ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق، دونوں افراد کو رواں برس جنوری میں شمال مشرقی شہر مشہد میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران چار سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت میں ملوث قرار دیا گیا تھا۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق، دونوں افراد کو رواں برس جنوری میں شمال مشرقی شہر مشہد میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران چار سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت میں ملوث قرار دیا گیا تھا۔
لاہور کے معروف لکشمی چوک کے قریب ایک مصروف ترین سڑک کے کنارے سہیل آفریدی پولیس وین سے اتر کر گھنٹے سے زیادہ دیر تک بیٹھے رہے۔ مجھ جیسے بڈھے صحافی کو اس چوک کے کسی کونے میں دیکھ کر کم از کم 15سے 20افراد سیلفیاں کھنچوانے کو رک جاتے ہیں۔ سہیل آفریدی کے جانے پہچانے چہرے کو مگر ایسی ’’پذیرائی‘‘ بھی نصیب نہ ہوئی۔
ایران نے اگر نومبر میں امریکی مڈ ٹرم انتخابات تک کسی معاہدے پر اتفاق نہ کیا تو اس کے بعد صدر ٹرمپ نئے اور خطرناک حملوں کا سلسلہ شروع کرسکتے ہیں۔ ایران، خطے اور دنیا کے لیے جنگ کے اس نئے دور سے بچنا بے حد اہم ہے۔
