ظہور احمد دھریجہکالملکھاری

صوبائی خود مختاری برقرار رہنی چاہئے۔۔ظہور دھریجہ

18 ویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو با اختیار بنایا گیا ہے ، حکومتی حلقوں کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ صوبوں کے اختیار کو کم کرنے کیلئے اٹھارہویں ترمیم میں دوبارہ نظر ثانی کی ضرورت ہے ۔ کچھ حلقوں کی طرف سے آصف زرداری پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ انہوں نے اپنے صوبے سندھ میں پیپلز پارٹی کو ہمیشہ بر سر اقتدار رکھنے کیلئے اٹھارہویں ترمیم منظور کرائی ، سوال یہ ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو جو اختیار حاصل ہوا ، کیا وہ صرف سندھ کیلئے تھا ؟ دیکھا جائے تو صوبائی خود مختاری کا سب سے زیادہ فائدہ پنجاب کو ہوا کہ اس کی آبادی تین صوبوں کی مجموعی آبادی سے بھی بڑھ کر ہے ۔ پنجاب نے اپنی آبادی کی بنیاد پر سب سے زیادہ مالیاتی وسائل حاصل کئے اور انہی وسائل کی بناء پر میاں شہباز شریف نے پنجاب میں بادشاہوں سے بڑھ کر حکومت کی ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ صوبائی خودمختاری کے مسئلے کو نہ چھیڑا جائے کہ مشرقی پاکستان کا مسئلہ بھی صوبائی خودمختاری کا مسئلہ تھا ، صوبوں کو با اختیار بنانا چاہئے ۔ جو کام کرنے کا ہے وہ یہ ہے کہ صوبوں کو بے اختیار بنانے کی بجائے وفاق کو متوازن کیا جائے اور اس مقصد کیلئے حکومت بلا تاخیر اٹھارہویں ترمیم کے خاتمے کی بجائے مزید صوبوں کے قیام کا بل اسمبلی میں پیش کرے ۔ اس موقع پر میں یہ بھی کہوں گا کہ اصولی طور پر چھوٹے صوبوں کے ساتھ ساتھ سرائیکی وسیب کے نمائندے صوبائی خود مختاری کی حمایت کرتے آ رہے ہیں ۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ 18 ویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو ملنے والے اختیار کا وسیب کو صوبہ نہ ہونے کی وجہ سے نقصان ہوا ۔ جیسا کہ صوبائی خود مختاری کے ذریعے پنجاب اور خیبر پختونخواہ نے بھاری بھرکم مالیاتی ایوارڈ حاصل کیا مگر سرائیکی اضلاع کو اس کا حصہ نہ ملا ، اسی بناء پر ہم نے مطالبہ کیا تھا کہ نیشنل ایوارڈ کے ساتھ ساتھ صوبائی ایوارڈ کا بھی اجراء کیا جائے اور صوبائی ایوارڈ کے ذریعے ہر ڈسٹرکٹ کو اس کی آبادی کے مطابق حصہ دیا جائے ، مگر ہمارے معقول مطالبے کو تسلیم نہ کیا گیا۔ بات صرف یہ نہیں کہ پیپلز پارٹی نے مالیاتی ایوارڈ کے موقع پر وسیب کے بات نہیں مانی بلکہ 18 ویں ترمیم کے موقع پر بھی پاکستان پیپلز پارٹی نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا ، وسیب کی تمام قوم پرست جماعتوں نے 18 ویں ترمیم کے موقع پر مطالبہ کیا تھا کہ آپ صوبہ سرحد کو شناخت دے رہے ہیں ، حالانکہ ان کا اپنا صوبہ موجود ہے ، محض نام کا مسئلہ ہے ، جبکہ 18 ویں ترمیم میں جنوبی پنجاب صوبے کے مسئلے کو شامل کریں اور جنرل ضیا الحق کی طرف سے 8ویں ترمیم میں اس شق کا بھی خاتمہ کریں جس میں نئے صوبے کے قیام کیلئے متعلقہ صوبائی اسمبلی سے دو تہائی اکثریت کے منظوری کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔
آئین کی کتاب پڑھنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ 1973ء کے آئین میں نیا صوبہ بنانے کا فارمولا یہ تھا کہ ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی دو تہائی اکثریت کے ساتھ صوبے کا بل پاس کر کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کو بھیجے اور سینیٹ دو تہائی اکثریت کے ساتھ نئے صوبے کی منظوری دے ، 1977ء میں جنرل ضیاء الحق نے مارشل لگا کر 73ء کا آئین معطل کر دیا ،1977ء تا 1985ء آئین معطل رہا، ضیاء الحق نے اپنے غیر آئینی اقدامات کو آئینی بنانے کے لئے غیر جماعتی الیکشن کا ڈھونگ رچایا اور 1985ء میں ترمیم شدہ آئین بحال ہوا ،جسے آئین آٹھویں ترمیم ایکٹ 1985ء کا نام دیا گیا ۔ 1973ء کے آئین کے 67دفعات کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ۔ ان میں ایک شق یہ بھی تھی کہ نیا صوبہ بنانے کیلئے قومی و صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت کے ساتھ ساتھ متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت بھی ضروری ہے ۔ حالانکہ نیا صوبہ بنانا یا بننا آئینی تقاضا ہے تو صوبائی اسمبلی آئین ساز ادارہ نہیں ہے ۔ 18 ویں ترمیم کے موقع پر صدر آصف زرداری ، یوسف رضا گیلانی اور آئینی اصطلاحات کمیٹی کے چیئرمین رضا ربانی نے بد دیانتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئے صوبے کی راہ میں رکاوٹ بننے والی ترمیم کو باقی رکھا ۔زرداری کو خوف تھا کہ اگر یہ ترمیم ختم ہوتی ہے تو مہاجر صوبے کی راہ ہموار ہو جائے گی ، جس کا واضح مطلب میٹھا میٹھا ہپ اور کڑوا تھو والا تھا ۔ آج بھی اگر 18ویں ترمیم کو دیکھنے کی ضرورت ہے تو اس شق کے حوالے سے ہے ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ 18ویں ترمیم میں بلدیاتی نظام کو ضروری قرار دیا گیا ہے اور صوبوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ باقاعدگی کے ساتھ بلدیاتی الیکشن کرائیں گے ۔ مگر بلدیاتی سسٹم کو سب سے زیادہ نقصان پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے پہنچایا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ اور پنجاب میں بلدیاتی الیکشن ڈھونگ بن کر رہ گئے ہیں ۔ 18ویں ترمیم کو اگر دیکھنے کی ضرورت ہے تو اس بنا پر ہے کہ 18ویں ترمیم کے بعد ارکان اسمبلی کے اختیارات پارٹی لیڈر کو سونپ دیئے گئے ہیں اور ارکان اسمبلی کو محتاج محض اور ربڑ اسٹیمپ بنا کر رکھ دیا گیا ہے اور پارٹی لیڈر کی بادشاہت قائم کر دی گئی ہے جو کہ جمہوریت کے ساتھ بدترین مذاق ہے ۔ اب وسیب کا موقف یہ ہے کہ آئین سازی کے موقع پر وسیب کو وفاقی اکائی قرار دیا جائے ،نیا صوبہ بنایا جائے اور وسیب کے کروڑوں افراد کو فریق تسلیم کرتے ہوئے اس کی مشاورت سے آئین سازی کی جائے ۔
ایک سوال یہ ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کا شوشہ کیوں چھوڑا گیا ۔ تحریک انصاف کی حکومت نے 2018ء کے الیکشن میں اپنے ووٹروں سے 18 ویں ترمیم کے خاتمے کا وعدہ نہیں کیا تھا ۔ الیکشن کے دوران تحریک انصاف نے صوبے کا وعدہ کیا تھا ، یہاں تک ہوا کہ جب جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کو تحریک انصاف میں ضم کیا گیا تو سو دن میں صوبہ بنانے کا تحریری معاہدہ بھی ہوا ۔ تحریک انصاف کو اٹھارہویں ترمیم جیسے ایشوز کو چھیڑنے کی بجائے اپنے پارٹی منشور کے مطابق صوبے کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں کہ کسی بھی جماعت کا منشور نہایت اہمیت کا حامل ہوتا ہے ، کوئی بھی جماعت بر سر اقتدار آنے کے بعد اپنے پارٹی منشور اور ووٹروں سے کئے گئے وعدے کو ایفاء نہ کر سکے تو وہ صادق اور امین کہلانے کی حقدار نہیں ہوتی اور اس پر آئین کی شق 62 ، 63 کا بھی اطلاق ہوتا ہے ، عمران خان جو کہ ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں تو ریاست مدینہ کا اہم ستون ایفائے عہد ہے۔ 18ویں ترمیم کے خاتمے کے شوشے چھوڑنے کی بجائے حکومت کو اپنے وعدے کے مطابق صوبے کے لئے آئینی ترمیم کی طرف بڑھنا چاہئے ۔
(بشکریہ: روزنامہ 92 نیوز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker