ڈی پی او کے مطابق چونکہ ملزم مقتولہ کے شوہر تھے، اس لیے ڈی این اے ٹیسٹ کو اس کیس میں ضروری نہیں سمجھا گیا۔
انھوں نے بتایا کہ پولیس نے مقدمہ درج کرنے میں تاخیر پر متعلقہ تھانے کے ایس ایچ اوز کے خلاف مقدمہ درج کر کے انھیں حوالات میں بند کیا گیا جبکہ سب ڈویژنل پولیس افسر کو بھی معطل کر دیا گیا۔

یہ طے نہیں کرپارہا کہ امریکہ اور ایران مک مکا کی جانب بڑھ رہے ہیں یا جنگ کے ایک رائونڈ کا آغاز ہوچکا ہے۔ ذہن میں موجود کنفیوڑن سے شرمندہ ہوں کر ہذیانی کیفیت میں مبتلا ہوا یہ کالم گھسیٹ مارا ہے۔ کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔

زیادہ پڑھے جانے والی تحاریر