یہ سوال بھی مسلسل حیرت کا سبب ہے کہ نظام کی تباہی کی ’خبر‘ دینے والا وزیر داخلہ خود کیسے اپنے عہدے پر موجود ہے۔ اگر نظام تباہ ہوچکا ہے تو اس تباہی میں کسی ملک میں امن و امان اور قانون کی بالادستی کے ذمہ دار شخص کو سب سے پہلے مورد الزام ٹھہرانا چاہئے۔ لیکن اسے تو معتمد اور پیامبر کا مقام عطا کرکے عزت واحترام سے سرفراز کیا جارہا ہے۔

اس بار عجیب رسم یہ چلی ہے کہ ری سیٹ منصوبے کی خاطر منجی تھلے ڈانگ پھیری جارہی ہےاور اس میں اگر اپنوں کی بھی ’’ منجی ٹھک‘‘ رہی ہے تو کسی کو کوئی پروا نہیں۔ اہل حکم، دباؤ اور احساسات سے بے نیاز ہوجاتے ہیں اپنا یا پرایااوراتحادی یا مخالف،اہم نہیں ہوتے ایجنڈا اہم ہوتا ہے اس میں کسی کی ’’منجی چکی جائے‘‘ یا’’ منجی بسترا گول ہوجائے‘‘ انہیں اس سے نہ غرض ہوتی ہے اور نہ اسکی پروا ۔ اسی لئے تو وہ اہل حکم ہوتے ہیں اور باقی سب اہل ظلم۔