تحریک عدم اعتماد اگر کامیاب ہوتی ہے تو اسپیکر کی جانب سے نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے شیڈول جاری کیا جائے گا۔
پاکستان کے آئین میں گورنر کی جانب سے بھی وزیراعلیٰ سے اعتماد کا ووٹ لینے کا ذکر ہے، آرٹیکل 130 کے سب کلاس 7 کے مطابق گورنر محسوس کرتے ہیں کہ وزیراعلی ایوان میں اکثریت کھوچکے ہیں تو ففتھ شیڈول کے مطابق وزیراعلیٰ ایوان میں اپنی عددی برتری ثابت کریں گے۔ مکمل خبر کا لنک پہلے کمینٹ میں موجود ہے ۔
تحریک عدم اعتماد اگر کامیاب ہوتی ہے تو اسپیکر کی جانب سے نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے شیڈول جاری کیا جائے گا۔
پاکستان کے آئین میں گورنر کی جانب سے بھی وزیراعلیٰ سے اعتماد کا ووٹ لینے کا ذکر ہے، آرٹیکل 130 کے سب کلاس 7 کے مطابق گورنر محسوس کرتے ہیں کہ وزیراعلی ایوان میں اکثریت کھوچکے ہیں تو ففتھ شیڈول کے مطابق وزیراعلیٰ ایوان میں اپنی عددی برتری ثابت کریں گے۔ مکمل خبر کا لنک پہلے کمینٹ میں موجود ہے ۔
1954 ء میں غیر جمہوری قوتوں کے دباؤ میں آکر وزیر اعظم نے دستور ساز اسمبلی کو برخواست کر کے نئی کابینہ بنائی ،جس میں میجر جنرل سکندر مرزا ، جنرل ایوب خان اور صنعتکار ایم ایم اصفہانی کو کابینہ میں شامل کیا گیا۔مولوی تمیز اُلدین نے دستور ساز اسمبلی کی برخواستگی کے حکومتی فیصلے کو سندھ ہائی کورٹ میں چلینج کیا، یہ مقدمہ تمیز اُلدین خان بنام وفاق پاکستان کے نام سے مشہور ہوا۔
ڈاکٹر صاحب نے اپنا نام بتاتے ہوئے کہا۔ "میں ایک بنگالی مسلمان ہوں” فوجی افسر نے طنزیہ لہجے میں کہا ـ” کیاکوئی بنگالی مسلمان ہو سکتا ہے؟” اس کے بعد انہوں نے ڈاکٹر صاحب کو بندوق کے نشانے پر رکھ لیا،اُسی وقت ڈاکٹر صاحب کی چھوٹی بیٹی اُن کو بچانے کے لیے اُن کے سامنے کھڑی ہوئی ،فوجیوں نے گھر کے اندر باہر ہر کونے میں دل کھول کر لوٹ مار کی ، پھر افراد خانہ کو خوف وہراس اور شدید اذیت میں مبتلا کرکے چلے گے۔
