انکی ایک بیٹی نے شاید بزنس ایڈ منسٹریشن میں ماسٹرز کیا تھا وہ چاہتے تھے زکریا یونیورسٹی میں اسے ملازمت مل جائے میں کہتا تھا کہ اس بچی سے کہوکہ وہ ہمت کرکے موزوں دریچہ کھٹکھٹائے میری اس بات پر وہ ٹھنڈی سانس لے کے کہتے کہ کاش آپ بھی چھوٹے موٹے مخدوم ہوتے یا پھر مخدوم سجاد حسین قریشی زندہ ہوتے تو وہ کبھی مخدوم شاہ محمود قریشی کو اپوزیشن لیڈر بننے کی چاہت میں جیل نہ جانے دیتے۔
Browsing: ڈاکٹر انوار احمد
مل کی یونین کا دعویٰ ہے کہ ایک سو تینتیس لاشیں تو انہوں نے اٹھائیں ان کے علاوہ بھی درجنوں سائیکل تھے جو کوئی لینے نہ آیا، یہ وہ دور تھا کہ ملتان میں امروز اخبار تھا جو ولی محمد واجد، سعید صدیقی احمر ، مظہرعارف اور حشمت وفا جیسے مزاحمت کاروں کے ذریعے اس قتلِ عام کی خبریں دے رہا تھا۔ تب جی ٹی ایس، کھاد فیکٹری اور دیگر اداروں میں فعال انجمنیں تھیں جس کی وجہ سے یوم مئی پر طالب علم ، استاد اور وکیل خطاب کرتے تو فیض اور جالب ہی نہیں استاد دامن بھی ان کے ترجمان ہو جاتے
ایلن جس طرح کے اداروں میں پڑھا ہے وہ ہمارے خیال یا خواب میں بھی مہذب ترین مُلک یعنی امریکہ کے وہ ادارے ہیں جن میں کوئی بچہ پڑھ رہا ہو تو باپ بے شک فخر کرتا ہے مگر وہ بچہ بیمار ہو جائے یا سیکورٹی والے اسے الٹا لِٹا کے مُشکیں کس لیں یا ہتھکڑیاں ڈال دیں تو مائوں کی آہیں عرش ہلا دیتی ہیں۔
وہ اردو کا شاعر تھا مگر روایتی معنی میں اہلِ زبان نہیں تھا اس لئے کراچی کے ادبی میلوں میں وہ کوئی مناسب جگہ نہ پا سکا،دوسرے اس کا خیال تھا کہ خالقِ کائنات کے پاس دکھ،درد کا اسٹاک وافر ہے
صدر زرداری اسی رات دیر گئے چینی سفارت خانے گئے،جسکی سرکاری پریس ریلیزجاری نہیں کی گئی البتہ اس کے بعد انہوں نے جناب اسحاق ڈار سے کہا کہ چینی وزیرِ خارجہ آپ کے منتظر ہیں،جلد وہاں پہنچئے،عام طور پر چینی اپنے جذبات چھپانے کا فن جانتے ہیں تاہم سب نے میڈیا پر دیکھا کہ چینی وزیرِ خارجہ کے چہرے پر ہمدردی کے ایسے تاثرات تھے کہ اندر سے ہمارے وزیرِ خارجہ کا جی چاہا ہوگا کہ وہ ان سے گلے ملتے ہوئے ایک دو اشک بہا دیں
تب بھی امتحانی مرکز اپنا اسکول نہیں ہوتا تھا مگر کچھ مضطرب صدر معلم بھی ’کھلّے اور بُجّے‘کو بھی اپنے اسکول کو زیادہ سے زیادہ وظیفے دلانے کے لئے استعمال کرتے تھے یعنی بظاہر کسی کو ڈانٹنے کے لئےبُجّہ دیتے مگر دونوں ہتھیلیوں پر ضروری جواب لکھے ہوتے اسی طرح وہ جوتا اچھالتے یا دکھاتے تو اس کے تلے پر موٹے قلم سے کچھ جواب لکھے ہوتےتھے
میں نے سید مظہر جمیل کو ان کا پی ایچ ڈی کا مقالہ بھی بھیجا اور پھر حسبِ عادت جناب آصف علی زرداری اور ان کے پرنسپل سیکرٹری کو مکاتیب لکھنے شروع کئے کہ اس سوانح عمری کیلئے کم از کم دو لاکھ روپے عنائت کیجئے کہ آپ کے کئے ہوئے وعدوں کی تعمیل ہو سکے شاید میرے مکاتیب کے سبب جناب فرحت اللہ بابر کا ایک قریب قریب جِھلّایا ہوا فون آیا کہ اتنی معمولی رقم کے لئے آپ کا صدر مملکت کو اتنے مکاتیب لکھنا مناسب نہیں۔
ملتان میں ایک علی گڑھ اسکول تھا جہاں عرش صدیقی،اے بی اشرف،مبارک مجوکہ اورابنِ حنیف اردو اکادمی کے اجلاس کرتے تھے ان کے ساتھ سلطان صدیقی ایڈووکیٹ بھی تھے جو علیگ تھے جن کی کتاب عرفانِ غالب تھی،یہاں فیضان احمد انصاری،ان کی بیگم نشاط(جن کے سرپرستوں میں مخدوم سجاد حسین قریشی تھے )،بھتیجی نوشابہ نرگس تھیں مولوی سلطان عالم بھی تھے جن کی وفات کے بعد اس تعلیمی ادارے کو ضلعی انتظامیہ نے اپنی تحویل میں لے لیا تھا،کچھ علیگیوں کو اکٹھا کرکے اس کی انتظامی کمیٹی بحال کرائی جائے۔
اب تو آپ کے پاس کتابیں ہیں،گوگل ہے اوربڑے پڑھے لکھے مبصر ہیں مگر ایک وقت تھا کہ بچوں کو گلوب کا تحفہ دیا جاتا تھا…
ممکن ہے کہ ٹی 20کے دوسرے رائونڈ کے میچوں میں آپ بھی اس انگلستان سے ہماری شکست پر دل برداشتہ ہوں جس نے اپنی سابقہ کالونی…
