Browsing: زابر سعید بدر

1982ء میں انھوں نے ملتان میں “فاران اکیڈمی” کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس ادبی پلیٹ فارم کا مقصد پاکستانی ادب اور قومی فکر کے تناظر میں ایک متبادل علمی آواز پیدا کرنا تھا۔ اس ادارے کے ذریعے کئی نوجوان ادیبوں اور شاعروں کی تربیت ہوئی، جنہوں نے بعد ازاں ملکی ادب میں اپنا مقام بنایا۔
ان کی تصانیف میں “خیال و نظر”، “تناظرات”، “پاکستانی ادب کا منظرنامہ”، “سرائیکی نقد و ادب”، “دل و نظر کا سفینہ” اور سفرنامۂ حج “سجدہ ہر ہر گام کیا” شامل ہیں۔