واشنگٹن : صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ سنیچر کو خلیجی مُمالک، ترکی، مصر اور پاکستان کے رہنماؤں سے ایران کے حوالے سے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ اس ’پیچیدہ معاملے‘ کے حل کے بعد ’تمام مُمالک کو کم از کم مشترکہ طور پر ابراہیمی معاہدے پر دستخط کرنے چاہییں۔‘
دیکھا جائے تو پیر کو ٹروتھ سوشل پر امریکی صدر ٹرمپ کی پوسٹ کے دو حصے تھے۔ پہلے حصے میں انھوں بتایا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں ’اچھی پیش رفت‘ ہو رہی ہے: ’یہ یا تو سب کے لیے ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ ہوگا ہی نہیں اور پھر دوبارہ محاذِ جنگ اور فائرنگ کی طرف واپسی ہو گی، لیکن پہلے سے بھی زیادہ بڑی اور طاقتوراور کوئی بھی ایسا نہیں چاہتا۔‘
تاہم، صد ٹرمپ کی تروتھ کا دوسرا اور بڑا حصہ معاہدہ ابراہیمی اور دیگر ممالک کا اس کا حصہ بننے کی خواہش پر مبنی تھا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کی سنیچر کے روز سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان، متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، قطر کے وزیرِاعظم محمد بن عبدالرحمن آل ثانی، پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر، ترک صدر رجب طیب اردوغان، مصری صدر عبدالفتاح السیسی، اردن کے شاہ عبداللہ دوم اور بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ سے گفتگو کے دوران انھوں نے کہا تھا کہ ’اس پیچیدہ معاملے کو ایک مربوط شکل دینے کی تمام امریکی کوششوں کے بعد یہ لازم ہونا چاہیے کہ یہ تمام ممالک کم از کم بیک وقت معاہدہ ابراہیمی پر دستخط کریں۔‘
اس سے قبل گذشتہ روز بھی صدر ٹرمپ نے جہاں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تعمیری انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں تو وہیں انھوں نے ’مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک‘ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرنے والے تاریخی ابراہیمی معاہدوں کا حصہ بن سکتے ہیں۔
یہ معاملہ سوشل میڈیا پر اس وقت مزید توجہ کا مرکز بنا جب بعد ازاں ایکس پر امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے بھی اس کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت کے ذریعے تنازع ختم ہونے پر اگر نتیجتاً خطے کے عرب اور مسلم اتحادی ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہو جائیں تو یہ مشرق وسطیٰ کی تاریخ کے لیے سب سے موثر معاہدہ ہو گا۔
اگرچہ ٹرمپ نے اپنے پیغام میں کسی ملک کا نام نہیں لیا تاہم گراہم نے اس سلسلے میں سعودی عرب، قطر اور پاکستان کا ذکر کیا ہے۔ گراہم نے اپنے پیغام میں خبردار کیا کہ اگر ان ممالک نے ایسا نہ کیا تو ’ہمارے مستقبل کے تعلقات پر اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔‘
اسی تنبیہ کے بعد یہ معاملہ سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بنا ہوا ہے جہاں پاکستانی، سعودی اور قطری صارفین اس پر ردعمل دے رہے ہیں۔ اکثر لوگوں نے گراہم پر تنقید کی ہے اور یہ سوال اٹھایا ہے کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے کیسے دباؤ ڈال سکتے ہیں۔
( بشکریہ : بی بی سی )
فیس بک کمینٹ

