میں اپنا وقت ضائع کرتا رہتا ہوں۔ ایسے کاموں میں مصروف رہتا ہوں جن کا کرنا یا نہ کرنا تقریباً برابر ہے۔ بحیثیت مصنف اور شاعر میری یہ ذمہ داری ہے کہ میں اپنی اور آپ کی جگ بیتیاں رقم کروں۔ یہ تاریخ کا ایک اہم موڑ ہے۔ سیاسی اور معاشرتی تبدیلیاں زندگی جینے والوں کے لیے انتہائی تیز رفتاری سے وقوع پذیر ہو رہی ہیں۔ میں تاریخ دان نہیں ہوں، لیکن میرے احساسات تاریخ کا حصہ بن سکتے ہیں، اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ میں ایمانداری اور خلوص سے یہ سب لکھوں۔
آج صبح سے ایک جملہ مسلسل مجھے لکھنے پر مجبور کر رہا ہے۔ یہ جملہ میرے ذہن پر کسی اَن مٹ نقش کی طرح ثبت ہو چکا ہے۔ اور جملہ یہ ہے:
’’ہم جتنی بھی معلومات حاصل کر رہے ہیں، وہ سب کی سب ہمارے ذہنوں پر بوجھ ہیں، سوائے ان معلومات کے جو ہمیں، اور ہمارے ذریعے دوسروں کو، کوئی فائدہ دے رہی ہیں۔‘‘
پاکستانیوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ حفظ کرنے کے عادی ہیں۔ رٹا لگانا شاید ہمارا جینیاتی مسئلہ بن چکا ہے۔ ہم طوطے کی طرح سبق یاد کرتے ہیں۔ مثلاً ہسپتال کا ایک سبق ہے کہ سینیٹائزر سے ہاتھ صاف کرنے کے پانچ مراحل اور سات حرکات ہیں۔ انٹرویوز میں امیدواروں سے یہ سوالات بھی اسی طرح پوچھے جاتے ہیں۔ انٹرنیشنل پیشنٹ سیفٹی گولز پانچ ہیں۔ پچھلے سال یہ چھےتھے۔
افسوس کی بات صرف یہ نہیں کہ نرسنگ کے طلبہ و طالبات یہ گولز یاد کرتے ہیں۔ اصل المیہ یہ بھی ہے کہ ان گولز کو حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی۔ جن ملکوں نے یہ گولز بنائے ہیں، وہ ہر وقت ان پر سوچ بچار کرتے رہتے ہیں۔ وہ ان پر عمل کرتے ہیں اور ثبوتوں اور نتائج کی بنیاد پر ان میں تبدیلیاں بھی کرتے ہیں۔ اور ہم صرف ان تبدیلیوں کا انتظار کرتے رہتے ہیں کہ کب وہ ان کا اعلان کریں۔ یوں ہم محض ان کے پیروکار بن کر رہ گئے ہیں، جیسے کسی مذہبی پیشوا کے پیروکار ہوتے ہیں۔
یہ بہت گمبھیر صورتِ حال ہے۔ اور خطرناک بھی۔ وہ اس طرح کہ ہم شارٹ کٹس ڈھونڈنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ ایک چھوٹی سی مثال اور دوں گا۔ دنیا کے اچھے ہسپتالوں میں Incident Reporting، یعنی کسی غیر معمولی واقعے کی رپورٹنگ کا نظام رائج ہوتا ہے۔ اس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ مریضوں کی نگہداشت کو بہتر بنانے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں اسے کسی کو ہدف بنا کر الزام لگانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اور اگر کوئی خلوص سے، محض غلطی کی نشاندہی کرنے اور اسے دور کر کے نظام میں بہتری لانے کی غرض سے، اس نظام کو استعمال کرے تو اس کی نیت پر شک کیا جاتا ہے۔ اسے افراد کے خلاف الزام تراشی یا انتقام سمجھ لیا جاتا ہے۔
اس رپورٹنگ کے نتیجے میں جو اقدامات کیے جاتے ہیں، وہ بھی اکثر کسی گہری سوچ بچار کے بغیر، صرف اور صرف ’’کارروائی‘‘ کی غرض سے ہوتے ہیں۔ بعض اوقات اسی رپورٹنگ کا سہارا لے کر ملازمین کا تبادلہ کر دیا جاتا ہے یا انھیں نوکری چھوڑنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔
ایسا غلط نیت سے ضرور کیا جاتا ہے، لیکن ایسا کرنے کی ایک اور وجہ سستی اور کاہلی بھی ہے۔ اگر ہر واقعہ رپورٹ کیا جائے اور اس پر سوچ بچار شروع کر دی جائے تو انتظامیہ کی زندگی ہی اجیرن ہو جائے۔ لیکن مسئلہ صرف یہ نہیں کہ وہ سستی کی وجہ سے سوچ بچار نہیں کرنا چاہتے۔ مسئلہ یہ بھی ہے کہ انھیں سوچ بچار کرنا آتا ہی نہیں۔ انھیں ایسا کرنا سکھایا ہی نہیں جاتا۔
انھیں سکھایا جاتا ہے کہ افسروں کی ہاں میں ہاں ملانی ہے۔ ان کی خوشامد کرنی ہے۔ انھیں ’’یس سر، یس سر‘‘ کہنا ہے۔ اور ہاں، دوسروں کی ٹانگیں بھی کھینچنی ہیں۔ یہ لوگ بظاہر ایک دوسرے کے ساتھ نرم رویہ روا رکھتے ہیں، لیکن درحقیقت ایک دوسرے کو اپنا حریف سمجھتے ہیں۔
ان میں سے کچھ کا مقصد چپ چاپ نوکری کرنا اور اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پالنا ہوتا ہے۔ وہ اپنے سامنے زیادتیاں اور بے ضابطگیاں ہوتے دیکھتے ہیں، لیکن خاموش رہتے ہیں۔ یوں وہ افسروں کے لیے بے ضرر، بلکہ کارآمد بھی ہوتے ہیں، کیونکہ وہ ان کے لیے فائلیں سنبھال کر رکھتے ہیں اور ان کا ریکارڈ صاف رکھتے ہیں۔
ہمارے ہاں بے ضابطگیاں کھل کر نہیں کی جاتیں، بلکہ ان پر بین الاقوامی معیار کے ورق چڑھا کر انھیں چھپا دیا جاتا ہے۔ یعنی:
’’ہیں کواکب کچھ، نظر آتے ہیں کچھ‘‘
کی مصداق، بڑھ چڑھ کر منافقت کی جاتی ہے۔
ضمیر
یہاں ضمیر کا ذکر بہت ضروری ہے۔ خدا نے ہر انسان کو باضمیر پیدا کیا ہے، لیکن انسان ضمیر کو مطمئن کرنے کے لیے اسے بہلاتا رہتا ہے۔ اسی لیے ہم سرکاری اور نجی کاروباری عمارتوں کے اندر وسیع و عریض رقبوں پر پھیلی عبادت گاہیں دیکھتے ہیں۔ انھیں بنانے والے اس عمل کو صدقۂ جاریہ سمجھتے ہیں۔ یعنی اس کے بعد ان کاروباری عمارتوں میں وہ کوئی بھی بددیانتی کریں، ان کا ضمیر مطمئن رہے گا کہ صدقۂ جاریہ کے چشمے سے ان کے لیے بخشش کے آبِ زم زم تو پہلے ہی رواں دواں ہو چکے ہیں۔
پھر وہ سجدوں کی محرابیں اپنی جبینوں پر سجاتے ہیں تاکہ آئینہ دیکھتے وقت ان کی نظر اپنے نادم چہروں پر نہیں، بلکہ ماتھے کے نشانوں پر ہی پڑتی رہے۔ اور ضمیر بہلا رہے۔
وہ مشکلوں سے بھاگتے ہیں اور سہل پسندی کے عادی بن جاتے ہیں۔ پھر اپنی پُرآسائش زندگیاں گزارتے ہوئے بعض اوقات ان کا سامنا ایسے فرد سے ہو جاتا ہے جو ان کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ وہ اس اچانک افتاد پر شدید تکلیف میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ انھیں اس احساس کی تکلیف میں مبتلا کرنے والے مخلص شخص میں زمانے بھر کی برائیاں نظر آنے لگتی ہیں۔ وہ اس شخص کو ’’سیدھا‘‘ کرنے کی ٹھان لیتے ہیں۔ وہ اسے ذلیل و رسوا کرتے ہیں، یہاں تک کہ وہ شخص ہار مان لیتا ہے۔ وہ ہار اس لیے مان لیتا ہے کہ اس کا کسی سے مقابلہ ہوتا ہی نہیں۔ وہ تو محض سوچتا اور سمجھتا ہے، اور دوسروں کو بھی ایسا کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
دیکھنے والے اسے دیکھتے ہیں اور گمان کرتے ہیں کہ شاید وہ درست کہتا ہے۔ لیکن شدید بدنظمی، شور اور افراتفری میں وہ سوچنے اور سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ وہ بھی اپنے افسروں کی طرح سوچنا نہیں چاہتے۔ درحقیقت وہ بھی اپنی اپنی نشست پر ایک افسر ہی ہوتے ہیں۔ ایک ایسا افسر جو سوچ بچار کرنے کے بجائے حکم دینا اور سزا دینا ہر مسئلے کا آسان حل سمجھتا ہے۔
ساتھ ہی وہ بیکار معلومات سے اپنے ذہن کو بھرتا رہتا ہے۔ وہ معلومات اس کے دماغ میں موجود ہر سوچنے والے خلیے کو مفلوج کر دیتی ہیں۔ ان بیکار معلومات کی جگہ کبھی خود اس کا اپنا علم نہیں لیتا، بلکہ وہ نئی اور تبدیل شدہ معلومات لے لیتی ہیں جنھیں سوچنے سمجھنے والی اقوام نے اپنے مشاہدے، تجربے اور تحقیق کے بعد نتائج کی شکل میں بین الاقوامی جریدوں میں شائع کیا ہے۔
وہ ان نتائج کو پڑھتے ہیں، یاد کرتے ہیں، دہراتے ہیں۔ اور پھر اگلے نتیجے کا انتظار کرنے لگتے ہیں۔

