دنیا ہمیشہ بدلتی رہی ہے۔ کبھی پہیہ ایجاد ہوا تو انسان نے فاصلے سمیٹ لیے، کبھی بجلی آئی تو راتوں میں روشنی اتر آئی، پھر کمپیوٹر نے حساب کتاب کے انداز بدل دیے، انٹرنیٹ نے دنیا کو ایک عالمی گاؤں بنا دیا، اور اب مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) نے انسانی زندگی کے ایک نئے باب کا آغاز کر دیا ہے۔
آج AI ہمارے موبائل فون میں ہے، اسپتالوں میں ہے، بینکوں میں ہے، عدالتوں میں ہے، صنعتوں میں ہے، میڈیا میں ہے، حتیٰ کہ تعلیمی اداروں تک پہنچ چکی ہے۔ بظاہر یہ سہولت، رفتار اور ترقی کی علامت دکھائی دیتی ہے، مگر دل میں ایک سوال بھی جنم لیتا ہے: کیا یہی مصنوعی ذہانت ایک دن انسان کے لیے خطرہ بن سکتی ہے؟
یہ سوال اب فلمی کہانی نہیں رہا۔ دنیا کے بڑے سائنس دان، ماہرین معیشت، اساتذہ، حکومتیں اور دفاعی ادارے اس پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ ہر طاقت اگر غلط ہاتھوں میں چلی جائے تو فائدے سے زیادہ نقصان دیتی ہے۔
اگر مثبت پہلو دیکھا جائے تو AI نے زندگی آسان بنا دی ہے۔ آج ایک عام آدمی موبائل پر راستہ ڈھونڈ لیتا ہے، اپنی زبان کو دوسری زبان میں ترجمہ کر لیتا ہے، آواز سے پیغام لکھ لیتا ہے، چند لمحوں میں معلومات حاصل کر لیتا ہے۔ اسپتالوں میں بعض بیماریوں کی ابتدائی تشخیص تیز ہو رہی ہے، کاروبار میں اخراجات کم ہو رہے ہیں، کسان موسم کی تبدیلیوں سے پہلے خبردار ہو رہے ہیں، اور دفاتر میں گھنٹوں کا کام منٹوں میں مکمل ہو رہا ہے۔
عالمی ادارہ PwC کے مطابق 2030 تک مصنوعی ذہانت دنیا کی معیشت میں تقریباً 15.7 ٹریلین ڈالر کا اضافہ کر سکتی ہے۔ یہ معمولی بات نہیں۔ دنیا AI کو صرف سہولت نہیں بلکہ ایک معاشی انقلاب سمجھ رہی ہے۔
مگر ہر روشنی کے ساتھ ایک سایہ بھی ہوتا ہے۔ اصل خطرہ مصنوعی ذہانت نہیں، بلکہ وہ انسان ہے جو اسے استعمال کرتا ہے۔ اگر نیت درست ہو تو یہ نعمت ہے، اگر نیت خراب ہو تو یہی طاقت تباہی بن سکتی ہے۔
سوچیے، اگر کسی ملک کا بجلی کا نظام، بینکنگ نیٹ ورک، ٹریفک کنٹرول، اسپتالوں کا ریکارڈ یا دفاعی نظام AI پر چل رہا ہو، اور کسی ہیکر نے اس میں مداخلت کر دی، یا کسی غلط کمانڈ نے پورا نظام درہم برہم کر دیا، تو کیا ہوگا؟ چند منٹوں میں افراتفری پھیل سکتی ہے۔
سائبر سکیورٹی ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں سائبر جرائم سے مالی نقصان آنے والے برسوں میں 10 ٹریلین ڈالر سالانہ تک پہنچ سکتا ہے۔ اگر AI مجرموں کے ہاتھ لگ جائے تو فراڈ، شناختی چوری، ہیکنگ اور جھوٹے پروپیگنڈے کی رفتار کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔
آج کل سب سے بڑا خطرہ ڈیپ فیک کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ اب کسی شخص کی جعلی آواز، تصویر یا ویڈیو بنانا پہلے سے کہیں آسان ہو چکا ہے۔ حالیہ دنوں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک تصویر مین سٹریم میڈیا پر گردش کرتی رہی جس میں وہ اسلحہ اٹھائے دکھائی دیے۔ بعد میں خود ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ وہ تصویر مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی تھی۔جنگ کے ماحول میں ایسی تصویر کا میڈیا پر آنا کسی سوالیہ نشان سے کم نہیں اگر جوئی دشمن ایسی ویڈیو بنا کر چلا دے اور اس کے نتیجے میں کوئی واقعہ رونما ہو جائے تو اس کا ذ مہ دار کون ہو گا؟
یہ صرف ایک تصویر نہیں، ایک انتباہ ہے۔ اگر کسی عالمی رہنما، آرمی چیف، چیف جسٹس یا وزیراعظم کی جعلی ویڈیو جاری کر دی جائے کہ جنگ شروع ہو گئی ہے یا ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے، تو چند لمحوں میں عوامی خوف، سیاسی ہنگامہ، بازاروں میں بھگدڑ اور معاشی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
ہم اپنے خطے میں بھی اس خطرے کی جھلک دیکھ چکے ہیں۔ گزشتہ برس جنوبی ایشیا میں کشیدگی کے دوران بھارت کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایسی کئی ویڈیوز نشر کی گئیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان کے مختلف شہروں پر بمباری کی گئی ہے۔ بعد ازاں تحقیق سے معلوم ہوا کہ بعض ویڈیوز پرانے مناظر، ویڈیو گیم کلپس یا جعلی مواد تھیں۔ اس پر بھارت کو عالمی سطح پر سبکی اٹھانا پڑی۔
آخر میں حقیقت صرف اتنی ہے کہ مصنوعی ذہانت نہ دشمن ہے، نہ نجات دہندہ۔ یہ ایک طاقت ہے، اور طاقت ہمیشہ اپنے استعمال سے پہچانی جاتی ہے۔ اگر اسے انصاف، دیانت اور انسانیت کے ساتھ استعمال کیا گیا تو یہ دنیا بدل سکتی ہے۔ اگر اسے جھوٹ، لالچ، نفرت اور تباہی کے لیے استعمال کیا گیا تو نتائج خطرناک ہوں گے۔
یاد رکھنا چاہیے، مشین جواب دے سکتی ہے، مگر ضمیر، احساس، حکمت اور ذمہ داری آج بھی انسان کے پاس ہے۔
فیس بک کمینٹ

