مقامی صحافی فرحان طارق کے مطابق مظفرآباد لوئر پلیٹ میں حالات کشیدہ رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’لوئر پلیٹ، چہلہ بانڈی اور اپر اڈہ میں کئی لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ دکانیں بند، سیاسی جماعتوں کے پوسٹرز اتار کر آگ لگائی گئی۔ مظاہرین کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں۔‘

ترجمان ریسکیو 1122 بلال فیضی کے مطابق نو افراد کی لاشیں سینٹرل ہسپتال سیدو شریف جبکہ کبل ہسپتال نے پانچ ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے مطابق دھماکہ خودکش تھا۔ اُن کے بقول بہادر پولیس جوانوں نے جان دے کر خودکش بمبار کو تھانے کے اندر جانے سے روکا۔

اللہ نے چونکہ حسن بہت دیا ہے اِس لیے آٹھ بج کر چھ منٹ پر اپنی نظر بھی اتارتا ہوں، اور سب سے بڑا ہنر جو میرے پاس ہے اور جس پر آج تک میں نے غرور نہیں کیا وہ یہ کہ میں تیس سیکنڈ سے بھی کم وقت میں اپنے جوتوں کے تسمے بند کر سکتا ہوں۔
یہ تکنیک مجھے روانڈا کے ایک قصبے مائی پھیرو کی ایک لڑکی نے سکھائی تھی،

حکومت کے تصور میں ہی نہیں تھا کہ کوئی نسل ایسی بھی نمودار ہو سکتی ہے جو پولیس سے خود پوچھے انکل اگلا لاٹھی چارج کب کرو گے ، انکل آنسو گیس کا ایک گولا اور چلاؤ نا۔ انکل مزہ نہیں آ رہا دو چار لاٹھیاں اور مارو۔

زیادہ پڑھے جانے والی تحاریر