مقامی صحافی فرحان طارق کے مطابق مظفرآباد لوئر پلیٹ میں حالات کشیدہ رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’لوئر پلیٹ، چہلہ بانڈی اور اپر اڈہ میں کئی لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ دکانیں بند، سیاسی جماعتوں کے پوسٹرز اتار کر آگ لگائی گئی۔ مظاہرین کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں۔‘
مقامی صحافی فرحان طارق کے مطابق مظفرآباد لوئر پلیٹ میں حالات کشیدہ رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’لوئر پلیٹ، چہلہ بانڈی اور اپر اڈہ میں کئی لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ دکانیں بند، سیاسی جماعتوں کے پوسٹرز اتار کر آگ لگائی گئی۔ مظاہرین کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں۔‘
یادش بخیر روزنامہ جنگ کے ایڈیٹر سہیل وڑائچ نے جب موجودہ حکومت کے دن گنے جانے کی پیش گوئی پر مشتمل کالموں کی سیریز لکھی تھی تو اس وقت سہیل وڑائچ سے ذاتی دوستی کے باوجود محسن نقوی نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ وہ اب ’ناکارہ‘ ہوچکے ہیں، اس لیے انہیں ریٹائر ہوجانا چاہئے۔ اس وقت یہ تاثر سامنے آیا تھا کہ محسن نقوی شاید مستقبل کا وزیر اعظم بننے کی خواہش میں موجودہ نظام کی ’حفاظت‘ کے لئے سینہ سپر ہورہے ہیں۔ البتہ اب انہوں نے خود اس نظام کے ’ڈھیر‘ ہونے کی خبر دی ہے۔
مضبوط ریاست کے لیے مؤثر حکمرانی ناگزیر ہے۔ مگر اب عوام صرف اعترافات نہیں سننا چاہتے۔ وہ نتائج دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ عدالت میں انصاف جلد ملے، سرکاری ہسپتال میں علاج عزت کے ساتھ ہو، نوجوان کو روزگار سفارش کے بغیر ملے، پولیس عوام کی محافظ بنے اور سرکاری ادارے عوام کے خادم دکھائی دیں، حاکم نہیں۔
