ظہور احمد دھریجہکالملکھاری

16 اکتوبر کی یادیں۔۔ظہور دھریجہ

16 اکتوبر پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کا یوم شہادت بھی ہے اور اسی دن گوجرانوالہ میں اپوزیشن کا جلسہ بھی ہوا ہے،جو ملک بھر میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے ۔ اپوزیشن کہتی ہے کہ تاریخ ساز جلسہ ہوا جبکہ حکمران جماعت تحریک انصاف کے اکابرین کا کہنا ہے کہ اسی اسٹیڈیم میں چند سال پہلے بحیثیت اپوزیشن عمران خان کا بھی جلسہ ہوا تھا ، پورا اسٹیڈیم بھرا ہوا تھا اور اسٹیڈیم کی دیواروں پر بھی لوگ جمع تھے ، اس بناء پر آج کا جلسہ ‘ جلسہ نہیں بلکہ جلسی ہے ۔ جلسے سے مریم نواز ، بلاول بھٹو ، مولانا فضل الرحمن و دیگر نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ پارلیمنٹ منتخب نہیں یہ عالمی اسٹیبلشمنٹ کی سازشوں سے حکومت میں آئے ہیں ، لوگ مشکلات کا شکار ہیں ۔حکمرانوں کو دسمبر دیکھنا نصیب نہیں ہوگا کہ یہ سلیکٹڈ اور نا اہل حکومت ہے ۔ اپوزیشن کے جواب میں عمران خان نے کہا ہے کہ کبھی کبھی سوچتا ہوں ڈاکوؤں کو این آر او دیدوں ، اس سے زندگی آسان ہو جائے گی لیکن یہ تباہی کا راستہ ہے، میرے سامنے بھی آسان اور مشکل راستے ہیں ‘ سمجھوتہ کر کے پارلیمنٹ میں تقریریں کروں گا اور تین سال آسانی سے گزر جائیں گے ۔ وزیراعظم عمران خان کی بات سے مجھے ایک فلمی گانا یاد آیا جو بچپن میں مہدی حسن کی آواز میں سنتے تھے ، اس کے بول اس طرح تھے ’’ کبھی میں سوچتا ہوں ‘ کچھ نہ کچھ کہوں ، پھر میں یہ سوچتا ہوں کہ کیوں نہ چپ رہوں ‘‘ ۔ عمران خان بار بار کہہ رہے ہیں کہ این آر او نہیں دونگا جبکہ 16 اکتوبر کو گوجرانوالہ کے جلسے میں مولانا فضل الرحمن نے نئی اور انوکھی بات کر دی ‘ ان کا کہنا تھا کہ حکمران این آر او مانگ رہے ہیں ‘ ہم نہیں دیں گے ۔ سیاست میں انہونیاں ہوتی رہتی ہیں اور انوکھی باتیں بھی ۔
گوجرانوالہ کے جلسے میں ایک بات یہ بھی دیکھنے میں آئی کہ پولیس نے اپوزیشن کے کارکنوں کو کچھ نہیں کہا البتہ کارکنوں نے ایک دوسرے کے چہروں پر تھپڑ برسائے ۔ ایک بات یہ بھی بحث کا موضوع ہے کہ گوجرانوالہ کے جلسے پر ایک ارب سے زائد خرچ ہوا ‘ یہ خرچ ن لیگ نے برداشت کیا یا پھر تمام جماعتوں نے برابر حصہ ڈالا۔ 16اکتوبر کی یادوں میں ایک بات یہ بھی ہے کہ عالمی حریت پسند مولانا عبید اللہ سندھی کے شاگرد ریاض ہاشمی مرحوم نے 16 اکتوبر کو وسیب کی حقوق کی جدوجہد کا دن قرار دیا تھا ۔ریاض ہاشمی براہ راست مولانا عبیداللہ سندھی کے شاگرد ہیں ، ان کے والد فیض الحسن المعروف ڈاکٹر بگا مرحوم نے جب ان کو تعلیم کے لئے کراچی کے مدرسے میں داخل کرایا تو 1939ء میں مولانا عبیداللہ سندھی جلا وطنی کے بعد کراچی پہنچے اور ان کا اسی مدرسے میں خطاب تھا جہاں ریاض ہاشمی پڑھ رہے تھے ‘ ریاض ہاشمی بتاتے ہیں کہ میں مولانا عبید اللہ سندھی کوملا ۔ مولانا عبید اللہ سندھی نے مجھے گلے لگایا اور کہا کہ تم مدرسے کی تعلیم چھوڑو کالج میں داخلہ لو اور وکیل بنو، چنانچہ انہوں نے ایسا کیا ۔ ریاض ہاشمی بتاتے تھے کہ جب مولانا عبیداللہ سندھی دو تین سال بعد خان پور آئے تو بہت بیمار تھے ، میں اپنے والد کو روزانہ سائیکل پر دین پور شریف لے جاتا اور حضرت سندھی سئیں کا میڈیکل چیک اپ کراتا ۔ اس دوران مولانا عبیداللہ سندھی سے مجھے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا ، مجھ میں سیاسی و انقلابی سوچ پیدا ہوئی ۔ ریاض ہاشمی اس شخصیت کا نام ہے جنہوں جب ون یونٹ کے خلاف اینٹی ون یونٹ کمیٹی قائم کی گئی تو اس میں وسیب کی نمائندگی ریاض ہاشمی نے کی اور وہ سب سے زیادہ فعال اور متحرک ممبر تھے ۔وسیب کے حوالے سے 15 اور 16 اکتوبر کا دن اہمیت کا حامل ہے کہ ان د دنوں 2017ء میں تاریخی لانگ مارچ ہوا جس کا پہلا مرحلہ کوٹ سبزل صادق آباد سے لودھراں اور دوسرا مرحلہ لودھراں سے ملتان کیلئے تھا ۔ کمزور مالی پوزیشن کی حامل سرائیکی جماعتوں کی طرف سے اتنے بڑے لانگ مارچ کا انعقاد بذات خود ایک بہت بڑا قدم تھا ، اس لانگ مارچ سے دوسروں کے علاوہ خود سرائیکی جماعتوں کو اپنے آپ پر اعتماد ہوا کہ وہ کچھ کرنے کی پوزیشن میں ہیں ، یہ لانگ مارچ توقع سے بڑھ کر تھا اور صحیح معنوں میں دیکھا جائے تو لانگ مارچ میں شرکاء کی تعداد میاں نواز شریف کے لانگ مارچ سے زیادہ تھی، میاں نواز شریف کے لانگ مارچ کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ ساتھ تاجروں و صنعت کاروں کی حمایت بھی حاصل تھی اور یہ بھی مسلمہ حقیقت ہے کہ میاں منشاء اور ملک ریاض جیسے سرمایہ دار اقتدار پرست جماعتوں کو فنانس کرتے ہیں جبکہ وسیب کے لئے جدوجہد کرنے والی جماعتوں کے پاس کچھ بھی نہ تھا 16 اکتوبر کو تاریخی لانگ مارچ کی یاد منائی جاتی ہے ، اس سلسلے میں گزشتہ روز 16 اکتوبر کو رحیم یارخان کے قصبہ فیروزہ میں سرائیکی فاؤنڈیشن کی طرف سے جلسہ تھا جسے پولیس نے بلڈوز کر دیا ۔ عجب بات ہے کہ ایک طرف حکومت نے اپوزیشن کو جلسے جلوسوں کی اجازت دے رکھی ہے جبکہ دوسری طرف وسیب کی چھوٹی سی تقریب بھی برداشت نہیں ۔غیر منصفانہ دوہرا معیار نہیں ہونا چاہئے کہ عمران خان نے خود کہا تھا ’’ دو نہیں ایک پاکستان ‘‘ ۔
آخر میں ایک صدمے کا ذکر کروں گا کہ گزشتہ روز شمالی وزیرستان میں دھماکے سے پاک فوج کے 6 نوجوان شہید ہوئے اور اس کے دوسرے دن بلوچستان کے علاقے حب میں ایف سی کے 14 اہلکاروں کو دہشت گردوں نے فائرنگ کر کے شہید کر دیا ۔ بلوچستان ہو یا وزیرستان دہشت گردی کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں اور اس کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے۔ خیبرپختونخواہ میں شامل وسیب کے اضلاع ٹانک اور ڈی آئی خان بھی سالہاسال سے دہشت گردوں سے کے نشانے پر ہیں فیصلہ ساز مقتدر قوتیں صوبہ بنا کر ٹانک اور ڈی آئی خان کو اس میں شامل کریں تاکہ وہاں کے باشندوں کو دہشت گردوں سے بچایا جا سکے ۔
(بشکریہ: روزنامہ 92نیوز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker