ایک زمانہ تھا جب بطور صحافی ہم کوئی بڑی خبر بریک کیا کرتے تو ہر طرف سے شاباش ملتی تھی ۔کئی دفعہ یہ بریکنگ نیوز ہمارے لئے وبال جان بھی بن جایا کرتی تھی ۔ خبر بریک کرنیوالے صحافی کا خود ایک خبر بن جانا پاکستان جیسے ملک میں ایک معمول ہے۔ صحافی کی دی ہوئی خبر سچی ثابت ہو جائے تو صرف اُسے نہیں بلکہ اُس کے ادارے اور ملک کو بھی عزت ملتی ہے لیکن اب زمانہ کافی بدل گیا ہے ۔ کوئی صحافی بریکنگ نیوز دیدے تو سب سے پہلے اُسکے اپنے ہی ساتھی اُسے جھوٹا ثابت کرنے کیلئے سرگرم ہو جاتے ہیں اور دوسری طرف سوشل میڈیا پر اُسکی ٹرولنگ شروع ہو جاتی ہے ۔ ادارے پر دباؤ آجاتا ہے اس گستاخ کا چہرہ غائب کر دیا جائے۔
پاکستان میں نہیں بلکہ دنیا بھر میں پولرائزیشن اتنی بڑھ چکی ہے کہ کسی بھی قومی یا بین الاقوامی معاملے پر صحافی کا موقف یا اُسکی خبر کسی کو پسند نہ آئے تو اُس صحافی پر طرح طرح کے الزامات لگانے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے ۔ ہر بڑی سیاسی جماعت اور اہم طاقتور اداروں نے اپنے اپنے تنخواہ دار سوشل میڈیا بریگیڈ بنا رکھے ہیں۔ بدقسمتی سے کچھ صحافی بھی ان سوشل میڈیا بریگیڈز کا حصہ بن جاتے ہیں اور ایک مخصوص سیاسی موقف کی ترجمانی شروع کر دیتے ہیں۔ ایسے ترجمانوں کی وجہ سے صحافت کو بطور پروفیشن کافی نقصان پہنچا ہے لیکن عام آدمی بڑا سمجھدار ہوتا ہے ۔ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ کون سا صحافی آزادانہ موقف رکھتا ہے اور کون سا صحافی کسی سیاسی جماعت، حکومت یا ادارے کا غلام ہے۔ قومی مفاد کے نام پر فیک نیوز پھیلانے والوں کو طاقتور لوگوں سے شاباش تو مل جاتی ہے لیکن وہ عوام الناس کی پذیرائی سے محروم رہتے ہیں۔ آج کے دور میں کسی صحافی کی سب سے بڑی طاقت اسکی وہ ساکھ ہے جو اُسے عوام الناس سے ملتی ہے۔ یہ ساکھ ریٹنگ سے نہیں ملتی۔ ریٹنگ پر دھاندلی ہو سکتی ہے لیکن خلق خدا کوبے وقوف بنانا مشکل ہے۔ عوام کا اعتمادلانگ ٹرم ہوتا ہے۔ ریٹنگ شارٹ ٹرم ہوتی ہے۔ جو صحافی سچ کیساتھ کھڑا ہونیکی ہمت شروع کردے عوام اس پر اعتماد کرتے ہیں۔ وہ صحافی اگر اخبار کے صفحات یا ٹی وی اسکرین سے غائب بھی ہو جائے تو اُسے فرق نہیں پڑتا کوئی بھی حکومت یا سیاسی جماعت کسی صحافی سے وہ عزت نہیں چھین سکتی جو اسے اپنے قارئین یا ناظرین سے ملتی ہے۔
اِسکی ایک بڑی مثال امریکی صحافی ٹکر کارلسن کی ہے۔ آپ ٹکر کارلسن کی رائے یا تجزیے سے اختلاف کر سکتے ہیں لیکن اس اختلاف کے باوجود آپ کو اعتراف کرنا پڑے گا کہ ٹکر کارلسن سچ کو سچ کہنے کی ہمت رکھتاہے۔ پہلے وہ سی این این سے وابستہ تھا ۔ پھر سی این این سے فاکس نیوز چلا گیا۔ اُسے سچ بولنے کی وجہ سے یہ ادارے چھوڑنے پڑے ۔ کبھی وہ ٹرمپ کا بہت بڑا سپورٹر تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ اُسے بہت پسند کرتے تھے لیکن ٹرمپ کو قریب سے دیکھنے کے بعد ٹکر کارلسن نے اُن پر تنقید شروع کردی۔ اُسکا بیٹا وائس پریذیڈنٹ جے ڈی وینس کا ڈپٹی پریس سیکرٹری ہے لیکن ٹکر کارلسن نے اپنے بیٹے کے باس کو بھی کبھی نہیں بخشا۔ ایران کیخلاف حالیہ جنگ کے دوران ٹکر کارلسن نے صرف ٹرمپ پر نہیں بلکہ جے ڈی وینس پر بھی سخت تنقید کی ۔ پچھلے دنوں ٹرمپ نے ٹکر کارلسن کیخلاف سوشل میڈیا پر کھل کر تنقید کی۔ ٹرمپ کے حامیوں نے ٹکر کارلسن کیخلاف غداری کا مقدمہ بنانے کیلئے سوشل میڈیا پر باقاعدہ مہم چلائی لیکن ابھی تک ٹکر کارلسن پر غداری کا مقدمہ نہیں بنا۔ ایسا کوئی جھوٹا مقدمہ بن بھی جائے تو امریکی عوام کی اکثریت ٹرمپ کے مقابلے پر ٹکر کارلسن کو سپورٹ کرئیگی ۔ ٹکر کارلسن پر کوئی جھوٹا مقدمہ بنانے کا دباؤ بدستور موجود ہے مجھے یقین ہے کہ امریکا کی طاقتور عدلیہ ایسے مقدمے کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دئیگی۔ اب ذرا اُن صحافیوں کے بارے میں سوچیے جن پر جھوٹا مقدمہ بن جائے تو ان کے اپنے ہی ملک کی عدلیہ کے جج جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کیلئے سرگرم ہو جاتے ہیں ۔ پاکستان جیسے ممالک میں سوشل میڈیا پر جھوٹے الزامات لگانے والوں کے خلاف قوانین بنائے جا چکے ہیں لیکن یہ قوانین صرف طاقتور لوگوں کے مفادات کو محفوظ بنانے کیلئے استعمال کئے جاتے ہیں ۔ 12 اپریل کو اتوار کا دن تھا۔ اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے تاریخی مذاکرات کے بعد دونوں ممالک کے وفود واپس روانہ ہو گئے تو کچھ دیر میں ہی مجھے پتہ چل چکا تھا کہ یہ مذاکرات ناکام نہیں ہوئےبلکہ دوبارہ شروع ہوں گے۔ سارا انٹر نیشنل میڈیا ان مذاکرات کو ناکام قرار دے رہا تھا لیکن میری خبر کچھ اور تھی۔ کئی غیر ملکی صحافی ان مذاکرات کی ناکامی پر میرا موقف جاننا چاہتے تھے لیکن جب میں انہیں کہتا کہ یہ مذاکرات دوبارہ ہونگے تو وہ ہنس کر ٹال دیتے ۔کئی گھنٹے تک تہران اور واشنگٹن کے علاوہ چین کی حکومت سے قربت رکھنے والے غیر سرکاری ذرائع کے ساتھ مغز ماری کے بعد مجھے یقین ہو گیا تھا کہ امریکا اور ایران مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ ضرور ہو گا اور یہ راؤنڈ پاکستان میں ہو گا ۔
پاکستان کے سرکاری ذرائع بہت محتاط تھے ۔ وہ چاہتے تھے کہ ہم اس معاملے پر کوئی خبر نہ دیں کیونکہ یہ تاثر ابھر سکتا تھا کہ خبر کا سورس پاکستانی ذرائع ہیں اور پاکستانی میزبان ایسے تاثر سے دور رہنا چاہتے تھے ۔ ایک طرف سوشل میڈیا پر پاکستانی صحافیوں کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ ان کی رپورٹنگ کا معیار بڑا ہی پست تھا ۔ دوسری طرف ہمارے پاس ایک بڑی خبر موجود تھی لیکن خطرہ یہ تھا کہ خبر بریک ہوتے ہی ایک طوفان آ جائیگااور ایسا نہ ہو کہ امریکی اور ایرانی حکومت کے ساتھ ساتھ پاکستانی حکومت بھی خبر کی تردید کر دے ۔ ٹرمپ نے بھی ایران کو دوبارہ دھمکیاں دینی شروع کر دیں لہٰذا میری خبر پر یقین کرنا واقعی بہت مشکل تھا۔ جیو نیوز میں اپنے کئی ساتھیوں سے صلاح مشورے کے بعد شام ساڑھے سات بجے فیصلہ ہوا کہ خبر کو بریک کر دیا جائے۔ اتوار کی شام سوا آٹھ بجے کے قریب شہزاد اقبال صاحب کے شو” نیا پاکستان ” سے علی تنولی کا فون آیا کہ آپ کے ساتھ بات کرنی ہے۔ اور پھر کچھ دیر میں شہزاد اقبال صاحب سے گفتگو میں یہ خبر بریک ہوئی کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے ایک اور راؤنڈ پر اتفاق ہو چکا ہے اور امکان ہے کہ دوسرا راؤنڈ بھی اسلام آباد میں ہوگا۔ رات نو بجے جیو نیوز کے بلیٹن میں بھی یہ خبر ہیڈ لائن بن گئی اور پھر سوشل میڈیا پر ہماری ٹرولنگ شروع ہو گئی – سب سے زیادہ مذاق بھارتی میڈیا نے اُڑایا۔ ایک ایرانی صحافی نے مجھے بتایا کہ کچھ بھارتی ٹی وی چینلز تہران میں وزارتِ خارجہ کے اعلیٰ حکام سے اس خبر کی تردید کرانے کی کوشش میں ہیں لیکن یہاں سب خاموش ہیں۔ یہ رات بڑی بھاری تھی۔ میں فون بند کر کے سو گیا۔ صبح اُٹھا تو بھارتی صحافی نیروپوما سبرامنین کا میسج آیا ہوا تھا کہ دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی آپ کا انٹرویو کرنا چاہتی ہیں۔ نیروپوما ایک امن پسند انسان ہے میں انہیں انکار نہیں کر سکا۔ اس انٹرویو میں عارفہ صاحبہ اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی کی وجوہات پوچھ رہی تھیں اور میں اصرار کر رہا تھا کہ مذاکرات دوبارہ ہوں گے۔ انکے لئے مجھ پر یقین کرنا مشکل ہو رہا تھا۔ 13 اپریل کو پیر کی شب جیونیوز پر کیپٹل ٹاک میں ایک دفعہ پھر جب اس خاکسار نے بڑے اعتماد سے کہا کہ امریکا اور ایران کے مذاکرات دوبارہ ہونے والے ہیں تو کچھ امریکی صحافیوں نے واشنگٹن میں اپنے ذرائع کو کریدنا شروع کیا۔ پیر کی رات جب تہران اور واشنگٹن سے یہ خبریں نکلنا شروع ہوئیں کہ مذاکرات دوبارہ ہونگے اور اسی ہفتے ہونگے تو کچھ پاکستانی ذرائع اس خبر کی تردید کرنے لگے۔ آخر کار منگل کو ڈونلڈ ٹرمپ نے خود ہی ایک امریکی صحافی کو بتا دیا کہ ہم ایران سے دوبارہ مذاکرات کریں گے اور پاکستان میں کریں گے ۔ ذرا سوچیے! وہ صحافی کتنے خوش قسمت ہوتے ہیں جن کو بریکنگ نیوز صدر اور وزیر اعظم سے مل جاتی ہے۔ بہرحال میں نے اور میرے ساتھوں نے اللّٰہ کا شکر ادا کیا کہ ہماری خبر کی تصدیق ٹرمپ نے خود کر دی۔ اس بریکنگ نیوز کی کہانی اتنی مختصر نہیں ہے جتنی میں نے بتائی ہے۔ اس پر ایک پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ جب یہ مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچیں گے تو اس بریکنگ نیوز کی پوری کہانی آپکے سامنے ضرور لائیں گے۔
( بشکریہ : روزنامہ جنگ )
فیس بک کمینٹ

