سرائیکی وسیبظہور احمد دھریجہکالملکھاری

نقیب اللہ کے ساتھ قتل ہونے والے دو سرائیکیوں کا خون ناحق ۔۔ ظہور دھریجہ

ایس ایس پی ملیر راﺅ انوار کے خلاف نقیب اللہ قتل کیس کا مقدمہ درج کیا گیا ہے اور سپریم کورٹ کے حکم پر ان کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جارہے ہیں ، اس واقعے کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ نقیب اللہ کے ساتھ فرضی پولیس مقابلے میں قتل کئے گئے محمد اسحاق لانگ اور محمد صابر لانگ کے قتل کا مقدمہ درج نہیں کیا گیا اُن کا قصور یہ ہے کہ وہ سرائیکی تھے ۔ ان دونوں مقتولین کا تعلق اُچ شریف کے موضع حیدر لانگ گرواں سے تھا ۔ محمد اسحاق مقامی مدرسے کے مہتمم اور محمد صابر لانگ معظم تھے کہا جاتا ہے کہ ان کی برادری میں ذاتی مخالفت تھی اسی مخالفت کی بناءپر برادری کے ایک سرکاری اہلکار نے غلط اطلاعات دے کر ان کو کچھ عرصہ پہلے اُٹھوا لیا پھر کچھ پتہ نہ چلا کہ وہ کہاں ہیں ۔محمد اسحاق لانگ اور محمد صابر لانگ کا پتہ اُس وقت چلا جب وہ میتوں کی شکل میں واپس آئے مگر افسوس اس بات کا ہے کہ اتنے اندوہناک واقعے پر سب خاموش ہیں ، ان کے گاﺅں کے لوگ بھی سوئے ہوئے ہیں وہاں کے ارکان اسمبلی نے بھی ہونٹ سی لئے ہیں ظلم نہیں تو کیا ہے ؟
نقب اللہ محسود کی شہادت کا بہت صدمہ ہے وہ بھی ہمارا بیٹا تھا اُسے نا حق قتل کیا گیا اس قتل کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔نقیب اللہ ایک ثقافتی نوجوان تھا سوشل میڈیا پر اُس کی تصویریں آئی ہوئی ہیں وہ اپنے ایک ساتھی کے ساتھ خوبصورت پشتو ڈانس کر رہا ہے ۔یقینا اُس کی بہت سی خوبیاں ہو ں گی اور یہ بھی حقیقت ہے کہ کوئی بھی ثقافتی شخص دہشت گرد نہیں ہو سکتا یقین کیجئے اُس کے قتل کا ہمیں بھی اپنے بچوں کی طرح صدمہ ہے لیکن محمد اسحاق لانگ اورمحمد صابر لانگ بھی خوبصورت نوجوان تھے ان کے علاقے کے لوگ بتاتے ہیں کہ وہ خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ شریف النفس بھی تھے علم کے فروغ کے لئے ان کی خدمات تھیں ہم دیکھتے ہیں کہ نقیب اللہ محسود کے قتل پر جماعت اسلامی کے سربراہ سینیٹر سراج الحق احتجاجی اجتماع میں شریک ہوتے ہیں تحریک انصاف کے عمران خان جرگے میں شریک ہوتے ہیں کوئی ایسی پشتون جماعت نہیں جو اس احتجاجی عمل میں شریک نہ ہو ۔کراچی کے پشتونوں نے بھی دھرنے دئیے ہوئے ہیں اگر خاموشی ہے تو سرائیکی نوجوانوں کے قتل پر وہ جس علاقے میں رہتے ہیں اس علاقے کے ایم این اے علی حسن گیلانی ہیں ایم پی اے ملک خالد وارن ہیں اس یونین کے چیئرمین غالباً ملک قادر بخش وارن ہیں ایک سے ایک بڑے نام ہیں لیکن یہ سب خاموش ہیں سب کو سانپ سونگھ گیا ہے اور تو اور علماءکرام بھی خاموش ہیں سوال یہ ہے کہ اس ظلم کا حساب کون دے گا ؟
سپریم کورٹ نے بھی نقیب اللہ محسود کے قاتل راﺅ انوار کی فوری گرفتاری کے لئے ڈیڈ لائن دی ہے ۔ ہمارا سپریم کورٹ سے مطالبہ ہے کہ وہ از خود نوٹس لے کر دو سرائیکی نوجوانوں محمد اسحاق لانگ اور محمد صابر لانگ کے قتل کا بھی مقدمہ درج کرائے ۔ہماری چیف آف آرمی سٹاف سے بھی اپیل ہے کہ وہ اس واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائیں اور ہم نے دیکھا کہ سرائیکی وسیب میں پہلے بھی ماورائے عدالت بہت سے قتل ہو چکے ہیں کہا جاتا ہے کہ رحیم یار خان کے سابق ڈی پی او کے دور میں سینکڑوں لوگ قتل کئے گئے اور ہزاروں لوگوں کو ماورائے عدالت پار کرنے کا خوف دے کر کروڑوں اربوں روپے پولیس نے لوٹے ۔ مگر ماسوائے جمشید دستی آج تک کسی نے ماورائے عدالت ”قتلام“کے خلاف آواز بلند نہیں کی ۔اسی طرح بلوچستان سے لاشیں یا کراچی سے بوری بند لاشیں سرائیکی وسیب کے لوگ خاموش ہیں ۔دراصل مر وہ نہیں گئے جن کو قتل کر دیا گیا بلکہ اُس وسیب کے لوگ مردہ لوگوں میں شمار ہوتے ہیں جن کی حیثیت چلتی پھرتی لاشوں کے سوائے کچھ نہیں ہوتی ۔سوال یہ ہے کہ وسیب کے لوگ کب تک خاموش رہیں گے کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور قیامت آئے گی ۔
ہماری وزیر اعظم خاقان عباسی ،وزیر اعلیٰ سندھ عبد اللہ شاہ ،وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے ساتھ صوبائی وزیر محترمہ نغمہ مشتاق لانگ سے بھی درخواست ہے کہ وہ اس واقعے کا فوری نوٹس لیں اسی طرح کراچی کے سکیورٹی فورسز اداروں کے ساتھ ساتھ کراچی میں کام کرنے والی سرائیکی جماعتوں اور سرائیکی رہنماﺅں سے بھی درخواست ہے کہ وہ اس واقعے کا فوری نوٹس لیں اور جس طرح کراچی میں ہمارے پشتون بھائیوں نے دھرنے دئیے ہوئے ہیں ان دھرنوں میں سرائیکی وسیب کے لوگ بھی شریک ہوں اور اُس وقت تک اپنا احتجاج جاری رکھیں جب تک قاتل کیف کردار تک نہیں پہنچ جاتے۔ہماری علماءکرام سے بھی گذارش ہے کہ وہ اس مسئلے پر خاموشی اختیار نہ کریں اور پشتون نوجوان نقیب اللہ کے ساتھ سرائیکی نوجوانوں کے قتل کی ایف آئی آر بھی درج کرائیں اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو سمجھا جائے گا کہ سرائیکی وسیب کے لوگوں کو انسان نہیں سمجھا جاتا اور اُن سے قدم قدم پر غیر منصفانہ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے ۔سرائیکستان قومی کونسل کی طرف سے ہم نے اپنے اتحادی فورم سرائیکستان عوامی اتحاد کی قیادت سے رابطے کا فیصلہ کیا ہے اور ہم اس ظلم کے خلاف اُس وقت تک آواز بلند کرتے رہیں گے جب تک ہماری سانسوں میں آخری سانس باقی ہے ۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker