ان کے مطابق ’’بلوچستان میں یہ جان بوجھ کر یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ وہاں حالات انتہائی خراب ہیں اور صوبہ ہاتھ سے نکل رہا ہے۔‘
ان کے مطابق ’’بلوچستان میں یہ جان بوجھ کر یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ وہاں حالات انتہائی خراب ہیں اور صوبہ ہاتھ سے نکل رہا ہے۔‘
آج کل کا شہزادہ چائے ختم ہوتے ہی شاہانہ انداز میں آئی فون نکالے گا۔ سکرین پر انگلیاں نچاتے ہوئے کہےگا۔کیش نہیں ہے بھائی، QR کوڈ دکھاؤ۔جیسے ہی چائے والا کوڈ آگے کرے گا۔یہ سوانگ رچاتے ہوئے صدمے سے کہے گا۔اوہ شٹ یار! جاز کیش ہینگ ہو گیا ہے۔ تم نمبر لکھو میں ، گھر جا کر پیسے بھیجتا ہوں۔ لیکن وہ پیسے قیامت تک نہیں آتے۔
فروری 2024ء کے انتخابی عمل پر سوالات اٹھانا شروع ہوگئی ہے۔ اس برس ہوئے انتخاب پر سوالات اٹھاتے ہوئے پیپلز پارٹی بھول گئی کہ مذکورہ انتخابات کے نتائج تسلیم کرنے کی بدولت ہی وہ آصف علی زرداری صاحب کو دوبارہ صدر مملکت بنواکر تاریخ بنانے کے قابل ہوئی ہے۔ پنجاب اور سندھ کے گورنر بھی اس کے حصہ میں آئے اور سابق وزیر عظم یوسف رضا گیلانی سینٹ کے چیئرمین منتخب ہوئے۔
