اسلام آباد پنڈی میں قوی آس ہے کہ پاکستان کو اس کارخیر کا پھل اقتصادی منصوبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کی شکل میں ملے گا۔ پاک ایران گیس پائپ لائن کی تکمیل سے ملک میں توانائی کے بحران کی شدت میں کسی حد تک کمی ہو سکے گی۔ افغانستان نہ بھی قابو میں آیا تب بھی براستہ ایران وسطی ایشیائی ممالک سے تجارت بڑھانے کے امکانات روشن ہیں۔
Browsing: لکھاری
ٹرمپ گزشتہ چند روز سے مسلسل یہ کہہ رہے ہیں کہ پابندیاں ہٹانے اور حتمی امن کے لیے ایران کو اپنا طرز عمل تبدیل کرنا پڑے گا۔ البتہ مفاہمتی یادداشت میں تو ایسا کوئی تقاضہ سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ مفادات کے ٹکراؤ اور سیاسی دباؤ کی وجہ سے اس تاریخی کامیابی کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان مستقل اور پائیدارامن اب بھی ہنوز دلی دور است والا معاملہ ہے۔
جناب عالیٰ سعودی عرب پہنچنے کے فوراََبعد آپ نے عرب امریکہ سربراہی کانفرنس میں جوبصیرت افروز اورتاریخی خطاب کیااس نے بھی ہم مسلمانوں کے دل موہ لئے ہیں۔اسلامی دنیا جس دہشت گردی کاشکار ہے اس پرآپ کادل جس طرح خون کے آنسورورہاہے اس کاکبھی ہم نے تصور بھی نہیں کیاتھا۔آپ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں دوٹوک بات کی، کسی لگی لپٹی اورمنافقت کے بغیر،اس خطاب کے دوران آپ کانورانی چہرہ آپ کی سچائی کی گواہی دے رہاتھا۔یقین جانئے ہم خود بھی اس دہشت گردی سے تنگ ہیں اور اسی لئے اس کانفرنس میں ہمارے وزیراعظم نوازشریف بھی شریک ہوئے۔ اگرچہ وہ ایک روز قبل ہی چین کے دورے سے واپس آئے تھے اورابھی ان کی تھکاوٹ بھی نہیں اتری تھی کہ انہیں سعودی عرب جاناپڑگیا۔نوازشریف تو تمام راستے اپنی تقریرتیارکرتے رہے اوروہ امت مسلمہ کے مسائل آپ کے سامنے بیان کرنابھی چاہتے تھے لیکن آپ نے اچھاکیا کہ انہیں تقریر کاموقع نہیں دیا۔آپ سفرکی صعوبتوں کوبخوبی جانتے ہیں آپ کو معلوم تھاکہ ہمارے وزیراعظم کتناطویل سفرکرکے آپ کے پاس پہنچے تھے اورآپ کویہ بھی معلوم تھاکہ وہ تھکاوٹ کی وجہ سے ٹھیک طرح سے تقریربھی نہ کرسکیں گے لہذاآپ نے بہت اچھاکیاکہ انہیں تقریرکی زحمت ہی نہیں دی۔اس سے اندازہ ہوتاہے کہ حضور والا اپنی رعایاکاکس قدر خیال رکھتے ہیں۔اب اگربعض اسلام دشمن عناصر یہ تاثردیں کہ ہمارے وزیراعظم کواس کانفرنس میں خطاب کاموقع ہی نہیں دیاگیاتویہ بھی سراسرزیادتی ہے۔آپ نے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے ہمارے ہمسایہ ملک ایران کوبھی نشانہ بنایااوراس پرالزام عائد کیاکہ وہ فرقہ واریت اورانتہاپسندی کوفروغ دے رہاہے۔اگرچہ آپ کی اس رائے سے بہت سے لوگوں کو اتفا ق نہیں لیکن پھربھی ہم آپ کی تائید کرتے ہیں۔یقیناََانتہاپسندی کے فروغ میں سعودی عرب کاکوئی کردار نہیں اورآپ کی تقریرکے بعدتوہمیں شبہ ہوتاہے کہ اسامہ بن لادن کاتعلق بھی شاید ایران سے تھا۔
اپریل 2022ء سے قائم حکومتی بندوبست کو مگر پیر ہی کی شام فیصل واوڈا صاحب نے ناکام ونکما ثابت کرنے کے لئے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے کشتوں کے پشتے لگادئے۔ ہمارے حکمرانوں کی خودستائشی کا سحر 24گھنٹے تک بھی برقرار نہ رہ پایا۔مکمل کالم کا لنک پہلے کمینٹ میں موجود ہے
امن پر اتفاق کے باوجود ایران اور امریکہ کے درمیان بداعتمادی، اختلافات اور حتمی معاہدے کےبارے میں نقطہ نظر کا فرق موجود ہے۔ گزشتہ چند روز…
ممکنہ ہنگاموں کے خوف سے ہزاروں کیمروں کی تنصیب سے ’سیف‘ بنائے اسلام آباد کی مرکزی شاہراہوں پر لگائے پولیس ناکے شہریوں کو تسلی دینے کے بجائے مزید خوفزدہ بنادیتے ہیں۔ سرکار مائی باپ کو مگر اس حقیقت کا ہرگز ادراک نہیں ہے۔
مقبول بٹ چاہتے تو بھارتی حکومت سے سمجھوتہ کرکے اپنی جان بچا سکتے تھے۔ وہ چاہتے تو آزادکشمیر کے صدر یا وزیراعظم بھی بن سکتے تھے لیکن انہوں نے حکومتی عہدوں کی بجائے ہمیشہ کشمیر کی آزادی کو مقدم رکھا۔ اس جرم میں بھارتی حکومت سے مارکھائی اورپاکستان سے بھی مار کھائی۔
بے شمار ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ میڈیا میں یک بیک موجودہ حکومت کے جانے کی باتیں بلکہ اس کے وداع کی تاریخ تک کا اعلان کیامعنی رکھتا ہے۔ کیا اس قسم کے مباحث کا مقصد جمہوریت اور موجودہ آئینی نظام پر لوگوں کے رہے سہے اعتماد کو ختم کرنا ہے
ماضی کے کئی صاحبان اقتدار کی گردن میں سریےپڑے اور پھر جب وہ روبہ زوال ہوئے تو نہ ان کی عزت رہی اور نہ مقام۔ موجودہ حکومت کو خبردار ہوشیار اور تیار کرنے کا مطلب اسے متنبہ کرنا ہے۔ اس سے درخواست کرنا ہے کہ اپنے زوال کو روک لے خود کو تبدیل کرے وگرنہ تقدیر کا پہیہ گھومے گا اور پھر’’ لاد چلے گا بنجارہ‘‘
اگر ہم نے اپنی درسگاہوں کو آؤٹ سورس کر دیا تو صرف عمارتیں اور انتظام نہیں بدلیں گے، بلکہ خدشہ ہے کہ ہماری صدیوں کو محیط تعلیمی روایت، ہماری علمی شناخت اور ہمارا فکری ورثہ بھی آؤٹ سورس ہو جائے گا۔
