آئزن کوٹ نے کہا کہ ’عوام نے نیتن یاہو کی مسلسل حکمرانی کے خلاف اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اتنے زیادہ ووٹر ٹرن آؤٹ کے بعد ملک کو ایک اور انتخابی عمل میں دھکیلنا مناسب نہیں ہوگا۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق دسمبر 2025 میں ویڈیو فوٹیج کی فرانزک جانچ اور ملزمان کی شناخت کی تصدیق کے لیے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی اور نادرا سے رپورٹس طلب کی گئی تھیں، جبکہ مارچ 2026 میں فرانزک رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی۔
وہ 8 زبانیں مکمل مہارت سے جانتے تھے، 8 زبانیں روانی سے اور 12 زبانوں میں مناسب دسترس رکھتے تھے
1947 کے فسادات میں لاہور میں انقلاب کے دفتر پر حملہ ہو گیا۔ اخبار بند ہو گیا۔ شورش کاشمیری نے ’چٹان‘ کے دفتر میں اُنہیں ’انقلاب‘ کا دفتر کھول دیا۔ لیکن یہ اخبار 1949 میں پھر بند ہو گیا کیونکہ حکومت وقت خلاف تھی۔
