کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ ’حکومت کی جانب سے تنظیم کے دیگر مطالبات بھی تسلیم کیے جانے کے بعد احتجاج ختم کیا جا رہا ہے۔‘
ترجمان کے مطابق حکومت کی جانب سے مطالبات منظور کیے جانے کے بعد تنظیم نے اپنا احتجاج باضابطہ طور پر واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
دوسری جانب پارلیمنٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف راہول گاندھی نے انڈیا کے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کو ’تعلیمی نظام کی اصلاح کی جانب ایک بڑا قدم‘ قرار دیا ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ ’حکومت کی جانب سے تنظیم کے دیگر مطالبات بھی تسلیم کیے جانے کے بعد احتجاج ختم کیا جا رہا ہے۔‘
ترجمان کے مطابق حکومت کی جانب سے مطالبات منظور کیے جانے کے بعد تنظیم نے اپنا احتجاج باضابطہ طور پر واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
دوسری جانب پارلیمنٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف راہول گاندھی نے انڈیا کے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کو ’تعلیمی نظام کی اصلاح کی جانب ایک بڑا قدم‘ قرار دیا ہے۔
فقہی اصول کے مطابق انسانی اعضا اور بافتوں کی خرید و فروخت عام حالات میں جائز نہیں سمجھی جاتی۔ البتہ اگر جان بچانے یا شدید بیماری کے علاج کے لیے کوئی ناگزیر طبی ضرورت ہو اور اس کا متبادل موجود نہ ہو تو بعض فقہا نے ضرورت کے اصول کے تحت محدود گنجائش بیان کی ہے۔ اسی لیے انسانی پلیسینٹا کا معاملہ صرف طب کا نہیں بلکہ اخلاقیات، قانون اور شریعت کا بھی موضوع ہے۔
اس دیس میں لکھنے والوں کیلئے یہ کچھ خوشگوار دن نہیں ہیں۔ کہنے کی باتیں قلمی احتساب کی زد میں آ جاتی ہیں۔ اگر کوئی کٹ پھٹا جملہ باقی بچتا ہے تو اسے پڑھنے والوں کی بے سمت تلخ کامی لے ڈوبتی ہے۔
