شاعری ایک فن ہے جس میں الفاظ کے ذریعے جذبات، خیالات اور تجربات کو بیان کیا جاتا ہے۔یہ ایک ایسا اظہار ہے جو دل کی گہرائیوں سے نکلتا ہے اور پڑھنے والے کے دل کو چھو لیتا ہے۔اس میں وزن،قافیہ اور ریتم کا خاص خیال رکھا جاتا ہے تاکہ وہ موسیقی دلکش ہو۔اس کے ذریعے شاعر زندگی کے مختلف پہلوؤں پر سوچ و بچار کے بعد اپنے خیالات و جذبات کا اظہار کرتا ہے۔
جبار واصفؔ رحیم یار خان(جنوبی پنجاب)اور روہی کی خوشبو لیے ہوئے اُردو زبان و ادب کے روشن خیال شاعر ہیں۔جبار واصفؔ اردو شاعری میں منفرد اور معتبر مقام رکھتے ہیں اور "شاعر حقیقت ” کے نام سے جانے پہچانے جاتے ہیں۔جبار واصفؔ کی شاعری ہمارے اپنے معاشرے کی سچائیوں کا بیان ہے۔ان کا تخیل اور فکر کی گہرائی انہیں اپنے ہم عصروں میں ممتاز کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ان کی شاعری کے موضوعات ہمیشہ سماجی المیوں ،انسانی زندگی ،مسائل اور رشتوں کی حقیقتوں سے منسلک ہیں۔اگر دیکھیں تو ان کی شاعری اپنے خطے کی مٹی،انسانی جذبوں اور فکر و تخیل سے لبریز ہے۔اپنی شاعری کے متعلق لکھتے ہیں کہ
جو دکھائی مجھے دیتا ہے وہی لکھتا ہوں
میری آنکھوں میں مرا سارا ہنر رکھا ہے
زندگی میں بہت سے تلخ حقائق موجود ہیں جو کسی تخلیق کار کا تخلیقی مواد لاوا بن کر سامنے آنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔یہی وہ حقائق ہیں جو تخلیق کار کے مثبت فکر و تخیل اور اسلوب بیان کی خوبی سے شعری اُفق پر روشن مثال بن جاتے ہیں۔جبار واصفؔ دوسرے شعرا ء میں منفرد حیثیت انہی خوبیوں کی بنا پر رکھتے ہیں۔انہیں فطرت سے لگاؤ اور منفرد شعری اسلوب ہونے کی بنا پر شاعری میں بلند مقام اور شاعروں میں نمایاں پہچان ملی۔ان کی یہ نمایاں خوبی ہے کہ انہوں نے سطحی اور رومانوی قسم کے موضوعات کو بے لباس شاعری کا لبادہ نہیں پہنایا بلکہ اس کے برعکسوہ یہ سوچ رکھتے ہیں کہ
فحش اشعار درس گاہوں میں،تم سے بہتر سنائیں ہم لیکن
تم جنہیں لڑکیاں سمجھتے ہو،ہم انہیں بیٹیاں سمجھتے ہیں
زیر نظر تصنیف جبار واصفؔ کا دوسرا شعری مجموعہ ہے جو کہ "گزران” کے عنوان سے گردوپیش پبلی کیشنز ملتان سے 2025ء میں شائع ہوا۔یہ غزلوں،نظموں اور چند منظومات پر مشتمل مجموعہ ہے۔یہ مجموعہ بھی ان کے پہلے شعری مجموعے” میری آنکھوں میں کتنا پانی ہے” کی طرح سماج کے مسائل اور اس کی حقیقتوں پر مبنی موضوعات رکھتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ عصر حاضر کے ادبی منظر ناموں کی حقیقی تصویر کشی بھی کرتا ہے۔منظومات کے حصے میں انہوں نے اپنی والدہ کے وصال کے بعد کی کیفیات کو ” ماں” کے عنوان سے شامل کیا ہے۔رضی الدین رضی ؔ نے جبار واصفؔ کی شاعری کے موضوعات کے متعلق لکھا ہے کہ ان کی کتاب کا سرنامہ ایک ایسی تصویر ہے جس میں
"تپتے صحرا ہیں،پیاس ہے،سراب ہے،اونٹوں پر بندھے جوکی بچے ہیں اور ان کی چیخ و پکار پر تالیاں بجاتے شیوخ ہیں۔شیوخ کو کم سن بچیاں فروخت کر کے دولت کے انبار لگانے والے نام نہاد مبلغین ہیں اور "تلور” کی معدوم ہوتی نسل ہے۔جبارواصفؔ نے انتہائی جرات کے ساتھ ان تمام واقعات کو اپنی شاعری کا حصہ بنایا کہیں نظم کی صورت میں اور کہیں غزل کے رنگ میں”۔
جبار واصفؔ کی نظموں میں دیکھیں تو قصور کی زینب،سانحہ پارہ چنار ،سانحہ ماڈل ٹاؤن اور خودکش حملوں کو بھی موضوع بنایا گیا ہے۔ان کے موجوعات میں ایک واضح تنوع ملتا ہے۔ان کا شعری مجموعہ "گزران” اپنے اندر جذبوں کی سچائی،فکر کی گہرائی اور اظہار کی لطافت سمیٹے ہوئے ہے۔شاعر نے زندگی کے تمام تجربات کو غیر معمولی حساسیت کے ساتھ بیان کیا ہے،جس سے ہر شعر قاری کے دل میں اترتا محسوس ہوتا ہے۔زبان سادہ مگر بامعنی ہے،تشبیہات اور استعارے بناوٹ سے خالی اور فطری لگتے ہیں۔اشعار میں روانی اور آہنگ ایسا ہے کہ قاری پڑھتے ہوئے رکتا نہیں بلکہ احساس کے بہاؤ میں بہتا چلا جاتا ہے۔یہ مجموعہ محض شاعری نہیں بلکہ زندگی کو محسوس کرنے کا ایک قرینہ عطا کرتا ہے اور یہی خوبی اسے ممتاز بناتی ہے۔
انکی غزلوں سے چند اشعار ملاحظہ کریں۔
گھنگرو پہ بات کر،نہ تو پائل پہ بات کر
مجھ سے طوائفوں کے مسائل پہ بات کر
گورے مصّنفِین کی کالی کُتب کو پڑھ
کالے مصّنفِوں کے خصائل پہ بات کر
منبر پہ بیٹھ کر سُنا جھوٹی حکایتیں
خطبے میں سچ کے فضل و فضائل پہ بات کر
یہی نہیں کہ فقط بال و پَر نہیں رہتے
اب اُڑنے والے پرندوں کے "پَر” نہیں رہتے
جو آج خود کو سمجھتے ہیں رونق ہستی
سمے گزرتا ہے اور بیشتر نہیں رہتے
جبار واصف ؔ کی شاعری ان کے ذاتی تجربات،مشاہدات اور احساسات کا کینوس ہے۔اسی لیے وہ خود کہتے ہیںؐ کہ
جو دکھائی مجھے دیتا ہے وہی لکھتا ہوں
میری آنکھوں میں مرا سارا ہنر رکھا ہے
فیس بک کمینٹ

