Browsing: مزاح

ہمارے قدموں کی چاپ یا گفتگو کا شور شرابہ نہ پہنچ جائے، اس لیے پورے شہر کو حکم ہے کہ سر پر جوتے اور ہونٹوں پر انگلی رکھ کر چلا جائے ۔اتنا کہہ کر وہ بڑے تفاخر سے میری طرف دیکھ کے بولا۔ آفٹر آل ایسے موقع پر شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ موقع ملے کدی کدی ۔

مجھے تو ڈر ہے کہ کل کلاں کو اگر مریخ پر بھی کوئی خلائی جھڑپ ہوئی۔ تو حاجی صاحب یہاں زمین پر بیٹھے بیٹھے مٹی کے تیل پر "خلائی ٹیکس” لگا دیں گے۔ اور بڑی معصومیت سے دلیل دیتے ہوئے کہیں گے کہ کیا کریں مجبوری ہے کہ جنگ کی وجہ سے سپلائی لائن بری طرح متاثر ہو گئی ہے۔ اتنا کہنے کے بعدملا ہُد ہُد نے آخری دفعہ اپنی مختصر مگر جامع ڈاڑھی سمیٹی اور با آواز بلند کہنے لگے۔ سچ تو یہ ہے کہ جنگ چاہے تہران میں ہو یا واشنگٹن میں۔ ایٹم بم ہمیشہ غریب آدمی کے کچن اور جیب میں ہی پھٹتا ہے۔