ایک اور صارف نے لکھا کہ ’حالات بتا رہے ہیں کہ بیرسٹر افتخار گیلانی کی منظوری نواز شریف کے بجائے کسی اور جگہ سے آئی ہے۔ اب بھی کوئی کسر رہ گئی ہے نظام سے چھیڑ چھاڑ کر کے اس کو تباہ و برباد کرنے میں؟‘
تاہم سوشل میڈیا پر تنقید سے زیادہ اہم مسئلہ ن لیگ میں آپس کے اختلافات ہیں۔

ایک اور صارف نے لکھا کہ ’حالات بتا رہے ہیں کہ بیرسٹر افتخار گیلانی کی منظوری نواز شریف کے بجائے کسی اور جگہ سے آئی ہے۔ اب بھی کوئی کسر رہ گئی ہے نظام سے چھیڑ چھاڑ کر کے اس کو تباہ و برباد کرنے میں؟‘
تاہم سوشل میڈیا پر تنقید سے زیادہ اہم مسئلہ ن لیگ میں آپس کے اختلافات ہیں۔

اس واقعہ کے بے شمار پہلو محض ایک کالم میں زیر بحث لائے نہیں جاسکتے۔ جو حقیقت خطِ کشیدہ کے ذریعے اجاگرکرنا لازمی سمجھتا ہوں وہ یہ ہے کہ چندحکومتی نمائندے اور سرکاری ادارے مذکورہ واقعے کے حوالے سے پرخلوص ندامت کے اظہار کے بجائے ڈھٹائی سے بدھ کی صبح ہوئے واقعہ کو محض ایک حادثہ قرار دیتے ہوئے خود کو بری الذمہ ثابت کرنے کی کاوشوں میں مصروف ہیں۔

زیادہ پڑھے جانے والی تحاریر