چند روز قبل مطیع اللہ جان نے ایران امریکہ مذاکرات کیلئے پاکستان آئے غیر ملکی صحافیوں کے اعزاز میں تقریب رکھی تھی جس میں انہوں نے حکومت پر صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں پر مقدمات بنانے اور ان کے خلاف کاروائیوں کے الزامات عائد کیے تھے۔ان کا کہنا ہے کہ ٹی وی چینل نے انہیں حکومتی دباؤ پر ملازمت سے فارغ کیا۔

چند روز قبل مطیع اللہ جان نے ایران امریکہ مذاکرات کیلئے پاکستان آئے غیر ملکی صحافیوں کے اعزاز میں تقریب رکھی تھی جس میں انہوں نے حکومت پر صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں پر مقدمات بنانے اور ان کے خلاف کاروائیوں کے الزامات عائد کیے تھے۔ان کا کہنا ہے کہ ٹی وی چینل نے انہیں حکومتی دباؤ پر ملازمت سے فارغ کیا۔

حکومت سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے ملک میں عدلیہ کی آزادی کو دفن کرنے کا اہتمام کررہی ہے۔ لیکن اسے اندازہ نہیں ہے کہ وقت تبدیل ہونے کے ساتھ یہی طریقہ اس کے اپنے سیاسی مفادات کے برعکس استعمال ہوگا۔ عدلیہ کی خود مختاری پر ہونے والے حملے ججوں کو بے اختیار اور جمہوریت کو کمزور کرتے ہیں۔

میرے بچپن میں پنجاب ٹیکسٹ بُک بورڈ سے منظور شدہ دوسری جماعت کے قاعدے میں حکمرانِ وقت کے بارے میں بھی یہ ڈیڑھ سطر شامل تھی۔ ‘فیلڈ مارشل محمد ایوب خان پاکستان کے ہر دل عزیز صدر ہیں۔ انہیں ہر دم ملک و قوم کی ترقی کا خیال رہتا ہے۔’
انیس سو ستر میں وقت بدلا تو اسی قاعدے میں صرف نام بدلا۔ ‘جنرل آغا محمد یحیی خان پاکستان کے ہر دل عزیز صدر ہیں، انہیں ہر دم ملک و قوم کی ترقی کا خیال رہتا ہے۔’ انیس سو بہتر میں شائع ہونے والے اسی قاعدے میں صدر ذوالفقار علی بھٹو کو ہر دم ملک و قوم کی ترقی کا خیال رہنے لگا۔ تب سے اب تک اس نصابی پل کے نیچے سے ویسا ہی پانی رنگ بدل بدل کے بہے چلا جا رہا ہے۔

زیادہ پڑھے جانے والی تحاریر