لاہور : صوبائی دارالحکومت لاہور کی ایک مقامی عدالت نے مبینہ طور پر کالعدم شدت پسند تنظیم ’القاعدہ‘ میں لوگوں کو شمولیت کی دعوت دینے اور اس تنظیم سے متعلق لٹریچر رکھنے کے الزامات کے تحت گرفتار ہونے والے یوٹیوبر سعد بن ریاض کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
سعد بن ریاض کو پیر کی دوپہر انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں جج منظر علی گُل نے اس کیس کی سماعت کی۔
سماعت کے آغاز پر کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے نمائندوں نے عدالت سے استدعا کی ملزم سے تفتیش کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور اب انھیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا جائے۔ عدالت نے استدعا منظور کرتے ہوئے سعد بن ریاض کو جیل بھیجنے کے احکامات جاری کر دیے۔
سعد بن ریاض کو دو مئی کو کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے متعدد الزامات کے تحت گرفتار کیا تھا جبکہ اہلِخانہ نے سی ٹی ڈی کے دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اُن کے خلاف بعد از گرفتاری ایک بے بنیاد مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
سی ٹی ڈی کے مطابق سعد بن ریاض یوٹیوب چینل ایون نیوز سے منسلک ہیں۔ یہ ایف آئی آر سی ٹی ڈی ہی کی مدعیت میں درج کی گئی تھی۔
ایف آئی آر میں کیا کہا گیا؟
لاہور کے سی ٹی ڈی تھانے کے محرر تو قیر اسلم کی مدعیت میں درج ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ 27 اپریل کی صبح وہ سی ٹی ڈی کے دیگر اہلکاروں کے ہمراہ اشتہاری مجرمان کی تلاش میں لاہور کے جی پی او چوک پر موجود تھے جب انھیں مخبر نے اطلاع دی کہ مزنگ روڈ پر واقع مسجد حنفیہ غوثیہ میں کالعدم تنظیم القاعدہ کا ایک مبینہ رُکن موجود ہے جو لوگوں کو کالعدم تنظیم میں شامل ہونے کی دعوت دے رہے ہیں اور اُن میں ممنوعہ کتب بھی تقسیم کر رہا ہیں۔
ایف آئی آر میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ جب صبح کے اوقات میں مسجد پر ریڈ کی گئی تو وہاں سے گرفتار ہونے والے شخص نے اپنا نام سعد بن ریاض بتایا۔
ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ملزم کے قبضے برآمد ہونے والے بیگ سے اسامہ بن لادن سے متعلق کتاب کے پانچ نسخے برآمد ہوئے، جو سی ٹی ڈی کے مطابق ممنوع کتب میں شمار ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ سی ٹی ڈی نے مزید الزام عائد کیا کہ سعد کے قبضے سے القاعدہ کا ممبرشپ کارڈ بھی برآمد ہوا تھا۔
ایف آئی آر میں اینٹی ٹیرر ازم ایکٹ 1997 کی دفعات 11 ایف (2) اور 11 ڈبلیو شامل کی گئی ہیں۔ 11 ایف (2) کا تعلق کالعدم تنظیم کی رکنیت رکھنے جبکہ 11 ڈبلیو نفرت انگیز مواد یا کسی دہشت گرد یا کالعدم تنظیم کا مواد شائع کرنے اور تقسیم کرنے کے متعلق ہے۔
اہلِخانہ اور سعد کے ساتھیوں کا کیا کہنا ہے؟
سعد بن ریاض کی اہلیہ عائشہ قیوم نے ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ اُن کے شوہر کو گھر سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق رات تقریباً ساڑھے تین بجے 12 سے 13 نقاب پوش مسلح افراد ان کے گھر میں داخل ہوئے اور سعد کو اپنے زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔
سعد کی اہلیہ کا دعویٰ ہے کہ جب قانونی دباو ڈالا گیا تو اس کے بعد سی ٹی ڈی اہلکاروں نے انتہائی مضحکہ خیز بنیادوں پر اُن کے شوہر کے خلاف ایف آئی آر درج کی۔
عائشہ کا کہنا ہے کہ ’سعد ماضی میں ریاستی اداروں کے ساتھ بھی کام کر چکے ہیں۔‘
’ایسے افراد جنھیں ریاست نے جانچ پڑتال کے بعد قابلِ اعتماد سمجھا ہو، اگر انھیں من مانے انداز میں حراست میں لینا پڑے اور بعد ازاں اُن پر پچھلے قوانین لاگو کیے جائیں، تو پھر یہ سوال تو ناگزیر ہے کہ ریاست آخر کس بنیاد پر اپنے شہریوں سے اعتماد کی توقع رکھتی ہے؟‘
ایون نیوز جس سے سعد منسلک ہیں، کی جانب سے ایک ویڈیو جاری کی گئی تھی جس میں اس گرفتاری کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا کہا گیا ہے۔
سعد کے دوست ہونے کا دعویٰ کرنے والے ابراہیم جعفری نے ایکس پر لکھا تھا کہ ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا کہ انھیں مسجد سے حراست میں لیا گیا جبکہ کیمرے کی فوٹیج سے ثابت ہوتا ہے کہ انھیں گھر سے اٹھایا گیا۔
تاہم ان کی جانب سے کوئی کیمرہ فوٹیج جاری نہیں کی گئی۔
بی بی سی سی ٹی ڈی اور سعد کے ساتھیوں و اہلخانہ کی جانب سے کیے گئے کسی بھی دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔
( بشکریہ : بی بی سی )
فیس بک کمینٹ

