نظریاتی سیاست میں کوئی فرد اہم نہیں ہوتا، طے شدہ عقیدے کے مفروضہ مقاصد بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں اپنے نظریات سے مخلص فرد یا گروہ غیر ارادی طور پر ایسی قوتوں میں گھر جاتا ہے جو اس کی ذاتی صلاحیت اور اثر و رسوخ سے بہت زیادہ طاقتور ہوتی ہیں۔

اگر مستقبل میں خواتین اور غیر مسلم نمائندے براہِ راست عوام کے ووٹ سے منتخب ہوں تو ان کی سیاسی حیثیت اور عوامی جواب دہی مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔ تاہم اس کے لیے آئینی ترمیم ناگزیر ہوگی۔

زیادہ پڑھے جانے والی تحاریر