2018 انتخاباتظہور احمد دھریجہکالملکھاری

پیپلز پارٹی کا منشور اور ’’ سرائیکی صوبہ‘‘:وسیب / ظہور دھریجہ

کسی بھی پارٹی کا منشور اس کی سوچ کا آئینہ دار ہوتا ہے‘ ہر نئے الیکشن سے پہلے سیاسی جماعتیں آئندہ کا لائحہ عمل اور پارٹی منشور کا اعلان کر کے سیاسی میدان میں اُترتی ہیں اور اسی پروگرام کے مطابق ووٹروں سے ووٹ حاصل کرتی ہیں ۔ منشور کی اپنی جگہ بہت بڑی اہمیت ہے لیکن اصل بات عمل درآمد کی ہے ۔ ذوالفقار علی بھٹو کے روٹی ، کپڑا ، مکان کے وعدے سے لیکر ن لیگ کے بہاولپور جنوبی پنجاب صوبہ کے وعدے تک سیاسی جماعتوں کے منشور کو دیکھتے ہیں تو یہ بات تلخ حقیقت کے طور پر سامنے آتی ہے کہ آج تک کسی بھی جماعت نے اپنے منشور پر عمل نہیں کیا ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ الیکشن کمیشن اس پر سیاسی جماعتوں سے باز پرس کرے اور چونکہ الیکشن عدلیہ کی نگرانی میں ہوتے ہیں ، عدالت عالیہ بھی از خود نوٹس لیکر جماعتوں کو منشور پر عمل کرنے کا پابند بنائے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے 76 صفحات پر مشتمل جو نیا منشور آیا ہے۔ اس میں روٹی ، کپڑا ، مکان ‘ تعلیم ، صحت اور روزگار کے وعدے کئے گئے ہیں ۔ منشور میں ڈیمز بنانے کی بات بھی شامل ہے۔ بہت سی دوسری باتوں کے ساتھ منشور کے آخر میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ووٹ کیلئے باہر نکلیں ، اگر ہمارے ساتھ اتفاق ہے تو ہمیں ووٹ ڈالیں ، نہیں تو ہمارے خلاف ووٹ ڈالیں اور بتائیں کہ درست کیا ہے اور صحیح کیا ہے ؟ منشور کے آخر میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ باہر نکلیں اور اپنی رائے منوائیں ‘ کیونکہ آپ ہی کی رائے اصل اہمیت رکھتی ہے۔ یہ تمام باتیں اپنی جگہ درست لیکن سوال یہ ہے کہ عوام کی رائے کو کب تسلیم کیا گیا؟ پیپلز پارٹی نے اپنے منشور کے صفحہ نمبر 55 پر لکھا کہ ’’ جنوبی پنجاب کا ایک نیا صوبہ بنایا جائے گا کہ جنوبی پنجاب کے لوگ طویل عرصہ سے اپنی شناخت منوانے اور پسماندہ و نظر انداز کردہ علاقے کی شکایت دور کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔ ‘‘ عجب بات ہے کہ پیپلز پارٹی ایک طرف وسیب کی شناخت کی بات کر رہی ہے ، دوسری طرف وسیب کی شناخت کے بر عکس سرائیکی صوبے کو جنوبی پنجاب صوبے کا نام دے رہی ہے ۔ لفظ جنوبی پنجاب لغوی اعتبار سے بھی غلط ہے کہ سرائیکی وسیب کے بہت سے اضلاع جن میں میانوالی ‘ ٹانک ‘ ڈی آئی خان ‘ بھکر اور خوشاب وغیرہ پنجاب کے جنوب میں نہیں آتے ۔ دوسرا یہ کہ پیپلز پارٹی نے پشتونوں کو شناخت دینے کیلئے آئین میں ترمیم کرائی اور اس ترمیم پر تمام جماعتوں نے دستخط کیے ‘ جس کی بناء پر شمال مغربی سرحدی صوبہ( سرحد )کا نام خیبرپختونخواہ ہو گیا ۔ سوال یہ ہے کہ پشتونوں کو شناخت دی گئی تو سرائیکی وسیب سے امتیازی سلوک کیوں؟ ہر خطے کی اپنی تہذیب ، ثقافت اور اپنی پہچان ہوتی ہے ۔ ملک کے چار صوبے اسی پہچان اور اسی شناخت پر قائم ہیں۔ ہمارا سب سے بڑا اسلامی ملک سعودی عرب کا نام بھی اسی شناخت پر ہے ۔ وہاں عرب لیگ بھی موجود ہے تو پھر سرائیکی وسیب کی شناخت سے انکار کیوں؟ وسیب کے لوگوں نے ہمیشہ یہ بات کی کہ ہمیں نہ بر تر صوبہ چاہئے اور نہ کمتر قبول کریں گے‘ جس طرح دوسرے صوبے ہیں اسی طرح سرائیکی صوبہ بنا دیا جائے۔ سرائیکی صوبے کو ایک طرح سے آئینی تحفظ بھی حاصل ہے کہ 2012 ء میں پنجاب اسمبلی سے پاس ہونیوالی قرارداد کے مطابق پیپلز پارٹی نے صوبہ کمیشن قائم کیا ، کمیشن کی سفارشات کے مطابق آئین ساز ادارے سینیٹ سے دو تہائی اکثریت کے ساتھ سرائیکی صوبے کا بل پاس کیا گیا ۔بل پاس ہونے کا مقصد آئینی ترمیم ہے۔ اب اتنی بڑی پیش رفت کے باوجود سرائیکی صوبے کے لئے اقدامات نہ کرنا آئین ساز سپریم ادارے ( سینیٹ) سے انحراف کے مترادف ہے۔ پیپلز پارٹی نے سرائیکی صوبے کے ساتھ ساتھ سرائیکی بنک بنانے کا بھی اعلان کیا تھا ۔ پیپلز پارٹی عذر پیش کرتی ہے کہ ہمیں صوبائی اور قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل نہ تھی ، اسلئے ہم سرائیکی صوبہ نہ بنا سکے۔ سوال یہ ہے کہ کیا سرائیکی بنک بنانے کیلئے بھی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت تھی ؟ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ پیپلز پارٹی کو اقتدار ملا تو اس نے وسیب کے لئے کوئی بڑا کام نہیں کیا ۔ زرعی ، انجینئرنگ و میڈیکل یونیورسٹیز میں سے ایک بھی نہیں بنائی گئی ۔ وسیب میں کیڈٹ کالج بھی نہ بنائے گئے ۔ ایک بھی ٹیکس فری انڈسٹریل زون نہ بن سکا۔ وسیب کی تہذیب، ثقافت اور آثار کو محفوظ بنانے کیلئے کوئی ایک بھی ادارہ نہ بنایا گیا ۔ حتیٰ کہ اسلام آباد میں مختلف زبانوں کے صوفی شعراء شاہ عبداللطیف بھٹائی ، خوشحال خان خٹک، وارث شاہ ، رحمان بابا ، مست توکلی ، میاں محمد بخش کے نام سے شاہرات موجود ہیں ، اسلام آباد کی سرائیکی کانفرنسوں میں ہم مطالبات کر تے کرتے تھک گئے کہ خواجہ فرید کے نام سے بھی کسی شارع کو منسوب کیا جائے لیکن مخدوم یوسف رضا گیلانی صاحب سے اتنا بھی نہ ہو سکا ۔ ہم نے یہ بھی کہا تھا کہ بھٹائی آڈیٹوریم کی طرح اسلام آباد میں خواجہ فرید آڈیٹوریم بھی ہونا چاہئے کہ وسیب کے لوگوں کو ادبی ، ثقافتی سرگرمیوں کیلئے آسانی ہو مگر ہماری یہ معمولی بات بھی نہ مانی گئی۔ پیپلز پارٹی کا منشور تضادات کا مجموعہ ہے ۔ ایک طرف وہ سرائیکی وسیب کو شناخت دینے کی بات کرتی ہے دوسری طرف شناخت پر کلہاڑا چلاتی ہے ۔ شمال مغربی سرحدی صوبہ کا نام سمت پر تھا ، جب سمت والے نام کو ختم کیا گیا تو اب پنجاب کی سمت پر سرائیکی صوبے کو غلط نام کیوں دیا جا رہا ہے۔ مجھے حیرانی بلاول پر نہیں کہ وہ ابھی بچہ ہے ۔ آصف زرداری پر بھی نہیں کہ وہ پی پی سندھ کے سندھی قوم پرستوں کے نرغے میں ہیں ۔ مجھے اگر حیرانی ہے تو مخدوم یوسف رضا گیلانی پر ، مخدوم احمد محمود اور ان جیسے دیگر سرائیکی عمائدین پر جو وسیب کی شناخت کے خاتمے پر خاموش رہتے ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ سرائیکی وسیب جب تک قیادت کیلئے لاڑکانہ ، لاہور اور بنی گالہ کی طرف دیکھے گا ، اسی طرح ذلیل ،خوار ، رسوا اور بے شناخت ہوتا رہے گا۔ وسیب نے اگر اپنا کھویا ہوا مقام اور مرتبہ حاصل کرنا ہے تو اسے خود قائد بننا ہو گا کہ سرائیکی وسیب کی اپنی صدیوں کی تاریخ،اپنا خطہ ، اپنا جغرافیہ، اپنی تہذیب ‘ اپنی ثقافت اور اپنی الگ ایک پہچان ہے۔وسیب کے لوگ نہ تو کسی کے کمی ہیں اور نہ مزارعے ۔ پیپلز پارٹی یا کسی بھی جماعت نے اگر وسیب کی حمایت کرنی ہے تواس کی مکمل حدود اور شناخت کے مطابق کرے ۔ وگرنہ وسیب کی شناخت کو مٹانے اور وسیب کے اصل خطے کو کاٹ کر دس بارہ اضلاع پر مشتمل صوبہ تجویز کرنا صوبہ بننے سے پہلے وسیب کو لولا لنگڑا کرنے کے مترادف ہے ، ایسی حمایت سے وسیب کو معاف رکھا جائے۔
(بشکریہ: روزنامہ 92نیوز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker