ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان’ کے مطابق، اس سال اب تک درج ہونے والے توہینِ مذہب کے کیسز کی تعداد گھٹ کر صرف 13 رہ گئی ہے، جو حالیہ سالوں کے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً دو تہائی کم ہے۔
​تنازعات پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ ‘آرمڈ کنفلکٹ لوکیشن اینڈ ایونٹ ڈیٹا’ کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، جہاں 2021 سے 2024 کے درمیان پاکستان میں توہینِ مذہب کے نام پر سالانہ اوسطاً 7 سے زائد پرتشدد واقعات یا حملے ہوتے تھے، وہیں گزشتہ 12 مہینوں میں صرف ایک ایسا واقعہ رپورٹ ہوا ہے۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان’ کے مطابق، اس سال اب تک درج ہونے والے توہینِ مذہب کے کیسز کی تعداد گھٹ کر صرف 13 رہ گئی ہے، جو حالیہ سالوں کے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً دو تہائی کم ہے۔
​تنازعات پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ ‘آرمڈ کنفلکٹ لوکیشن اینڈ ایونٹ ڈیٹا’ کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، جہاں 2021 سے 2024 کے درمیان پاکستان میں توہینِ مذہب کے نام پر سالانہ اوسطاً 7 سے زائد پرتشدد واقعات یا حملے ہوتے تھے، وہیں گزشتہ 12 مہینوں میں صرف ایک ایسا واقعہ رپورٹ ہوا ہے۔

آج کے پاکستان میں بھی وفاقی اکائیوں میں اعتماد کا بحران، وسائل کی تقسیم، فیصلہ سازی میں شمولیت اور نادیدہ حکمران قوتوں میں غیر متناسب نمائندگی سے تعلق رکھتا ہے۔ یہی صورت مشرقی پاکستان میں تھی۔ سات کروڑ بنگالیوں پر چون ہزار کی نفری کیسے قابو پا سکتی تھی جبکہ لڑنے والا سپاہی مقامی زبان جانتا تھا اور نہ جغرافیے سے آشنا تھا۔

مسلم لیگ ن کو اس کھلبلی میں کوئی کلیئر پوزیشن لینی ہوگی، ورنہ پریشانیاں بڑھیں گی۔ عمران خان کو ملنے والا ریلیف فی الحال صرف ایک عدالتی فیصلہ ہے لیکن مسلم لیگ (ن) کے ایک سینیٹر نے اس عدالتی فیصلے کے پیچھے کسی سازش کی تلاش شروع کردی ہے۔ سینیٹر صاحب سے گزارش ہے کہ ہر جج کو ارشد ملک نہ سمجھیں۔ ہر جج کی ویڈیو نہیں بن سکتی۔

زیادہ پڑھے جانے والی تحاریر