مختار الحق صدیقی نام تھا۔ ہر نام آخری تجزیے میں ایک جیتے جاگتے، دوستیاں گانٹھتے، خواب دیکھتے، تصویر بناتے اور شعر میں نکتہ آفرینیاں کرتے کردار سے ایک خبر اور پھر ماضی کا ایک دھندلا نشان بن جاتا ہے جو جنریشن زی کے بابا لوگ کے لیے گزشتہ صدی کا کوئی اردو میڈیم حوالہ اور کبھی کبھی پچھلی ایک یا دو دہائیوں کا ایسا برانڈ ٹھہرتا ہے جسے اوڑھ کر لاہور کے اچھرہ بازار میں نکلو تو صاحبان ایمان اور انبوہ جہل کے اشتعال سے بچنے کے لیے کسی خاتون پولیس افسر کی اوٹ لے کے تھانے جانا اور اپنے سے بھی زیادہ جاہل ملا لوگ سے دست بستہ معافی مانگنا پڑتی ہے۔ جنریشن زی کو مطالعہ پاکستان میں یہ سوال اٹھانا نہیں سکھایا گیا کہ معافی مانگنے اور معاف کرنے کے لیے کچھ ضابطے ہوتے ہیں۔ جنریشن زی تو اخبار کے صفحہ اول پر ہمسایہ ملک سے آنے والی سافٹ میڈیا خبریں پڑھتی ہے اور ساحر بگا کے ہیجان انگیز ترانے سن کر اپنے ملک سے بے خبری کا جشن مناتی ہے۔ پچھلی صدی میں فیض احمد فیض نام کے ایک صحافی نے ایک روز اپنے نیوز روم میں قلم گھسیٹ صحافیوں سے کہا تھا کہ کبھی اپنا اخبار پاکستان سے بھی نکال لیا کرو۔ تب نہر سویز کے نام پر جلوس نکالنے کے دن تھے اب آبنائے ہرمز کا نقشہ، ’ہے زخم جگر نقشہ بنگال منور‘ کا مضمون ہے۔
بومرز نسل کا المیہ یہی ہے کہ ہلکا پھلکا کالم لکھنے بیٹھے تو بھی نوحہ خوانی کا مضمون دریافت کر لیتی ہے۔ مختار الحق صدیقی نام کے ایک صاحب کا ذکر مقصود تھا جو اردو میڈیم میں شعر کہتے تھے اور مختار صدیقی کہلاتے تھے۔ مختار صدیقی یکم مارچ 1919 کو سیالکوٹ کے ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ کانونٹ کی تعلیم سیالکوٹ اور گوجرانوالہ کی درس گاہوں میں پائی۔ اسلامیہ کالج لاہور سے 1938 میں گریجویشن کی تعلیم مکمل کی۔ شعر و ادب سے تعلق یہیں پیدا ہوا۔ کالج کے ادبی پرچے کے مدیر مقرر ہوئے۔ حلقہ ارباب ذوق کے سرکردہ کردار تھے اور سیماب اکبر آبادی کے خاص تلامذہ میں شمار ہوتا تھا۔ شعر فارسی کا ذوق فراواں تھا اور انگریزی نثر میں مہارت ریڈیو کے صاحب بہادر کارندوں سے کئی درجے آگے کی منزل تھی۔
فیض، راشد اور میرا جی اردو ادب کے تن آسانوں کے لیے بنی بنائی تکون تھی۔ فن کی بستی میں معیار اور قبول عام کی سرحدیں عجب رنگ سے گڈمڈ ہوتی ہیں۔ اب وہ قطرے گن جائیے جو دریا ہوتے ہوئے خاک کا رزق ہوئے۔ حفیظ ہوشیار پوری، انجم رومانی اور مختار صدیقی، کیسی ٹکسالی کہکشاں تھی، جلو میں شہرت بخاری، قیوم نظر اور یوسف ظفر مہتابیاں۔ یہاں کی زمیں آسماں تھی پیارے!
مختار صدیقی؟ مختار فنا فی الشعر، مختار فنا فی الذات۔ اردو شعر کو ہیئت نظم کے ایسے عشاق کم ملے ہوں گے۔ لاہور پہنچے تو دوپہریں گورنمنٹ کالج میں اور شامیں حلقہ ارباب ذوق کے نام، جہاں کبیر پنتھی میرا جی ایک نسل کی شعری تربیت کر رہا تھا۔ بھرے تھے یہاں چار سمتوں سے دریا۔
تمول میں پلے بڑھے نوجوان مختار کا عملی آغاز توقع سے زیادہ سرگراں رہا۔ ایک آنچ تو فارسی روایت سے ودیعت ہوئی تھی، ’بعشقم آشنا کن‘ ۔ بیسویں صدی کے نصف آخر کے ایرانی شاعر قیصر امین پور نے اسی مضمون کو ایک اور رنگ بخشا۔ ’خدایا عاشقان را با غم عشق آشنا کن‘ ۔ دوسرے روزگار کا فرعون تھا۔ خارج میں اقدار کی ڈھیتی محل سرا اور سیاست کے جہاں آباد میں آلام کی برکھا۔ میر اور میرا بائی کی روایت میں کڑھے ہوئے مختار نے دکھ کی مالا گلے میں آویزاں کرنے کی بجائے ذات کی کٹھالی میں ڈال دی۔ جوگ لیا پر قائم رکھا پردہ دنیا داری کا۔
مختار شاعر ہونے کے علاوہ ایک نہایت عمدہ براڈ کاسٹر تھے۔ دہلی ریڈیو سٹیشن پر امی جمی ہو رہی تھی۔ بخاری پیرِ مغاں تھے، سرخ بتی کے اشارے پر سحاب قزلباش بولتی تھیں۔ راشد اور میرا جی، منٹو، کرشن چندر اور اشک موجود تھے۔ استاد عبدالکریم اور استاد فیاض خان تان اڑاتے تھے۔ ڈرامہ رفیع پیر کرتے تھے۔ ہائے ری دیا، کہاں ہیں وہ لوگ! یہیں مختار کی داخلی تثلیث، لاگ، بیراگ اور راگ نے جلا پائی۔ یہیں مختار نے راگوں پر اپنی شعلہ بجاں نظمیں کہیں۔ یہ نظمیں اردو ادب میں جدید طرز احساس، روایت اور ہنر کے پختہ امتزاج کی نقیب تھیں۔ ”راگ درباری“ کی تکمیل میں ایک برس صرف ہوا۔ ”موہنجو داڑو“ اور ”ٹھٹھہ“ جیسی تخلیقات کا یہ عہد گویا ”باز یافتہ“ کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچا۔ کس خرابے میں مجھے چھوڑ گئی درباری! جنریشن زی کی مشینی ذہانت تو ’باز یافتہ‘ کا المیہ جانتی ہے اور نہ اس نے بیدی کا ’لاجونتی‘ پڑھا ہے۔ ہمارے مہربان کہتے ہیں کہ نوجوانوں کو ایڈٹ شدہ تاریخ پڑھانی چاہیے۔ ایڈٹنگ کا مطلب تاریخ کے ہاتھ پاؤں کاٹنا نہیں ہوتا۔
مختار نے جذب تمنا کے رس میں غزل کا جادو جگایا۔ وہی لگن اور ضبط کا تنا ہوا رسا، ہنر کی ریت دھرتی پر روایت کا ٹھاٹھ۔ لیکن یہ احساس بڑھتا ہی گیا کہ جن داموں یہ دنیا ملتی، اتنے ہمارے دام کہاں۔ شاعر کے دروں میں روشنی شمعوں کی، فانوسوں کی تیز ہو جائے تو درون ذات سروں کی روشنی موسیقی کی اصطلاح میں بڑھت کہلاتی ہے۔ باہر اندھیرے طویل ہونے لگتے ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہوئے اور پھر پاکستان ٹیلی ویژن میں بطور اسکرپٹ ایڈیٹر منسلک ہوئے۔ مختار ریڈیو سے ٹیلی ویژن پر چلے آئے تھے مگر دل کی پرانی لگن بے طرح لاگو ہو رہی تھی۔ ٹیلی ویژن کے بابو لوگ از قسم ضیا جالندھری، مسعود نبی نور ریڈیائی تکنیک کے استاد مختار صدیقی کا ہنر کیسے سمجھتے۔
بہت دن گزرے بلادِ لاہور سے ایک روزنامہ نکلتا تھا ”امروز“ ۔ سنہ 72 ءکا ایک پیلا ملگجا ورق ”قسمت علمی و ادبی“ سامنے رکھا ہے۔ کھلے میں ایک نستعلیق صورت تصویر، پشتے کی جانب یوسف ظفر اور منو بھائی کی تعزیتی نظمیں اور جلی حروف میں حافظ یوسف سدیدی زرتاج رقم کا فن رونق دے رہا تھا۔
حجلہ گور میں سامان عروسی ہو گا
لاش آرام سے سوئے گی سہاگن بن کر!
مختار صدیقی نے اپنی صاحبزادی کی وفات پر بے مثل نظم ”ایک تمثیل“ میں اس شعر کی تضمین کی تو میر انیس کے اس تمثال دار شعر نے حیات نو پائی۔ مختار صدیقی 18 ستمبر 1972 کو رخصت ہوئے تھے۔ گلی سے باہر تمام منظر بدل گئے ہیں مگر جاں دادۂ ہوائے سر رہ گزار مختار صدیقی ابھی چشم براہ ہے۔ ’دیکھئے، ہم کو چاہنے والے کب چاہیں! ‘ ۔
( بشکریہ : ہم سب لاہور )

