سرائیکی وسیبظہور احمد دھریجہعلاقائی رنگلکھاری

جتھاں طارق دڑکے نہ ہوون ، اوہا مسجد گول نماز پڑھوں ۔۔ ظہور دھریجہ

سرائیکی شاعری کے عہد کا خاتمہ ہوا، سرائیکی زبان کے عظیم شاعر سئیں احمد خان طارق آج( مورخہ 10 فروری 2017ء) اللہ کو پیارے ہو گئے۔ احمد خان طارق ایک عرصہ سے بیمار تھے، ان کے علاج کے لئے حکومت کو درخواستیں بھی بھیجی گئیں ، اخبارات میں مضامین لکھے گئے، سرائیکی کے مختلف اجلاسوں میں علاج کی اپیلیں ہوئیں، حکومتی توجہ کے لئے قراردادیں بھی پاس ہوئیں مگر حکومت نے کوئی توجہ نہ کی۔ یہ ٹھیک ہے کہ سئیں احمد خان طارق اپنی ساری حیاتی ہر طرح کی سرکاری سرپرستی سے بے نیاز رہے، انہوں نے کبھی اپنی مدد کے لئے کوئی اپیل یا بات نہ کی، ان کے صاحبزادے سئیں شبیر ناز نے بھی اس بات پر ناراضگی کا اظہار کیا کہ سئیں احمد خان طارق کے لئے اپیلیں کی جائیں ، ان کا کہنا یہ تھا کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے سب کچھ دیا ہے، ہم سئیں کا علاج کروا رہے ہیں اور کرواتے رہیں گے۔ مگر سئیں احمد خان طارق سرائیکی کے قومی شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے شہری بھی تھے، ہر شہری کا علاج حکومت اور سٹیٹ کی ذمہ داری ہوتی ہے ، ہم پوچھتے ہیں کہ حکومت نے یہ ذمہ داری کیوں نہ نبھائی؟ کیا سرائیکی وسیب کے لوگ پاکستانی نہیں؟ کیا سرائیکی وسیب کے لوگ ٹیکس نہیں دیتے؟ ہم آج اس عظیم سانحے پر نہایت دکھ اور افسوس کے ساتھ پوچھتے ہیں کہ سرائیکی وسیب سے سوتیلی ماں جیسا سلوک کب تک ہو گا؟ دکھ کی اس گھڑی پر میں عظیم سرائیکی قوم کے ہر شخص سے ارداس کرتا ہوں کہ سئیں احمد خان طارق کے درجات کی بلندی کے لئے دعا کریں اور ان کے پیغام کو ہر جگہ عام کریں۔
سندھ کنارے بستی شاہ صدر دین میں 1924ء کو بخش خان کے گھر پیدا ہونے والے عظیم شاعر سئیں احمد خان طارق نے 1945ء میں شاعری شروع کی اور اپنا استاد سئیں نور محمد سائل کو بنایا ۔ سئیں احمد خان طارق نے آخری وقت تک بہت مضبوط اور خوبصورت شاعری کی ۔ عموماً نوجوان شاعر پرانی باتیں کرتے ہیں لیکن ہمارے اس درویش صفت اور قلندر مزاج شاعر نے حوصلے اور ہمت والی باتیں کی ، وہ آخری وقت تک ہر وسیبی کو اپنے ہونے کا شعور دیتے رہے ۔ ان کی تصانیف میں گھروں در تانڑے ، طارق دے ڈوہڑے ، متاں مال ولے ، میکوں سی لگدے ، ہتھ جوڑی جُل، بیٹ دی خوشبو ، عمراں دا پورہیا ، سسی ، میں کیا آکھاں شامل ہیں ۔
کسی بھی خطے کی ادبی اور ثقافتی پہچان اس کی شاعری ہوتی ہے، روز اول سے لے کر آج تک ساری دنیا میں شاعری کو بہت اہم مقام حاصل ہے ۔سچی بات ہے کہ شاعری تہذیب بھی ہے ، ثقافت بھی اور تاریخ بھی ۔ اس وجہ سے شاعر کو مؤرخ اور شاعری کو تاریخ کہا جاتا ہے، سرائیکی شاعری کی تاریخ صدیوں پرانی نہیں بلکہ ہزاروں سال پرانی ہے ، سرائیکی دھرتی نے بڑے بڑے شاعر پیدا کئے ، ان میں ایک بڑا نام احمد خان طارق بھی ہے ۔ سئیں احمد خان طارق کی شاعری سرائیکی وسیب کے لوگوں سے بات چیت ، میل ملاپ کی سچی پہچان ہے ۔ میں تو کہوں گا کہ صرف ان کی شاعری نہیں ، وہ خود بھی سرائیکی کی طرح میٹھے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ وسیب سے شاعری کے ساتھ ساتھ ان کو ذاتی طور پر بھی لوگ بہت زیادہ چاہتے تھے ۔ سرائیکی زبان کے لفظ شہد کی طرح میٹھے ہیں، اس میں محبت اور درد مندی ہے ، اس میں عاجزی انکساری ہے ، اس میں لذت ہے ، اس کے لفظ کپاس کی طرح نرم ہیں ۔ یہ ہمارا دعویٰ ہے اگر کوئی ایسے دعوے کی دلیل مانگے تو پھر ہم احمد خان طارق کی شاعری دلیل اور ثبوت کے طور پر پیش کر سکتے ہیں ۔
اگر کہیں شاعروں کی محفل میں جانے کا اتفاق ہو تو شاعر حضرات کے منہ سے صرف شاعری ہی نہیں ، دوسری بھی بہت سی باتیں سننے کو ملتی ہیں ۔ ادب کے حوالے سے اگر بات ہو جائے تو فرید اور ثانی فرید کا ذکر ہوتا ہے اور یہ بحث بھی ہوتی ہے کہ احمد خان طارق صرف ڈوہڑے کے شاعر ہیں اور اس کی شاعری بیٹ بیلے سے باہر نہیں نکلتی ۔ جو لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں ، ان کی باتیں طارق یا فرید کی بات نہیں ہوتیں بس ان کے اندر اپنے روگ ہوتے ہیں جو بھر بھر کر باہر نکلتے رہ جاتے ہیں ۔ پھر یہ بھی دیکھیں کہ اس ساری کہانی میں احمد خان طارق کے منہ سے کوئی بات آج تک نہیں سنی ۔ وہ تو مٹا ہوا آدمی تھا اور اپنے آپ کو ثانی فرید کیا کہے گا ؟ اس کی انکساری دیکھیں تو حیران ہو جائیں۔ طارق سئیں اپنے آپ کو کیا سمجھتے ، یہ بات ان کے اپنے کلام میں ہر جگہ موجود ہے ۔ دو ڈوہڑے پیش کرتا ہوں ، ان کو دیکھ کر ساری بات سمجھ میں آ جائے گی اور ساتھ ہی یہ چیلنج بھی ہے کہ اگر کسی دوسری زبان کے پاس عاجزی اور اس سے بہتر شعری اظہار موجود ہو تو سامنے لے آئیں۔
میں انڑ پھر کوجھی کتڑی ہاں ، تیکوں سارے پھر میکوں سڈیا کر
میڈی دید دی تیڈی دید غذا ، ونجاں بکھ نہ مر میکوں سڈیا کر
اوڈوں ماڑ تیڈا ، ایڈوں گور میڈی در نال ہے در میکوں سڈیا کر
تیڈے طارق سڈ دی کو وچ ہاں ، بس توئے توئے کر میکوں سڈیا کر
…………
میں سئیں دے در دا کتڑا ہاں خود ذات ڈسینداں آ ویندے
اے بھولا بولی تھومل ہے ، سو تھوم کٹیندا آ ویندے
اینکوں مار تڑھا ول توئے توئے کر اے پُچھ لٹکیندا آ ویندے
اینکوں طارق ادب ادیب ڈسیے اے ادب سکھیندا آ ویندے
اگر ” آر پار “ کی بات آئے ‘ یہ مسائل بھی کچھ بندوں کے اپنے ہیں ۔ احمد خان ایسی باتوں کو پسند نہیں کرتے تھے ۔ کوئی اُدھر کا ہو یا اِدھر کا ، اچھے شعر اور اچھی شاعری کو داد دینے میں کبھی بخل سے کام نہیں لیتے تھے اور نئے لکھنے والے نوجوانوں کی دلجوئی تو اس طرح کرتے کہ ملنے سے پہلے دعائیہ کلمے ” سدا جیویں ، شالا خیر ہووی ، آباد تے شاد راہویں “ ان کے منہ سے نکلتے تھے ۔ میں کہہ رہا تھا کہ جو لوگ ” آر پار “ کی باتیں کرتے ہیں وہ اپنی سوچ کو بڑا کریں ، اپنے وسیب میں اپنے ہاتھوں سے نکھیڑے پیدا نہ کریں ، اگر کرنی ہے تو دریا تو کیا ” سات سمندر پار “ کی بات کریں ، ہمیں کوئیں کا مینڈک بننے کی بجائے اپنی سوچ ، اپنی فکر کو سارے جہان تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔ اگر سرائیکی ڈوہڑے کی بات آئے تو یہ اعزاز سئیں احمد خان طارق کو ملا کہ انہوں نے سرائیکی کی خالص صنف کو شان اور وقار بخشا ، اپنی چیز اپنی ہوتی ہے ، دوسری چیز کو جتنا اپنا بناؤ ، نہیں بنتی ۔
یہ بات میرے تجربے میں آئی ہے کہ ادب کی دنیا میں لوگ خواجہ فرید کو خواجہ فرید اور احمد خان طارق کو احمد خان طارق سمجھتے ہیں ۔ یہ کچھ لوگوں کے مسائل ہیں ، مسئلہ بنانے والوں کے خود اپنے مسائل ہوتے ہیں ۔ میں کہتا ہوں کہ جو مسئلہ بنانے والے ختم ہو جائیں گے پر خواجہ فرید اور احمد خان طارق ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتے ۔کیا یہ سچ نہیں کہ احمد خان طارق خواجہ فرید کے سامنے اپنی نیاز پیش کر کے اپنے بڑے ہونے کا ثبوت دیا ؟ دوسری طرف خواجہ فرید بھی جاگیردار مزاج شاعر یا تنگ دل مُلاں نہ تھا کہ اس نے کبھی کہا ہو کہ مجھ جیسا کوئی نہیں ہو سکتا ۔ اچھی شاعری نبوت نہیں کہ ختم ہو گئی ہو، اچھا شعر کوئی بھی کسی بھی وقت کہہ سکتا ہے ، جو لوگ ” حد “ لگاتے ہیں وہ جہالت اور ملائیت کا شکار ہیں ۔ ایسے لوگوں کے بارے میں ہی تو خواجہ سئیں نے فرمایا تھا کہ ” مُلاں نہیں کہیں کار دے “ ۔ سئیں احمد خان طارق کا ڈوہڑہ ” میڈا پیر فرید آ پُھل لکھ ڈے “ خواجہ فرید کے حضور بہت بڑا نذرانہ ہے ۔ پر یہ بات یہیں پر ختم نہیں ہو جاتی ، ایک قطعہ دیکھیں ۔
گُھنڈ وچ ہے سئیں گھوٹ مٹھن دا
میڈا ووٹ اے ، ووٹ مٹھن دا
طارق ڈوہیں مِٹھڑے لگدن
جھوک مٹھن دی ، کوٹ مٹھن دا
دنیا کے ہر شاعر مذہبی تنگ نظری اور فرقہ پرست مُلاں کے خلاف بات کی ہے، صوفی شاعر بابا بلھے شاہ سئیں ، سچل سرمست سئیں ، اس طرح سئیں احمد خان طارق نے بھی اس موضوع پر بات کی ۔ میں نے جن بزرگ شاعروں کے نام لئے ہیں ان کے کلام میں ملائیت بارے جو بات کی ہے وہ سو فیصد سچ ہے پر بات کرنے کی دھر کچھ سخت ہے ۔مگر مذہبی تنگ نظری اور فرقہ واریت بارے سئیں احمد خان طارق نے جو بات کی ہے ، مطلب بالکل وہی ہے ، پر بات میں فکری گہرائی اور فنی گیرائی بہت زیادہ ہے اور اس میں کڑواہٹ رتی بھر نہیں ،آپ فرماتے ہیں :۔
اساں کلہیاں پڑھ پڑھ انج رہ گے ، جُل کہیں دے کول نماز پڑھوں
ہتھ بدھ بھانویں ہتھ کھول پڑھوں ، اے پھول نہ پھول نماز پڑھوں
ہتھ تسبیح مسجد رقص کروں ، پا گل وچ دول نماز پڑھوں
جتھاں طارق دڑکے نہ ہوون ، اوہا مسجد گول نماز پڑھوں
سندھو سئیں کا پانی شربت ہے ، ماں دھرتی سے محبت کرنے والے درد مند وں نے اس کو اپنے لئے ہمیشہ اکسیر سمجھا، سرائیکی شاعری سندھ دریا کی محبت سے بھری ہوئی ہے ۔ سندھو سئیں سے محبت سرائیکی وسیب کے لوگ اس لئے کرتے ہیں کہ ازل سے سندھ دریا ان کا جگر گوشہ ہے ۔ وسیب کے لوگ اپنے دریاؤں کی مٹی حتیٰ کہ جڑی بوٹیوں سے بھی پیار کرتے ہیں ۔ یہ بات سرائیکی شاعری میں ہر جگہ ملتی ہے ، شاعر اور وسیب کے لوگ سندھ دریا سے پیار کیوں نہ کریں ۔ وہ تو سندھ تہذیب کے ازل سے وارث ہیں ، ایک علمی مغالطے کی وضاحت دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ سرائیکی میں دریا کا معنی سندھ ہے ، خواجہ فرید سئیں نے اپنے دیوان میں اس لفظ کو اس معنی میں کئی دفعہ استعمال کیا ۔ مثال کے طور پر
جے تئیں پلہر پانی نہ کھٹسی
کون بھلا سندھ جلے
تاریخ میں سرائیکی وسیب کو سپت سندھو یعنی سات دریاؤں کی سر زمین بھی کہا گیا ہے ۔ اگر کوئی کہے کہ سندھ کے مالک صرف صوبہ پختونخواہ، یا سندھ کے ہیں تو یہ بات سو فیصد غلط ہے ، سندھ دریا کی ملکیت کے دعووں سے ہٹ کر میں اپنی بات ختم کرتا ہوں کہ دریاؤں کا نام سرائیکی وسیب اور سرائیکی وسیب کا قدیم نام وادی سندھ ہے ۔ سندھ کو سرائیکی وسیب سے سرائیکی وسیب کو سندھ سے جدا نہیں کیا جا سکتا ۔ اس کے کنارے رہنے والے اور اس کا پانی پینے والے سندھ کی طرح بڑی سوچ اور بڑے فکر کے مالک ہوتے ہیں ۔ سئیں احمد خان طارق نے اپنی شاعری کے ذریعے ہمیشہ مظلوم طبقے کی بات کی ۔ انہوں نے ادب کو اشتہار نہ بنایا پر انہوں نے چڑیا کو مثال بنا کر وسیب کے کمزور اور مظلوم لوگوں کو بہت بڑا پیغام دیا ، یہی پیغام دراصل اپنے وسیب اور اپنے لوگوں کیلئے ہے ۔
چڑیاں اٹھو کوئی دھاں کرو
چپ نہ کرو چپ نہ کرو
ہتھ وچ جے کوئی ہتھیار نی
چیں چیں کرو چاں چاں کرو

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker