کر دم توڑ گئیں اور 95 کلومیٹر کی رفتار سے آنے والے آندھی کے طوفان نے بچیوں کو ریت کا کفن پہنا دیا۔ میں نے لکھا تھا کہ حکومت اس واقعہ کا نوٹس لے کہ یہ پہلا یا آخری سانحہ نہیں ہے۔



چولستان ان سانحات سے بھرا ہوا ہے اور چشم تصور میں دیکھئے تو چولستان کے جو بڑے بڑے ٹیلے ہیں ان میں نا جانے پیاس سے مر جانے والے کتنی انسانی جانوں کے ڈھانچے موجود ہیں۔ چولستان کا سب سے بڑا مسئلہ پانی ہے۔ دریائے ستلج کی فروختگی کے بعد چولستان میں ایک اور چولستان وجود میں آرہا ہے۔ جیسا کہ میں نے بار ہا عرض کیا کہ پانی کا نام زندگی اور زندگی کا نام پانی ہے، دریا ہندوستان کو دیکر ظلم کیا گیا۔ ہندوستان سے پانی حاصل کر کے ستلج تہذیب کو نہ بچایا گیا تو بہاولنگر ، وہاڑی اور بہاولپور کے بیشتر علاقے صحرا میں تبدیل ہو جائیں گے اور چولستان کے بعد ایک نیا چولستان ہستی بستی آبادیوں کیلئے موت کا پیغام لے کر آئے گا۔ قدرت کے اجزائ ناقابل فروخت ہوتے ہیں ، اسی طرح ہوا، روشنی ، دریا اور پانی فروخت نہیں کئے جا سکتے۔ اس حوالے سے پاکستانی دریاﺅں کا سودا نظام قدرت کے خلاف بغاوت ہے۔ ہندوستان سے مذاکرات کرکے زیادہ نہیں تو اتنا تو پانی حاصل کر لیا جائے کہ علاقے کی تہذیب اور آبی حیات زندہ رہ سکے۔ قیام پاکستان کے بعد ستلج تہذیب اور بہاولنگر کا بہت زیادہ نقصان ہوا۔ دریا ستلج بیچ دیا گیا ‘ سمہ سٹہ تا دہلی با راستہ امروکہ بٹھنڈہ ریلوے ٹریک بند ہونے سے تجارت تباہ ہو گئی۔ اس علاقے میں انڈسٹری بھی قائم نہیں ہو سکی اور ستلج کی بندش کے بعد زیر زمین پانی کا لیول بہت نیچے چلا گیا ، پانی کڑوا ہو گیااور لہلہاتے کھیت ویرانی میں تبدیل ہو گئے۔ ضلع بہاولنگر 3428 مربع رقبے کا طویل ضلع ہے ‘ جو کہ پانچ تحصیلوں پر مشتمل ہے ،اس علاقے میں اب تک دو تین نئے اضلاع بن جانے چاہئیں۔مگر اس طرف کوئی توجہ نہیں دے رہا۔ چولستان ڈیزرٹ ریلی منعقد کرنے والوں کو چولستان کے مسائل کا ادراک کرنا چاہئے، جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ چولستان میں ناجائز الاٹمنٹیں خطے کا سب سے بڑا مسئلہ ہے بد قسمتی یہ ہے کہ صدیوں سے جن لوگوں نے چولستان میں پیاس و افلاس کا مقابلہ کیا پانی کے بغیر چولستان میں تڑپ تڑپ کر جان دیدی مگر چولستان کو نہ چھوڑا آج چولستان کیلئے پانی کا انتظام ہوا ہے تو رقبوں کے وارث باہر سے آئے ہوئے وہ لوگ بن گئے ہیں جو چولستان کی زبان نہیں سمجھتے اور نہ وہاں کے رسم و رواج اور تہذیب و ثقافت سے آشناءہیں اسی بناءپر چولستان کے شاعر جہانگیر مخلص نے کہا سجن حالات کیا پچھدیں گزر اوقات کیا پچھدیں اساڈی قوم ہے ساری ڈکھاں دے وات کیا پچھدیں جیڑھے رل مل گزارے ہن چنگے ڈو ڈینھ حیاتی دے کہیں دے چک دے وچ آگن اوہے دیہات کیا پچھدیں اسی طرح چولستان میں ڈیزرٹ ریلی کرانے والوں کو ناجائز شکار پر پابندی کے قانون پر سختی سے عملدرآمد کرانا چاہئے۔
میں مسلسل لکھتا آرہا ہوں اس امید پر کہ کبھی تو توجہ ہو گی۔ شوقیہ لوگ چولستان جیپ ریلی کراکر چلے جاتے ہیں مگر وہ نہیں سمجھتے کہ سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی چولستان اور وسیب کے دوسرے علاقوں میں مسافر پرندوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ یہ پرندے سائبریا اور دوسرے علاقوں سے ہجرت کر کے امن کی تلاش میں اتے ہیں مگر افسوس کہ شکاری قاتل ان کے آنے سے پہلے ہی مورچہ زن ہو جاتے ہیں۔ سابقہ ادوار میں جتنے بھی حکمران آئے یا تو وہ خود شکاری تھے یا پھر مراعات یافتہ طبقے کو شکار کی سہولتیں دیکر مراعات حاصل کرتے رہے۔ موجودہ حکومت تبدیلی کے نام پر برسر اقتدار آئی ہے ، وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ساتھ وزیراعلیٰ سردار عثمان خان بزدار پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ پرندوں کو شکار ہونے سے بچائیں خصوصاً چولستان جو کہ پرندوں اور قیمتی جانوروں کے لئے مقتل گاہ بنا ہوا ہے۔ اگر آج بھی وسیب کے مسائل پر توجہ نہ دی گئی تو پھر کون سا ایسا وقت آئے گا جب وسیب کے مسئلے حل ہونگے۔ ہماری صرف اتنی درخواست ہے کہ چولستان کو پرندوں کے شکاریوں سے بھی بچایا جائے اور لینڈ مافیا جو کہ مسلسل زمینوں کا شکار کر رہی ہے ‘ ان سے چولستان کو محفوظ بنایا جائے کہ وہ نہ تو چولستان کی تہذیب و ثقافت سے واقف ہیں اور نہ ہی ان کو چولستان کے تقدس کا کچھ خیال ہے۔
(بشکریہ:روزنامہ 92نیوز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker