12 دسمبر 2019 کو محفوظ کیا گیا فیصلہ 21 دسمبر 2019 کو سنایا گیا، جس میں عدالت نے جنید حفیظ کو سزائے موت کا حکم دیا تھا۔
12 دسمبر 2019 کو محفوظ کیا گیا فیصلہ 21 دسمبر 2019 کو سنایا گیا، جس میں عدالت نے جنید حفیظ کو سزائے موت کا حکم دیا تھا۔
ہم نے ایک ایسی جمہوریت بنا لی جس میں ووٹ دینے کا حق تو محفوظ ہے مگر جن چیزوں پر ووٹ دیا جاتا ہے، وہ بیلٹ باکس سے باہر منتقل ہو چکی ہیں۔ فرمانبردار شاہ کا سوال یہی تھا کہ اگر میرا ووٹ اُس جگہ تک نہیں پہنچتا جہاں میرا بجلی کا بل بنتا ہے، تو میرا ووٹ ہے کیا؟
انتخابی اعتبار سے یہ جماعت 2002 کے علاوہ کبھی مؤثر ثابت نہیں ہوئی۔ 1970 کی دہائی میں قائم ہوئی پارلیمان میں البتہ حزب مخالف کی صفوں میں بیٹھے اس کے چند رہ نماؤں نے بھٹو حکومت کو پریشان رکھا۔
