’ہمیں یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ طویل مذاکرات کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے۔ دونوں فریقین نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوری اور مستقل طور پر فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے۔‘

ٹرمپ گزشتہ چند روز سے مسلسل یہ کہہ رہے ہیں کہ پابندیاں ہٹانے اور حتمی امن کے لیے ایران کو اپنا طرز عمل تبدیل کرنا پڑے گا۔ البتہ مفاہمتی یادداشت میں تو ایسا کوئی تقاضہ سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ مفادات کے ٹکراؤ اور سیاسی دباؤ کی وجہ سے اس تاریخی کامیابی کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان مستقل اور پائیدارامن اب بھی ہنوز دلی دور است والا معاملہ ہے۔

جناب عالیٰ سعودی عرب پہنچنے کے فوراََبعد آپ نے عرب امریکہ سربراہی کانفرنس میں جوبصیرت افروز اورتاریخی خطاب کیااس نے بھی ہم مسلمانوں کے دل موہ لئے ہیں۔اسلامی دنیا جس دہشت گردی کاشکار ہے اس پرآپ کادل جس طرح خون کے آنسورورہاہے اس کاکبھی ہم نے تصور بھی نہیں کیاتھا۔آپ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں دوٹوک بات کی، کسی لگی لپٹی اورمنافقت کے بغیر،اس خطاب کے دوران آپ کانورانی چہرہ آپ کی سچائی کی گواہی دے رہاتھا۔یقین جانئے ہم خود بھی اس دہشت گردی سے تنگ ہیں اور اسی لئے اس کانفرنس میں ہمارے وزیراعظم نوازشریف بھی شریک ہوئے۔ اگرچہ وہ ایک روز قبل ہی چین کے دورے سے واپس آئے تھے اورابھی ان کی تھکاوٹ بھی نہیں اتری تھی کہ انہیں سعودی عرب جاناپڑگیا۔نوازشریف تو تمام راستے اپنی تقریرتیارکرتے رہے اوروہ امت مسلمہ کے مسائل آپ کے سامنے بیان کرنابھی چاہتے تھے لیکن آپ نے اچھاکیا کہ انہیں تقریر کاموقع نہیں دیا۔آپ سفرکی صعوبتوں کوبخوبی جانتے ہیں آپ کو معلوم تھاکہ ہمارے وزیراعظم کتناطویل سفرکرکے آپ کے پاس پہنچے تھے اورآپ کویہ بھی معلوم تھاکہ وہ تھکاوٹ کی وجہ سے ٹھیک طرح سے تقریربھی نہ کرسکیں گے لہذاآپ نے بہت اچھاکیاکہ انہیں تقریرکی زحمت ہی نہیں دی۔اس سے اندازہ ہوتاہے کہ حضور والا اپنی رعایاکاکس قدر خیال رکھتے ہیں۔اب اگربعض اسلام دشمن عناصر یہ تاثردیں کہ ہمارے وزیراعظم کواس کانفرنس میں خطاب کاموقع ہی نہیں دیاگیاتویہ بھی سراسرزیادتی ہے۔آپ نے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے ہمارے ہمسایہ ملک ایران کوبھی نشانہ بنایااوراس پرالزام عائد کیاکہ وہ فرقہ واریت اورانتہاپسندی کوفروغ دے رہاہے۔اگرچہ آپ کی اس رائے سے بہت سے لوگوں کو اتفا ق نہیں لیکن پھربھی ہم آپ کی تائید کرتے ہیں۔یقیناََانتہاپسندی کے فروغ میں سعودی عرب کاکوئی کردار نہیں اورآپ کی تقریرکے بعدتوہمیں شبہ ہوتاہے کہ اسامہ بن لادن کاتعلق بھی شاید ایران سے تھا۔

زیادہ پڑھے جانے والی تحاریر