جنگ بندی کے باوجود ایک دوسرے پر حملوں نے ایران امریکہ مفاہمتی یادداشت کو تقریباً غیر فعال کردیا ہے۔ استنبول میں نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ان کی حد تک باہمی یادداشت ختم ہوچکی ہے اور اب وہ طاقت کے زور پر ہی فیصلہ کریں گے۔
تاہم آج انہوں نے ایک بار پھر کہا ہے کہ’ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے‘۔ دوسری طرف ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دیگر لوگوں کے علاوہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بات کی ہے۔ ملکی خود مختاری کی حفاظت کو دعویٰ کرنے کے باووجد اس بات چیت کا مقصد امن کی کوششوں کو باقی رکھنا تھا۔ عباس عراقچی نے قومی سلامتی کے ساتھ علاقائی سلامتی کا ذکر بھی کیا لیکن اس وقت پورے ریجن کی سلامتی کو امریکہ کی بجائے ایران سے زیادہ خطرہ ہے۔
عاصم منیر ہی ایران اور امریکہ کے درمیان پل بنانے کا اہم کام سرانجام دیتے رہے ہیں۔ تاہم موجودہ صورت حال دو وجووہات کی بنا پر سنگین ہوچکی ہے۔ ایک تو آیت اللہ علی خانہ کی تدفین کے حوالے سے منعقد ہونے والی تقریبات میں شریک ہونے والے ایرانی عوام کی بھاری اکثریت نے لیڈروں کو نیا حوصلہ اور اعتماد عطا کیا ہے۔ وہ یہ اندازے قائم کررہے ہیں کہ عوام میں موجودہ قیادت اپنا کھویا ہؤا اعتماد واپس حاصل کرنے میں کامیاب ہوچکی ہے اور اسے امریکہ یا کسی دوسری طاقت کی طرف سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ سوگ کے دوران نکلنے والے جلوسوں میں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف نعرے اور خامنہ ای کی شہادت کا انتقال لینے کے بینرز اور مطالبوں سے یقین کیا جاسکتا ہے کہ یہ صرف عوامی رد عمل نہیں تھا بلکہ تہران کے حکمرانوں کا طے شدہ منصوبہ تھا۔ تاکہ ’دشمن‘ کی طاقت اور حوصلے کو آزمایا جاسکے۔ ورنہ اعلیٰ قیادت کی مرضی و منشا کے بغیر سوگ میں شامل ہونے والا کوئی بھی شخص ایسے نعرے لگانے یا بینر لانے کاحوصلہ نہ کرتا جو حکومت وقت کی مرضی کے خلاف ہوتے۔
اس سوال کا کوئی واضح جواب موجود نہیں ہےکہ ایرانی لیڈروں نے کیوں سوگ کے اس موقع کو احتجاج اور امریکہ کو نیچا دکھانے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی۔ اس کی ایک وضاحت یہ ہوسکتی ہے کہ ایرانی قیادت بدستور تقسیم ہے اور حتمی اختیار اب بھی پاسداران انقلاب کے مٹھی بھر انتہاپسند لیڈروں کے ہاتھ میں ہے۔ جبکہ سیاسی قیادت کسی بھی طرح اس مشکل سے نکلنا چاہتی ہے اور امریکہ کے ساتھ کوئی معاہدہ کرکے اپنے منجمد وسائل تک رسائی چاہتی ہے اور معاشی پابندیوں کے خاتمہ سے ملک کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کا کام کرنا چاہتی ہے۔ پاسداران اصولی طور سے اس خواہش کی حمایت کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی بعض اوقات جوش کے عالم میں وہ ہوش کھو بیٹھتے ہیں۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کے سوگ میں کثیر تعداد میں عوام کی شمولت سے اس جوش میں اضافہ ہونا فطری امر تھا۔ تاہم اسی عالم میں پاسداران کا کوئی لیڈر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین جہازوں پر حملہ کا سبب بنا۔ ان میں سعودی عرب اور قطر کا ایک ایک جہاز بھی شامل تھا۔ اس طرح اس حملے سے پاسداران نے نہ صرف امریکہ کو للکارا بلکہ سعودی عرب اور قطری قیادت کی توہین بھی کی جنہوں نے جنگ کے دوران ایران کی جارحیت اور میزائل حملوں کے باوجود ثالثی کے عمل کی حمایت کی تھی۔ بلکہ قطر تو اس عمل میں باقاعدہ شراکت دار بن گیا تھا۔ اس کے علاوہ ان ممالک نے ایران کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرنے کے لیے اپنے سرکاری وفود بھی آیت اللہ خامنہ ای کے جنازے میں شرکت کے لیے بھیجے۔ لیکن پاسداران نے اس خیر سگالی کو بھی اپنی طاقت کا ثبوت سمجھ کر آبنائے ہرمز کو میدان جنگ بنانے کا افسوسناک فیصلہ کیا۔
امریکہ اور باقی دنیا کا واضح مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہازرانی بین الاقوامی قوانین کے مطابق آزادانہ ہونی چاہئے۔ امریکہ کےساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت میں بھی اس کا ذکر ہے اور ایران نے اتفاق کیا ہے کہ تین ماہ تک جہازوں کی آمد و رفت پر کوئی روک ٹوک نہیں ہوگی ۔ اس کے بعد باہمی معاہدے کے مطابق معاملات طے ہوسکیں گے۔ اس حوالے سے ضرور ایران کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ عمان کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کے انتظام پر کوئی منصوبہ تیار کرلے۔ ایران اس آبی گزرگاہ کے استعمال پر ٹرانزٹ فیس وصول کرنا چاہتا ہے اور عمان کو بھی اپنے اس منصوبہ میں شامل کرنے کا خواہش مند ہے۔ جبکہ عمان نے ایسا کوئی محصول عائد کرنے سے انکار کیا ہے۔ بلکہ عمان نے اپنی آبی حدود میں سے بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لیے باقاعدہ راستے کا اعلان کیا ہے۔ ایران نے اسی راستے سے گزرنے والے جہازوں پر حملے کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ ہرصورت آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار رکھے گا۔ اس طرح عملی طور سے ایران نے خود ہی حملوں کے ذریعے نہ صرف مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کی بلکہ عمان کی اپنی آبی حدود میں خود مختاری کو بھی چیلنج کیا ہے۔
اس صورت حال میں علاقے کے سب ممالک امن کی خواہش کے باوجود یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ ایران پر کس حد تک اعتماد کیا جاسکتا ہے۔ یہی بات اگرچہ امریکہ کے صدر بھی کہہ رہے ہیں لیکن وہ اپنی سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ بھی کرنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایرانی حملوں کے بعد امریکی فوج نے دو روز تک لگا تار ایران پر حملے کیے ہیں اور کثیر نقصان پہنچایا ہے۔ صدر ٹرمپ کے سخت اور مایوس کن بیانات کی ایک وجہ یہ حقیقت بھی ہوسکتی ہے کہ مفاہمتی یادداشت میں ایرانی مطالبات بڑی حد تک مان لیے گئے تھے لیکن کسی حتمی معاہدے کے لیے ایران کو جس ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے ، وہ بدستور اس میں ناکام ہورہا ہے۔ ایرانی انتہاپسند لیڈر یہ اندازہ کرنے کی غلطی کررہے ہیں کہ امریکہ و اسرائیل سے لڑائی تو ایک پہلوہے لیکن جب ایران مسلسل خلیجی ممالک کے مفادات کو نقصان پہنچائےگا اور اپنے کسی ہمسایہ ملک کی خود مختاری کا احترام کرنے سے انکار کرے گا تو علاقے میں پائدار امن کیسے قائم ہوسکتا ہے؟ اسی لیے علاقائی سلامتی کے بارے میں ایرانی دعوے کھوکھلے اور غیر حقیقی محسوس ہوتے ہیں۔
جنگ بندی کی شدید خلاف ورزیوں اور ایران و امریکہ کے ایک دوسرے پر حملوں کے باوجود ابھی تک مفاہمتی یادداشت باقی ہے اور شاید جنگ بندی بھی موجود ہے۔ البتہ اس یادداشت کے متن کی من پسند وضاحت سے معاملات خراب ہوسکتے ہیں۔ امریکہ کی طرح ایران کو بھی تسلیم کرنا چاہئے کہ حتمی معاہدہ سے پہلے مفاہمتی یادداشت پر اسی جذبے سے عمل ضروری ہے جس کے تحت اس یادداشت پر اتفاق کیا گیا تھا۔ امن امریکہ کے لیے ضروری ہے لیکن ایران کے لیے زندگی اور موت کا سوال ہے۔ اگر مسلسل خلاف ورزیوں کے نتیجے میں ایک بار پھر بھرپور جنگ نہ بھی شروع ہوئی تو بھی ایران کی ناکہ بندی اور معاشی بائیکاٹ کے اثرات کا خمیازہ ایران اور اس کے عوام کو ہی بھگتنا پڑے گا۔ پاسداران ضرور اس بات پر فخر کرسکتے ہیں کہ خامنہ ای کے جنازے پر آنسو بہانے والوں کا ایک سمندر موجود تھا لیکن اس سوگ کو پاسداران کی شدت پسندی کا تصدیق نامہ نہیں سمجھا جاسکتا۔ نہ ہی ان جلوسوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایرانی عوام بنیادی سہولتوں سے محروم ہوکر بھی موجودہ رجیم کا ساتھ دیتے رہیں گے۔
پاسداران کے حقیقی ذمہ داران کو شاید یہی خوف ہے کہ امن قائم ہونے کے بعد ایرانی عوام اس استبداد اور محرومی کا حساب مانگیں گے جو موجودہ حکمرانوں نے 47 سال سے ان پر مسلط کی ہوئی ہے۔ جنگی حالات میں کسی بھی حکومت کو قومی یک جہتی کے جذبے کے تحت عمومی حمایت حاصل ہوتی ہے لیکن یہ تائید امن قائم ہونے کے بعد قائم نہیں رہ سکتی۔ پاسداران انقلاب کے پاس دشمن پر پھینکنے کے لیے میزائل اور ڈرون تو ہوں گے لیکن اپنے لوگوں کو سہولتیں دینے کے لیے مالی وسائل اور سیاسی اعتبار موجود نہیں ہے۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

