Browsing: ڈاکٹر انوار احمد

وہ اردو کا شاعر تھا مگر روایتی معنی میں اہلِ زبان نہیں تھا اس لئے کراچی کے ادبی میلوں میں وہ کوئی مناسب جگہ نہ پا سکا،دوسرے اس کا خیال تھا کہ خالقِ کائنات کے پاس دکھ،درد کا اسٹاک وافر ہے

صدر زرداری اسی رات دیر گئے چینی سفارت خانے گئے،جسکی سرکاری پریس ریلیزجاری نہیں کی گئی البتہ اس کے بعد انہوں نے جناب اسحاق ڈار سے کہا کہ چینی وزیرِ خارجہ آپ کے منتظر ہیں،جلد وہاں پہنچئے،عام طور پر چینی اپنے جذبات چھپانے کا فن جانتے ہیں تاہم سب نے میڈیا پر دیکھا کہ چینی وزیرِ خارجہ کے چہرے پر ہمدردی کے ایسے تاثرات تھے کہ اندر سے ہمارے وزیرِ خارجہ کا جی چاہا ہوگا کہ وہ ان سے گلے ملتے ہوئے ایک دو اشک بہا دیں

تب بھی امتحانی مرکز اپنا اسکول نہیں ہوتا تھا مگر کچھ مضطرب صدر معلم بھی ’کھلّے اور بُجّے‘کو بھی اپنے اسکول کو زیادہ سے زیادہ وظیفے دلانے کے لئے استعمال کرتے تھے یعنی بظاہر کسی کو ڈانٹنے کے لئےبُجّہ دیتے مگر دونوں ہتھیلیوں پر ضروری جواب لکھے ہوتے اسی طرح وہ جوتا اچھالتے یا دکھاتے تو اس کے تلے پر موٹے قلم سے کچھ جواب لکھے ہوتےتھے

میں نے سید مظہر جمیل کو ان کا پی ایچ ڈی کا مقالہ بھی بھیجا اور پھر حسبِ عادت جناب آصف علی زرداری اور ان کے پرنسپل سیکرٹری کو مکاتیب لکھنے شروع کئے کہ اس سوانح عمری کیلئے کم از کم دو لاکھ روپے عنائت کیجئے کہ آپ کے کئے ہوئے وعدوں کی تعمیل ہو سکے شاید میرے مکاتیب کے سبب جناب فرحت اللہ بابر کا ایک قریب قریب جِھلّایا ہوا فون آیا کہ اتنی معمولی رقم کے لئے آپ کا صدر مملکت کو اتنے مکاتیب لکھنا مناسب نہیں۔

ملتان میں ایک علی گڑھ اسکول تھا جہاں عرش صدیقی،اے بی اشرف،مبارک مجوکہ اورابنِ حنیف اردو اکادمی کے اجلاس کرتے تھے ان کے ساتھ سلطان صدیقی ایڈووکیٹ بھی تھے جو علیگ تھے جن کی کتاب عرفانِ غالب تھی،یہاں فیضان احمد انصاری،ان کی بیگم نشاط(جن کے سرپرستوں میں مخدوم سجاد حسین قریشی تھے )،بھتیجی نوشابہ نرگس تھیں مولوی سلطان عالم بھی تھے جن کی وفات کے بعد اس تعلیمی ادارے کو ضلعی انتظامیہ نے اپنی تحویل میں لے لیا تھا،کچھ علیگیوں کو اکٹھا کرکے اس کی انتظامی کمیٹی بحال کرائی جائے۔