سرائیکی وسیبظہور احمد دھریجہکالملکھاری

استاد سجاد رسول بھی چل بسے:وسیب/ظہور دھریجہ

معروف سرائیکی شاعر قیس فریدی اور معروف سرائیکی دانشور پروفیسر شمیم عارف قریشی کے بعد ریڈیو پاکستان ملتان کے معروف سنگر استاد سجادر سول بھی چل بسے ، کراچی میں انتقال ہوا اور وہیں پر ان کو سپرد خاک کیا گیا ۔ استاد سجاد رسول کافی عرصے سے علیل تھے ، وہ کراچی سے ملتان آ ئے ۔ حکومت سے ان کے علاج کیلئے اپیلیں کی گئیں مگر حکومت نے توجہ نہ دی ۔ جس کی بناء پر گزشتہ عید سے پہلے وہ دوبارہ کراچی چلے گئے ۔ ستم یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے کروڑ پتی ارکان اسمبلی اور بیورو کریسی کی بڑی بڑی شخصیات کا سرکاری خرچ پر بیرون ملک علاج ہوتا ہے ، اگر علاج نہیں ہو سکتا تو وسیب کے غریب شاعروں ، ادیبوں اور فنکاروں کا ۔ یہ بھی دیکھئے کہ معروف گلوکارہ ناہید اختر ملتان میں تھیں تو کوئی نہ پوچھتا تھا مگر ناہید اختر جب لاہور ، اسلام آباد گئیں اور اس کی شادی میڈیا کی ایک نامور شخصیت سے ہوئی تو سابق وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف نے ناہید اختر کو علاج کیلئے ایک کروڑ روپے کا چیک بھجوایا، کیا آنے والی حکومت اس طرح کے امتیازی سلوک کا خاتمہ کر پائے گی ؟ یہ ایک سوال ہے۔ استاد سجاد رسول کا تعلق شیدانی شریف ضلع رحیم یارخان سے تھا۔ 1946ء میں محمد بخش کھوکھر کے گھر پیدا ہوئے ۔ موسیقی ان کا خاندانی پیشہ نہ تھا۔ موسیقی میں آنے کا سبب عالمی شہرت یافتہ گلوکار مہدی حسن تھے۔ استاد سجاد رسول بتاتے تھے کہ ہمارا قصبہ شیدانی شریف روحانی و ثقافتی مرکز ہے ۔ بزرگوں کے عرس اور مختلف تقریبات سال بھر ہوتی رہتی ہیں‘ ملک کے نامور قوال اور کافی گائیک وہاں آتے ہیں ۔ قیام پاکستان کے چند سال بعد ایک نوجوان آئے ، اپنا تعارف کرایا کہ میرا نام مہدی حسن ہے ، میاں چنوں سے آیا ہوں ، کار مکینک ہوں ، ڈرائیوری بھی کر لیتا ہوں ، اس نے مزید بتایا کہ تقسیم کے وقت ہمارے بزرگ راجھستان سے آئے ، ہمارا گھرانہ موسیقی کا گھرانہ ہے۔ شیدانی کے خواجہ بگن میاں کوریجہ نے کہا کچھ سناؤ۔ مہدی حسن نے غزل سنائی ۔ ان کو بہت پسند آئی اور ان کو ڈرائیور رکھ لیا ۔ا ستاد سجاد رسول بتاتے ہیں کہ اس دوران میرے بڑے بھائی غلام حسین سے ان کی دوستی ہو گئی ۔ استاد مہدی حسن کراچی چلے گئے ۔ کچھ عرصہ بعد ریڈیو پاکستان لاہور سے فیض احمد فیض کی غزل ’’ گلوں میں رنگ بھرے ‘‘ گائی تو دنیا میں دھوم مچ گئی۔ استاد سجاد رسول نے بتایا کہ مجھے موسیقی سے رغبت بچپن سے تھی ۔ غزل سننے کے بعد مہدی صاحب کا دیوانہ ہو گیا۔ میرا بھائی مجھے مہدی حسن کی شاگردی میں دے آیا ،وہ بتاتے ہیں کہ میں نے 30 سال وہاں ریاض کیا ۔ مہدی حسن صاحب نے مجھے شاگرد اور بیٹا بنایا اور کراچی میں مکان بھی لیکر دیا ۔ ہمارا سارا گھرانہ غربت اور بے روزگاری کی وجہ سے کراچی آ گیا اور وہیں کا ہو کر رہ گیا۔ استاد سجاد رسول عمر کے آخری حصے میں قریباً نو دس سال ہمارے ساتھ جھوک میں رہے ۔ ان کے پاس لتا منگیشکر، میڈم نور جہاں ، محمد رفیع اور اس طرح بر صغیر کے معروف گلوکاروں کی یادیں تھیں کہ وہ ہر وقت مہدی حسن کے ساتھ ہوتے ۔ جن جن شخصیات سے مہدی حسن ملتے ، استاد سجاد بھی ساتھ ہوتے۔ اس حوالے سے ان کے پاس یادوں کا خزانہ تھا۔ 1970ء میں ملتان میں ریڈیو شروع ہوا تو اس میں استاد سجاد رسول نے ابتدائی خدمات سر انجام دیں جو کہ وفات تک جاری رہیں ۔ اس طرح ریڈیو بہاولپور اور ریڈیو کراچی پر بھی انہوں نے کام کیا ۔ ملتان میں ٹیلیویژن شروع ہوا تو پی ٹی وی ملتان کی جنرل منیجر محترمہ راحت ملتانیکر نے ان کو میوزک ڈائریکٹر کا عہدہ دیا اور ان کی بہت خدمت بھی ، جسے استاد سجاد رسول نے ہمیشہ یاد رکھا ۔استاد سجاد رسول اپنے استاد کی طرح دھیمے لہجے کے گائیک تھے ، میٹھے سروں میں گاتے ۔ موسیقی کو بہت جانتے تھے ۔ کافی گائیکی میں ان کو کمال مہارت حاصل تھی، عارفانہ کلام نہایت عقیدت اور محبت سے گاتے ۔ وہ بذات خود نہایت اچھے انسان تھے ، کوئی اگر مجھ سے پوچھے کہ سرائیکی وسیب کے لوگ کیسے ہوتے ہیں تو میں استاد سجاد رسول کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہوں کہ ایسے ۔ وہ سب سے محبت کرنے والے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ مورخہ 13 اگست 2018ء کو ان کی وفات کی اطلاع پورے وسیب کو سوگوار کر گئی۔ان کی وفات سے زیادہ افسوس اس کا ہے کہ ملکہ ترنم نور جہاں کی طرح ان کی تدفین بھی کراچی میں ہوئی ۔ملکہ ترنم نور جہاں کی تدفین قصور یا لاہور میں اور استاد سجاد رسول کی تدفین ان کی آبائی بستی شیدانی میں ہونی چاہئے تھی۔ یہ ٹھیک ہے کہ وسیب کے ہیروز کو دینے کیلئے ہمارے پاس کچھ نہیں البتہ ان کو یاد ضرور کرتے ہیں ۔ اس سلسلے میں ہم نے معروف سرائیکی دانشور پروفیسر شمیم عارف قریشی ، معروف سرائیکی شاعر قیس فریدی اور معروف گلوکار و موسیقار استاد سجاد رسول کی وفات پر مشترکہ تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا ۔ تقریب کی صدارت پروفیسر شوکت مغل نے کی ۔ مہمانِ خصوصی پروفیسر اکرم میرانی اور پروفیسر ڈاکٹر مقبول گیلانی تھے جبکہ تقریب کے میزبانی کے فرائض(راقم ) ظہور دھریجہ نے سر انجام دیئے ، سٹیج سیکرٹری باسط بھٹی تھے ۔ تقریب سے سابق ڈائریکٹر جنرل پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن خورشید ملک ، اسٹیشن ڈائریکٹر آصف خان کھیتران ، پی ٹی وی ملتان کی سابق جنرل منیجر محترمہ راحت ملتانیکر ، پیپلز پارٹی کے رہنما نفیس انصاری ، عبداللطیف بھٹی ، حاجی احمد نواز سومرو ، ملک جاوید چنڑ ، پروفیسر پرویز قادر ، پروفیسر ڈاکٹر مظہر عباس ، شعیب بلوچ، محمود مہے نے خطاب کیا ۔ جبکہ سرائیکی شعراء اجمل خاموش، حاجی بشیر ملتانی ، صابر لنگاہ، ظفر مسکین ،عرفان حاشر ، عمران ظامی ، مرید حسین مرید لنگاہ ، میر خاور نائچ نے منظوم نذرانہ عقیدت پیش کیا ۔ تقریب کے اختتام پر سرائیکی گلوکارہ نسیم سیمی ، ثوبیہ ملک، مقبول کھرل نے مرحومین کے گیت سنائے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما نفیس انصاری نے کہا کہ مرحومین ہمارے وسیب کا سرمایہ تھے اور انہوں نے سرائیکی صوبے کیلئے بہت کام کیا ۔لیجنڈ آف سرائیکی میوزک محترمہ ثریا ملتانیکر کی صاحبزادی پروفیسر راحت ملتانیکر نے کہا کہ استاد سجاد رسول نامور گلوکار اور عظیم موسیقار ہونے کے ساتھ ساتھ بہت اچھے انسان بھی تھے ۔ موسیقی کے حوالے سے انہوں نے قدم قدم پر میری رہنمائی کی ۔ ایسے انسان روز روز نہیں صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں ۔پروفیسر شوکت مغل نے کہا کہ قیس فریدی اور استاد سجاد رسول کا اپیلوں کے باوجود سرکاری خرچ پر علاج نہ کرایا گیا ۔ وہ سسک سسک کر مر گئے مگر اپنی انا اور خوداری کو برقرار رکھا ۔ پروفیسر شمیم عارف قریشی کو بھی ریٹائرمنٹ سے قبل انتقامی کاروائیوں کا نشانہ بنایا گیا مگر شمیم عارف قریشی نے انتقامی کاروائیوں کا استقامت سے مقابلہ کیا ۔ اس موقع پر جذباتی مناظر بھی دیکھنے میں آئے اور بہت سے مقررین شدت غم سے بات نہ کر سکے ۔ تقریب کے میزبان راقم ظہور دھریجہ نے کہا کہ موت بر حق ہے ۔افسوس تینوں اکابرین کی وفات کا نہیں ، افسوس اس بات ہے کہ وہ سرائیکی صوبہ اپنی زندگی میں نہ دیکھ سکے ۔ نہ جانے سرائیکی تحریک کے کتنے لوگ ہیں جو ایک ایک کر کے سرائیکی صوبے کی جدوجہد کرتے کرتے قبروں میں جا سوئے اور سرائیکی صوبہ ان کی حسرت رہا ۔لیکن اب ہمیں رونا دھوناچھوڑنا ہوگا اور غم کو طاقت بنا کر سرائیکی صوبہ حاصل ہوگا اور فضول امیدیں آسرے ختم کرنا ہونگے کہ کوئی پلیٹ میں رکھ کر ہم کو صوبہ پیش نہیں کرے گا ۔آج ہم جن شخصیات کی یاد منا رہے ہیں ، انہوںنے جدوجہد کا درس دیا ۔ یہ ٹھیک ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور نامزد وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار کا تعلق سرائیکی خطے سے ہے مگر صرف تعلق ہونا بڑی بات نہیں ۔ اصل با یہ ہے کہ وہ کتنا کام کرتے ہیں ، ان کے دل میں اپنی دھرتی ، اپنی مٹی اور اپنے وسیب سے کتنی محبت ہے ؟ خطے سے تعلق رکھنے والے جاگیردار ہمیشہ برسر اقتدار رہے مگر انہوں نے وسیب کیلئے کوئی کام نہ کیا ۔ الٹا وسیب کو ملامت ملی ۔ اگر یہ بھی انہی کے نقش پر ہونگے تو ملامت میں ایک عدد اور بڑھ جائے گا ۔ میں کہتا ہوں کہ وزیراعظم یا وزیراعلیٰ وسیب کو نہ دیا جائے البتہ صوبہ دیا جائے تاکہ ہمارا شمیم عارف قرشی یاانتقامی کاروائی کا نشانہ نہ بنے اور ہمارے وسیب کے عظیم شاعر قیس فریدی اور عظیم گلوکار سجاد رسول بغیر علاج کرائے سسک سسک کر نہ مر جائیں ۔
(بشکریہ: روزنامہ 92نیوز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker