Browsing: لکھاری

صاحبان ذی وقار کہتے ہیں کہ 2010 میں طے پانے والا قومی مالیاتی ایوارڈ نظرثانی کا محتاج ہے۔ یہ مالیاتی ایوارڈ اٹھارہویں آئینی ترمیم سے بندھا ہے جس میں ریاست نے 1973 میں کیا گیا صوبائی خود مختاری کا وعدہ 37 برس کی تاخیر سے پورا کیا تھا۔ ساتویں قومی فنانس ایوارڈ میں وفاق کا حصہ 43 فیصد اور صوبوں کا حصہ 57 فیصد کر دیا گیا۔

اگلی بار موبائل میں جب کوئی نام سیو کرنا تو ‘اللہ دتہ منجی والا’ یا ‘ خیر الدین بوٹ پالش’ ٹائپ کا مردانہ نام مت لکھنا ۔ کیونکہ بار بار کے تجربات سے بھابھی اب اتنی بھولی نہیں رہیں۔ اس لئے اب کی بار کسی نسوانی نام مثلاً شیداں تندور والی ۔ماسی خیراں دم بلکہ اک دم والی۔

تجارتی خسارہ روز افزوں ہے اور کوئی سرکاری حکمت عملی اس میں کسی بڑی تبدیلی کا اشارہ نہیں دیتی اور نہ ہی علاقائی یا عالمی حالات کی صورت حال سے یہ قیاس کیا جاسکتا کہ آنے والے دنوں میں ملکی برآمدات میں غیر معمولی اضافہ ہوگا۔

ٹی وی سکرینوں پر جناتی معاشی اصطلاحوں کے استعمال سے پاکستان کے ہر شہری کو ٹیکس چوری کا مجرم قرار دیتے ہوئے آئی ایم ایف کے سدھائے ’’ماہرین معیشت‘‘ مجھے ایک روز بھی اس حقیقت کا احساس کرتے سنائی نہیں دیتے کہ پاکستان میں نچلے متوسط طبقے سے آگے بڑھنے کی امید چھن چکی ہے۔

پروفیسر محی الدین اس گھرانے کے معاملات سلجھانے کی کوشش کررہے تھے لیکن ملزم نے بے صبری اور عدم برداشت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پروفیسر محی الدین اور اپنے سوتیلے بیٹے کو گولیاں مار کے ایک بڑے سانحے کو جنم دیا۔

یہ امر باعث حیرت ضرور ہے کہ اپنی حمایت میں اسرائیل غیظ و غضب کا نشانہ بننے والی حزب اللہ کو ایران ، امریکہ کے ساتھ بات چیت کے دوران کیوں فراموش کیے ہوئے ہے؟ کیا تہران کے لیڈر اب مشرق وسطیٰ میں موجود اپنی پراکسیوں کی حمایت سے دست بردار ہورہے ہیں؟

امریکہ ایران کا بلاکیڈ ختم کرنے اور جوہری ہتھیاروں پر حتمی معاہدے کے لیے دوسرے مرحلے میں اتفاق رائے پر بھی راضی ہے۔ اس کے باوجود تہران کی طرف سے مسلسل یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اس کے جوہری ہتھیاروں کا معاملہ موضوع بحث ہی نہیں۔ حالانکہ یہ سارا تنازعہ ایران کے جوہری پروگرام ہی کی وجہ سے شروع ہؤا تھا

70کی دہائی تک شاید کسی کو سہراب گوٹھ کا پتا تک نہ ہو مگر سپر ہائی وے جہاں سے شروع اور جہاں ختم ہوتی ہے کراچی سے جانے اور پہنچنے تک وہ 80کی دہائی میں اسلحہ اور ڈرگ کا سب سے بڑا اڈہ بن گئی جہاں سے کراچی میں اس کی سپلائی شروع ہوئی اور پھر شہر خون آلود ہوگیا۔

پاکستان میں آئندہ کئی نسلوں تک اسی طبقے کی ذریات حکومت کریں گی جس نے ہماری آنکھوں میں دھول جھونک کر ایسے وسائل جمع کر لیے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو بیرون ملک تعلیم دلا سکتے ہیں۔ ان بچوں کی بڑی تعداد پاکستان واپس نہیں آئے گی۔ جو تھوڑے بہت یہاں لوٹیں گے انہیں محمد شعیب، معین قریشی، شوکت عزیز اور باقر رضا جیسے موسمی پرندوں میں شمار کیجیے۔