مقامی صحافی فرحان طارق کے مطابق مظفرآباد لوئر پلیٹ میں حالات کشیدہ رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’لوئر پلیٹ، چہلہ بانڈی اور اپر اڈہ میں کئی لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ دکانیں بند، سیاسی جماعتوں کے پوسٹرز اتار کر آگ لگائی گئی۔ مظاہرین کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں۔‘

ترجمان ریسکیو 1122 بلال فیضی کے مطابق نو افراد کی لاشیں سینٹرل ہسپتال سیدو شریف جبکہ کبل ہسپتال نے پانچ ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے مطابق دھماکہ خودکش تھا۔ اُن کے بقول بہادر پولیس جوانوں نے جان دے کر خودکش بمبار کو تھانے کے اندر جانے سے روکا۔

حکومت کے تصور میں ہی نہیں تھا کہ کوئی نسل ایسی بھی نمودار ہو سکتی ہے جو پولیس سے خود پوچھے انکل اگلا لاٹھی چارج کب کرو گے ، انکل آنسو گیس کا ایک گولا اور چلاؤ نا۔ انکل مزہ نہیں آ رہا دو چار لاٹھیاں اور مارو۔

یادش بخیر روزنامہ جنگ کے ایڈیٹر سہیل وڑائچ نے جب موجودہ حکومت کے دن گنے جانے کی پیش گوئی پر مشتمل کالموں کی سیریز لکھی تھی تو اس وقت سہیل وڑائچ سے ذاتی دوستی کے باوجود محسن نقوی نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ وہ اب ’ناکارہ‘ ہوچکے ہیں، اس لیے انہیں ریٹائر ہوجانا چاہئے۔ اس وقت یہ تاثر سامنے آیا تھا کہ محسن نقوی شاید مستقبل کا وزیر اعظم بننے کی خواہش میں موجودہ نظام کی ’حفاظت‘ کے لئے سینہ سپر ہورہے ہیں۔ البتہ اب انہوں نے خود اس نظام کے ’ڈھیر‘ ہونے کی خبر دی ہے۔

زیادہ پڑھے جانے والی تحاریر