یہ لوگ تب کہاں ہوتے جب بلوچستان سے مسخ شدہ لاشیں ملتیں ہیں، جب پشتونوں پر زبردستی دہشتگردی مسلط کرکے بعد میں ان کا بیجا خون بھایا جاتا، تب یہ کہاں ہوتے ہیں جب سندھ سے سیاسی سوشل کارکنوں کو لاپتہ کیا جاتا ، یہ لوگ کہاں چھپے ہوتے جب پنجاب سے سوشل ایکٹوسٹ اٹھائے جاتے، جب ساہیوال جیسے واقعے ہوتے ہیں ، یہ لوگ تب سوال کیوں نہیں کرتے ،آواز کیوں نہیں اٹھاتے جب ہماری معصوم پھول جیسے 150 بچے ہمارے چوکیدار کی موجودگی میں بیدردی سے قتل ہوجاتے ہیں ۔ لیکن ان کا ایمان ایک مخصوص وقت میں ہی کیوں جاگتا ہے، جب کسی پر توہیں مذہب کا الزام لگتا ، جب کسی غیرمسلم کی کم عمر بچی زبردستی مسلم بنا کر بیہائی جانی ہو ، ان کا سرٹیفکیٹ دینے والا ایمان تب ہی کیوں جاگتا جب کسی سلمان تاثیر ،مشال خان کا سچ انسانیت کا درس دیتا ہے ، آپ کو بتاتی چلوں احتیاط سے چلیں ان کا ایمان آج کل جاگا ہوا ہے یہ زومبیز کی طرح روڈوں پر مارے مارے پھر رہے ہیں صرف ایک عورت کو شکار کرنے کے لئے کیونکہ ان زمینی خداؤں نے آسیہ کو گستاخی کا مرتکب مان لیا ہے اب چاہے ان کی بات جھوٹ ہی ثابت ہو، آسمانی خدا آسیہ کی بےگناہی کی گواہی دیدے تب بھی ان زمینی خداؤں کی طرف سے فتوا کا فیصلہ ہی اٹل ہوگا۔
جمعہ, اپریل 24, 2026
تازہ خبریں:
- عمران خان کے ساتھ ناانصافی، سیاسی اعتماد کیسے بحال ہو گا ؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- بلوچستان کے ضلع چاغی میں مائننگ کمپنی کی سائٹ پر حملہ، نو افراد ہلاک
- اسلام آباد کی کرفیو جیسی صورتِ حال میں ’’ خیر کی خبر ‘‘ نصرت جاوید کا کالم
- ایران کے لیے محدود ہوتے مواقع : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ارشاد بھٹی معافی مانگ لی : میں لالی ووڈ کوئین ہوں ، معاف کیا : اداکارہ میرا
- ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور شہباز شریف کی درخواست پر جنگ بندی میں توسیع کر دی
- بشیر ساربان ، جانسن اور باقرخانیوں کی کہانی : نصرت جاوید کا کالم
- امن مذاکرات میں افسوس ناک تعطل : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- جنم ، قلم اور اظہار الم : غلام دستگیر چوہان کی یاد نگاری
- اسلام آباد میں مذاکرات کی تیاریاں اور غیر یقینی صورتِ حال : جے ڈی وینس آج پاکستان روانہ ہوں گے

