ریپبلکن عملے کے ایک رکن نے مجھے پیغام بھیجا: ’یہ میری توقع سے کہیں زیادہ برا ثابت ہوا ہے۔ یہ ایک تباہی ہے۔‘
ایک اور ریپبلکن ذریعے کے مطابق آئندہ چند گھنٹوں اور دنوں میں پارٹی کے اندر اس بات پر ’گہری خود احتسابی‘ ہو گی کہ آخر غلطی کہاں ہوئی۔

وائٹ ہاؤس اب بھی ٹرمپ کے پاس ہے، لیکن کانگریس میں انہیں اپنی بڑی ترجیحات کے لیے پہلے سے زیادہ سوالات، مزاحمت اور مذاکرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہی وہ موڑ ہے جہاں امریکی جمہوریت، اداروں کی خودمختاری اور سیاسی برداشت کا امتحان شروع ہوتا ہے۔

لڑکپن چیئرمین ماؤ کی سرخ کتاب کے افسوں میں بسر کیا ہے۔ تب ہمیں عظیم جست، 1962 کے قحط اور ثقافتی انقلاب کی خبر کیسے ہوتی۔ ہمیں تو یہ یاد ہے کہ ماؤزے تنگ سے آخری ملاقات کا شرف ہمارے ’انقلابی رہنما‘ ذوالفقار علی بھٹو کو حاصل ہوا تھا۔

زیادہ پڑھے جانے والی تحاریر