Browsing: کالم

یہ کتنی عجیب بات ہے کہ سینٹ جوڈ جیسے اداروں کے ممالک اپنے سرمایہ دارانہ مفادات کی تکمیل کے لیے غریب ملکوں پر حملے کرتے ہیں اور انہیں تباہ و برباد کر دیتے ہیں۔ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ سینٹ جوڈ جیسے ادارے اپنے ہی ملک کے ہاتھوں تباہ شدہ انہی ممالک کے سرطان زدہ بچوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔ میں ان اداروں سے وابستہ افراد پر کوئی الزام نہیں رکھتا ، میں صرف ان اندوہناک تضادات کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جنہیں مارکسزم کے سوا دنیا کا کوئی مذہبی، اخلاقی، سماجی یا سیاسی نظریہ اس وضاحت کے ساتھ بیان نہیں کر سکتا۔

اسرائیل کے علاوہ بھارت کوبھی پاکستان کا ایران اور امریکہ کے مابین مذاکرات کے حوالے سے مؤثر کردار ہضم نہیں ہورہا۔ اس کا وزیر خارجہ بھارت سے چند ممالک کا دورہ کرنے نکل پڑا ہے۔ جو ملک اس نے دورے کے لئے چنے ہیں وہ بھی ایران،امریکہ مذاکرات سے خوش نہیں۔ انہیں بھڑکانا مقصود ہے۔ تفصیلات میں جانے سے مگر گریز بہتر ہے۔

1914کے موسم بہار میں ویانا کا ایک نوجوان مصنف اسٹیفن زیوگ فرانس کے ایک تھیٹر گھر میں فلم دیکھ رہا تھا۔ اچانک کسی تکنیکی خرابی سے سکرین پر جرمنی کے شہنشاہ ولہلم دوم کی تصویر نمودار ہوئی۔ لمحوں میں تمام تماشائی عورتوں اور بچوں سمیت نفرت انگیز نعرے لگاتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔ اسٹیفن زیوگ خوفزدہ ہو گیا۔ اسے پہلی بار معلوم ہوا کہ جنگی جنون میں اچھے بھلے انسان کس پاگل پن پر اتر آتے ہیں۔

وہ اردو کا شاعر تھا مگر روایتی معنی میں اہلِ زبان نہیں تھا اس لئے کراچی کے ادبی میلوں میں وہ کوئی مناسب جگہ نہ پا سکا،دوسرے اس کا خیال تھا کہ خالقِ کائنات کے پاس دکھ،درد کا اسٹاک وافر ہے

ایران کی جانب سے دکھائی مزاحمت مگر مین لینڈ امریکا میں ویسی بے یقینی اور مایوسی نہیں پھیلارہی جو پاکستان کا ایران جنگ میں براہ راست ملوث نہ ہونے کے با وجود مقدر ہوئی نظر آرہی ہے۔ میں اس جانب توجہ مبذول رکھتا ہوں تو حارث خلیق جیسے مہربان دوست بھی ناامیدی کی یکسانیت کا ذکر کرتے ہوئے ذہن کو مزید مفلوج بنانا شروع ہوگئے ہیں۔

2025ء میں مذاکرات کے دوران امریکا نے اسرائیل کیساتھ ملکر ایران پر حملہ کر دیا اور 2026ء میں بھی امریکا نے مذاکرات کو ایک دھوکے کے طور پر استعمال کیا۔ دو مرتبہ دھوکہ کھانے کے بعد بھی ایرانی مذاکرات کیلئے تیار ہیں لیکن انہیں ضمانت چاہئے کہ تیسری مرتبہ مذاکرات کے نام پر ان کیساتھ دھوکہ نہیں ہو گا۔

اصول یہ ہے کہ طلاق حاصل کرنے والے جوڑے کے نام پر جو مشترکہ اثاثہ جات ہوں گے اُن کی مساوی تقسیم ہوگی لیکن دو پیشگی شرائط کے ساتھ۔ اوّل، اثاثے اُن کی شادی کے دوران دونوں کے مشترکہ تعاون سے بنائے گئے ہوں، دوم، اُن اثاثوں کو بنانے میں فریقین کی کاوشوں اور باہمی تعاون اور شراکت کا واضح تعین نہ ہو سکے۔ اپنے ہاں تو حال یہ ہے کہ برسوں عورت اپنے شوہر اور اُس کے خاندان والوں کی محنت کرتی ہے اور اگر ون فائن مارننگ شوہر اُس کو طلاق کے ساتھ حق مہر کے بیس ہزار روپے دے کر فارغ کر دے تو اُس کے پاس رہنے کو کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا۔

-اگر میں قتل ہو جاتا اور لوگ یہ کہتے رہیں کہ یہ بے گناہ تھا تو مجھ مقتول کو اس سے کیا ملے گا. کیا خرافات ہے کہ مقتول کو انصاف ملنا چاہئے. مقتول کو انصاف مل ہی نہیں سکتا. قاتلوں کو مل سکتا ہے جو کہ زندہ ہیں (ص 202).
-میرا جرم یہ ہے کہ میں ایک عام آدمی ہوں اور میرا جرم اور بھی بڑھ جاتا ہے کہ جب میں عام آدمی ہوتے ہوئے عام آدمی کی طرح سوچتا نہیں ہوں (ص 203).
-کافر مرنا اتنا جرم نہیں ہے جتنا شاید کافر جینا جرم ہے(ص 203).

وہ جب شہنشاہ ایران کو سعودی عرب لے کر گیا تو اس وقت اس کا تاریخی استقبال ہوا اور فیصلہ ہوا کہ ہم ایک اسلامی بلاک بنائیں گے یہ ذوالفقار علی بھٹو کیوں پیدا ہو گیا تھا ایسے لوگوں کو تو غریب قوموں میں پیدا نہیں ہونا چاہیے ایسی قومیں جن کو اپنی قوت کا پتہ نہ ہو جن کو اپنی مضبوطی کا پتہ نہ ہو جن کو اپنے بیماریوں کا پتہ نہ ہو ان میں ایک شعور والا کیوں پیدا ہو گیا تھا یہ وہ شعور والا تھا جو تمام صیہونی اور استعماری قوتوں کو چبھنے لگ گیا ۔

تاریخ کا یہ المیہ رہا ہے کہ جو شخص تہذیب کو نئی سمت دینے کی کوشش کرتا ہے، وہی سب سے پہلے نشانہ بنتا ہے۔ بھٹو کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ ان کی مقبولیت، ان کی خودمختار خارجہ پالیسی اور ان کا عوامی بیانیہ عالمی اور مقامی طاقتوں کے لیے ناقابلِ برداشت بن گیا۔