ایرانی وفد اور پاکستانی حکام کے درمیان ہونے والی ملاقات کی تفصیلات تاحال جاری نہیں کی گئی ہیں۔
سرکاری ایرانی ریڈیو و ٹیلی وژن ادارے نے بتایا ہے کہ یہ ملاقات ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی تفصیلات طے کرنے کے لیے اہم ثابت ہوگی۔
Author: ایڈیٹر
تاریخ کی مسکراتی آنکھوں کی چمک بتا رہی ہے 1400 سال پہلے فیصلہ ہو چکا کہ یہ شہر رے کسی ظالم غارت گر کو روٹی کا ایک ٹکڑا تک دینے پر آ مادہ نہیں ہوگا۔۔یہ فیصلہ تاریخی حقیقت نہیں بلکہ خدائی بیانیہ ہے کہ ہمیشہ اہلِ کوثر اہل تکاثرِ پر فتح پاتے رہیں گے کیونکہ کوثر کے ہاں لہو مقصد کی طاقت کو بڑھاتا اور نعمتوں کو خیر میں تبدیل کرتا رہتا ہے۔۔اور خیر کبھی نہیں مرتا!! کبھی نہیں جھکتا!!
ان کا کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت کم ہوئی تو اس کا فائدہ عوام تک پہنچاؤں گا، حکومت نے مالیاتی نظم و ضبط کے ذریعے مہنگائی کم کرنے میں حصہ ڈالا۔
یہ کتنی عجیب بات ہے کہ سینٹ جوڈ جیسے اداروں کے ممالک اپنے سرمایہ دارانہ مفادات کی تکمیل کے لیے غریب ملکوں پر حملے کرتے ہیں اور انہیں تباہ و برباد کر دیتے ہیں۔ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ سینٹ جوڈ جیسے ادارے اپنے ہی ملک کے ہاتھوں تباہ شدہ انہی ممالک کے سرطان زدہ بچوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔ میں ان اداروں سے وابستہ افراد پر کوئی الزام نہیں رکھتا ، میں صرف ان اندوہناک تضادات کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جنہیں مارکسزم کے سوا دنیا کا کوئی مذہبی، اخلاقی، سماجی یا سیاسی نظریہ اس وضاحت کے ساتھ بیان نہیں کر سکتا۔
ایکس پر خواجہ آصف کے ڈیلیٹ کیے ہوئے بیان کا متن ہی واضح کرتا ہے کہ ان کا بیان کسی حد تک تاریخ اور سفارتی صورت حال کی غلط تفہیم و تعبیر پر استوار ہے۔ انہوں نے لکھا: ’ اسرائیل شیطان ہے اور انسانیت کے لیے لعنت ہے۔ اسلام آباد میں امن مذاکرات جاری ہیں، لبنان میں نسل کشی کی جا رہی ہے۔ بے گناہ شہریوں کو اسرائیل کے ہاتھوں قتل کیا جا رہا ہے۔ پہلے غزہ، پھر ایران اور اب لبنان، خونریزی بلا روک ٹوک جاری ہے۔ میں امید اور دعا کرتا ہوں کہ وہ لوگ جنہوں نے یورپی یہودیوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے فلسطینی سرزمین پر یہ سرطان جیسی ریاست قائم کی، جہنم میں جلیں‘۔
اسرائیل کے علاوہ بھارت کوبھی پاکستان کا ایران اور امریکہ کے مابین مذاکرات کے حوالے سے مؤثر کردار ہضم نہیں ہورہا۔ اس کا وزیر خارجہ بھارت سے چند ممالک کا دورہ کرنے نکل پڑا ہے۔ جو ملک اس نے دورے کے لئے چنے ہیں وہ بھی ایران،امریکہ مذاکرات سے خوش نہیں۔ انہیں بھڑکانا مقصود ہے۔ تفصیلات میں جانے سے مگر گریز بہتر ہے۔
لاہور :سابق گورنر پنجاب سردار ذوالفقار کھوسہ لاہور میں انتقال کر گئے۔ وہ صوبائی وزیر، مشیر، سینیٹر اور گورنر پنجاب کے عہدے پر فائز رہے۔ اہل…
انہوں نے کہا کہ ایران کو عسکری شکست کا سامنا ہوا، اس کی نیوی ختم کر دی گئی، ایران کے سیکڑوں میزائل ہدف پر پہنچنے سے پہلے تباہ کیے گئے، فضائیہ تباہ کردی گئی، ایران نے ہماری شرائط سے انکار کیا، نئی ایرانی رجیم سمجھتی ہے کہ ڈیل بہتر ہے ، حالیہ جنگ میں ایرانی کی سپریم کونسل کی قیادت ختم کی گئی، ایران کی دفاعی قیادت، عسکری اور اینٹلیجنس قیادت کو ختم کیا گیا۔
“یہ جنگ کسی نے جیتی نہیں، مگر سب ہارنے سے بچ گئے ہیں…”
اور یہی اصل کہانی ہے۔
آخر میں بات وہی آ کر ٹھہرتی ہے کہ یہ پندرہ دن کی جنگ بندی محض ایک وقفہ ہے—سوچنے کا، اپنی حکمت عملی کو ازسرِ نو ترتیب دینے کا، اور شاید اگلی چال کی تیاری کا۔ دنیا ایک بار پھر اسی موڑ پر کھڑی ہے جہاں امید بھی ہے اور خدشہ بھی۔
ایک شام میں نے بھٹہ بلڈنگ پر نیشنل عوامی پارٹی کے دفتر کا سائن بورڈ دیکھا اور فوراً اندر جانے کا فیصلہ کر لیا۔ دفتر کی تلاش میں جب اندر پہنچا تو دیکھا کہ چھ سات کارکن ایک دری پر بیٹھے ہیں۔ یہیں میرا تعارف اشفاق احمد خان، راؤ سلیمان، حشمت وفا اور جہاں تک مجھے یاد ہے معروف دانشور اشفاق سلیم مرزا سے ہوا۔
میں نے ان دوستوں اور سیاسی کارکنوں کو التمش روڈ کے ایک ریسٹورنٹ میں مدعو بھی کیا، لیکن کالج میں اساتذہ اور دوستوں کے ساتھ میری سیاسی گفتگو پروفیسر ایف ایم خان کو پسند نہ آئی
