ڈسٹرکٹ پولیس افسر جنوبی وزیرستان لوئر طاہر شاہ وزیر کے مطابق یہ دھماکہ اعظم ورسک بازار کے قریب پیش آیا، جس میں زیادہ تر عام شہری متاثر ہوئے۔
ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال وانا کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ جان محمد شنواری نے بی بی سی کو بتایا کہ ہسپتال میں 14 زخمیوں کو لایا گیا ہے، جن میں سے تین سے چار زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ تمام زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ زخمیوں میں تین بچے بھی شامل ہیں۔

ڈسٹرکٹ پولیس افسر جنوبی وزیرستان لوئر طاہر شاہ وزیر کے مطابق یہ دھماکہ اعظم ورسک بازار کے قریب پیش آیا، جس میں زیادہ تر عام شہری متاثر ہوئے۔
ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال وانا کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ جان محمد شنواری نے بی بی سی کو بتایا کہ ہسپتال میں 14 زخمیوں کو لایا گیا ہے، جن میں سے تین سے چار زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ تمام زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ زخمیوں میں تین بچے بھی شامل ہیں۔

آخر میں حقیقت صرف اتنی ہے کہ مصنوعی ذہانت نہ دشمن ہے، نہ نجات دہندہ۔ یہ ایک طاقت ہے، اور طاقت ہمیشہ اپنے استعمال سے پہچانی جاتی ہے۔ اگر اسے انصاف، دیانت اور انسانیت کے ساتھ استعمال کیا گیا تو یہ دنیا بدل سکتی ہے۔ اگر اسے جھوٹ، لالچ، نفرت اور تباہی کے لیے استعمال کیا گیا تو نتائج خطرناک ہوں گے۔
یاد رکھنا چاہیے، مشین جواب دے سکتی ہے، مگر ضمیر، احساس، حکمت اور ذمہ داری آج بھی انسان کے پاس ہے۔

1982ء میں انھوں نے ملتان میں “فاران اکیڈمی” کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس ادبی پلیٹ فارم کا مقصد پاکستانی ادب اور قومی فکر کے تناظر میں ایک متبادل علمی آواز پیدا کرنا تھا۔ اس ادارے کے ذریعے کئی نوجوان ادیبوں اور شاعروں کی تربیت ہوئی، جنہوں نے بعد ازاں ملکی ادب میں اپنا مقام بنایا۔
ان کی تصانیف میں “خیال و نظر”، “تناظرات”، “پاکستانی ادب کا منظرنامہ”، “سرائیکی نقد و ادب”، “دل و نظر کا سفینہ” اور سفرنامۂ حج “سجدہ ہر ہر گام کیا” شامل ہیں۔

زیادہ پڑھے جانے والی تحاریر