ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اسلام آباد میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف سے بات چیت کے بعد عمان کے دارالحکومت مسقط پہنچ گئے ہیں۔ وہ اس دورے میں روس جانے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں تاہم پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اتوار یا سوموار کو واپس آئیں گے۔
اس طرح پاکستان ، امریکہ و ایران کے درمیان بالواسطہ رابط کاری کے ذریعے کسی امن معاہدے کی راہ ہموار کرنا چاہتا ہے۔ اس مرحلے پر اگرچہ ایران اور امریکہ کے درمیان پل بنانے یا اختلاف کم کرانے کی کوششیں ناکام ہورہی ہیں لیکن پاکستان نے اپنی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے عباس عراقچی سے ملاقات کے بعد ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے بھی فون پر بات کی ہے ۔ اس طرح رابطہ کاری کا سلسلہ جاری ہے۔
دوسری طرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عباس عراقچی کی اسلام آباد سے روانگی کے بعد اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کو اسلام آباد روانہ ہونے سے روک دیا۔ اس سے پہلے یہ دونوں ایرانی وفد سے بات چیت کے لیے آج صبح اسلام آباد روانہ ہونے والے تھے۔ گزشتہ روز وہائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے بتایا تھا کہ امریکی صدر کے نمائیندے ہفتے کی صبح روانہ ہوں گے جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس ’اسٹینڈ بائی‘ رہیں گے۔ البتہ ایران کی طرف سے امریکہ کے ساتھ براہ راست بات چیت میں دلچسپی نہیں دکھائی گئی۔ تہران کا خیال ہے کہ امریکہ امن معاہدے کے نام پر ’ہاری ہوئی جنگ کو فتح میں تبدیل کرنا چاہتا ہے‘۔ اس لیے وہ اس عمل کا حصہ بننے سے گریز کررہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات مؤخر ہوجانے کے بعد پاکستانی لیڈروں کی ایک بار پھر توصیف کی ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا ہےکہ طویل سفر کرکے امریکی نمائیندے اسلام آباد پہنچتے ہیں تو انہیں ایک تحریری تجویز تھما دی جاتی ہے جو مناسب نہیں ہوتی۔ اس لیے جب ایران کا کوئی بااختیار لیڈر بات چیت پر تیا رہو تو وہ واشنگٹن سے رابطہ کرسکتا ہے۔ ٹرمپ کا خیال ہے کہ کہ تہران میں اقتدار کی رسہ کشی جاری ہے لیکن لوگ لیڈر بننے سے گھبراتے بھی ہیں۔ وہاں کسی کو معلوم نہیں ہے کہ کون فیصلے کرسکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سارے کارڈز ہمارے ہاتھ میں ہیں ،اس لیے ہمیں کوئی جلدی نہیں ہے۔
ان دعوؤں کے باوجود دیکھا جاسکتا ہے کہ امریکی لیڈروں کو ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ کرکے اس مشکل سے نکلنے کی جلدی ہے۔ ایران نواز عناصر اسے امریکہ کی شکست قرار دیتے ہیں لیکن صدر ٹرمپ پر مہنگائی اور پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے شدید سیاسی دباؤ ہے۔ نومبر میں مڈ ٹرم انتخابات ہونے والے ہیں۔ ان میں کامیابی ری پبلیکن پارٹی کے لیے بے حد اہم ہے تاہم جنگ یا جنگ کی صورت حال جاری رہنے کی صورت میں ان انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کانگرس میں زیادہ طاقت کے ساتھ واپس آسکتی ہے۔ ایران پر مسلط کی گئی جنگ امریکی عوام میں غیر مقبول ہے اور امریکیوں کی بڑی تعداد اس کے خلاف ہے۔ رائے عامہ کے یہی جائزے درحقیقت ٹرمپ حکومت کو جلدی کرنے اور کسی بھی طرح ایران کے ساتھ کوئی ’ڈیل‘ کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ ایران اسے ٹرمپ یا امریکہ کی مجبوری کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ امریکہ، ایران کے ساتھ تنازعہ میں بعض ریڈ لائنز کو عبور کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ ان میں ایران کے جوہری پروگرام پر مکمل پابندی کے علاوہ یہ یقینی بنانا شامل ہے کہ ایران کبھی ایٹم بم حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔
یہ بھی اس تنازعہ کا دلچسپ پہلو ہے کہ رائے عامہ، مہنگائی اور بین الاقوامی معیشت پر اس تنازعہ کے مرتب ہونے والے اثرات امریکہ کی ’مجبوری یا عجلت‘ کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ لیکن ایران کو ایسے حالات سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ٹرمپ ایک برا جمہوری لیڈر ہونے کے باوجود خود کو کچھ حدود کا پابند سمجھتا ہے اور عوام کی ناراضی کا خطرہ مول نہیں لے سکتا ۔لیکن ایرانی لیڈروں کے لیے رائے عامہ یا اپنے لوگوں کی مجبوری کا کوئی ’دباؤ‘ نہیں ہے۔ ایران میں معیشت دگرگوں ہے، اشیائے صرف نایاب ہیں اور جنگ کے ہولناک اثرات شہریوں کی مشکلات میں مسلسل اضافہ کررہے ہیں۔ لیکن ایرانی لیڈروں یا میڈیا میں ایسی باتوں کا کوئی حوالہ دیکھنے میں نہیں آتا۔ کسی کو یہ جاننے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی کہ ایران کے لوگ کیا چاہتے ہیں۔ دو ماہ سے ایرانی حکومت نے ملک میں انٹر نیٹ کی سہولت بند کی ہوئی ہے لیکن کسی کو سوال کرنے یا ناراضی کا اظہار کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کو اس وقت تک کسی معاہدہ کی عجلت نہیں ہے۔ جب تک لیڈروں کی زندگیاں محفوظ ہیں اور براہ راست بمباری نہیں ہورہی، ہر طرف چین ہی چین ہے۔ لیڈروں کو ہمہ قسم سہولت حاصل ہے لیکن ان کے پاس عوام کی مشکلات کا احساس کرنے کا وقت نہیں ہے۔ جنگ میں ہار جیت کا فیصلہ کیے بغیر دونوں ملکوں کے طرز حکومت میں یہ بنیادی فرق مذاکرات میں تعطل اور ایران کی طرف سے ہٹ دھرمی کاسبب ہے۔
اب امریکہ بلاکیڈ کو ایران پر دباؤ کے مؤثر ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کررہا ہے۔ لیکن اس کے اثرات بھی زیادہ تر عوام ہی کو برداشت کرنا پڑیں گے۔ حکمران طبقے کو اس ناکہ بندی کے معاشی اثرات سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اس لیے تہران میں فیصلہ سازی کے سوال پر اختلافات موجود ہونے کے باوجود انہیں حل کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی۔ اور شاید یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ بظاہر کوئی ایسا لیڈر موجود نہیں ہے جو عسکری اور سیاسی قیادت کے درمیان سوچ کا فرق ختم کر سکتا ہو۔ اسی تعطل کی وجہ سے اس رائے کو تقویت مل رہی ہے کہ رہبرباعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای غیر مؤثر ہیں اور شاید وہ پاسداران انقلاب ہی کی نگرانی میں ہیں۔ اول تو وہ کسی سے مواصلت کے قابل نہیں۔ اور اگر کسی سطح پر کوئی مواصلت ممکن ہے تو وہ پاسداران ہی کے ذریعے ہوسکتی ہے۔ اس دوران پاسداران کے جنرل حقیقی فیصلے کررہے ہیں۔ یہ عسکری لیڈر جنگ جاری رکھنے کے حامی ہیں جبکہ ملک کی سیاسی قیادت کسی معاہدے کو مناسب سمجھتی ہے لیکن اس کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے اور نہ ہی رہبر اعلیٰ تک رسائی ہے۔
اس دوران لبنان میں تین ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان ہونے کے باوجود وزیر اعظم نیتن یاہو نے اسرائیلی فوج کو حزب اللہ پر حملے شدید کرنے کا حکم دیا ہے ۔ یہ حکم اس عذر کی بنیاد پر دیا گیا ہے کہ حزب اللہ نے جنگ بندی کی ضلاف ورزی کی ہے لیکن درحقیقت اسرائیلی رویے کا تعلق امریکہ و ایران کے درمیان بات چیت میں تعطل سے ہے۔ امریکہ نے ایران کو خوش کرنے اور کسی ڈیل تک پہنچنے کے لیے لبنان پر اسرائیلی حملے بندکرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ صدر ٹرمپ اب شاید اس کی ضرورت محسوس نہ کرتے ہوں۔ اب ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران جب کوئی قابل عمل تجویز دے گا تب ہی امریکہ بات کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک سامنے آنے والی ایرانی تجاویز امریکہ کے لیے قابل قبول نہیں ہیں۔ دوسری طرف ایران بہت پھونک پھونک کر ایک ایک قدم آگے بڑھانا چاہتا ہے۔
اس دوران پاکستان دیگر دوست ممالک کے ساتھ مل کر بالواسطہ مواصلت اور سہولت کاری کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسلام آباد کو یقین ہے کہ ایرانی لیڈر امن کی افادیت کو سمجھ کر کسی طویل المدت معاہدے پر متفق ہوجائیں گے تاکہ آبنائے ہرمز سے تیل و دیگر مصنوعات کی آمد و رفت شروع ہوسکے۔ البتہ ایرانی لیڈر کسی واضح دباؤ کے بغیر ایسے کسی معاہدے کی طرف نہیں آئیں گے۔ موجودہ منظر نامہ میں اس مقصد کا حصول مشکل دکھائی دیتا ہے۔ اس دوران پاکستان سمیت سب خیر خواہ دلیل اور حجت سے ایرانی لیڈروں کو راضی کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

