کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ ’حکومت کی جانب سے تنظیم کے دیگر مطالبات بھی تسلیم کیے جانے کے بعد احتجاج ختم کیا جا رہا ہے۔‘
ترجمان کے مطابق حکومت کی جانب سے مطالبات منظور کیے جانے کے بعد تنظیم نے اپنا احتجاج باضابطہ طور پر واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
دوسری جانب پارلیمنٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف راہول گاندھی نے انڈیا کے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کو ’تعلیمی نظام کی اصلاح کی جانب ایک بڑا قدم‘ قرار دیا ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ ’حکومت کی جانب سے تنظیم کے دیگر مطالبات بھی تسلیم کیے جانے کے بعد احتجاج ختم کیا جا رہا ہے۔‘
ترجمان کے مطابق حکومت کی جانب سے مطالبات منظور کیے جانے کے بعد تنظیم نے اپنا احتجاج باضابطہ طور پر واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
دوسری جانب پارلیمنٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف راہول گاندھی نے انڈیا کے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کو ’تعلیمی نظام کی اصلاح کی جانب ایک بڑا قدم‘ قرار دیا ہے۔
ڈاکٹر صاحبزادہ جواد الفیضی کی یہ کاوش بلاشبہ ایک ایسا ادبی شاہکار ثابت ہو گی جو قارئین کے ذوق مطالعہ کی تسکین کے ساتھ ساتھ مستقبل کے مسافروں اور قلم کاروں کے لیے بھی تخلیقی رہنمائی کا ایک مستقل سرچشمہ بنی رہے گی۔
فی الحال یونیورسٹیوں کا کام طالبات کے لباس پر نظر رکھنا ہے اور وہ یہ کام بخوبی کر رہی ہیں۔ اِس کام کے لیے اُن کی صلاحیت بھی ہے اور ہنر بھی، وقت بھی اور تجربہ بھی۔ اعلیٰ تعلیم گئی بھاڑ میں!
