ظہور احمد دھریجہکالملکھاری

مہرشاکر کا شعری مجموعہ۔۔ظہور دھریجہ

رمضان شریف کے مقدس مہینے میںمہر حامد علی شاکرؔ کا شعری مجموعہ ’’مدینے کے والی‘‘ کے نام سے سامنے آیا ہے ، اُردو زبان میں شائع ہونے والی اس کتاب کے پہلے حصے میں نعتیہ کلام موجود ہے جبکہ اس کے دوسرے نثری حصے میں نہایت ہی اہمیت کے حامل مضامین شامل ہیں ۔مہر حامد علی سیال کا تعلق راجن پور کے قصبے کوٹلہ دیوان سے ہے مگر انہوں نے زندگی کا بیشتر حصہ اپنی ملازمت کے سلسلہ میں رحیم یارخان کے قصبے میانوالی شیخاں میں گزارا ۔مہر حامد علی شاکرؔ سیال 1940ء میں پیدا ہوئے ، 1964ء میں بحیثیت ٹیچر ملازمت کا آغاز کیا اور 2000ء میں ریٹائرمنٹ حاصل کی ۔ کتاب کے پیش لفظ میں وہ لکھتے ہیں کہ میں اتنا بڑا شاعر نہیں ہوں ،میرے اُستاد جناب مریدحسین قیس فریدی کی صحبت نے مجھے شاعر بنا دیا ، میں سرائیکی لکھتا تھا ، کچھ عرصہ کیلئے مجھے مقیم رہنا پڑا وہاں اُردو ماحول تھا ۔ میرا شروع سے نعت سے عشق تھا اور خود بھی نعتیں پڑھتا تھا ، جب نظام مصطفی تحریک چلی تو میں قومی اتحاد کے بڑے بڑے جلسوں اور اجتماعات میں نعتیں اور نظمیں پڑھتا تھا ۔ میری اس کتاب کی اشاعت کا سہرا میرے صاحبزادے شکیل احمد شاکرؔ کے سر ہے کہ انہی کے اسرار پر میں نے اپنی تحریروں اور بھولی بسری یادوں کو جمع کیا اور یہ کتاب شائع ہوئی ۔ مہر حامد علی شاکرؔ حصہ نثر میں اپنے نثری مضامین کے بارے میں لکھتے ہیں کہ یہ مضامین میرا حاصل مطالعہ ہیں، ایک اہم مضمون قرآن مجید کے حوالے سے ہے ، ایک مضمون اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان بریلویؒ کی محبتوں کی نذر ہے ۔ ایک مضمون سرائیکی زبان کے عظیم شاعر خواجہ غلام فرید ؒ کے حالات زندگی اور ان کے اوصاف کے بارے میں ہے ۔ اس کے علاوہ دیگر مضامین بھی ہیں وہ کہتے ہیں کہ مذہب اسلام اورسرورِ کائنات کی ذات سے محبت میرا ایمان ہے ۔مزید یہ کہ میرا وسیب خصوصاً ضلع راجن پور جہاں میں پیدا ہوا ، ضلع جھنگ جہاں سے میرے بزرگ آئے اور ضلع رحیم یارخان جہاں ملازمت کے دوران میری زندگی کا بیشتر حصہ گزرا ۔ میں اللہ کی تمام مخلوق سے محبت کرتا ہوں اورخدا وند کریم کے سارے جہان سے محبت کرتا ہوں مگر جیسا کہ میں نے کہا کہ میری محبتوں کے یہ پہلے محور ہیں ۔ حصہ نثر میں قرآن مجید کا مضمون اہمیت کا حامل ہے ،وہ لکھتے ہیں کہ یہ وہ کتاب ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی گئی ،دنیا میں سب سے زیادہ اس کے حفاظ ہیں،دنیا میں سب سے زیادہ اس کی طباعت و اشاعت ہوئی،دنیا میں سب سے زیادہ آب زر سے لکھی گئی ،اس کے ایک ایک لفظ اور زیر زبر کا بھی ثواب ہے، اس کے ساتھ غلیف بننے والا کپڑا بھی چوما جاتا ہے ۔ایک مضمون حضرت مولانا احمد رضا خان بریلویؒ کے حوالے سے ہے ۔عظیم سرائیکی شاعر حضرت خواجہ غلام فرید کوریجہ کے بارے میں لکھے گئے مضمون میں بہت ہی اہمیت کی معلومات دی گئی ہیں ۔ ایک مضمون حضرت خواجہ غلام فرید کوریجہ کے مرشد خواجہ فخر جہاں ؒ کے بارے میں ہے جس میں وہ لکھتے ہیں کہ آپ کا اسم گرامی غلام فخر الدین لقب فخر جہاں اور تخلص اوحدی تھا۔ 1234ھ بمطابق 1819ء آپ کی ولادت ہوئی ۔ ایک مضمون مشہور زمانہ کتاب معارف سرائیکی کے مصنف ضامن حسینی کے بارے میں ہے ۔ اس سلسلے میں مہر حامد علی شاکرؔ لکھتے ہیں کہ میں اپنی سر زمین راجن پور کے سپوت دیکھتا ہوں تو میرا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے ، میرے دوست جناب قیس فریدی صاحب کی لائبریری میں ایک کتاب تھی ’’معارف سرائیکی‘‘ یہ بہت تحقیقی اور اعلیٰ کتاب جس میں ثابت کیا گیا کہ سرائیکی دنیا کی قدیم ترین تہذیب اور قدیم ترین زبان ہے ، میرے لئے یہ بات انتہائی قابل فخر ہے کہ سید نور علی ضامن کے آباؤ اجداد کا آبائی مسکن داجل تھا مگر حصولِ ملازمت کے سلسلے میں اُن کے دادا سید غلام مصطفی ٰ شاہ داجل سے نقل مکانی کرکے ریاست بہاولپور چلے گئے اور احمد پور شرقیہ میں سکونت اختیار کر لی۔ سید نور علی ضامن حسینی 23 اکتوبر 1906ء کو اپنے والد سید غلام مہدی شاہ کے گھر پیدا ہوئے۔ ایک اہم مضمون عالمی حریت پسند حضرت مولانا عبید اللہ سندھی کے بارے میں ہے ، مہر حامد علی شاکرؔ لکھتے ہیں کہ میرا گھر کوٹلہ دیوان میں اور ساتھ ہی چند کلو میٹر کے فاصلے پر کوٹلہ مغلاں ہے ۔ یہ جان کر آپ کو حیرانی ہوگی کہ اس خطے میں بڑے بڑے سپوت پیدا ہوئے اور بڑی شخصیات پیدا ہوئیں ۔ میری اپنی اولاد خصوصاً اپنے خوش بخت اور قوم کے قابل فخر بیٹے مہر شکیل احمد شاکر کو وصیت کی ہے کہ وہ پورے وسیب خاص طور پر جھنگ جہاں سے میرے بزرگ آئے ، ضلع راجن پور جہاں میں پیدا ہوا اور ضلع رحیم یارخان جہاں میری پوری زندگی گزری پر تحقیقات کرائیں اور کتابیں چھپوائیں ۔ یہ جان کر آپ کو خوشی ہوگی کہ عالمی حریت پسند مولانا عبید اللہ سندھیؒ کا تعلق جام پور اور خان پور سے تھا۔مولانا عبید اللہ سندھی 10مارچ 1862ء (مطابق 12، محرم 1289ھ) کو موضع چیانوالی ضلع گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والدین سکھ تھے۔ اُن کے والد ان کی پیدائش سے چار ماہ قبل فوت ہو گئے۔ پیدائش کے بعد اُن کے دادا نے ان کی پرورش کی، مگر دو سال بعد دادا بھی فوت ہو گئے۔ چنانچہ انہوں نے اپنی والدہ کے ساتھ پرورش پائی۔ اُن کی والدہ کوٹلہ مغلاں تحصیل جام پور ضلع راجن پور کی رہنے والی تھیں۔ اس لئے اُن کا بچپن کوٹلہ مغلاں میں گزرا، اور یہیں ان کی تعلیم و تربیت ہوئی۔ انہوں نے مڈل سکول جام پور سے مڈل کا امتحان ممتاز حیثیت سے پاس کیا۔انگریز سامراج سے بچپن سے نفرت کرتے تھے یہیں سے ان کی سوچ کا آغاز ہوتا ہے ۔ خان پور کے قصبہ دین پور شریف اور سندھ کی درگاہ بھرچونڈھی شریف دیوبند ہرجگہ انگریز سامراج کے خلاف جدوجہد کی ، انگریز کے خلاف خان پور سے ریشمی رومال تحریک شروع کی اور پھر عالمی سطح پر انگریز سامراج کے خلاف کوششیں ، جلا وطنی ، ان اوصاف کے با وصف مولانا عبید اللہ سندھی کو عالمی شہرت حاصل ہوئی اور ہمیشہ ان کا نام زندہ رہے گا ۔21اگست 1944ء کو آپ نے وفات پائی اور خان پور کے قصبہ دین پور شریف میں آسودہ خاک ہیں اپنی وفات سے قبل مولانا عبیداللہ سندھی نے فرمایا کہ انگریز مکارہندوستان چھوڑکر جا رہا ہے اس کی چالوں میں نہ آنا ، ہندوستان کی ریاستیں مذہب کی بجائے ثقافت کی بنیاد پر بننی چاہئیں اور ماں بولیوں کو فروغ اور ترقی کا حق ملنا چاہئے ۔ واضح ہو کہ مولانا عبیداللہ سندھی نے پہلا سرائیکی قاعدہ بھی خود لکھا تھا جو کہ خان پور سے شائع ہوا اس وقت اس کا نام ’’ریاستی زبان دا قاعدہ‘‘تھا۔
(بشکریہ: روزنامہ 92نیوز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker