Browsing: کتب نما

-اگر میں قتل ہو جاتا اور لوگ یہ کہتے رہیں کہ یہ بے گناہ تھا تو مجھ مقتول کو اس سے کیا ملے گا. کیا خرافات ہے کہ مقتول کو انصاف ملنا چاہئے. مقتول کو انصاف مل ہی نہیں سکتا. قاتلوں کو مل سکتا ہے جو کہ زندہ ہیں (ص 202).
-میرا جرم یہ ہے کہ میں ایک عام آدمی ہوں اور میرا جرم اور بھی بڑھ جاتا ہے کہ جب میں عام آدمی ہوتے ہوئے عام آدمی کی طرح سوچتا نہیں ہوں (ص 203).
-کافر مرنا اتنا جرم نہیں ہے جتنا شاید کافر جینا جرم ہے(ص 203).

ہماری آنکھوں کے سامنے فیصل واڈا جنرل باجوہ کے آگے ہاتھ جوڑ کر اور سر جھکا کر کھڑا رہا۔ جنرل باجوہ اسے سناتے رہے، اور وہ سر جھکائے سنتا رہا۔
آخر اس نے جنرل فیض حمید کی طرف التجا آمیز نظروں سے اشارہ کیا، تو جنرل فیض حمید نے آگے بڑھ کر کہا،
"سر جانے دیں، اسے معاف کردیں.”
ان کی بات سے واڈا جو ابھی تک ہاتھ جوڑے کھڑا تھا، ہمت پکڑی اور کہا۔۔
سر معاف کردیں، آئندہ نہیں ہوگا.”
یہ سارا مکالمہ آ فس کے سٹاف، میٹنگ سے نکلنے والے وفاقی وزراء کے سامنے ہورہا تھا۔