ریپبلکن عملے کے ایک رکن نے مجھے پیغام بھیجا: ’یہ میری توقع سے کہیں زیادہ برا ثابت ہوا ہے۔ یہ ایک تباہی ہے۔‘
ایک اور ریپبلکن ذریعے کے مطابق آئندہ چند گھنٹوں اور دنوں میں پارٹی کے اندر اس بات پر ’گہری خود احتسابی‘ ہو گی کہ آخر غلطی کہاں ہوئی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ جعلی نوٹوں کی روک تھام کیلئے سیکیورٹی فیچرز بڑھانے کے ساتھ ساتھ جدید میٹریل کا استعمال کیا جائیگا جس سے نوٹوں کی استعمال کی معیاد میں بھی اضافہ ہوگا۔
لڑکپن چیئرمین ماؤ کی سرخ کتاب کے افسوں میں بسر کیا ہے۔ تب ہمیں عظیم جست، 1962 کے قحط اور ثقافتی انقلاب کی خبر کیسے ہوتی۔ ہمیں تو یہ یاد ہے کہ ماؤزے تنگ سے آخری ملاقات کا شرف ہمارے ’انقلابی رہنما‘ ذوالفقار علی بھٹو کو حاصل ہوا تھا۔
حیوانِ ناطق کہلاتا انسان فطری طورپر ریوڑ میں رہنے کا عادی ہے اور اپنے مخالف ریوڑ کو ہر صورت تھلے لگانے کو بے تاب رہتا ہے۔
