کابل میں طالبان کی حکومت قائم ہے جو انہیں 2021 میں امریکہ کے ساتھ دوحہ معاہدے کے نتیجہ میں حاصل ہوئی تھی لیکن طالبان کے انتہا پسند عناصر نے اقتدار ملنے کے بعد اس معاہدے یا دیگر عالمی قواعد و ضوابط کو ماننے کی بجائے اپنی پرانی ڈگر برقرار رکھی۔

مل کی یونین کا دعویٰ ہے کہ ایک سو تینتیس لاشیں تو انہوں نے اٹھائیں ان کے علاوہ بھی درجنوں سائیکل تھے جو کوئی لینے نہ آیا، یہ وہ دور تھا کہ ملتان میں امروز اخبار تھا جو ولی محمد واجد، سعید صدیقی احمر ، مظہرعارف اور حشمت وفا جیسے مزاحمت کاروں کے ذریعے اس قتلِ عام کی خبریں دے رہا تھا۔ تب جی ٹی ایس، کھاد فیکٹری اور دیگر اداروں میں فعال انجمنیں تھیں جس کی وجہ سے یوم مئی پر طالب علم ، استاد اور وکیل خطاب کرتے تو فیض اور جالب ہی نہیں استاد دامن بھی ان کے ترجمان ہو جاتے

زیادہ پڑھے جانے والی تحاریر