انجینئر ممتاز احمد خان نے کہا کہ اگر میں یہ کتاب نہ لکھتا تو یہ بہت بڑا جرم ہوتا۔ اس کتاب کو لکھنے سے میں نے خود ایک نئے ممتاز احمد خان کو جانا ہے۔ قاری کیلئے اس کتاب میں تاریخی واقعات کے ساتھ دلچسپی کا بہت مواد شامل ہے۔

واضح رہے کہ ایرانی خبر رساں ادارے ’ایران انٹرنیشنل‘ کی جانب سے سب سے پہلے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے یہ خبر دی گئی تھی کے ایرانی صدر نے پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے حکومتی معاملات میں مداخلت کی بنیاد پر استعفیٰ دے دیا ہے۔

یہ امر باعث حیرت ضرور ہے کہ اپنی حمایت میں اسرائیل غیظ و غضب کا نشانہ بننے والی حزب اللہ کو ایران ، امریکہ کے ساتھ بات چیت کے دوران کیوں فراموش کیے ہوئے ہے؟ کیا تہران کے لیڈر اب مشرق وسطیٰ میں موجود اپنی پراکسیوں کی حمایت سے دست بردار ہورہے ہیں؟

امریکہ ایران کا بلاکیڈ ختم کرنے اور جوہری ہتھیاروں پر حتمی معاہدے کے لیے دوسرے مرحلے میں اتفاق رائے پر بھی راضی ہے۔ اس کے باوجود تہران کی طرف سے مسلسل یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اس کے جوہری ہتھیاروں کا معاملہ موضوع بحث ہی نہیں۔ حالانکہ یہ سارا تنازعہ ایران کے جوہری پروگرام ہی کی وجہ سے شروع ہؤا تھا