آئزن کوٹ نے کہا کہ ’عوام نے نیتن یاہو کی مسلسل حکمرانی کے خلاف اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اتنے زیادہ ووٹر ٹرن آؤٹ کے بعد ملک کو ایک اور انتخابی عمل میں دھکیلنا مناسب نہیں ہوگا۔
اگست 2026 میں پاکستان کی سپریم کورٹ نے اُن کی یہ سزا معطل کرتے ہوئے انھیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔
تاہم اس کیس میں رہائی کے فوراً بعد ان دونوں کو اڈیالہ جیل ہی سے اس کیس میں گرفتار کر لیا گیا تھا
سوال یہ ہے کہ کیا یہ سیاست کوئی خطرہ محسوس کرکے شروع کی جارہی ہے یا میدان بالکل کھلا مل گیا ہے چنانچہ سیاست شروع کردی گئی ہے۔
وہ ہر قیمت پر ایک بار پھر یہ عہدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں کرپشن کے سنگین الزامات کا سامنا ہے اور امکان ہے کہ اگر وہ وزیر اعظم نہ بنے تو انہیں جیل جانا پڑے گا۔ البتہ اقتدار میں رہنے کی بدولت انہیں عدالتی کارروائی سے استثنی ٰ حاصل ہوجاتا ہے۔
