ملتان کی سڑکوں پر رواں ماہ الیکٹرک بسیں چلانے کی تیاریاں آخری مراحل میں ہیں۔ پنجاب حکومت اس منصوبے کو شہری سفری سہولت، ماحولیاتی تحفظ اور جدید ٹرانسپورٹ نظام کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دے رہی ہے۔ بظاہر یہ ایک خوش آئند اقدام ہے، مگر اس کے ساتھ ایک پرانا سوال دوبارہ زیرِ بحث آ گیا ہے: اگر آج حکومت اربوں روپے خرچ کر کے خود شہری ٹرانسپورٹ چلا رہی ہے تو ماضی میں یہ کیوں کہا جاتا تھا کہ "ٹرانسپورٹ چلانا حکومت کا کام نہیں”؟
یہ سوال محض سیاسی نہیں بلکہ عوامی پالیسی، معاشی ترجیحات اور انتظامی حکمتِ عملی سے بھی جڑا ہوا ہے۔ ملتان کے بزرگ شہری آج بھی جی ٹی ایس (گورنمنٹ ٹرانسپورٹ سروس) کی بسوں کو یاد کرتے ہیں، جو کئی دہائیوں تک شہریوں کے لیے قابلِ اعتماد سفری سہولت تھیں۔ سرکاری ملازمین، طلبہ، مزدور، دکاندار اور دیہی علاقوں سے آنے والے ہزاروں مسافر انہی بسوں پر انحصار کرتے تھے۔ اس وقت نجی ٹرانسپورٹ محدود تھی، اس لیے جی ٹی ایس شہری نقل و حمل کا بنیادی ذریعہ سمجھی جاتی تھی۔
وقت گزرنے کے ساتھ گاڑیاں پرانی ہوئیں، مرمت کے اخراجات میں اضافہ ہوا، نئی بسوں کی خریداری متاثر ہوئی اور انتظامی و مالی مسائل بڑھتے گئے۔ بالآخر 1990 کی دہائی میں نجکاری کی پالیسی کے تحت یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ حکومت کا بنیادی کام کاروبار چلانا نہیں بلکہ قانون سازی، نگرانی اور عوام کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔ اسی سوچ کے تحت گورنمنٹ ٹرانسپورٹ سروس سمیت متعدد سرکاری ادارے بند یا نجی شعبے کے حوالے کر دیے گئے۔
تاہم ملتان سمیت کئی شہروں میں نجی ٹرانسپورٹ وہ معیاری، محفوظ اور وقت کی پابند سہولت فراہم نہ کر سکی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ ویگنیں، منی بسیں، کوچز اور بعد ازاں چنگ چی رکشے ضرور متبادل بنے، مگر بے ہنگم ٹریفک، غیر قانونی اسٹاپ، تجاوزات، آلودگی، اوورلوڈنگ اور ناقص سفری نظم و ضبط شہریوں کا مستقل مسئلہ بن گئے۔
اسی پس منظر میں پنجاب حکومت نے پہلے لاہور، راولپنڈی اور ملتان میں میٹرو بس منصوبے متعارف کرائے اور اب ماحول دوست الیکٹرک بسوں کی جانب پیش رفت کی جا رہی ہے۔ اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت نے اپنی سابقہ پالیسی تبدیل کر لی ہے یا شہری ضروریات نے اسے دوبارہ اس شعبے میں سرمایہ کاری پر مجبور کر دیا ہے؟
دنیا کے کئی ممالک میں شہری ٹرانسپورٹ کو منافع بخش کاروبار نہیں بلکہ بنیادی عوامی خدمت تصور کیا جاتا ہے۔ اسی لیے حکومتیں یا مقامی انتظامیہ اس شعبے میں سرمایہ کاری بھی کرتی ہیں اور سبسڈی بھی دیتی ہیں تاکہ شہریوں کو سستا، محفوظ اور باوقار سفر میسر آ سکے۔ دوسری جانب بعض ممالک میں حکومت خود بسیں نہیں چلاتی بلکہ سخت قوانین اور کارکردگی کے معاہدوں کے تحت نجی کمپنیوں سے یہ خدمات حاصل کرتی ہے۔
پاکستان میں بھی اصل بحث سرکاری یا نجی شعبے کی نہیں بلکہ اچھی حکمرانی کی ہے۔ اگر منصوبہ بندی شفاف، پیشہ ورانہ اور جوابدہ ہو تو سرکاری ٹرانسپورٹ بھی کامیاب ہو سکتی ہے، جبکہ ناقص انتظام کی صورت میں جدید ترین منصوبے بھی مطلوبہ نتائج نہیں دے سکتے۔
ملتان میٹرو بس منصوبے کا افتتاح جنوری 2017 میں کیا گیا۔ پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے مطابق اس کا مرکزی روٹ تقریباً 18.5 کلومیٹر طویل ہے، جس پر 21 اسٹیشن قائم کیے گئے جبکہ آغاز میں 35 جدید ایئرکنڈیشنڈ بسیں چلائی گئیں۔ بعد ازاں فیڈر بسوں کے ذریعے مختلف علاقوں کو میٹرو روٹ سے جوڑنے کی کوشش کی گئی، تاہم بعض روٹس پر مسافروں کی تعداد توقع سے کم رہی، جس کے باعث روٹس اور بسوں کی تعداد میں تبدیلیاں کرنا پڑیں۔ اس تجربے نے واضح کیا کہ صرف جدید گاڑیاں خرید لینا کافی نہیں بلکہ مؤثر روٹ پلاننگ، آبادی کی ضروریات، ٹریفک انجینئرنگ اور مسلسل نگرانی بھی اتنی ہی اہم ہے۔
اب پنجاب حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں شہری ٹرانسپورٹ کے شعبے میں غیر معمولی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق صوبے بھر میں 2,000 الیکٹرک بسوں کی خریداری اور فراہمی کے پروگرام کے لیے 168 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اسی منصوبے کے تحت چارجنگ انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے 40 ارب روپے جبکہ ڈپو، ورکشاپس اور دیگر متعلقہ سہولیات کے لیے 164 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ یہ اعداد ظاہر کرتے ہیں کہ حکومت اب شہری ٹرانسپورٹ کو محض نجی شعبے پر چھوڑنے کے بجائے خود ایک بڑے سرمایہ کار کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔
یہ اعداد و شمار ایک اہم سوال کو جنم دیتے ہیں۔ اگر ہر سال اربوں روپے عوامی خزانے سے شہری ٹرانسپورٹ پر خرچ ہو رہے ہیں تو کیا ان منصوبوں کی مالی اور سماجی کارکردگی کا اسی سنجیدگی سے جائزہ بھی لیا جا رہا ہے؟ کیا ہر منصوبے کے آغاز سے پہلے لاگت اور فوائد (Cost–Benefit Analysis) کی جامع رپورٹ تیار کی جاتی ہے؟ کیا عوام کو بتایا جاتا ہے کہ روزانہ کتنے مسافر سفر کرتے ہیں، کل آمدنی کتنی ہے، آپریشنل اخراجات کیا ہیں اور فی مسافر کتنی سبسڈی دی جا رہی ہے؟اگرچہ پنجاب حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں 2,000 الیکٹرک بسوں کے پروگرام کے لیے 168 ارب روپے، چارجنگ انفراسٹرکچر کے لیے 40 ارب روپے اور ڈپو، ورکشاپس و دیگر متعلقہ سہولیات کے لیے 164 ارب روپے مختص کیے ہیں، تاہم کسی بھی ٹرانسپورٹ منصوبے کی کامیابی صرف بسیں خریدنے سے ممکن نہیں ہوتی بلکہ اس کا اصل امتحان اس کے مستقل آپریشن اور مالی پائیداری میں ہوتا ہے۔
ملتان جنوبی پنجاب کا سب سے بڑا تجارتی، تعلیمی اور طبی مرکز ہے، جہاں روزانہ لاکھوں افراد ملازمت، کاروبار، تعلیم اور علاج کی غرض سے سفر کرتے ہیں۔ ایسے شہر میں جدید اور قابلِ اعتماد پبلک ٹرانسپورٹ کسی آسائش سے زیادہ بنیادی شہری ضرورت ہے۔ تاہم منصوبے کی کامیابی صرف نئی بسوں کی خریداری سے ممکن نہیں ہوگی۔ اس کے لیے بہتر سڑکیں، مؤثر ٹریفک مینجمنٹ، تجاوزات کا خاتمہ، مناسب پارکنگ، جدید چارجنگ انفراسٹرکچر، تربیت یافتہ ڈرائیور اور تکنیکی عملہ، بروقت مرمت اور مستقل مالی وسائل بھی ناگزیر ہیں۔
ملتان کی کئی مرکزی شاہراہیں، مثلاً بوسن روڈ، ایم اے جناح روڈ، یونیورسٹی روڈ، نشتر روڈ اور وہاڑی روڈ، جدید بس سروس کے لیے موزوں سمجھی جاتی ہیں، لیکن متعدد علاقوں میں ٹوٹی سڑکیں، بارش کے بعد پانی جمع ہونے کے مسائل، غیر قانونی پارکنگ، تجاوزات اور بے ہنگم ٹریفک اب بھی شہری سفر کو متاثر کرتے ہیں۔ اگر یہ بنیادی مسائل برقرار رہے تو جدید ترین الیکٹرک بسیں بھی اپنی مطلوبہ کارکردگی دکھانے میں مشکلات کا شکار ہو سکتی ہیں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ حکومت ٹرانسپورٹ چلا سکتی ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا وہ اسے شفاف، پیشہ ورانہ اور مالی طور پر پائیدار انداز میں چلا سکتی ہے۔ اگر اس سوال کا عملی جواب مل گیا تو ملتان میں الیکٹرک بسوں کی آمد صرف ایک نئی سفری سہولت نہیں بلکہ شہری منصوبہ بندی، ماحولیاتی تحفظ اور بہتر حکمرانی کی ایک کامیاب مثال بن سکتی ہے۔ بصورتِ دیگر اربوں روپے کی سرمایہ کاری کے باوجود عوام وہی سوال دہراتے رہیں گے جو آج بھی جی ٹی ایس کے خاتمے کے تناظر میں پوچھا جاتا ہے: کیا مسئلہ ٹرانسپورٹ چلانے کا تھا، یا اسے درست انداز میں چلانے کا؟
فیس بک کمینٹ

