سیاسی و انتظامی حلقوں میں اس ممکنہ تبدیلی کو خیبر پختونخوا کی مجموعی صورتحال اور صوبے میں گورنر راج کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
سیاسی و انتظامی حلقوں میں اس ممکنہ تبدیلی کو خیبر پختونخوا کی مجموعی صورتحال اور صوبے میں گورنر راج کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
کسی صوبائی حکومت کو یہ حق نہیں دیا جاسکتا کہ وہ حالت جنگ میں ایک ایسے ملک کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرے جس کے ساتھ پاکستان اس وقت برسر پیکار ہے۔ یا ایسے عناصر کو تحفظ دینے کے لیے مؤقف اختیار کرے جو مسلح افواج کے خلاف تشدد میں مصروف ہوں۔ بدقسمتی سے سہیل آفریدی خود اپنی حکومت کے خلاف وفاق کا مقدمہ مضبوط کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔
ایمرجنسی یا گورنر راج کا نفاذ وقتی طورپر فقط تحریک انصاف کو دھچکا لگاتا نظر آئے گا۔ سیاست کا دیرینہ شاہد ہوتے ہوئے مصر رہوں گا کہ بتدریج ہماری سب سیاسی جماعتیں اس کے منفی اثرات سے خود کو محفوظ نہیں رکھ پائیں گی۔مکمل کالم کا لنک پہلے کمینٹ میں موجود ہے ،
