” تمہارے لیے چائے لائی ہوں ” شبانہ نے پاس ہی کارپٹ پہ رکھی پیالی کی جانب اشارہ کیا۔
” جی آپ کی بے حد مہربانی ۔آپ یہ تکلیف نہ کرتیں۔”
” تکلیف ہوتی تو بالکل نہ کرتی۔”
شرافت نیچے منہ کرکے مسکرایا اور شبانہ اسے دیکھتے مسکرا دی۔
” طلب نہیں ہو رہی ؟ ”
شرافت نے سر اوپر اٹھایا تو پہلی بار اسے غور سے دیکھا۔ شبانہ کی بولتی آنکھوں سے ذرا نیچے گلنار رخسار ، مسکراہٹ سے ہلکے سے اوپر کو اٹھ کے بولتی آنکھوں کے نیچے ذرا سی سلوٹ بنا کے اپنی جگہ پہ لوٹے تو سلوٹ اب بھی کہیں مچل رہی تھی۔
” چائے مزیدار بناتی ہیں آپ۔”
شرافت نے گرم چائے کی چسکی لینے میں عجلت کی تو زبان پہ الفاظ اونگھ سے جاگے۔چائے اتنی پکی ہوئی ہو کہ رنگ تمہارے رخسار جیسا ہو جائے ۔ گندمی مگر نکھرا ہوا ۔ شرافت ایسی چائے کی فرمائش کرتا۔
” کہاں گم ہو جاتے ہو۔ محبت گم کر دیتی
ہے انسان کو بھرے پرے شہر میں بھی۔”
مہدی لغاری کا یہ ناول محبت ہے۔ بلاشبہ محبت گم کر دیتی ہے انسان کو بھرے پرے شہر میں بھی۔
21 اکتوبر 2025 کو میری عدم موجودگی میں محبی ، مربی اور انتہائی قابل احترام دوست پروفیسر کلیم خان لغاری صاحب بناں پیشگی اطلاع میرے گھر ” عشق آباد ” کی سوکھڑی عطا کرنے تشریف لائے ۔ میرے گھر یہ خوبصورت ناول عنایت کرتے ہوتے فورا واپس چلے گئے۔ میں نے رات کو واپسی پر پہلی فون کال محترم پروفیسر کلیم لغاری صاحب کو ملائی اور میزبانی کی سعادت حاصل نہ کر سکنے پر معذرت اور ناول کی عنایت پر شکرگزاری کے ساتھ ساتھ یہ وعدہ بھی کیا کہ بہت جلد اس ناول کو پڑھ کے لطف لوں گا۔ مگر شومی قسمت ذاتی اور پیشہ و رانہ الجھنوں میں اس قدر الجھا رہا کہ ناول کو دیکھا تو ضرور اور کئی بار ہاتھوں میں تھام کے کتابی لمس کی لذت سے انگلیوں کی پوروں اور دل و دماغ کو مسرور بھی کرتا رہا مگر پڑھ نہ سکا۔ تیئس اور چوبیس اکتوبر کو غازی یونیورسٹی میں ایک کنونشن کے باعث اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے آئے ہوئے مہمان دوستوں کے ساتھ اس قدر مصروف رہا کہ گھر کی ضرورتیں تک بھول بیٹھا۔ اٹھائیس اور انتیس اکتوبر کی درمیانی شب نوجوان بہنوئی کی ہنگامی خرابی صحت کے باعث ہسپتال میں انتہائی کرب میں گزاری اور ان کی دائمی جدائی کے آنسوؤں بہاتے پانچویں رات بھی انتہائی دکھ میں جھیلی۔ نہیں معلوم یہ درد کتنا ستائے گا۔ بھلا درد کو آتا ہی کیا ہے سوائے ستانے کے۔
میری دلداری اور میری غمگساری کے لئے میری متاع حیات میری کتابیں ہیں۔ کتابیں انسان کی بہترین ساتھی ہیں۔ خوشی ہو غم ہو کتاب سے بڑھ کر بھلا اور کون ہے جو ساتھ دے۔ گزشہ دو راتیں میں نے ” عشق آباد سے اشک آباد ” میں گزاریں ۔
میں نے عشق آباد پڑھنا شروع کیا تو پڑھتا چلا گیا۔ پکھی واس مجھے اچھے لگتے ہیں جو دریاوں اور صحراؤں میں سے تنکے اور جھاڑیاں چنتے اور ٹوکریاں بناتے ہیں۔ ” ساڈا دل ہے طارق جگ واپس ایہا گال اے ٹوکرے بدھڑیں ہیں۔” طارق صاحب نے انہی چھوٹے مگر بڑے لوگوں کے لئے کہا تھا۔
میں لٹریچر کا طالب علم ہوں۔ میں جب بھی کسی زبان و ادب کی تخلیقی تلاوت کرتا ہوں تو مجھ پر کہانی ، کردار اور حاصل پیغام سے پہلے ادبی چاشنی، انداز کی خوبصورتی اور تخیلاتی حسن کھلتا ہے۔ مجھ پر جو چیز سب سے پہلے عیاں ہوتی ہے وہ ادیبانہ رنگ ہے۔ حسن ہے۔ ادا ہے۔ میں اس رنگ و حسن کو دل دماغ میں لے کے بہت لذت محسوس کرتا ہوا وہ ادب پارہ پڑھتا ہوں۔ مسرور و مسحور ہوتا ہوں۔
عشق آباد سے ا شک آباد تک ہمارے وسبی ، تل وطنی کوہ سلیمان اور سندھ ساگر کے درمیان دو بڑے رومانس دامان اور بیٹ بیلے کا انتہائی خوبصورت کرداری تخلیقی حسن ہے۔ عارف امام نے کہا تھا کہ
یکتائی اسی سے پوچھ کہ اک عمر تک جسے
تنہا رکھا گیا ہو اکیلا کیے بغیر
اک عمر ہوئی
ہمیں بھی تنہا رکھا گیا۔ تنہا تو رکھا گیا مگر اکیلا نہیں کیا گیا۔ ہماری تنہائی کی کوکھ سے مونجھ نے جنم لیا۔ ہمارے وسبے کی زمین سے مونجھ نے نمو پائی۔ مونجھ ہمارا حسن ہے۔ مونجھ ہمارے حسن کا زیور ہے۔ مونجھ کے سائے تلے ہم بڑے ہوتے ہیں۔ محرومی میں جیتے ہیں۔ ہماری لینڈسکیپ ہماری زبان ہماری مونجھ ہے۔ ہماری مونجھ ہماری شناخت ہے۔ بقا ہے۔ مونجھ ہماری طاقت ہے ڈھال ہے۔ ہماری جمع پونجی اور ہمارا کل سرمایہ ہے۔ بقول ڈاکٹر عباس برمانی
اک گٹھڑی ٹوٹے وعدوں کی
اک خالی کاسہ سپنوں کا
یہی عمر سے ہم نے پایا ہے
ہی اپنا کل سرمایہ ہے
اس سلیمانی اور سندھڑے کی درمیانی طلسماتی حیات عشق آباد کے عاشقوں سے اشک آباد تک کے پکھی واس سہانی گلیوں کے نمراس جیتے جاگتے ، چلتے پھرتے کرداروں کو پڑھیئے ۔ اپنے اس پاس کو پڑھیئے ۔ مطلب خود کو پڑھیئے ، لطف لیجیے اور محسوس کیجیے کہ زندگی کتنی سادہ و دلکش ہے۔ زندگی کتنی حسین ہے۔
فیس بک کمینٹ

