Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
بدھ, جولائی 15, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • پاکستانی کشمیر میں اداروں اور مظاہرین کے درمیان تصادم، دو اہلکاروں سمیت 10 افراد ہلاک
  • فون انڈیکس ۔۔ ایک خاموش بستی : شاکر حسین شاکر کی یاد نگاری ( پہلا حصہ )
  • بلوچستان میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے پانچ مزدوروں کا قتل : لاشیں خان پور ، سیالکوٹ ، نارووال پہنچ گئیں
  • ایم ایس نشتر ہسپتال ڈاکٹر راؤ امجد کو عہدے سے ہٹا دیا گیا
  • آبنائے ہرمز کا اجارہ دار کون ۔۔ امریکا یا ایران ۔۔ فیصلہ کن جنگ کا انتظار : نصرت جاوید کا کالم
  • سینئر صحافی راؤ شمیم اصغر انتقال کر گئے
  • ورلڈ کپ میں شرکت کے چند روز بعد جنوبی افریقی فٹ بالر کی پر اسرار موت
  • ڈاکٹر عبادت بریلوی نے کیا دیکھا ؟ وجاہت مسعود کا کالم
  • جی ٹی ایس سے الیکٹرک بس تک کا سفر : شہزاد عمران خان کا کالم
  • شفیق مینگل کے گھر پر حملے میں 17 ہلاکتیں : ڈھائی گھنٹے تک مقابلہ
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»لکھاری»شاکر حسین شاکر»فون انڈیکس ۔۔ ایک خاموش بستی : شاکر حسین شاکر کی یاد نگاری ( پہلا حصہ )
شاکر حسین شاکر

فون انڈیکس ۔۔ ایک خاموش بستی : شاکر حسین شاکر کی یاد نگاری ( پہلا حصہ )

ایڈیٹرجولائی 14, 202629 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

برسوں بعد مجھے ایک دوست کے فون نمبر کی ضرورت پیش آئی۔ موبائل فون کھنگالا، مگر ان کا نمبر نہ ملا۔ اچانک یاد آیا کہ شاید یہ نمبر میں نے اپنے پرانے ٹیلی فون انڈیکس میں درج کر رکھا تھا۔
بس پھر کیا تھا، فون انڈیکس کی تلاش شروع ہوگئی۔ کافی دیر کی جستجو کے بعد وہ آخرکار مل گیا۔ یہ میرے ہاتھ سے لکھا ہوا تیسرا فون انڈیکس تھا۔ اس سے پہلے والے دو انڈیکس وقت کی گرد میں گم ہو چکے تھے، مگر تیسرا بناتے وقت میں نے ایک احتیاط کی تھی۔ ہر نام اور نمبر پنسل سے لکھتا تھا تاکہ نمبر تبدیل ہونے پر آسانی سے مٹا کر نیا نمبر درج کیا جا سکے۔اس کی وجہ یہ تھی کہ ہمارا ٹیلی فون نظام ڈیجیٹلائزیشن کی طرف جا رہا تھا اور ہر پرانا نمبر تبدیل ہو رہا تھا۔
وہ بھی کیا بھلا زمانہ تھا جب اردو اور انگریزی، دونوں زبانوں میں فون انڈیکس دستیاب ہوا کرتے تھے۔ آج بھی یاد ہے کہ میں نے اپنے چچا جان، پروفیسر حسین سحر، کے لیے اردو حروفِ تہجی والا انڈیکس خریدا تھا، جبکہ اپنے لیے انگریزی والا منتخب کیا۔
اب یہ انڈیکس مجھے تقریباً اسی حالت میں ملا، جس حالت میں میں نے اسے دس برس پہلے بند کیا تھا۔
جب اسے کھولا تو پہلا صفحہ حرف "A” کا تھا۔ جیسے جیسے نظریں ناموں پر پڑتی گئیں، ویسے ویسے دل پر دستک ہوتی گئی۔
سب سے پہلے عاصی کرنالی کا نام نظر آیا۔ ان کے گھر کا فون نمبر مجھے آج بھی ازبر ہے: 0616524111 یہ نمبر تقریباً چالیس برس تک اسی گھر کی شناخت بنا رہا۔یہ گھر اب بھی موجود ہے لیکن کبھی ہم نے اس نمبر کو ڈائل نہیں کیا۔اس گھر کے مکینوں میں ڈاکٹر عاصی کرنالی، بیگم ثمر بانو ہاشمی، عظمت کمال، احمد مستنیر ،حسن شارق اور ڈاکٹراحمد دانیال شامل تھے۔اس گھر کے پہلے چار مکین اب دنیا میں نہیں،جبکہ حسن شارق اور احمد دانیال ایک عرصے سے منظر سے غائب ہیں۔
اسی صفحے پر ماہنامہ جلترنگ کے مدیر اختر عزیز کا نام دکھائی دیا۔ ان سے وابستہ اتنی یادیں ہیں کہ ان پر الگ مضمون لکھا جا سکتا ہے۔سر دست یہی کہنا چاہتا ہوں۔کہ اختر عزیز نے جلترنگ کے نام سے جو ماہانہ رسالہ شائع کرنا شروع کیا۔اس نے مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کیے۔اسی رسالے کے ذریعے ندیم قیصر نے اپنی صحافت کا آغاز کیا۔جبکہ رحیم طلب اس رسالے کے لیے کتابت اور ڈیزائننگ کا کام کرتے تھے۔ آگے بڑھا تو ڈاکٹر اسلم انصاری کا نمبر سامنے آگیا۔ اکثر وہ خود ہی فون اٹھاتے تھے۔ ان کے انتقال کے بعد کبھی یہ نمبر ملانے کی ہمت نہ ہوئی۔ دل چاہتا ہے کہ وہ نمبر آج بھی ویسے ہی زندہ ہو جیسے ان کی زندگی میں تھا۔آخری دنوں میں وہ موبائل کے ذریعے احباب کے ساتھ رابطے میں رہتے۔اور وہ ملتان کے واحد بزرگ ادیب تھے۔جو ای میل، کمپوزنگ واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا استعمال کرتے تھے۔
اسی صفحے پر ہمارے کلاس فیلو اور سابق سیاست دان انتظار حسین قریشی مرحوم کا نمبر بھی درج ہے۔ وہ جذباتی اور متحرک شخصیت کے مالک تھے۔ اگر زیادہ عرصہ زندہ رہتے تو یقیناً شہر کی سیاست کو ایک فعال رہنما ملتا۔
ڈاکٹر انور سدید اور (مرزا )ابنِ حنیف کے نمبر بھی اسی صفحے پر جگمگا رہے ہیں۔ یہ روشن چراغ اگرچہ بجھ چکے ہیں، مگر ان کا علمی وادبی سرمایہ آج بھی روشنی بانٹ رہا ہے۔
صفحہ در صفحہ آگے بڑھتا گیا تو مرحومین کی ایک پوری کہکشاں سامنے آتی گئی۔جناب احمد فراز، عظمت کمال، پروفیسر امیر محمد خان (میں ان سے گورنمنٹ اسلامیہ ہائی سکول حرم گیٹ میں پڑھتا رہا ہوں۔بعد میں یہ ایمرسن کالج کے پروفیسر رہے) امجد اسلام امجد کا نام دیکھ کر بہت سی یادیں تازہ ہوئیں۔ پروفیسر ایم۔ اے۔ قدوس کا نام پڑھ کر پاکستان نیشنل سینٹر خوب یاد آیا اے۔ ایچ۔ عاصم ادویات کی کمپنی میں کام کرتے تھے اور ماہر امراض شوگر تھے اچانک دل کے دورے سے انتقال کر گئے۔ عارف الاسلام صدیقی پیشے کے اعتبار سے بینکر، لیکن ان کا قلم اتنا رواں دواں تھا کہ ہر شخص ان کی تحریر کا انتظار کرتا ۔ اختر صدیقی ایڈووکیٹ نے ملتان کی سیاست اور ثقافت میں بھرپور کردار ادا کیا ۔ احمد سعید جعفر بطور لائبریرین جہاں بھی رہے،بہترین یادوں کا سرمایہ چھوڑا۔اسی طرح یار من اختر شمار، اطہر ناسک، احمد کبیر شاہ، پروفیسر عبدالجبار شاکر، اشفاق احمد (تلقین شاہ)، ایس پی اشعر حمید جن کی موت آج تک معمہ بنی ہوئی ہے۔ یہ کتابوں کے بہت شوقین تھے۔ عقیل طالش مرحوم انجمن طلبہ اسلام کے مرکزی رہنما تھے،اور نوجوانی میں انتقال کر گئے ۔ ارشد حسین ارشد اور نہ جانے کتنے نام… ہر نام ایک داستان ہے اور ہر داستان ایک الگ مضمون کی متقاضی۔
"B” اگلے صفحے پر اس پر سب سے پہلے پروفیسر بتول گردیزی مرحومہ کا نمبر دکھائی دیا ، جو ہوم اکنامکس گرلز کالج ملتان پہلی پرنسپل تھیں۔ اتنی سخی استاد تھی کہ اپنی ساری تنخواہ بچیوں کی کتابوں کی خریداری پر لگا دیتی ہوں اوربعد میں بچوں سے آہستہ آہستہ وصول کرتیں۔
پھر استادِ عالم بلیو پاٹری کا جانا پہچانا نام، جنہوں نے بلیو پاٹری کے ذریعے ملتان کا نام پوری دنیا میں روشن کیا۔
بشیر احمد خان مرحوم کا نمبر دیکھ کر بھی یادوں کا در کھل گیا۔ شادی بیاہ کی ویڈیو فلموں بنانے سے سفر شروع کیا، پھر صحافت اور بعدازاں پراپرٹی کے شعبے میں آئے۔ زندگی کے آخری برسوں میں” ملتان نامہ” کے نام سے اخبار شائع کرتے رہے۔
اسی صفحے پر محترمہ بانو قدسیہ کا نمبر بھی درج ہے۔ ملتان کینٹ کی معروف کتابوں کی دکان بک لینڈ کا نمبر بھی موجود ہے، جسے یاد کرتے ہی اس خوبصورت کتاب گھر کی خوشبو محسوس ہونے لگتی ہے۔شیخ مسعود بھی یاد آئے۔جو بک لینڈ کے مالک تھے۔ ایک عرصے سے ہم سے ملاقات بھی نہیں۔
بلسن اسکول کے پرنسپل بلال شیخ، پروفیسر بشیر احمد ملک، اور محترمہ بشریٰ رحمان کے نام بھی اسی صفحے پر ہیں۔
بلال شیخ شہر میں پرائیویٹ تعلیمی ادارے قائم کرنے والے ابتدائی افراد میں شامل تھے۔
پروفیسر بشیر احمد ملک کو کون نہیں جانتا،چیئرمین سیکنڈری بورڈ اور پرنسپل علمدار کالج رہے۔آدھا شہر ان کا شاگرد رہا۔دل کا آپریشن کروانے گئے اور پھر واپس نہ لوٹے۔
چوک کچہری کی معروف بک گیلری کے نوید احمد شیخ کا نمبر بھی اب صرف ایک یاد بن کر رہ گیا ہے۔ان سے کبھی کبھار فون پر بات ہو جاتی ہے ۔
"C” کے صفحے پر کارواں بک سینٹر کے محمد عمر خان اور کرنل ابدال بیلا کے نمبر ملے، تو ماضی کے کئی دریچے ایک
ساتھ کھل گئے۔
کاروان بک سینٹر نے ملتان کی علمی ادبی اور ثقافتی تاریخ کو کتابوں اس صورت میں محفوظ کیا۔اور یہ ملتان کا پہلا ادارہ تھا جس نے یہاں کے لوگوں کی خوبصورت کتابیں شائع کیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کاروان بک سینٹر کے محمد عمر خان اپنی شخصیت میں ایک ایک دبستان کی حیثیت رکھتے تھے۔
abdaal-bela
کرنل ابدال بیلا کی جنرل مشرف کے زمانے میں ملتان پوسٹنگ ہوئی۔اور بہت جلد ملتان کے علمی ادبی تقریبات کا حصہ بن گئے۔
"D” کے صفحے پر ڈاکٹر آصف فرخی کا نام سامنے آیا، اور پھر مرحومین کی ایک طویل قطار: ڈاکٹر کلیم ارشد(ہومیوپیتھک ڈاکٹر )، ڈاکٹر غلام مصطفیٰ چوہدری(سابق وائس چانسلر بہاء زکریا یونیورسٹی) ، ڈاکٹر منور حیات (سابق پرنسپل کے ای لاہور) ، ڈاکٹر افتخار احمد(ریڈیو پاکستان ملتان کے سٹاف آرٹسٹ) ، ڈاکٹر کرامت علی( سابق وائس چانسلر )، ڈاکٹر مظفر احسن قریشی(سابق نائب سٹی ناظم ملتان) ، ڈاکٹر مصطفیٰ کمال پاشا(سابق وائس چانسلر نشتر یونیورسٹی ) ڈاکٹر کوثر نصیر، ڈاکٹر راجہ ظفرماہر امراض قلب ، ڈاکٹر سلیم صفدرپروفیسر آف میڈیسن ، ڈاکٹر عبدالغفورماہر امراض ناک کان گلا ، ڈاکٹر تنویر الحسن رمزی نیورو فزیشن ، ڈاکٹر محمد حنیف خان ماہر امراض بچگان ، ڈاکٹر اے۔ بی۔ اشرف، ڈاکٹر احمد فراز اور ڈاکٹر خالد سعید۔
ہر نام کے ساتھ ایک چہرہ، ایک آواز اور ایک زمانہ جڑا ہوا ہے۔
farooq usman
"F” کے صفحے پر انکل سرگم، فاروق قیصر کا نمبر دیکھ کر بچپن آنکھوں کے سامنے آگیا۔ ڈاکٹر فاروق عثمان بھی اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ رسالہ فنون کا نمبر بھی درج ہے، مگر افسوس کہ اب وہ رسالہ بھی تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔
ghazala khakwani
ghazanfar shahi
"G” کے صفحے پر غزالہ خاکوانی اور معروف صحافی غضنفر شاہی کے نمبر موجود ہیں، مگر اب یہ نمبر صرف خاموشی سے ماضی کی گواہی دیتے ہیں۔
"H” کے صفحے پر ڈاکٹر حنیف چوہدری، ایم اے ہادی، حافظ حبیب الرحمن (سوہن حلوہ والے)، پروفیسر حفیظ الرحمن خان، حامد کرتار پوری، سید حیدر عباس گردیزی، حسنین اصغر تبسم اور جالندھر ہوٹل کے مالک عبدالستار گلو کے نمبر دیکھ کر دل پھر ماضی کی گلیوں میں بھٹکنے لگا۔
ابھی یہ سارا کچھ یاد کر رہا تھا تو فون انڈیکس پر پروفیسر حسین سحر کے نمبر بھی دکھائی دیے۔ان نمبروں میں ان کے سعودیہ کے قیام کے دوران والے نمبر اور دبئی کے نمبر دکھائی دیے۔
اسی صفحے پر ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن ملتان کا نمبر بھی درج ہے،سنا ہے یہ نمبر بھی اب تبدیل ہو گیا ہے ۔ جہاں سے 90 ہزار روپے کا قرض لے کر تقریباً چالیس برس پہلے میں نے پونے چار مرلے کا اپنا پہلا گھر تعمیر کیا تھا۔
"I” کے صفحے پر اقبال خالد ملتان آرٹس کونسل کے ریزیڈنٹ ڈائریکٹر ، اقبال ساغر صدیقی ممتاز مزاح نگار اور نامور صحافی ، اعظم خاکوانی کالم نگار و دانشور ، افتخار مجاز پاکستان ٹیلی ویژن کے سینیئر پروڈیوسر، ابنِ کلیم موجد خط رعنا، ملک ارشاد رسول قانون دان اور سیاست دان ، افتخار فخر چھاوڑی ترقی پسند رہنما ، عشرت عباس نقوی افسانہ نگار اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما ، ارشد ملتانی نامور شاعر اور جراح، ارشد خرم خطاط اور جناب اقبال ارشد کے نمبر آج بھی محفوظ ہیں، مگر ان کی آوازیں خاموش ہو چکی ہیں۔
"K” کے صفحے پر خلیل اللہ لابر سابق ایم پی اے جوچولستان میں پھٹک گئے اور پیاس کی وجہ سے جاں بحق ہوئے ، خالدچوہان معروف آریکٹیٹ ، خورشید عباس گردیزی، اور پروفیسر خالد پرویز ادیب خاکہ نگار اور ماہر تعلیم کے نمبر محفوظ ہیں، مگر اب ان نمبروں پر کسی شناسا آواز کی امید نہیں رہی۔
اور جب "L” کے صفحے پر پہنچا تو پروفیسر لطیف الزمان خان ماہر غالبیات ، عبداللطیف اختر صحافی اور کئی دوسرے احباب کے نام سامنے آگئے۔
میری انڈیکس کا اگلا پڑاؤ ایم تھا۔جس میں پہلا نام نامور شاعر مبارک شاہ کا دیکھنے کو ملا۔پھر اس کے بعد مجید نظامی،منصورہ احمد ،ملک محمد عاشق نقاش،محسن بھوپالی،مفتی غلام مصطفی رضوی، منو بھائی،محمد علی واسطی،نامور شاعر مقبول قریشی ،پروفیسر محمود الحسن،سیاستدان ملک مظفر اعوان،مخدوم محمد راجو شاہ گردیزی سجادہ نشین حضرت شاہ یوسف گردیز،سمیت بہت سے ایسے نمبر دکھائی دیے جن کو ڈائل کیے ہوئے کئی برس بیت گئے۔

انڈیکس میں اگلی باری این کی تھی۔جس میں گلوکار نعیم الحسن ببلو ،ملتان کی متحرک ثقافتی ادبی شخصیت نعیم چوہدری کے نمبر دیکھ کر دل اداس ہو گیا۔
فون انڈیکس کو دیکھتے دیکھتے جب میں پی کے صفحے پر گیا۔دانشور اور ممتاز قانون دان پرویز آفتاب کا نام دیکھ کر بہت سی یادیں تازہ ہو گئیں۔اسی طرح پیرزادہ عبد السعید کا نام پڑھتے ہی گلگشت میں ان کے گھر میں ہونے والی تقریبات یاد آگئیں۔
qaswar saeed mirza
کیو کا صفحہ کھولا کہ سب سے پہلا نام برادرم قسور سعید مرزا کا دیکھا۔پھر روزنامہ قومی آواز کے آگے ایثار راعی صاحب کا نام لکھا ہوا تھا۔قرات کے حوالے سے ایک اہم نام قاری عبدالغفار نقشبندی،ملتان میں کرائم رپورٹر کے طور پر مشہور ہونے والے قاسم جعفری،محمد بن قاسم بلائنڈ سینٹر کے قائم کرمانی اور آخری نام ڈاکٹر قاضی عابد کا تھا۔ڈاکٹر قاضی عابد کے بارے میں کیا لکھوں کہ وہ جب اس دنیا سے گیے تو ان کے جانے کی عمر نہ تھی۔
rana ejaz mehmood

آر کا صفحہ کھولتے ہی ہاتھ دل پر چلا گیا۔رانا اعجاز محمود، رحمان فراز، راشد سیال،راشد رحمان، ریاض حسین قریشی اور مولانا عبدالوحید ربانی کہ نمبر تو موجود ہیں۔ لیکن ان کو ڈائل نہیں کر سکتا تھا۔لیکن یاد کی نگری ان سے مکالمہ اکثر کرتی ہے۔ان تمام شخصیات پر میں نے طویل مضامین بھی لکھے۔
ایس کا سفر کھولتے ہی نامور شاعرہ ثمینہ راجہ، سابق ایم پی اے شیخ خلیل احمد،سابق ایم پی اے سلطان عالم ،سماجی رہنما شہنشاہ زیدی،سابق صوبائی وزیر میاں سعید احمد قریشی،استاد محترم شوکت مغل،جماعت اسلامی کے رہنما حافظ سعید انور اور بے شمار ایسے نام دکھائی دیے۔جن سے تقریبا ہر دوسرے دن رابطہ ہوتا تھا۔اور اب ان کی آواز سننے کی برسوں بھی تھے۔

ٹی کا صفحہ کھولتے ہی سرائیکی پارٹی کے تاج محمد لنگاہ کا نمبر نظر آیا۔ڈاکٹر طاہر تونسوی ،تنویر الحسن گیلانی کے نام دیکھ کر یاد کیا کہ میں ان تینوں احباب پر الگ الگ مضمون لکھ چکا ہوں۔
یو کے صفحے پر عمر علی خان بلوچ، عمر کمال خان کے نام دیکھ کر بہت سی یادیں تازہ ہو گئیں۔ کہ ان دونوں شخصیات نے ملتان کے ادبی ثقافتی اور سماجی رتبے کو بلند کرنے کے لیے بہت سا کام کیا۔
ڈبلیو کے صفحے پر ولی مظہر ایڈووکیٹ ،پاکستان میں فیبرک کلر متعارف کروانے والے وسیم وامق،وسیم بلال ایڈووکیٹ کے نام اور نمبر دیکھ کر خیال آیا۔کہ ان احباب سے مسلسل رابطے میں رہ کر زندگی کا احساس ہوتا تھا۔
وائی کا صفحہ دیکھ کر حکیم یزدانی قریشی ہاشمی اور یونس لعل دین مشن ہسپتال والے یاد آئے۔یہ دونوں احباب میری ہر غمی خوشی میں شریک ہوتے رہے۔
انڈکس کا آخری صفحہ زیڈ ہے۔ جس میں اج بھی ضیا شاہد ،پروفیسر صغری خاکوانی،ضمیر احمد قریشی ،کتاب دوست ضیاء الاسلام قریشی،ضیا شبنمی کے بارے میں کیا کہیں،کچھ لکھتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔
مصور ،شاعر زوار حسین ،ماہر آثار قدیمہ، ادیب ،شاعر زبیر شفیع غوری کے نام دیکھ کر خیال آیا۔یہ جب یہاں موجود ہوتے تھے۔ان سے مکالمہ کرنے کا کتنا لطف آتا تھا۔
zubair shafi ghauri
ایک عرصے بعد ٹیلی فون انڈیکس کھولی تو یادوں کی ایک ایسی البم سج گئی۔جس میں کہیں قہقہے ہیں تو کہیں آنسو۔
یہ انڈیکس سامنے رکھے ہوئے میں سوچ رہا ہوں کہ اس انڈس کو صرف میں ہی کبھی کبھار کھولتا ہوں۔مجھے یقین ہے کہ میرے بیٹے نے کبھی اس انڈیکس کو کھولا بھی نہیں ہوگا۔اور یہ بھی یقین ہے کہ جب میں اس دنیا میں نہیں ہوں گا۔تو مجھ سے متعلق جو چیزیں سب سے پہلے ردی کی ٹوکری کا حصہ بنے گی اس میں یہ انڈیکس بھی شامل ہوگی۔جس طرح بوڑھے لوگ اس معاشرے میں اہستہ اہستہ ان فٹ ہو جاتے ہیں۔ متروک چیزوں کا حصہ بن جاتے ہیں۔ہم سے متعلق بہت سی چیزیں ایسی ہمارے جانے کے بعد پسماندگان کو ملیں گی۔ جن کے بارے میں ان کا حتمی فیصلہ یہ ہوگا کہ اس کو گھر سے نکالا جائے۔تاکہ ان کی جگہ پر کوئی اچھی چیزیں رکھی جا سکیں۔
آج ٹیلی فون انڈیکس دراز میں دوبارہ رکھتے ہوئے اچانک احساس ہوا کہ یہ صرف ایک فون انڈیکس نہیں، بلکہ میری زندگی کی ایک مکمل تاریخ ہے۔ اس کے ہر صفحے پر ایک چہرہ آباد ہے، ہر نمبر کے پیچھے ایک آواز محفوظ ہے، اور ہر نام کے ساتھ زندگی کا ایک پورا عہد سانس لیتا ہے۔
وقت نے ان میں سے بہت سوں کو ہم سے جدا کر دیا، مگر یہ پرانا فون انڈیکس آج بھی ان سب کی خاموش موجودگی کا گواہ ہے۔ کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ اگر یہ پرانے نمبر ڈائل کیے جائیں تو شاید دوسری طرف سے وہی مانوس آواز سنائی دے: "جی فرمائیے!” مگر حقیقت یہ ہے کہ اب یہ نمبر نہیں، صرف یادیں بجتی ہیں۔ ( جاری ہے )

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

ملتان
Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleبلوچستان میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے پانچ مزدوروں کا قتل : لاشیں خان پور ، سیالکوٹ ، نارووال پہنچ گئیں
Next Article پاکستانی کشمیر میں اداروں اور مظاہرین کے درمیان تصادم، دو اہلکاروں سمیت 10 افراد ہلاک
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

سینئر صحافی راؤ شمیم اصغر انتقال کر گئے

جولائی 12, 2026

پیر سپاہی ، ملتان کی کہانیاں اور رضی الدین رضی کی سوانح عمری : کلثوم رفیق کا کتاب کالم

مئی 26, 2026

ارشد حسین ارشد ، مخدوم سجاد قریشی اور کھولتے دودھ کا کڑاہا : قریب و دور سے / ڈاکٹر انوار احمد کا کالم

مئی 15, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • پاکستانی کشمیر میں اداروں اور مظاہرین کے درمیان تصادم، دو اہلکاروں سمیت 10 افراد ہلاک جولائی 15, 2026
  • فون انڈیکس ۔۔ ایک خاموش بستی : شاکر حسین شاکر کی یاد نگاری ( پہلا حصہ ) جولائی 14, 2026
  • بلوچستان میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے پانچ مزدوروں کا قتل : لاشیں خان پور ، سیالکوٹ ، نارووال پہنچ گئیں جولائی 13, 2026
  • ایم ایس نشتر ہسپتال ڈاکٹر راؤ امجد کو عہدے سے ہٹا دیا گیا جولائی 13, 2026
  • آبنائے ہرمز کا اجارہ دار کون ۔۔ امریکا یا ایران ۔۔ فیصلہ کن جنگ کا انتظار : نصرت جاوید کا کالم جولائی 13, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.