صباح نے بتایا کہ حنا بہت محنتی بھی تھیں۔ انھوں نے تقریباً 15 سال تک قومی اسمبلی میں کام کیا اور اپنے کام کے لیے بہت سنجیدہ اور پُرعزم تھیں۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان’ کے مطابق، اس سال اب تک درج ہونے والے توہینِ مذہب کے کیسز کی تعداد گھٹ کر صرف 13 رہ گئی ہے، جو حالیہ سالوں کے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً دو تہائی کم ہے۔
تنازعات پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ ‘آرمڈ کنفلکٹ لوکیشن اینڈ ایونٹ ڈیٹا’ کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، جہاں 2021 سے 2024 کے درمیان پاکستان میں توہینِ مذہب کے نام پر سالانہ اوسطاً 7 سے زائد پرتشدد واقعات یا حملے ہوتے تھے، وہیں گزشتہ 12 مہینوں میں صرف ایک ایسا واقعہ رپورٹ ہوا ہے۔
ہم دنیا کو بتا رہے ہوتے ہیں کہ ہم کیا سوچتے ہیں، کس چیز کو اہم سمجھتے ہیں اور اختلاف کے وقت ہمارا ظرف کتنا ہے۔ اس لیے پوسٹ کرنے سے پہلے صرف یہ نہ سوچیں کہ لوگ اسے کتنا پسند کریں گے؛ یہ بھی سوچیں کہ لوگ اسے پڑھ کر ہمیں کیسا انسان سمجھیں گے۔ کیونکہ سوشل میڈیا پر ہم صرف الفاظ شیئر نہیں کرتے، اپنا کردار بھی شیئر کرتے ہیں۔
22 اگست 1978 کی گونج نکاراگوا کی سرحدوں سے کہیں آگے تک سنائی دیتی ہے۔ یہ سبق دیتی ہے کہ جب مظلوم اقوام کو تمام قانونی راستوں سے محروم کر دیا جائے، تو ان کے پاس ریاست کے جبر و تشدد کا مقابلہ شجاعانہ، نظم و ضبط سے آراستہ قوت سے کرنے کا پورا حق ہے، لیکن ہمیشہ عوام کے مفاد کو ہی اپنا قطب نما بنا کر۔
