Browsing: علاقائی رنگ

اسپتال ذرائع کے مطابق خاتون اور بچوں کا رات گئے پوسٹ مارٹم مکمل کرلیا گیا جس کے مطابق تینوں بچوں کی موت گلا دبانے سے ہوئی، بچوں کو قتل کے بعد لاشیں لٹکائی گئیں۔
اسپتال ذرائع کا بتانا ہے کہ مزید تحقیقات کے لیے نمونے فرانزک لیب روانہ کردیے گئے ہیں۔

مولانا ادریس کے قتل کے بعد بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکل رہے ہیں۔ چارسدہ کے فاروق اعظم چوک اور تنگی روڈ پر احتجاج جاری ہے جبکہ چارسدہ آنے جانے والی تمام شاہراہیں بند کر دی گئی ہیں۔ علاقے میں اس وقت حالات کشیدہ بتائے جا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ کچھ دن قبل مولانا ادریس کا ایک بیان سوشل میڈیا پر گردش کر رہا تھا جس میں انھوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حق میں بیان دیا تھا جس پر انھیں کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

سعد کی اہلیہ کا دعویٰ ہے کہ جب قانونی دباو ڈالا گیا تو اس کے بعد سی ٹی ڈی اہلکاروں نے انتہائی مضحکہ خیز بنیادوں پر اُن کے شوہر کے خلاف ایف آئی آر درج کی۔
عائشہ کا کہنا ہے کہ ’سعد ماضی میں ریاستی اداروں کے ساتھ بھی کام کر چکے ہیں۔‘
’ایسے افراد جنھیں ریاست نے جانچ پڑتال کے بعد قابلِ اعتماد سمجھا ہو، اگر انھیں من مانے انداز میں حراست میں لینا پڑے اور بعد ازاں اُن پر پچھلے قوانین لاگو کیے جائیں، تو پھر یہ سوال تو ناگزیر ہے کہ ریاست آخر کس بنیاد پر اپنے شہریوں سے اعتماد کی توقع رکھتی ہے؟‘

سرکاری حکام نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ مرنے والوں میں دو سکیورٹی گارڈز بھی شامل ہیں۔
بدھ کی شام ضلع چاغی کے علاقے داریگوان میں ہونے والے اس حملے کی کمپنی کی جانب سے تصدیق کی گئی تھی تاہم اس واقعے میں ہونے والے نقصانات کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا تھا۔

پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ضلع کچھی میں دریائے ناڑی کے پشتے میں شگاف پڑنے سے 100 سے زائد مکانات منہدم اور 400 ایکڑ زرعی اراضی زیر آب آ گئی، جبکہ 50 سے زائد مویشی ہلاک ہوئے۔ اس کے علاوہ ضلع کیچ کے علاقے بھگدر اور قلعہ عبداللہ کے علاقے ارمبی کاکوزئی میں بھی 50 سے زائد گھروں کو نقصان پہنچا۔مکمل خبر پڑھنے کے لیے پہلے کمینٹ میں موجود لنک کھولیں

محکمہ موسمیات پاکستان کے مطابق ایک مضبوط مغربی موسمی سسٹم خطے میں داخل ہو چکا ہے، جس کے زیرِ اثر ملتان سمیت جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع میں مزید بارش، آندھی اور ژالہ باری کا امکان آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔

ولی خان کی نیشنل عوامی پارٹی سے لےکر تاج لنگاہ کی سرائیکی پارٹی تک خطے میں ترقی پسندانہ سیاسی روایت کے امین رہے. ان کا گھر ہمیشہ وسیب بھرسے آنے والے نظریاتی سیاسی کارکنوں کا مرکز و محور سمجھا جاتا تھا.

شاہی صاحب بلا شبہ ملتان کی صحافت کا اثاثہ تھے ۔ انہوں نے حق گوئی کو اپنا شعار رکھا اور پریس کلب کے صدر کی حیثیت سے کارکن صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے گراں قدر خدمات سر انجام دیں