انھوں نے مزید کہا کہ یہ جہاز امریکی محکمۂ خزانہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہے ’کیونکہ اس کا پہلے بھی غیر قانونی سرگرمیوں کا ریکارڈ ہے اور اب جہاز میں موجود اشیا کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار یہ بھی بتاتے ہیں کہ مالی سال 2025 کے دوران جولائی تا مارچ پاکستان نے 12.53 ملین میٹرک ٹن پیٹرولیم مصنوعات درآمد کیں، جن پر 8.4 ارب ڈالر سے زائد زرمبادلہ خرچ ہوا۔ یہ وہ رقم ہے جو اگر بچ جائے تو کئی شعبوں میں بہتری آ سکتی ہے، مگر فی الحال یہ رقم ایندھن کے دھوئیں میں اڑ جاتی ہے۔

اب ایران کو شائد کسی ایٹم بم کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ کیونکہ ایران پر آبنائے ہرمز کی شکل میں ایٹم بم سے زیادہ خطرناک اور طاقتور ہتھیار کی موجودگی کا راز کھل چکا ہے۔ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی روانی روک کر دنیا کو جس اقتصادی بحران سے دوچار کیا جا سکتا ہے وہ ایٹم بم کی تباہ کاریوں سے زیادہ مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز کو بند کرنے اور گلف ریاستوں میں امریکی اڈوں پر حملوں کی حکمت عملی اختیار کرنے کا آپشن ایران کے پاس ہمیشہ موجود رہے گا۔

زیادہ پڑھے جانے والی تحاریر