ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان’ کے مطابق، اس سال اب تک درج ہونے والے توہینِ مذہب کے کیسز کی تعداد گھٹ کر صرف 13 رہ گئی ہے، جو حالیہ سالوں کے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً دو تہائی کم ہے۔
تنازعات پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ ‘آرمڈ کنفلکٹ لوکیشن اینڈ ایونٹ ڈیٹا’ کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، جہاں 2021 سے 2024 کے درمیان پاکستان میں توہینِ مذہب کے نام پر سالانہ اوسطاً 7 سے زائد پرتشدد واقعات یا حملے ہوتے تھے، وہیں گزشتہ 12 مہینوں میں صرف ایک ایسا واقعہ رپورٹ ہوا ہے۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان’ کے مطابق، اس سال اب تک درج ہونے والے توہینِ مذہب کے کیسز کی تعداد گھٹ کر صرف 13 رہ گئی ہے، جو حالیہ سالوں کے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً دو تہائی کم ہے۔
تنازعات پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ ‘آرمڈ کنفلکٹ لوکیشن اینڈ ایونٹ ڈیٹا’ کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، جہاں 2021 سے 2024 کے درمیان پاکستان میں توہینِ مذہب کے نام پر سالانہ اوسطاً 7 سے زائد پرتشدد واقعات یا حملے ہوتے تھے، وہیں گزشتہ 12 مہینوں میں صرف ایک ایسا واقعہ رپورٹ ہوا ہے۔
2022 میں قائم ہو کر 2025 میں رسمی شکل اختیار کرنے والا ہائبرڈگورنس ماڈل ظاہراً مضبوط نظر آتا ہے لیکن اس کے باوجود طویل مدت میں پائیدار نہیں رہ سکے گا۔ ماضی کے طرز حکمرانی کی طرح موجودہ ہائبرڈ ماڈل کو بھی ایک انتہائی غیر یقینی مستقبل کا سامنا ہے۔ اگرچہ اس نے قلیل مدتی استحکام کی ایک حد حاصل کر لی ہے لیکن پاکستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ ایسااستحکام ایک وقتی عنصر ہوتا ہے جومستقل اور پائیدار حکمرانی کے ڈھانچے کے طور پر قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ اس کی ساختی کمزوریاں اور تاریخی شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ پاکستان کے لیے ایک مستقل حل کے بجائے ایک عارضی انتظام ہے۔
لیڈر سے وفاداری کا مطلب ہر افواہ کو فتح اور ہر سیاسی اشارے کو ڈیل قرار دینا نہیں۔ کبھی کبھی اپنے لیڈر کے لیے سب سے بڑی وفاداری اپنے جذبات پر قابو پانا ہوتی ہے۔ کسی لیڈر کے لیے لڑنے اور اپنے لیڈر کے لیے مشکلات پیدا کرنے میں بہت باریک فرق ہوتا ہے۔
