جب سے شدید گرمی ملتان،بہاولپور اور کراچی میں نازل ہوئی ہےپوری پوری رات بہت پیارے لوگوں کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ فلاں فلاں کی وفات ہوگئی ہے کل ان کی نمازِجنازہ اتنے بجے ہوگی ۔اگر تو مرحوم کا تعلق اشرافیہ سے ہو تو صبح کے اخبارات میں ان کی تصاویرکالے حاشیے میں شائع ہوتی ہیں ساتھ ہی ان کے چہلم تک کے پروگرام بھی درج ہوتے ہیں۔
بڑے لوگوں کے تعزیتی پیغامات کا مقابلہ ہوتا ہے مگر ایسا بہت کم ہوتا کہ تعلیم یا روزگار کی تلاش میں ان کے بچوں کی دیکھ بھال کیلئے حقیقی وعدہ دکھائی دے،پھران کی وفات سے جو خلا پیدا ہوتا ہے وہ بھی پُر ہو جاتا ہے۔اس بات پر غالب کے کئی مصرعے یا اس کے تعزیتی خطوط کے فقرے آپ کو یاد آ سکتے ہیں ،پریم چند یا کرشن چندراور احمد ندیم قاسمی کے افسانے مگر کیا کریں یہی زندگی اور اس کا اصول ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ سرائیکی وسیب مخدوموں سے پہچانا جاتا ہے اور ہر مخدوم کوسینکڑوں خادموں کی ضرورت ہوتی ہے،پرسوں رات ایک ایسے خادم،ارشد حسین ارشد کی وفات ہوئی۔ان کے سرپرست مخدوم سجاد حسین قریشی تھے،ایک وقت تھا وہ ایک رسالہ’’آستانہ زکریا ‘‘ نکالتے تھے تو اس کے ادارہ تحریر میں ارشد حسین ارشد کا نام بھی تھا،ان کے والد بہشتی کھولتے دودھ کے کڑاہ میں گرے تھے اور پھر کسی مخدوم کا تعویذ یا توجہ مرہم نہ بن سکی۔
جس زمانے میں ڈاکٹر سید عبداللہ اپنے شاگردوں کے ذریعے اردو زبان کے فروغ یا اشاعت کیلئے پرجوش تھے،تب معلوم ہوا کہ انہوں نے ایم اے اردو بھی کر لیا ہے اوروہ مجلسِ اشاعت(ترقی) ادب کے سیکرٹری ہیں۔تقاریب میں وہ عام طور پر خطاب نہیں کیا کرتے تھے بس چپکے سے ایک جگ گلاس لے کر پانی پلانا شروع کرتے تھے،ان سے پہلے ارشد ملتانی اور اقبال ارشد بطور شاعر شہرت پا چکے تھےاور اقبال ارشد جب تک بینائی اور جوان اولاد سے محروم نہیں ہوئے دو چار فقرے ان پر بھی اچھال دیا کرتے تھے بہر طور میں کوشش کرتا تھا کہ ان کی دل جوئی کا کوئی راستہ مل جائے،وہ چاہتے تھے کہ اکادمی ادبیاتِ پاکستان ان کا ماہوار وظیفہ مقرر کرے، میں انہیں بتایا کرتا تھا کہ جنوبی پنجاب کے ایسے قلم کاروں کے وظیفےکیلئے جو کمیٹی بنی ہے اس میں اصغر ندیم سید اور قمر رضا شہزاد شامل ہیں اب انہی سے درخواست ہے کہ انکی بیوہ کا ہی ماہانہ وظیفہ مقرر کرادیں،دوسرے ان کے ہاتھ میں ایک اور عرضی بھی تھی کہ انکی ایک بیٹی نے شاید بزنس ایڈ منسٹریشن میں ماسٹرز کیا تھا وہ چاہتے تھے زکریا یونیورسٹی میں اسے ملازمت مل جائے میں کہتا تھا کہ اس بچی سے کہوکہ وہ ہمت کرکے موزوں دریچہ کھٹکھٹائے میری اس بات پر وہ ٹھنڈی سانس لے کے کہتے کہ کاش آپ بھی چھوٹے موٹے مخدوم ہوتے یا پھر مخدوم سجاد حسین قریشی زندہ ہوتے تو وہ کبھی مخدوم شاہ محمود قریشی کو اپوزیشن لیڈر بننے کی چاہت میں جیل نہ جانے دیتے۔
دوسرے بزرگ کراچی میں فوت ہوئے علامہ سید عابد رضوی جو انجمن ترقی اردوکے خزانہ دار تھے،بے شک اس انجمن کے بانی بابائے اردو مولوی عبدالحق تھے جو اس نکتے پر زور دیتے تھے کہ آل انڈیا مسلم لیگ کے قیام سے بھی تین برس پہلے یہ انجمن قائم ہوئی۔ سرسید احمد خان کی طرح مولوی عبدالحق کو بھی اپنوں نے دُکھ دئیے تاہم پاکستان کے پہلے فیلڈ مارشل جنرل محمد ایوب خان نے شاید قدرت اللہ شہاب کے کہنے پر ملاقات میں پوچھا کہ’’میرے لائق کوئی خدمت ہے تو بتائیے‘‘ میرا خیال ہے کہ قدرت اللہ شہاب نے احتراماً انہیں ’’ق اور ک‘‘ کا فرق نہیں بتایا ہوگا تاہم رئیس ِلوہاروجناب جمیل الدین عالی نے اس اشارے کو بھانپا اور ایسا دستور بنایا کہ انجمن کا سیکرٹری اورخازن مل کر سارا نظام چلایا کریں ،ان کے خازن ساتھی آفتاب حسن وزارت خزانہ کے ریٹائرڈ افسر تھے اور جانتے تھے کہ انجمن کو متحرک رکھنے کیلئے وسائل کہاں کہاں سے آئیں گے ۔بے شک ہر انسان کی ایک طبعی عمر ہے عالی صاحب کی وفات آج سے گیارہ برس پہلے ہوئی تاہم کچھ برس پہلے ایسے آثار پیدا ہوئے کہ ان کی یادداشت کمزور ہو رہی ہے تو ان کے صاحب زادے راجو جمیل نے ڈاکٹر فاطمہ حسن کے ساتھ مل کر انجمن کو نئی زندگی یعنی نئی قیادت دینے کا فیصلہ کیا ۔ ڈاکٹر فاطمہ حسن کی شاعری سے تو پہلے واقفیت تھی مگر ڈاکٹر شاہ محمد مری کی وساطت سے مزید تعارف ہوا اور یوں میں،ڈاکٹر یوسف خشک، ڈاکٹر آغا محمد ناصر،ڈاکٹر نجیب جمال، محترمہ زاہدہ حنا،سید واجد جواد اور علامہ سید عابد رضوی مجلسِ نظما میں آ گئے۔
انجمن کی بڑی نشانی ایک کتاب خانہ، مطبوعات کا پروگرام اور ماہنامہ ’قومی زبان‘ اور ریسرچ جرنل ’اردو‘ ہیں۔ حقیقت میں ان سب پر گرفت علامہ سید عابد رضوی کی تھی میں ان کے احترام کے باوجود اپنے تبصروں سے انہیں چھیڑا کرتا تھا،وہ اپنے دل کی سرجری کا ذکر بھی کرتے تھے مگر ہمیں ان کی قوتِ ارادی اور استعدادِ کار پر بھروسہ تھا اس لئے ان کی وفات کی خبر سن کے دل بُجھ سا گیا ہے۔
آپ اگر صاحبِ مطالعہ ہیں توعبداللہ جاوید سے واقف ہوں گے ،انہوں نے ’’رفیقِ مطالعہ‘‘ سلسلے کی بہت شاندار کتابیں شائع کیں ۔مت سہل ہمیں جانو(آئیے میر پڑھئے)،آگ کا دریا، ایک مطالعہ،تنہائی کے سو سال اور رومی کون؟۔ ابھی جب ان کی کتاب جاپانی مصنف ’’ہوجو کی ۔ایک مطالعہ‘‘ اکادمی بازیافت کراچی کے مبین مرزا کی وساطت سے ملی تو یہ دل دوز خبر بھی ملی کہ عبداللہ جاوید اس دنیا میں نہیں رہے مگر اونٹاریو کینیڈا میں مقیم ان کی بیوہ محترمہ شہناز خانم عابدی نے یہ عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ عبداللہ جاوید کے کچھ مسودوں پر کام کر رہی ہیں جو بہت جلد شائع ہو جائیں گے۔’’ہوجوکی۔ایک مطالعہ‘‘میں شامل ایک نظم کا اقتباس دیکھئے:
گھومیں پھریں اور تحقیق کریں تو
نہیں ملے گی لمبی تاریخ
کسی بھی مکان کی
بڑے مکان مٹتے جاتے ہیں
ان کی جگہ بنتے جاتے ہیں
ان سے قدرے چھوٹے مکان
( بشکریہ : روزنامہ جنگ )
فیس بک کمینٹ

