ایک ایسے ملک میں، جہاں کئی سینیئر رہنما اس جنگ میں مارے جا چکے ہیں، پس پردہ اقتدار کی اندرونی کشمکش جاری ہے۔
جو کچھ ہم عوامی طور پر سن رہے ہیں، اس میں زیادہ تر سیاسی بیان بازی ہو سکتی ہے اور ممکن ہے کہ ایران اسلام آباد سفر کی تیاری کر رہا ہو۔
لیکن اس سب کا مطلب یہ ہے کہ جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے صرف ایک دن پہلے، ہم ابھی تک یقینی طور پر نہیں جانتے کہ یہ امن مذاکرات واقعی ہوں گے یا نہیں۔

ایک ایسے ملک میں، جہاں کئی سینیئر رہنما اس جنگ میں مارے جا چکے ہیں، پس پردہ اقتدار کی اندرونی کشمکش جاری ہے۔
جو کچھ ہم عوامی طور پر سن رہے ہیں، اس میں زیادہ تر سیاسی بیان بازی ہو سکتی ہے اور ممکن ہے کہ ایران اسلام آباد سفر کی تیاری کر رہا ہو۔
لیکن اس سب کا مطلب یہ ہے کہ جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے صرف ایک دن پہلے، ہم ابھی تک یقینی طور پر نہیں جانتے کہ یہ امن مذاکرات واقعی ہوں گے یا نہیں۔

دسمبر 1965ء میں پاکستان کے صدر فیلڈ مارشل ایوب خان امریکہ گئے اور بشیر ساربان کے دوست سے پاک-بھارت جنگ کے دوران امریکہ کی جانب سے برتی سردمہری پر دُکھ اور شکوے کا اظہار کیا۔ بشیر ساربان کا دوست مگر ٹس سے مس نہ ہوا۔ بھارت ہی کو کمیونزم کا اصل دشمن تصور کرتا رہا۔ امریکہ سے لوٹتے ہی لہٰذا صدر ایوب خان کمیونسٹ کیمپ کے قائد سوویت یونین سے رجوع کرنے کو مجبور ہوئے ۔

اگرچہ ایران کا مؤقف اصولی اور قابل فہم لگتا ہے کہ کسی ملک کو دھمکیوں کے ساتھ بات کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن ایرانی لیڈروں کو یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ ڈونلڈ ٹرمپ قطعی مختلف وضع کے لیڈر ہیں اور ان کے بیانات کی روشنی میں مؤقف اختیار کرنے کی بجائے ایران کو بچانے، اس کے نظام کی حفاظت اور ایرانی عوام کی بہبود کو پیش نظر رکھ کر فیصلے کیے جائیں۔

زیادہ پڑھے جانے والی تحاریر