1982ء میں انھوں نے ملتان میں “فاران اکیڈمی” کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس ادبی پلیٹ فارم کا مقصد پاکستانی ادب اور قومی فکر کے تناظر میں ایک متبادل علمی آواز پیدا کرنا تھا۔ اس ادارے کے ذریعے کئی نوجوان ادیبوں اور شاعروں کی تربیت ہوئی، جنہوں نے بعد ازاں ملکی ادب میں اپنا مقام بنایا۔
ان کی تصانیف میں “خیال و نظر”، “تناظرات”، “پاکستانی ادب کا منظرنامہ”، “سرائیکی نقد و ادب”، “دل و نظر کا سفینہ” اور سفرنامۂ حج “سجدہ ہر ہر گام کیا” شامل ہیں۔
Browsing: زابر سعید بدر
کہتے ہیں شہنشاہ شاہ جہاں نے جب مغل عظمت و سطوت کی نشانی لال قلعہ دہلی کو تعمیر کروایا تو اسے دیکھتے ہی بے اختیار کہہ…
جنرل محمد ضیاالحق کا طرز عمل دیکھ کر مجھے ہمیشہ اورنگ زیب عالمگیر یاد آ جاتا ہے جس نے آٹھ سال اپنے ضعیف باپ کو قید…
پاکستان تین جرمن خواتین کے احسانوں تلے دبا ہوا ہے اور اس حقیقت کو بہت کم لوگ جانتے ہیں، جن عظیم ہستی نے پاکستان کا خواب…
کل سے چچا غالب بہت یاد آ رہے ہیں، ان کی شاعری بلاشبہ انسانی جذبات کا بہت ہی خوبصورت اظہار ہے، آخری مغل شہنشاہ بہادر شاہ…
دنیا بھر میں خواتین کو جن مشکلات کا سامنا ہے اور ان کے حقوق کی جس انداز میں خلاف ورزی ہو رہی ہے اس سے انکار…
لاہور کے بارے میں کہا جاتا ہے ‘ نہیں ریساں شہر لہور دیاں’ اور پاکستان سپر لیگ کے فائنل کے موقع پر یہ ثابت بھی ہو…
” پاکستان سپر لیگ کا فائنل لاہور میں ہو گا” اس اعلان کی دیر تھی پاکستان کے چند کوتاہ بین سیاست دانوں نے گویا اس کو…
آج مرزا نوشہ کو دنیا سے رخصت ہوئے 148 برس ہو گئے وہ بلاشبہ زمانوں کے شاعر ہیں جیسے لاہور کے بارے میں کہا جاتا ہے…
سولہواں سال ہے آج اس شخص کو اس جہان فانی سے رخصت ہوئے جنھیں میں انکل منجو کہتا تھا اور جو دنیا کے لئے میاں منظر…
