پرنس خدا بخش ناصر، جن کا قلمی نام ناصر ملک ہے، پندرہ اپریل ۱۹۷۲ء کو چوک اعظم، ضلع لیہ میں پیدا ہوئے۔ ان کی ادبی زندگی محض تخلیق تک محدود نہیں بلکہ اشاعت، تربیتِ قلم اور تہذیبی ذمے داری کے احساس سے عبارت ہے۔ ایم اے اردو اور اسلامیات کی ڈگری لینے کے بعد انہوں نے ایک پبلشنگ ادارہ قائم کیا اور اس پلیٹ فارم سے سیکڑوں کتب شائع کر چکے ہیں۔ یہ محض تعداد کا کارنامہ نہیں بلکہ معیار، سلیقہ اور مصنف دوست رویّے کی وہ روایت ہے جس نے اہلِ قلم کو بڑے مراکز سے ہٹا کر ان کی طرف متوجہ کیا۔ ناصر ملک کی انفرادیت یہ ہے کہ وہ بیک وقت پبلشر بھی ہیں اور اعلیٰ درجے کے لکھاری بھی؛ یعنی وہ کتاب کے وجود کے دونوں سروں پر کھڑے دکھائی دیتے ہیں ۔۔ تخلیق کے بھی اور اشاعت کے بھی۔
ان کی ہمہ جہتی محض ایک دعویٰ نہیں بلکہ صنفی تنوع میں عملی طور پر جلوہ گر ہے۔ شاعر، افسانہ نگار، ناول نگار، مورخ، کالم نگار، نعت نگار، بچوں کے لیے کہانی نویس اور مدیر، یہ سب شناختیں ایک ہی شخصیت میں جمع ہیں۔ اس تنوع کے باوجود ان کی تحریروں میں ایک باطنی ربط قائم رہتا ہے جو مشاہدۂ زندگی، تہذیبی شعور اور اخلاقی حس سے پیدا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شخصیت اور خدمات پر پاکستان کی کئی جامعات میں تحقیقی مقالے لکھے جا چکے ہیں۔۔ یہ اعترافِ علمی اس بات کا ثبوت ہے کہ ناصر ملک کی ادبی حیثیت محض مقامی نہیں بلکہ قومی سطح پر معتبر ہے۔
ناصر ملک کے شعری مزاج میں برجستگی اور روانی کے ساتھ گہرے تجربے کی آنچ شامل ہے۔ وہ لفظ کو محض آواز نہیں بناتے بلکہ معنی کی تہہ میں اتارتے ہیں۔ ان کے ہاں اسلوب سبک اور لفظیات ملائم ہیں، مگر مفہوم میں ٹھہراؤ اور وقار نمایاں ہے۔ ان کے ایک شعر میں ان کی فکری خود آگاہی یوں جلوہ گر ہوتی ہے:
میں جانتا ہوں زمانے تری جہالت کو
مرا شعور مرے ساتھ مرنے والا ہے
یہاں شعور محض فرد کی ملکیت نہیں بلکہ ایک اخلاقی عہد ہے جو وقت کی ناپختگی کے مقابل کھڑا رہتا ہے۔ ناصر ملک کے ہاں یہ مزاحمت شور نہیں بنتی بلکہ وقار کے ساتھ اپنا وجود منواتی ہے۔
نعت میں ان کی آواز عشقِ رسول ﷺ سے لبریز ہے۔ یہ عشق محض جذباتی واردات نہیں بلکہ ادبِ حضور کی روایت سے جڑا ہوا سلیقہ ہے جو لفظ کو ذمہ داری کے ساتھ برتتا ہے۔ ان کی نعت میں تقدیس کے ساتھ شائستگی، اور وابستگی کے ساتھ احتیاط نظر آتی ہے۔ یہی توازن ان کی فکری تربیت کا حاصل ہے۔ فکشن میں ان کی گرفت زندگی پر ہے۔۔ ان کے کردار رومان اور حقیقت پسندی کے سنگم پر سانس لیتے ہیں۔ وہ انسانی رشتوں کی نزاکتوں کو بھی برتتے ہیں اور سماجی سچائیوں کی کھردری سطح کو بھی نظرانداز نہیں کرتے۔ یوں ان کی کہانیاں محض تخیّل نہیں رہتیں بلکہ تجربے کی صداقت سے روشن ہوتی ہیں۔
تاریخ نگاری میں وہ واقعات کے انبار کے بجائے معنی کی تشکیل کرتے ہیں۔ ان کے ہاں تاریخ ماضی کی رپورٹ نہیں بلکہ حال کی تفہیم کا ذریعہ ہے۔ کالم میں وہ روزمرہ کے مسائل کو فکری ترتیب دیتے ہیں؛ جذباتیت سے زیادہ دلیل اور مشاہدے پر بھروسا کرتے ہیں۔ بچوں کے ادب میں ان کی توجہ تربیتِ ذوق پر ہے—سادہ بیانی، روشن اقدار اور تخیّل کی پرواز۔ مدیر کی حیثیت سے وہ متن کو صرف درست نہیں کرتے بلکہ لکھاری کی آواز کو محفوظ رکھتے ہیں؛ یہی رویہ ان کے پبلشنگ ادارے کی شناخت بھی ہے۔
ناصر ملک کا سب سے بڑا کارنامہ شاید یہی ہے کہ انہوں نے ادب کو محض کتابی سرگرمی نہیں رہنے دیا بلکہ اسے انسانی ربط کی صورت دی۔ وہ لکھاریوں کو محض مصنف نہیں سمجھتے بلکہ سفر کے ساتھی جانتے ہیں۔ یہی انس بھرا رویہ ان کی اشاعتوں کے معیار اور مقبولیت کا سبب بنا ہے۔ ان کی ادبی زندگی میں مقصدیت، ذوق اور خدمت تینوں ایک ساتھ چلتے ہیں؛ نہ مقصدیت ذوق کو روندتی ہے اور نہ ذوق خدمت کو ۔ یوں ناصر ملک کی شخصیت ایک ہمہ جہت ادیب کی صورت ہمارے سامنے آتی ہے جس میں تخلیق، اشاعت اور تہذیبی شعور باہم پیوست ہیں۔ وہ لفظ کے ذریعے زندگی کو سمجھتے بھی ہیں اور سنوارتے بھی۔ ان کا قلم اپنے زمانے سے مکالمہ کرتا ہے اور اپنے قاری کو ذمہ داری کے ساتھ معنی عطا کرتا ہے۔ یہی وصف انہیں محض ایک لکھاری نہیں بلکہ ایک ادبی ادارہ بناتا ہے۔

