ظہور احمد دھریجہکالملکھاری

تیڈے جھنگ دی خیر ہووے۔۔ظہور دھریجہ

سرائیکی زبان کے معروف شاعر مرحوم دلنور نور پوری نے کہا تھا ’’ دلنور دا رنگ پور اُجڑ ونجے ‘ پر تیڈے جھنگ دی خیر ہووے ‘‘ ۔ یہ اشعار دلنور صاحب کے ساتھ ساتھ گلوکاروں کی زبانی ہمیش سنتے ہیں اور جھنگ کو دیکھنے کا شوق ایک مرتبہ پھر بڑھ جاتا ہے ۔ گزشتہ روز سرائیکی اجرک کی تیاری کے سلسلے میں فیصل آباد جانا ہوا ‘ جھنگ سے گزر کر گئے ‘ دوستوں سے ملاقاتیں ہوئیں ، فیصل آباد میں بھی جھنگ کے دوستوں مہر نور اکبر سیال ‘ چوہدری محمد آصف ‘ میاں اظہر نے بہت محبتیں دیں ۔ فیصل آباد میں ایڈمنسٹریٹر اوقاف ایاز خان لاشاری نے دعوت کا اہتمام کیا ، وہاں بھی جھنگ کے دوست ملے ۔ ایاز خان لاشاری کا تعلق رحیم یارخان سے ہے ، ماشا اللہ انہوں نے پانچ ماسٹر کے ساتھ ایم فل بھی کیا ہے اور پی ایچ ڈی کی تیاری بھی کر رہے ہیں ۔ ان کا وسیب کی تاریخ اور جغرافیے کے حوالے سے بہت نالج ہے ۔ مجھے خوشی ہے کہ جھنگ کے بدن سے پیدا ہونے والے فیصل آباد نے ماشا اللہ بہت ترقی کر لی ہے مگر جھنگ محروم کیوں ہے ۔ مجھے جھنگ کے دوستوں کی بات میں خلوص ، محبت اور سچائی نظر آئی ، اگر تاریخ کی ورق گردانی کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ جھنگ سے ظلم سکھ و انگریز دور سے شروع ہوا۔ حکمرانوں کا یہ امتیازی سلوک بھی ملاحظہ ہو کہ جھنگ کو 1880ء میں میونسپلٹی کا درجہ اس وقت مِلا جب ’’ لائل پور ‘‘ پیدا بھی نہ ہوا تھا ، کتنے دکھ کی بات ہے کہ قریباً ڈیڑھ صدی بعد جھنگ آج بھی میونسپلٹی ہی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں لائل پور کیا سے کیا ہو گیا، جھنگ کے اس جرم کے بدلے اس کو ہمیشہ سزا ملتی آئی ہے ۔ جھنگ کے مقابلے میں ضلع شیخوپورہ کے ایک پِنڈ کو لائل پور کے نام سے آباد کیا گیا ، پھر اس کو جھنگ کی تحصیل بنا دیا گیا ۔ پھر اس کو ضلعے کا درجہ دے دیا گیا ۔ کل کے لائل پور اور آج کے فیصل آباد کو ڈویژن کا درجہ دیا اور جھنگ کو ’’ فیصل آباد کمشنری ‘‘ کا حصہ بنا دیا گیا ۔ ایسے موقع پر کہا جاتا ہے کہ ’’ کیسے کیسے ایسے ویسے ہو گئے۔ایسے ویسے کیسے کیسے ہو گئے ‘‘۔ جو لوگ ٹھنڈے ملکوں کی سیر کو جاتے ہیں میرا ان کے لئے مشورہ ہے کہ وہ اپنے وطن کی زیارت قلب و نظر سے کریں جہاں صرف چار موسم ہی نہیں بلکہ دیکھنے کو سب کچھ ہے۔ میں نے ایک ہفتے کے اندر جو دیکھا ہے اس کی تفصیل کیلئے کئی کتابوں کی ضرورت ہے۔ وقتاً فوقتاً اس بارے عرض بھی کروں گا لیکن سر دست اتنا عرض کرنا چاہتا ہوںکہ مجید امجد ، جعفر طاہر ، عبدالعزیز خالد، شیر افضل جعفری، محمود، شام اور سرائیکی شعراء عاب تمیمی ، شفقت عباس شفقت، فضل بلوچ ، مہر ریاض حیات بھٹی، ریاض ابرار، غلام یٰسین ، تاج حیدر، رب نواز ہاشمی، اللہ دتہ عاطف، غلام محمد درد ، دانش چراغ مولائی، میاں عاجز ، فضل بانو، غلام حسین چھنہ، رفیق واگھراہ، سائیں حیدر ممتاز بلوچ، اسعد بسمل ، آصف راز، سید احمد چنالی ، امتیاز بلوچ، لطیف شیدائی ، صابر سودائی، تنویر گیلانی، مہر نظیر ، منور نادان ، انور راز، ممتاز آصف ، شوقی بلوچ ، بے تاب شہباز ، میاں مشتاق ، شازیہ ناہید اور سرائیکی فوک سنگر منصور ملنگی ، طالب درد ، اللہ دتہ لونے والا ، آصف لونے والا کے جھنگ وسین کو ضرور دیکھیں ۔ حکمرانوں اور سیاستدانوں سے بھی میری یہی گزارش ہے کہ وہ اپنے اپنے جاتی امرا اور سرے محلات سے باہر نکل کر اپنے وطن کے ایک ایک شہر ایک ایک قصبے اور ایک ایک دیہات کی تاریخ ثقافت زبان ادب اور ضروریات سے آگاہی حاصل کریں۔ انگریز نے پانی ضرورتوں کے تحت جو صوبائی حد بندیاں بنائیں ، ان کوختم کریں اور وسائل کی مساویانہ تقسیم کر کے انگریز استعمار کے امتیازی رویوں کو ہمیشہ کیلئے ختم کر دینا چاہیے۔تاکہ وطن کے ایک ایک باشندے کو اس کا احساس ہو کہ ہم انگریز سامراج کی غلامی سے واقعی آزاد ہو چکے ہیں۔ وسیب کی مردم خیز دھرتی جھنگ کو تاریخی ، ثقافتی اور جغرافیائی طور پر خصوصی اہمیت حاصل ہے ۔ میں نے جھنگ کو مردم خیز اس لئے لکھا کہ یہ بر صغیر جنوبی ایشیا کا واحد خطہ ہے جہاں وسیب سے ہجرت کر جانے والے سائنسدان ہر گوبند کھرانہ اور ڈاکٹر عبدالسلام کو نوبل انعام ملا اور جھنگ ہی وہ دھرتی ہے جس نے بڑے بڑے اولیا ء ، اصفیاء ، شاعر ،ادیب ، دانشور ، فنکار اور دستکار پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ عشق محبت کی لافانی داستان رقم کرنے والی مائی ہیر کو جنم دیا ۔ تاریخی طور پر جھنگ کی عظیم ترین سلطنت ملتان کا حصہ اور الگ ریاست بھی رہی اور رنجیت سنگھ کے حملے کے وقت ریاست کے فرمانروا احمد خان سیال نے سخت مزاحمت کی اور ملتان کے نواب مظفر خان نے ان کا بھرپور ساتھ دیا ۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ جھنگ ایک شہر نہیں ایک مکمل تہذیب کا نام ہے ۔ اس میں کئی ضلعے اور کئی ڈویژن آتے ہیں ۔ ڈویژن ؟ اس بات پر حیران نہ ہوں۔ بات صرف لائل پور کی نہیں ، ٹوبہ اور چنیوٹ بھی جھنگ کی تحصیلیں تھیں ۔ ساہیوال ، سرگودھا ، وہاڑی ، خانیوال ، حافظ آباداور اوکاڑہ کے اضلاع بھی جھنگ لہجے کی زبان پورے اعزاز کے ساتھ بولی جاتی ہے ۔ جھنگ کی سرزمین زرخیز ہونے کے ساتھ بہت مردم خیز بھی ہے ۔ اس دھرتی پر بڑے بڑے شاعر ، ادیب ، فنکار، دستکار، موسیقار، سائنسدان اور سیاستدان اور بدیسی حکمرانوں سے ٹکر لینے والے دلا بھٹی اور احمد خان کھرل جیسے حریت پسند بھی پیدا ہوئے ۔ جنہوں نے حملہ آوروں اور بدیسی حکمرانوں کے ساتھ جنگ کر کے ان کو چنے چنوا دیئے۔ 641ء میں چینی سیاح ہوانگ نے جھنگ کی سر زمین کا ذکر بہادر لوگوں کی سر زمین کے طور پر کیا اور لکھا کہ یہ وہ خطہ ہے جنہوں نے قبل مسیح میں سکندر یونانی کا مقابلہ کیا ۔
(بشکریہ: روزنامہ 92نیوز)

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker