صدر مسود پزشکیان کی یہ تجویز ہی بہترین ہے کہ ایران کا مفاد سفارت کاری کے ذریعے باعزت معاہدہ کرنے میں ہی مستور ہے۔ بدقسمتی سے تہران میں اس اصول پر اتفاق رائے دکھائی نہیں دیتا۔ اور بادی النظر میں اسرائیل کا جنگجو وزیر اعظم اور ایران کے عسکریت پسند پاسداران ایک ہی مقصد کے لیے حالات خراب کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

براک او باما واحد امریکی صدر ہیں جن سے براہ راست پوچھا گیا کہ آیا اسرائیل کے پاس جوہری ہتھیار ہیں یا نہیں۔ براک او باما نے اس سوال کے جواب میں بس اتنا کہا کہ ’ میں قیاس آرائیوں پر تبصرہ نہیں کرتا۔ (اسٹاک ہوم پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے پاس سو سے پونے دو سو تک جوہری ہتھیار ہیں)۔

زیادہ پڑھے جانے والی تحاریر