ملتان ۔۔ گردو پیش نیوز ۔۔ نوجوان صحافی اظہار عباسی ہفتہ اٹھارہ اپریل کی صبح حرکت ِ قلب بند ہو جانے سے انتقال کر گئے ۔ اظہار عباسی سپورٹس رپورٹنگ میں مہارت رکھتے تھے ، انہوں نے روزنامہ نوائے وقت سمیت متعدد اخبارات و جرائد میں کام کیا ۔ تاہم دیگر صحافیوں کی طرح وہ بھی بے روزگاری کا شکار ہو گئے اور یہی ان کی موت کی وجہ بنی ۔ان کی نمازِ جنازہ آج سہ پہر ؑعصر کی نماز کے بعد جلال مسجد پارک گلگشت کالونی میں ادا کی جائے گی ۔
روزنامہ جنگ کے سابق کلچرل رپورٹر ناصر محمود شیخ کے مطابق اظہار کی موت ایک بیروزگار صحافی کی موت ہے لیکن اس کے دل دماغ کو شدید دھچکا اس وقت لگا جب فن لینڈ کی ایمبیسی سے ویزا ریجیکٹ ہونے کا لیٹر موصول ہوا اسکے خواب چکنا چور ہوگئے۔
ان کے دو برادر نسبتی اظہار اور اپنی بہن کے لئے تین سال سے کوشش کررہے تھے کہ دونوں کے ورک ویزے کا مرحلہ مکمل ہوجائے اور وہ ملتان سے سات ہزار 5سو کلو میٹر دور اپنی نئی دنیا بسالیں جہاں خوشی اور خوشحالی ہو لیکن رب کو یہ منظور نہ تھا۔ اظہار عباسی کی کوئی اولاد نہ تھی لیکن میاں بیوی صابر شاکر تھے
سوشل میڈیا پر ہر صحافی کے جنم دن پر تحریر لکھتے تھے خوب لکھتے تھے۔ جو خوبیاں ہم میں نہیں تھیں وہ بھی محبت پیار احترام سے لکھ دیتے تھے آجکل مشکل معاشی حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے شہد کی خرید و فروخت کا آن لائین کام کرکے گزارا کررہے تھے
فیس بک کمینٹ

