ظہور احمد دھریجہکالملکھاری

جگن ناتھ آزاد اور علامہ اقبال۔۔ظہور دھریجہ

جگن ناتھ آزاد اور علامہ اقبال کے تعلق کے حوالے سے بات کرنے سے پہلے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ وزیراعظم عمران خان نے جس بڑی خوشخبری کا اعلان کیا تھا وہ خوشخبری کراچی کے سمندر سے تیل اور گیس کے ذخائرکے حوالے سے ہے ‘ خدا کرے کہ یہ حقیقی خوشخبری ثابت ہو لیکن اس خوشخبری کا فوری ریلیف تو نہیں ملے گا جبکہ مہنگائی ، بے روزگاری اور روز مرہ کے مسائل نے غریبوں کا کچومر نکال کر رکھ دیا ہے اور آج غریب کا ایک ایک پل اور ایک ایک سانس دھکتے زخم کی طرح ہو چکا ہے ‘ جب بھی اس پر ہاتھ آتا ہے تو زبان سے دھاڑ نکلنے کے ساتھ ساتھ یہ لفظ ادا ہوتا ہے کہ اس کا نام تبدیلی ہے ۔ تقسیم کے وقت پاک و ہند کے قومی ترانے ابھی تخلیق نہ ہوئے تھے ۔اس وقت عارضی قومی ترانوں سے کام لیا گیا ۔ یہ عجب اتفاق تھا کہ پاکستان کی آزادی کے پہلے دن ریڈیو پاکستان لاہور سے ہندو شاعر جگن ناتھ آزاد کا ترانہ ’’ ذرے ہیں تیرے ستاروں سے تابناک، اے سرزمین پاک ‘‘ نشر ہو رہا تھا اور 15 اگست کو ہندوستان کے یوم جمہوریہ پر مسلم شاعر ڈاکٹر علامہ اقبال کا ترانہ ’’ سارے جہاں سے اچھا ، ہندوستان ہمارا‘‘ نشر ہو رہا تھا ۔ ڈاکٹر جگن ناتھ آزاد کون تھے ؟ کہاں پیدا ہوئے؟ علامہ اقبال سے کیوں محبت رکھتے تھے ؟ پاکستان کی مٹی سے انہیں کتنا پیار تھا ؟ وہ سیکولر تھے یا انتہا پسند ؟ یہ تمام باتیں تاریخ کے طالب علموں کیلئے حوالے کی حیثیت رکھتی ہیں ۔ میں خود جگن ناتھ سے ملا ہوں۔ ان کی علامہ اقبال ، پاکستان اور اپنی مٹی ’’ عیسیٰ خیل ‘‘ سے دیوانگی کی حد تک محبت اور وارفتگی کا عینی شاہد ہوں ۔ میں نے اپنی کتاب ’’ سرائیکی وسیب اور علامہ اقبال میں جگن ناتھ کی علامہ اقبال سے محبت اور انکے تحقیقی کام کے بارے میں تفصیل سے لکھا ۔ ایک پیرا گراف دیکھئے۔ اقبال اور اس کا عہد ،ا قبال اور مغربی مفکرین ، اقبال اور کشمیر ، اقبال کی کہانی ، محمد اقبال ( ایک ادبی سوانح ) Iqbal, his Poetry and Philosophy ، فکر اقبال کے اہم پہلو، مرقع اقبال، اقبال کی زندگی ،شخصیت اور شاعری ، Iqbal, mind and art۔ جی ہاں ! یہ تمام کتابیں اس ہستی کی ہیں جو 5 دسمبر 1918ء کو وسیب کے مردم خیز خطے عیسیٰ خیل ضلع میانوالی میں پیدا ہوئے۔ اس کے والد تلوک چند نے اس کا نام جگن ناتھ رکھا ۔ ادب کے میدان میں قدم رکھا تو ’’ آزاد ‘‘ ہو گیا ۔ آزاد سے مراد آج کے آزاد نہ سمجھا جائے بلکہ جگن ناتھ تعصب ، تنگ نظری اور مذہبی کینہ پروری سے ’’ آزاد ‘‘ تھے ۔ جگن ناتھ کے والدمشہور ادیب اور لکھاری تھے ،ا ٓزاد صاحب کو ادبی ماحول گھر سے ملا ، والد نے پڑھنے کیلئے لاہور بھیجا تو وہاں کی ادبی فضا نے ان کے ذہن پر اچھا اثر ڈالا۔ علامہ اقبال سے ملا قاتوں سے ذہن کے دروازے کھل گئے ، سنٹرل ٹریننگ کالج لاہور سے ایس اے وی کا امتحان پاس کرنے کے بعد محکمہ تعلیم میں نوکری کی ، 1938ء میں علامہ اقبال فوت ہوئے تو جگن ناتھ آزاد کو بہت صدمہ ہوا اور وہ علامہ اقبال کے لواحقین سے بھی زیادہ بین کرتے رہے ۔آزاد صاحب نے علامہ اقبال کی نصیحت کے مطابق پڑھائی سے دوستی کر لی اور مختلف امتحانات پاس کئے ، 1942ء میں انہوں نے منظوم پڑھنا شروع کر دیا۔ ان کو اپنی مٹی سے پیار تھا، جگن ناتھ نے قیام پاکستان سے قبل ایک ملی نغمہ لکھا جس کا نام تھا ’’ ذرے ہیں تیرے ستاروں سے تابناک ،ا ے سر زمین پاک ‘‘ ۔1992ء میں پہلی عالمی سرائیکی کانفرنس میں شرکت کے سلسلے میں ہم دہلی گئے تو ملاقات کے دوران میں نے جگن ناتھ آزاد صاحب سے پوچھا کہ ’’ آپ سندھ دریاکے کنارے پیدا ہونے والے سرائیکی ہیں ، آپ نے اقبالیات پر بہت کام کیا مگر سرائیکی بارے آپ کا کا م دیکھنے کو نہیں ملتا ، اس کی وجہ کیا ہے ؟ ‘‘ جگن ناتھ صاحب نے جواب دیا کہ ’’ میں نے اپنی مادری زبان میں بہت لکھا ہے مگر میں لاہور رہتا تھا ، وہاں اردو ابھر کر سامنے آ گئی اور علمی مرتبے کے حوالے سے فارسی کی حیثیت بھی مسلمہ تھی ۔ ‘‘ میں نے ڈاکٹر جگن ناتھ سے سوال کیا کہ ’’ آپ نے مسلمانوں کے ایک فلسفی شاعر ( علامہ اقبال ) پر اتنا کام کیا ، آپ کو ہندوستان میں کسی نے کچھ نہیں کہا اور یہ کہ ہندوستان میں اردو کو اچھا نہیں سمجھا جاتا ،جبکہ آپ نے دہلی میں انجمن ترقی اردو بنائی۔ کیا ہندو ادیب اور دانشور آپ کو یا آپ کے کام کو اچھا سمجھتے ہیں ؟ ‘‘ ڈاکٹر جگن ناتھ آزاد نے جواب دیا کہ ’’ جہاں تک پہلے سوال کا تعلق ہے تو علامہ اقبال کو مسلمانوں کا نہیں بلکہ ہندوستان کا فخر سمجھتا ہوں ۔ اس لئے میں نے اپنی زندگی کو اقبالیات کا محور بنایا ہے ۔میرے اس کام کو کوئی اچھا سمجھے یا برا ، میں پرواہ نہیں کرتا۔ خود میں اس کام کو اچھا سمجھتا ہوں اور اسے کرتا ہوں ۔ دوسرے سوال بارے عرض کر گیا ہوں کہ زبانیں ہندو یا مسلم نہیں ہوتیں ، زبانوں کا تعلق ثقافت سے ہوتا ہے ، جیسے آپ سرائیکی بولتے ہیں ، ہم بھی بولتے ہیں ۔ آپ کے بولنے سے زبان مسلمان نہیں ہو گئی ۔ ہم اور ہمارے آباؤ اجداد تو سرائیکی ہزاروں سالوں سے بولتے آ رہے ہیں اور ہمیں اس پر فخر ہے۔‘‘جگن ناتھ آزاد کے مطابق مجھ سے زیادہ میرے والد تلوک چند پاکستان کی مٹی اور اپنی جنم بھومی سے پیار کرتے تھے اور عیسیٰ خیل میانوالی کا ذکر بڑی محبتوں سے کرتے تھے ۔ وہ موسیقی کے دلدادہ تھے ، میانوالی جسے ہم شعر و نغمہ کی سر زمین کہتے ہیں ، کے فنکاروں اور شاعروں کا ذکر بڑی محبت سے کرتے تھے ۔ جگن ناتھ آزاد نے مجھے بتایا کہ میرے والد کا انتقال 6 جنوری 1966ء کو ہوا ۔ پندرہ ، بیس سال بعد ہمارے عیسیٰ خیل کے عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی کی آواز پوری دنیا میں گونجی تو مجھے اپنے والد محترم بہت یاد آئے اور میں نے کہا کہ کاش میرے پتا جی زندہ ہوتے تو عیسیٰ خیل کو سن کر ’’ ٹھر ٹھر ویندے تے صدقے گھولے تھیندے‘‘۔ وسیب کی ریت اور روایت کی تصویر جگن ناتھ آزاد بھارت میں سرائیکی عاجزی اور انکساری کا نمونہ تھے ۔ انہوں نے علامہ اقبال پر بہت کام کیا ۔ جگن ناتھ کا پہلا شعری مجموعہ 1948ء میں شائع ہوا اور علامہ اقبال بارے پہلی تنقیدی کتاب 1960ء میں شائع ہوئی، اس کتاب کے کئی ایڈیشن شائع ہوئے اور مزید ایڈیشنوں کی اشاعت کا سلسلہ ابھی جاری ہے۔
(بشکریہ:روزنامہ 92نیوز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker