ہمیں ابلیسی نمائندے احساس دلا رہے ہیں کہ اب تم خدا کے صاحب الرائے نائب نہیں ہو اب تمہیں اپنے ہونے کی شناخت کے لیے اپنا نظریہ قربان کرنا ہوگا۔۔آپ میں سے بھی بیشتر لوگ اپنے نظریے کو سمجھوتے کے جزدانوں میں رکھ چکے ہیں ۔۔بہت سے عظیم تحریری ورثے ابلیسی خداؤں نے مٹا دیے ۔۔خود میرے بہت سے کلام جنہیں صرف ٹائپ شدہ حالت میں رکھ کر بے فکر تھی کہ محفوظ ہیں ۔۔اور کچھ قیمتی کلام جو ریلیز بھی ہوئے مگر اغوا کاروں کے عزائم سے متصادم تھے انہیں بھی بے صدا کر دیا گیا۔۔

ترجمان کراچی پولیس کے مطابق کراچی پولیس چیف آزاد خان کے حکام پر معاملے کی شفاف انکوائری کی جائے اور ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
کراچی پولیس چیف نے ہدایت جاری کی ہین کہ آئندہ ایسے واقعات سے بچنے کیلئے پیشہ ورانہ طرز عمل اور شہریوں کے آئینی حقوق کا مکمل خیال رکھا جائے۔

پاکستان میں گزشتہ سال بھارت کے ساتھ ہونے والی جنگ یا جھڑپوں کی سالگرہ دھوم دھام سے منائی جارہی ہے۔ شہروں میں عسکری قیادت کے بینر لگائے گئے ہیں اور بڑے بڑے کمرشل ادارے اشتہارات میں افواج پاکستان کی بہادری کا ذکر کرتے ہوئے، ان کا شکریہ ادا کررہے ہیں۔ ایک غریب ملک میں کسی جنگ کو گلوری فائی کرنے کا یہ رویہ ناقابل فہم اور افسوسناک ہے۔

گزشتہ دنوں چارسدہ کے نامور عالم دین مولانا شیخ محمد ادریس کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا۔ شیخ محمد ادریس خیبر پختو نخوا اسمبلی کے سابق رکن تھے۔ وہ عسکریت کی بجائے سیاسی جدو جہد کے قائل تھے ۔ کچھ عرصہ سے انہیں دھمکیاں دی جا رہی تھیں کہ وہ جمہوریت اور آئین کی حمایت چھوڑ دیں ۔ اُن کے کچھ شاگرد بھی اُن سے پوچھتے تھے کہ جس جمہوریت میں انصاف نہ ہو اور جس آئین کو طاقتور لوگ اپنی مرضی کے مطابق استعمال کریں، اس جمہوری نظام کی حمائت کا کیا فائدہ ؟ شیخ محمد ادریس نے دھمکیوں کے باوجود سیاسی و جمہوری جدوجہد کی حمایت جاری رکھی اور آخر کار گولیوں کا نشانہ بن گئے۔

زیادہ پڑھے جانے والی تحاریر