ماہرین اور سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ نریندر مودی کو اپنی وزارت عظمی کے 12 برس میں پہلی بار حقیقی عوامی احتجاج کا سامنا ہورہا ہے ۔ اس احتجاج میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔
ازراہ تفنن کہا گیا ایک فقرہ اب بھارتی سیاست کی ایک ایسی حقیقت بن چکا ہے جو نریندر مودی کی طاقت ور کرسی کوہلا سکتی ہے۔ لگتا ہے ملک کے سب’ کاکروچ ‘ اب جمع ہورہے ہیں۔

جب اُن کا اپنا انتقال ہوا تو سینکڑوں لوگوں میں سے کوئی بھی ایک شخص ایسا نہ تھا کہ جس کو ہم پروفیسر شوکت مغل کا متبادل جان کر اُس سے افسوس کرتے! اس خطے میں اپنے تحقیقی اور تنقیدی کام کے حوالے سے ایک ہی نام پروفیسر شوکت مغل کا تھا جس نے کئی اداروں کا اکیلے بیٹھ کر کیا۔

زیادہ پڑھے جانے والی تحاریر