اگر آج سے دس پندرہ برس پہلے کسی سے کہا جاتا کہ ایک وقت آئے گا جب لوگ لفظوں سے زیادہ تصویروں میں بات کریں گے تو شاید وہ اسے مذاق سمجھتا، مگر آج یہ حقیقت ہمارے سامنے موجود ہے۔ موبائل فون نے دنیا کو بدلا، انٹرنیٹ نے فاصلے سمیٹے اور سوشل میڈیا نے گفتگو کا انداز ہی بدل دیا۔ اب کئی بار ایک چھوٹی سی تصویر وہ بات کہہ دیتی ہے جس کے لیے پہلے پورا جملہ لکھنا پڑتا تھا۔ یہی تصویریں آج ایموجیز کہلاتی ہیں، جو نئے دور کی خاموش مگر سمجھ آنے والی زبان بن چکی ہیں۔
گزشتہ کچھ عرصہ میں دنیا میں ایک ایسی زبان معرضِ وجود میں آ چکی ہے جس میں نہ حروفِ تہجی ہیں، نہ کوئی رسم الخط، نہ قواعد کی موٹی کتابیں اور نہ ہی لغت کے صفحات۔ مگر اس کے باوجود یہ زبان حیران کن رفتار سے پوری دنیا میں پھیل رہی ہے۔ اس زبان کو سمجھنے کے لیے مترجم کی ضرورت نہیں پڑتی، نہ کسی استاد کے سامنے برسوں بیٹھنا پڑتا ہے، بلکہ اسے دیکھتے ہی مفہوم ذہن میں اتر جاتا ہے۔ مسکراتا چہرہ خوشی بتا دیتا ہے، آنسو والا چہرہ غم، دل محبت، اور تالیاں کامیابی کی خبر دے دیتی ہیں۔ یہی وہ نئی زبان ہے جسے دنیا ایموجی کے نام سے جانتی ہے۔
صبح آنکھ کھلتے ہی موبائل ہاتھ میں آتا ہے۔ واٹس ایپ کھلتی ہے، خاندان کے گروپ میں کسی نے پھول بھیجا ہوتا ہے، کسی نے دعا والے ہاتھ، کسی نے مسکراتا چہرہ۔ دفتر جانے والا دوست صرف 👍 بھیج کر جواب دے دیتا ہے کہ پیغام مل گیا۔ شام کو کوئی خوشخبری سنائے تو فوراً ❤️ یا 🎉 بھیج دیا جاتا ہے۔ اگر کسی کی طبیعت خراب ہو تو 😷 یا 🤒 نظر آتا ہے۔ گویا جذبات اب الفاظ کے محتاج نہیں رہے۔
ماہرین ابلاغ کے مطابق دنیا بھر میں 90 فیصد سے زائد آن لائن صارفین کسی نہ کسی صورت ایموجیز استعمال کرتے ہیں۔ اندازہ ہے کہ روزانہ 10 ارب سے زیادہ ایموجیز مختلف موبائل ایپس پر بھیجے جاتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایموجی محض بچوں کا کھیل یا وقتی فیشن نہیں بلکہ رابطے کا باقاعدہ ذریعہ بن چکا ہے۔
اگر پاکستان کے ماحول کو دیکھیں تو یہاں بھی یہی صورت حال ہے۔ نوجوان نسل ہو یا بزرگ، خواتین ہوں یا دفاتر میں کام کرنے والے افراد، تقریباً ہر شخص واٹس ایپ، فیس بک یا دیگر ایپس پر ایموجی استعمال کرتا دکھائی دیتا ہے۔ گھروں میں مائیں دعاؤں کے ساتھ 🤲 بھیجتی ہیں، بہنیں ہنسی مذاق میں 😂 استعمال کرتی ہیں، دوست ناراضی میں 😒 بھیج دیتے ہیں، اور کئی نوجوان تو پورا جواب ایک ہی ایموجی میں دے دیتے ہیں۔
یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی۔ ابتدا میں جب موبائل فون عام ہوئے تو مختصر پیغامات کا دور تھا۔ اس زمانے میں لوگ 🙂 اور 🙁 جیسے نشانات سے خوشی یا اداسی ظاہر کرتے تھے۔ بعد ازاں اسمارٹ فون آئے، رنگین اسکرینیں آئیں، اور یہی نشانات خوبصورت تصویروں میں بدل گئے۔ پھر ہر جذبے، ہر کیفیت، ہر موقع کے لیے الگ ایموجی بن گیا۔
ایموجی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ زبانوں کی دیوار توڑ دیتا ہے۔ ایک پاکستانی، ایک عرب، ایک چینی اور ایک یورپی شخص شاید ایک دوسرے کی زبان نہ سمجھ سکیں، مگر 😊 سب سمجھتے ہیں، 😢 سب جانتے ہیں، ❤️ ہر جگہ محبت کی علامت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے بعض ماہرین جدید دور کی عالمی زبان بھی کہتے ہیں۔
سوشل میڈیا کمپنیوں کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ جن پیغامات یا پوسٹس میں ایموجی شامل ہوں، ان پر عام پوسٹس کے مقابلے میں زیادہ ردعمل آتا ہے۔ بعض اندازوں کے مطابق ایموجی والی پوسٹس پر 20 سے 25 فیصد زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔ کاروباری ادارے بھی اشتہارات میں ایموجیز شامل کرتے ہیں تاکہ صارف فوراً متوجہ ہو جائے۔
مگر ہر سہولت کی طرح اس کے کچھ نقصانات بھی ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ غلط فہمی ہے۔ ایک شخص اگر 😏 بھیجے تو سامنے والا اسے مذاق سمجھے گا یا طنز؟ اگر کوئی صرف 👍 بھیج دے تو کیا وہ خوش ہے یا صرف رسمی جواب دے رہا ہے؟ مختلف سرویز کے مطابق تقریباً 45 فیصد صارفین کبھی نہ کبھی ایموجی کے مطلب کو غلط سمجھ چکے ہیں۔
ایک اور نقصان زبان سے متعلق ہے۔ پہلے لوگ حال احوال پوچھتے تھے، مکمل جملے لکھتے تھے، اپنے جذبات لفظوں میں بیان کرتے تھے۔ اب کئی نوجوان “ٹھیک ہوں” لکھنے کے بجائے 😊 بھیج دیتے ہیں، “شکریہ” کی جگہ 🙏 آ جاتا ہے، اور “بہت ہنسی آئی” کے بجائے 😂 کافی سمجھا جاتا ہے۔ اس سے الفاظ کا استعمال کم ہو رہا ہے اور تحریری عادت بھی متاثر ہو رہی ہے۔
اساتذہ اور ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ اگر نئی نسل صرف مختصر پیغامات اور علامتوں کی عادی ہو جائے تو زبان کی گہرائی، جملہ سازی اور اظہار کی صلاحیت کمزور پڑ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اسکول طلبہ کو رسمی تحریر میں ایموجی کے بے جا استعمال سے روکتے ہیں۔
اس کے باوجود ایموجی کو مکمل طور پر منفی نہیں کہا جا سکتا۔ مصروف زندگی میں جہاں ہر شخص وقت کی کمی کا شکار ہے، وہاں ایک چھوٹی سی علامت تعلقات میں حرارت برقرار رکھتی ہے۔ دور بیٹھا بیٹا ماں کو ❤️ بھیج دے تو ماں مسکرا دیتی ہے۔ دوست مشکل وقت میں 🤲 بھیج دے تو تسلی محسوس ہوتی ہے۔ کسی کی کامیابی پر 🎉 بھیج دیا جائے تو خوشی بانٹنے کا احساس پیدا ہوتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے ایموجیز میں 😂، ❤️، 👍، 😍 اور 😊 شامل ہیں۔ ہنسی والا ایموجی آج بھی مقبول ترین علامتوں میں شمار ہوتا ہے، کیونکہ شاید انسان ہر دور میں خوشی بانٹنا چاہتا ہے۔
اصل مسئلہ ایموجی نہیں، اس کا بے اعتدال استعمال ہے۔ اگر ایموجی الفاظ کے ساتھ ہو تو گفتگو خوبصورت لگتی ہے، مگر اگر صرف علامتیں رہ جائیں اور لفظ ختم ہو جائیں تو اظہار سطحی ہو جاتا ہے۔ دل کا درد صرف 😢 سے مکمل نہیں ہوتا، اس کے لیے ہمدردی کے لفظ بھی چاہییں۔ محبت صرف ❤️ سے پوری نہیں ہوتی، اس کے لیے خلوص بھری گفتگو بھی ضروری ہے۔
آنے والے برسوں میں یہ رجحان مزید بڑھے گا۔ مصنوعی ذہانت، تھری ڈی رابطے اور جدید ایپس کے ساتھ ایموجیز شاید حرکت کریں، بولیں یا چہرے کے تاثرات بھی دکھائیں۔ مگر ایک چیز پھر بھی قائم رہے گی: لفظوں کی اہمیت۔
مختصر یہ کہ ایموجیز نے رابطے کو آسان، تیز اور دلچسپ بنا دیا ہے۔ یہ واقعی نئے زمانے کی بے زباں زبان ہیں۔ مگر زبان کی اصل خوبصورتی اب بھی لفظوں، احساسات اور سچے اظہار میں ہے۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ ایموجی بھی رہے، مگر الفاظ کی روشنی بھی مدھم نہ پڑنے پائے۔
فیس بک کمینٹ

