ظہور احمد دھریجہکالملکھاری

مخدوم شاہ محمود قریشی کی پریس کانفرنس۔۔ظہور دھریجہ

خوش آئند بات ہے کہ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے آج ملتان میں صوبے کے مسئلے پر پریس کانفرنس کی ہے اور صوبے سے متعلق سوالات کے جوابات دیئے۔ خوش آئند کا لفظ میں نے اس لئے استعمال کیا کہ ’’نصف صدی کا قصہ ہے ، پل دو پل کی بات نہیں‘‘ کے مصداق عرصہ تقریباً پچاس سال سے سرائیکی صوبے کا مطالبہ ہوتا آرہا ہے۔ مخدوم شاہ محمود قریشی سے پہلے اُن کے والد محترم جناب مخدوم سجاد قریشی حیات تھے، یہ ٹھیک ہے کہ اُن کو سرائیکی زبان و ادب سے دلچسپی تھی مگر مخدوم سجاد قریشی نے کبھی صوبے کی حمایت نہ کی۔ اسی طرح مخدوم شاہ محمود قریشی بھی سیاست میں آئے تو انہوں نے نہ صرف یہ کہ صوبے کی بات نہ کی بلکہ بعض حالات میں سندھ کے مختلف علاقوں جیسا کہ پچھلے دنوں عمر کوٹ سندھ کے جلسے میں بھی انہوں نے خود کو وسیب کی بجائے پنجاب کے نمائندے کے طور پر پیش کیا۔ شکر ہے کہ آج کی پریس کانفرنس میں انہوں نے صوبے کی بات کی اس پر ہم بجا طور کہہ سکتے ہیں کہ برسوں کی اسیری سے رہا ہونے لگے ہیں ہم آج تیرے لب سے ادا ہونے لگے ہیں پریس کانفرنس کے حوالے سے میں جو گزارشات پیش کروں گا اسے سیاسی تنقید کے طور پر نہ لیا جائے بلکہ میںصورتحال کے حوالے سے وسیب کا نقطہ نظر پیرا گراف وائز عرض کروں گا۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ پی ٹی آئی نے جنوبی پنجاب کو علیحدہ تشخص دینے کا وعدہ کیا تھا ہم نے جنوبی پنجاب صوبے کا بل قومی اسمبلی میں متعارف کراکر اپنا وعدہ پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔ مخدوم شاہ محمود قریشی صاحب ! جنوبی پنجاب کے نام سے پی ٹی آئی وسیب کو پہچان نہیں دے رہی بلکہ اُس کے تشخص کو بگاڑنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ آج وسیب کی یونیورسٹیوں میں جس زبان میں ایم اے ، ایم فل اور پی ایچ ڈی ہو رہی ہے اُس کا نام سرائیکی ہے، نہ کہ جنوبی پنجابی۔ مزید یہ کہ حکومت پاکستان کا ادارہ اکادمی ادبیات صدارتی ایوارڈ سرائیکی زبان کے نام سے دیتا ہے۔ پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان سرائیکی زبان کے نام سے پروگرام نشر کرتے ہیں۔ اسی طرح حکومت پاکستان کی طرف سے مردم شماری کا جو فارم آیا ہے اُس میں سرائیکی کا کالم موجود ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے وزراء وسیب کے جغرافیے اور تہذیب، ثقافت سے واقفیت حاصل کریں اور وسیب کی تہذیبی شناخت کی توہین کرکے وسیب کے لوگوں کی دل آزاری نہ کریں کہ یہ عمل آئین پاکستان کے بھی خلاف ہے کہ آئین پاکستان میں قوموں اور خطوں کی شناخت کو تسلیم کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صوبہ سرحد کے نام کو آئین میں ترمیم کرکے تبدیل کیا گیا۔ آئین پاکستان کسی بھی لحاظ سے امتیازی سلوک کی اجازت نہیں دے گا کہ باقی تمام صوبوں کے نام خطوں کی تہذیبی و ثقافتی شناخت پر ہوں اور سرائیکی خطے کا نام کسی دوسرے صوبے کی سمت پر رکھا جائے۔ اگر سمت پر صوبے کا نام درست ہوتا تو شمال مغربی، سرحدی صوبے کا نام آئین میں ترمیم کرکے خیبرپختونخواہ نہ رکھا جاتا۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ جنوبی پنجاب صوبے کیلئے آئین میں ترمیم درکار ہے۔ ملتان ڈویژن، بہاولپور ڈویژن اور ڈیرہ غازیخان ڈویژن کے علاقے جنوبی پنجاب میں شامل ہوں گے۔ مخدوم صاحب! اس بات سے تو کسی کو انکار نہیں کہ آئین میں ترمیم ہو گی مگر 1973ء کے آئین میں نیا صوبہ بنانے کا طریقہ کار یہ تھا کہ قومی اسمبلی اور سینٹ کودو تہائی اکثریت سے اس کی منظوری دینا تھی۔ آٹھویں ترمیم کے موقع پر آمر جنرل ضیاء الحق نے آئین میں یہ شق بھی شامل کرائی کہ جہاں نیا صوبہ بنے گا وہاں کی اسمبلی سے بھی دو تہائی اکثریت کے ساتھ بل منظور کرانا ضروری ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ صوبے کا مسئلہ آئینی مسئلہ ہے۔ صوبائی اسمبلی آئین ساز ادارہ نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اُسے آئینی عمل میں کیوں شامل کیا گیا؟ دوسرا یہ کہ اٹھارویں ترمیم کے موقع پر جب ضیاء الحق اور مشرف کی تمام آمرانہ ترمیموں کو ختم کیا گیا تو صوبے سے متعلق یہ ترمیم کیوں باقی رہنے دی گئی؟ کیا یہ ٹھیک نہیں کہ اس آمرانہ ترمیم کو آئین سے ہذف ہونا چاہئے۔ جہاں تک تین ڈویژنوں پر مشتمل جنوبی پنجاب صوبے کی بات ہے تو یہ بات غلط ہے۔ اگر آئین کے موجودہ طریقہ کار کو بھی دیکھا جائے تو اُس کے مطابق سب سے پہلے صوبائی اسمبلی قرارداد قومی اسمبلی کو صوبہ کمیشن کی سفارش کے ساتھ بھیجے ، قومی اسمبلی پارلیمانی صوبہ کمیشن قائم کرے، صوبہ کمیشن، صوبے کی حدود، صوبے کے نام، مالیاتی امور سمیت تمام امور کا جائزہ لیکر مفصل رپورٹ اسمبلی کو بھیجے، قومی اسمبلی اور پھر سینٹ اُس کی منظوری دے۔ پی ٹی آئی سمیت کسی بھی جماعت کو اس بات کا اختیار نہیں کہ وہ خود پہلے سے صوبے کی حدود کا بھی تعین کر دے اور اپنی مرضی کے مطابق اُس کا غیر تہذیبی نام بھی رکھ دے۔ یہ عمل نہ صرف آئینی طور پر درست نہیں بلکہ وسیب کے کروڑوں افراد کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف بھی ہے۔ وسیب کے لوگ وسیب کی مکمل حدود پر مشتمل اُسی طرح کے صوبے کی ڈیمانڈ کرتے ہیں جیسا کہ دوسرے صوبے پہلے سے موجود ہیں۔ مخدوم شاہ محمود قریشی سرکاری بیانیہ بیان کرنے کی بجائے زمینی حقائق کے مطابق بات کریں۔ کیا مخدوم شاہ محمود قریشی کو اس بات کا علم نہیں کہ سرکاری جغرافیہ کے مطابق مذکورہ تین ڈویژنوں کے علاوہ کل تک اوکاڑہ، ساہیوال، پاکپتن، جھنگ، میانوالی، بھکر اور خوشاب وغیرہ جنوبی پنجاب کہلاتے تھے۔ میاں شہباز شریف کے دور میں جنوبی پنجاب کیلئے ملازمتوں کا بیس فیصد کوٹہ مختص کیا گیا تو اُس میں بھی میانوالی وغیرہ شامل تھے اور میاں شہباز شریف کے دور میں سرکاری کالجوں میں سرائیکی لیکچرار کی پوسٹیں آئیں تو میانوالی کی تحصیل کالا باغ میں بھی سرائیکی لیکچرر کی پوسٹ موجود ہے اور وہاں سرائیکی سبجیکٹ کا لیکچرر تعینات ہے۔ آج کس بناء پر ان اضلاع کو سرائیکی خطے سے الگ کیا جا رہا ہے جہاں تک خیبرپختونخواہ میں ڈی آئی خان اور ٹانک کی بات ہے تو یہ تو صدیوں سے سرائیکی وسیب کا حصہ چلے آرہے ہیں۔ رنجیت سنگھ کے قبضے کے بعد بھی یہ صوبہ ملتان کا حصہ رہے یہ تو 9 نومبر 1901ء میں وائسرائے ہند لارڈ کرزن نے پشتونوں کو خوش کرنے کیلئے صوبہ سرحد بنایا تو یہ اضلاع اُس میں شامل کئے جس پر آج تک احتجاج ہو رہا ہے۔ عجب بات ہے کہ آج بھی پشتونوں کو خوش کیا جا رہا ہے۔ فاٹا کی نشستیں ڈبل کر دی گئی ہیں۔ اسمبلی سے متفقہ بل پاس ہوا آج خیبرپختونخواہ کی حدود میں فاٹا کو بھی شامل کر دیا گیا ہے تو لازم ہے کہ نئے بندوبستی سیٹ اَپ میں ڈی آئی خان ، ٹانک کو سرائیکی صوبے کا حصہ بنایا جائے۔ پونم کے چارٹر میں بھی ہم نے یہ بات درج کرائی تھی کہ جب بھی سرائیکی صوبہ بنے گا تو پشتونوں کو ڈی آئی خان ٹانک واگزار کرنے ہوں گے۔
(بشکریہ: روزنامہ 92نیوز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker